مودی صاحب ! یہ ہے گجرات کے مسلمانوں کی صحیح تصویر

وسیم راشد

تقسیم کا سانحہ مسلمانوں کے لیے کم تکلیف دہ نہیں تھا، وہ ملک جہاں ان کے آباء و اجداد کی نشانیاں قبروں کی شکل میں رہ گئی تھیں، اس جگہ ان یادوں کو چھوڑنا آسان کام نہیں تھا، مگر ہندوستان کی سیکولر قیادت نے کافی حد تک ان کے زخموں پر مرہم رکھا اور وہ آہستہ آہستہ لوگ ان زخموں کو بھولنے لگے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ہندوستان میں ہی ترقی کی راہیں ہموار کرنے میں جٹ گئے اور پھر ایک بار وہ ہوا، جس کا کوئی بھی سیکولر ذہن تصور نہیں کرسکتا تھا۔ 2002میں گجرات کے مسلم کش فسادات نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ نہ  صرف گجرات کے مسلمان بلکہ پورے ملک کے سیکولر افراد اور سیاسی لیڈران بھی حیرت زدہ رہ گئے، مگر کہتے ہیں کہ وقت سب سے بڑا ڈاکٹر ہے۔ سبھی زخموں کو بھر دیتا ہے۔ اسی طرح گجرات کے مسلمانوں نے بھی ان تلخ یادوں کو بھلا کر پھر سے سیاسی، سماجی اور اقتصادی مستقبل پر توجہ دینی شروع کی اور پھر سے ہندوستان کی ترقی میں ہاتھ بٹانے لگے اور اس طرح ملک کے سیاسی حالات بھی تبدیل ہونے لگے۔ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتیں بھی مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنے اپنے طریقوں سے کام کرنے لگیں، لیکن ہم نے ایک مثال سنی ہے کہ جسے گھر میں پناہ نہ ملے، اسے پوری دنیا میںکہیں پناہ نہیں ملتی۔ وہی حال گجرات میں  مسلمانوں کا ہے۔ وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے دورۂ بہار کے موقع پر حکومت گجرات کی جانب سے شائع کردہ وہ اشتہار مجھے یاد آرہا ہے، جس میں برقع پوش تین لڑکیوں کو دکھا کر گجرات کے مسلمانوں کی خوشحالی کی تصویر پیش کی گئی، لیکن اس کی سچائی جب سامنے آئی تو خود مودی کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ حالانکہ مودی کی چالاکیوں کی کافی حد تک پول نہ صرف مسلم تنظیموں نے کھول دی، بلکہ اکثریتی طبقہ سے بھی جس طرح اس کا رد عمل سامنے آیا، اس نے یہ واضح کردیا کہ مودی اگراب سونے کے بھی بن جائیں تو کم از کم مسلمان تو ان پر بھرونہیں کریں گے۔ خود اکثریتی فرقہ بھی ان کی مخالفت کرتا ہے اور جس طرح وہ گجرات میں مسلمانوں کی خوشحالی کی جھوٹی تصویر پیش کررہے ہیں اس میں یہ لوگ بھی صحیح اور سچی تصویر دکھانے میں مسلمانوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ انہیں سیاستدانوں کے ناپاک عزائم کا پتہ ہی نہیں چل پاتا۔ گجرات کے مسلمانوں کی صحیح صورت حال کیا ہے اس کی مودی کو ثبوت کے ذریعہ تشہیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ گجرات کی سچائی سے ہر ذی ہوش واقف ہے۔ ابھی پچھلے ماہ سینئر بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی نے سچرکمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے نریندر مودی کی حمایت میں یہ کہا تھا کہ گجرات کے مسلمانوں کو برابر کے تعلیمی، سیاسی، سماجی حقوق حاصل ہیں اور ان کو نوکریاں بھی دوسرے طبقوں سے زیادہ دی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اعتبار سے گجرات کے مسلمان 73.5 فیصد زیادہ تعلیم یافتہ ہیں بہ نسبت دوسری ریاستوں کے اور قومی سطح پر بھی ان کی شرح خواندگی 59.1فیصد ہے اور شہروں میں مقیم مردوں کی شرح خواندگی 76فیصد ہے نیز دیہاتوں میں یہ 81فیصد ہے، جب کہ قومی سطح پر یہ اعدادو شمار 70فیصد اور 62فیصد ہیں۔ اڈوانی کے مطابق گجرات کے دیہاتوں میں مقیم مسلم خواتین کی شرح خواندگی قومی سطح پر 5پوائنٹ زیادہ ہے اور ان دیہاتوں کے مرد حضرات کی شرح خواندگی 57فیصد ہے، جبکہ قومی سطح پر 43فیصد ہے۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اڈوانی نے مودی کا بڑی ہی بے شرمی سے دفاع کیا ہے اور پرانے اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ گجرات کے مسلمان ہر اعتبار سے ہندوستان کی دیگر ریاستوں سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اور ساتھ ہی ترقی بھی کر رہے ہیں۔
اسی طرح اڈوانی جی نے آمدنی کا حساب کتاب بھی بہت خوبی سے لگایا ہے۔ انہوں نے گجرات کے شہروں میں رہنے والے مسلمانوں کی ماہانہ فی کس آمدنی کے جو اعدادو شمار پیش کی ہیں وہ ہیں تقریباً 875روپے اور یہ بھی قومی آمدنی سے زیادہ ہیں۔ قومی سطح پر ماہانہ فی کس آمدنی 804روپے ہے ۔ یہی نہیں اڈوانی کے مطابق دوسری ریاستوں کا قومی سطح پر ماہانہ فی کس آمدنی کا اوسط اس طرح ہے۔ یوپی کا 662، مغربی بنگال کا 758، پنجاب کا 811، آندھرا پردیش کا 803 اور کرناٹک کا 837روپے ۔ یہاں ان اعداد و شمار کو پڑھ کر کوئی بھی یہ سوچ سکتا ہے کہ گجرات کے مسلمانوں کی آمدنی کا فیصد ہندوستان کی ہر ریاست کے مسلمانوں سے بہت زیادہ ہے۔
اڈوانی جی کے مطابق1987-88میں گجرات میں 54فیصد لوگ خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرتے تھے جبکہ2004-05میں کم ہوکر یہ تعداد 34فیصد رہ گئی۔ یعنی گجرات کے مسلمانوں نے کافی ترقی کی ہے۔ اڈوانی جی کے بیان پر اگر ہم غور کریں تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ صحیح معنوں میں گجرات کے مسلمانوں  ی ترقی 2002کے مسلم کش فسادات کے بعد  ہوئی ہے۔ یہ بات واقعی بڑی مضحکہ خیز ہے کہ وہ گجرات جہاں ابھی تک پوری طرح باز آباد کاری کا کام نہیں ہوپایا ہے، وہ گجرات جہاں کے مسلمان ابھی بھی سہمے ہوئے نظر آتے ہیں، وہ مسلمان جن کو آج بھی کیمپوں میں رہنا پڑ رہا ہے اور ریلیف کا سامان تک ان کو نہیں پہنچ رہا۔ انہوں نے اتنی ترقی کیسے کرلی۔ یہ بات کچھ ہضم نہیں ہوتی۔
اب ذرا اس بیان پر بھی بات ہوجائے جو پلاننگ کمیشن کی ممبر سعیدہ حمید صاحبہ کا ہے اور جو انہوں نے ابھی جون 2010میں ہی گجرات کا دورہ کرنے کے بعد دیا ہے، جس میں انہوں نے گجرات کے مسلمانوں کی تازہ صورت حال کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد کہا ہے کہ گجرات کے مسلمانوںکی حالت بہت خراب ہے، مگر ریاست کے وزیر توانائی سوربھ پٹیل کا کہنا ہے کہ سعیدہ حمید صاحبہ کا بیان غلط ہے اور مسلمان پورے ہندوستان کے مقابلے گجرات میں زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ سوربھ پٹیل نے اپنے خط میں (جو انہوں نے پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین مونٹیک سنگھ اہلووالیہ کو بھیجا ہے) سچر کمیٹی کی رپورٹ کے حوالہ سے کہا ہے کہ گجرات کے مسلمان زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ:
‘‘Her remarks about Muslims in gujrat and their Plight and allegations against the Modi Govt reflect the member of Planning commission member is biased against Gujrat.’’
سوربھ پٹیل کا کہنا ہے کہ سعیدہ حمید نے جو اعداد و شمار دیے ہیں وہ این جی اوزاور دوسری تنظیموں کے ذریعہ جمع کیے گئے ہیں۔ حکومت کے اعلیٰ عہدیداران کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سوربھ پٹیل جی سے کوئی یہ پوچھے کہ حکومت کے اعداد و شمار کیا کبھی حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں۔ کہیں اگر بم بلاسٹ ہوجائے تو مرنے والوں کی تعداد بتانے میںبھی وہ مبالغے سے کام لیتی ہے۔ ایسے میں این جی اوز یا دوسری تنظیموں پر ہی بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر حکومت کے اعداد و شمار پر بھروسہ کیا جائے تو گجرات کے مسلمان خوشحال ہی نہیں ترقی یافتہ کہے جا سکتے ہیں۔
چلئے جتنی بھی ترقی گجرات کے مسلمانوں کی ہوئی ہے، وہ بحث ایک طرف رکھیں، اب چند سوالات کا بھی جواب مل جائے تو بہتر ہوگا۔
٭ گجرات ہندوستان کی وہ واحد ریاست ہے، جہاں مائنارٹی کمیشن نہیں ہے۔ ایسا کیوں؟
٭ ریاستی حکومت نے اقلیتی طلبا کے لیے اسکالر شپ کا جوپروگرام شروع کیا تھا، وہ 2005سے ابھی تک التوا میں کیوں پڑا ہوا ہے؟ اسے شروع کیوں نہیں کیا گیا؟
٭ جو بھی ترقیاتی اسکیمیں بنائی گئی ہیں، ان میں مسلمانوں کو چھوڑ کر باقی سبھی کو کیوں ان کا فائدہ مل رہا ہے؟
٭ نجی اور سرکاری بینکوں کے ذریعہ عام لوگوں کو مہیا کرائے گئے لون میں مسلمانوں کا حصہ صرف 1.5فیصد ہی کیوں ہے؟ جب کہ کل آبادی میں مسلمانوںکی 10فیصد حصہ داری ہے؟
٭مسلم علاقوں میں بینک، اسپتال اور تعلیم کے لیے بنیادی سہولیات کا فقدان کیوں ہے؟
٭ احمد آباد کا جوہا پورہ علاقہ جہاں مسلمانوں کی تقریباً 3لاکھ آبادی ہے، وہاں ابھی تک کسی بھی بینک کی برانچ کیوں نہیں ہے؟
٭ جوہا پورہ کے مقابلے میں وے جل پور اور جیو راج پارک جو کہ جوہا پورہ سے متصل ہے، وہاں اتنی تیزی سے ترقیاتی کام کیسے ہوئے ہیں؟ جب کہ یہ علاقے جوہا پورہ کے ساتھ ہی ساتھ بنے ہیں اور اب ان کو بے حد ترقی یافتہ علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وڈودرا میں گزشتہ 15سالوں میں بنا ایک نیا مسلم علاقہ جسے ’ٹنڈل جا‘ کہا جاتا ہے، اس میں بھی بنیادی ضروریات کا فقدان ہے، جب کہ اس کے پاس ہی پی روڈ اور گوترہ محلے کو سبھی طرح کی سہولتیں مہیا ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟
٭ گودھرا کے مغربی علاقے کی حالت جہاں مسلم آبادی زیادہ ہے، بہت ہی خراب ہے، جب کہ مشرقی گودھرا میں اسکول کالج، اسپتال غرض کہ ہر طرح کی سہولیات مہیا ہیں اور یہی نہیں سرکاری افسران نے بھی اس علاقہ کی ترقی میں بہت اہم رول ادا کیا ہے تو ان افسران سے کوئی یہ پوچھنے والا نہیں ہے کہ مشرقی اور مغربی گودھرا کے ترقیاتی کاموں میں یہ تعصب کیوں؟
٭ 2007کے گجرات فساد کے بعد ریاست کے محکمہ بجلی نے مغربی گودھرا کی بجلی سپلائی، شہر کے مشترکہ پاور سپلای سسٹم سے کاٹ دی اور اس علاقہ کے لیے الگ سے بجلی سپلائی کی یونٹ لگا کر اپنی من مانی کرنی شروع کردی، کیوں اس مسئلہ کو لے کر گجرات حکومت نہیں جاگی؟یہ حیرانی کی بات ہے۔
٭ 2002کے فسادات کے بعد مودی حکومت بازآبادکاری میں بری طرح ناکام رہی، جبکہ جتنا بھی اس ضمن میں کام ہوا ہے، وہ این جی اوز اور سماجی و فلاحی تنظیموں نے ہی کیا ہے۔
یہ تمام وہ سوالات ہیں، جن کا جواب آج بھی کوئی دینے والا نہیں ہے۔ اب اگر ہم گجرات کے مسلمانوں کی تعلیمی صورت حال کا جائزہ لیں تو مودی نے ’پٹنہ ڈیلی‘ میں گجرات کے مسلمانوں کی تعلیمی صورت حال پر جو بیانات دیے ہیں، وہ اصل حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے ہیں۔
گجرات میں بوہرہ ،اخوجا اور میمن معاشی اور اقتصادی طور پر زیادہ مضبوط  اور خوشحال ہیں اور بزنس اچھا ہونے کی وجہ سے ہی یہ مسلمان نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں امیر ترین مانے جاتے ہیں، جن میں عظیم پریم جی اور حبیب خوراکی والا وغیرہ کے نام ہیں، لیکن گجرات کے باقی مسلمانوں کی حالت بے حد خراب ہے۔ اقتصادی طور پر یہ نہ صرف بدحال ہیں، بلکہ تعلیمی اور معاشی سطح پر بھی ان تینوں کمیونٹیز اور باقی ماندہ مسلمانوں میں بہت فرق ہے۔
نریندر مودی کو گجرات کے خوشحال مسلمانوں کی صحیح تصویر دکھانی ہے تو بہت کام کرنا پڑے گا، مگر جو تعصب اور جو غفلت مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی، معاشی اور اقتصادی حالت کی سدھارنے کے لیے کی جارہی ہے، اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی گجرات کے مسلمانوں کو اپنے لیے بہت لڑنا پڑے گا، ابھی سفر بہت لمبا ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *