لندن نامہ

حیدر طبا طبائی، لندن ، یوکے
آپ نے یہ بات کئی بار سنی ہوگی کہ انقلاب فرانس کے وقت جب بھوکے لوگ فاقہ کشی سے تنگ آکر بادشاہ کے محل کے سامنے کھڑے ہو کر روٹی روٹی کے نعرے لگا رہے تھے تو فرانس کی ملکہ نے ایک ملازم سے دریافت کیا کہ کیا مانگ رہے ہیں یہ لوگ؟ ملازم نے ملکہ سے دست بستہ عرض کیا یہ بھوکے لوگ روٹی مانگ رہے ہیں۔ ملکہ نے فوری جواب دیا کہ اگر انہیں روٹی نہیں ملتی توکہہ دو کہ کیک کھائیں۔ ملکہ کا یہ فقرہ انقلاب فرانس کی تاریخ کی پہچان بن گیا۔ اس فقرے کو 17ویں صدی سے لے کر اب تک کروڑوں بار لکھا جاچکا ہے پھر لوگوں نے دیکھا کہ کیک کا مشورہ دینے والی ملکہ کی لاش محل سے گھسیٹ کر نکالی گئی۔ بادشاہ کے حواریوں کو سر عام پھانسیاں دی گئیں یعنی اس ایک فقرہ میں سارا انقلاب فرانس سمو دیا گیا۔
گزشتہ دنوں برٹش ہوم سکریٹری میڈم تھریسامے نے اعلان کیا کہ ایشیائی باشندوں کی برائے روزگار آمد پر یکسر پابندی لگادی جائے۔ ہندوستان سے جو لوگ برطانیہ آتے ہیں ان میں ڈاکٹر، نرسیں اور اسٹیل کے ماہر انجینئر ہوتے ہیں، جن کی کمی برطانیہ میں بہت زیادہ ہے۔ برطانوی ڈاکٹر اس طرح جاب کرتے ہیں کہ چار دن اس اسپتال میں، ایک ماہ دوسری جگہ، جس سے ان کو دوہری تنخواہ ملتی ہے اور جب رقم زیادہ ہوجاتی ہے تو گھومنے نکل جاتے ہیں یا مستقل نوکری کرنا ہو تو امریکہ ، کناڈا، نیوزی لینڈ یا آسٹریلیا کا رخت سفر باندھ لیتے ہیں اور ہندوستانی ڈاکٹر ان سے بہت کم تنخواہ پر یہاں رہنے کے مقصد کو سامنے رکھتے ہیں نوکری کے لیے درخواست گزار رہتے ہیں۔ نرسیں بھی برطانوی نرسوں سے بہت زیادہ کام کرتی ہیں اور کم اسکیل پر نوکری کرلیتی ہیں۔ کئی برسوں سے برٹش اسٹیل کے مختلف کارخانے بند پڑے ہیںجو دنیا کی سب سے بڑی اسٹیل کمپنی مشہور تھی۔ ہندوستان جہاں لوہا پیدا بھی ہوتا ہے اور بڑے بڑے کارخانے بھی ہیں، وہاں کے انجینئر یہاں آتے ہیں تو کارخانوں کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ برٹش مزدوروں کو روزگار ملتا ہے۔ اب کہیں ایسا نہ ہو کہ مریض ڈاکٹر ، ڈاکٹر اور مزدور روزگار کی دہائی دیتے ہوئے ایوان حکومت تک آئیں اور کوئی پالیسی بدلنے کے علاوہ جواب کے متحمل نہ ہوں تو کیا ہوگا۔
یہ بھی اعلان ہوا ہے کہ برٹش وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ہندوستان کے ساتھ خصوصی مذاکرات کے لیے جلد ہی دہلی کا دورہ کریں گے۔
برطانوی افق پر دھندلے بادل چھائے ہوئے ہیں ۔خود برطانوی قوم جب کوئی میچ جیت جائے تو کہا جاتا ہے کہ یہ برٹش اسٹائل ہے اور جب ہار جائے تو کہا جاتا ہے کہ امپائرنگ غلط ہوئی، لیکن جرمنی جو روایتی حریف ہے اور جس نے چار ایک سے برطانیہ کو شکست دی یعنی شکست فاش ہونے پر سب چپ ہوبیٹھے۔ مے فیئر اسٹریٹ کے ایک پب کے قد دیوار ٹی وی پر جب یہ میچ دیکھایا جارہا تھا تو سب اپنی سانسیں روک کر کسی ہیجانی لمحے کا انتظار کر رہے تھے کہ یکا یک جرمنی نے گول داغ دیا، جس پر ایک پولینڈ کے باشندے نے تالیاں بجادیں، بس کیا ہونا تھا کہ اس بیچارے پر لاتوں گھونسوں کی بوچھار ہونے لگی۔ بڑی مشکل سے اسے پب سے باہر آنے دیا گیا۔ اب برطانوی ٹیم جنوبی افریقہ سے جلد ہی واپس لوٹ آئے گی اور فٹبال کا جنون اترچکا ہے، کیوںکہ ان کے بڑے حریف ارجنٹینا کے ورلڈ کپ جیتنے کے آثار نمایاں ہیں، اس لیے اور خاموشی چھا جائے گی۔
کوانٹم (Quantum) فزکس میں یہ ممکن ہے کہ ایک شخص کسی دوسرے شہر میں بھی نظر آسکتا ہے۔ ٹالسٹائی نے بہت پہلے لکھا تھا کہ مذہبی کہانیاں کم لکھتا ہوں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ کوئی شخص یونان یا اٹلی کی مقدس زیارت پر جارہا تھا، لیکن پڑوس میں فاقے ہو رہے تھے، اس لیے اس شخص نے زیارت پر جانے کے بجائے روپے اس غریب خاندان کی مدد کو دے دیے، لیکن ایک آدمی جب واپس آیا تو اس نے بتایا کہ اس محلے کا فلاں شخص بھی اس کو زیارت کرتے ہوئے ملا تھا۔ ہندوستان کے کسی شہر کے لیے مشہور ہے کہ ایک شخص حج بیت اللہ کے لیے جارہاتھا کہ پڑوسی کی لڑکی کی شادی طے ہوگئی اور اس شخص نے ساری رقم پڑوسی کو دے دی۔ پڑوسی غریب آدمی تھا۔ اس قابل ہو اکہ عزت و آبرو سے بیٹی بیاہ دی، لیکن حجاج کے قافلے والوں نے بتایا کہ ہم نے خود اس شخص کو احرام پہن کر کعبے کے اطراف گھومتے ہوئے دیکھا ہے۔
گزشتہ ہفتے ایسا ہی ایک قصہ لندن میں پیش آیا کہ ہمارے ولی عہد بہادر کو مستقبل کی عالمی انرجی کانفرنس میں شرکت کے لیے ابو ظہبی جانا تھا۔ پرنس نے سوچا کہ وہ اور ان کے ساتھی جب ایک چارٹرڈ طیارے پر لندن سے ابو ظہبی جائیںگے تو اس طیارے سے کئی ٹن کاربن نکل کر فضا کو آلودہ کرے گا۔اس کے برعکس اگر وہ کوانٹم کے فارمولے ہولگرام کے ساتھ ابو ظہبی جائیں تو روشنی کے ایک 60پاور کے بلب کی مانند کاربن فضا میں جائے گا۔ ابوظہبی کی اس کانفرنس میں دنیا بھر سے 2500مندوبین شریک تھے اور شہزادہ چارلس نے اس کانفرنس میں ہولوگرام کے ذریعہ شرکت کی۔ وہ لندن کے کلیئرنس ہاؤس میں تقریر کر رہے تھے۔ یہ تقریر 3-Dامیج کی صورت میں ابو ظہبی کی کانفرنس ہال میں منتقل کردی گئی۔ اب ہر شخص یہ سمجھ رہا تھا کہ برٹش شہزادے بنفس نفیس خطاب کر رہے ہیں۔ وہ تقریر کے بعد آہستہ سے اسٹیج سے اٹھے اور کانفرنس ہال سے تالیوں کی گونج میں باہر چلے گئے۔ ابھی کچھ دنوں پہلے امریکی نائب صدر الگور بھی ہولوگرام کی ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹوکیو کی ایک کنسرٹ میں گئے۔ افتتاح کیا اور اسٹیج سے اتر کر چلے گئے، جب کہ وہ واشنگٹن میں ہی تھے۔ اب کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک ہی لڑکا بیک وقت دو لڑکیوں سے شادی کرلے۔
برطانیہ کے سماجی و سیاسی و ادبی افق پر پہلے تو فٹبال چھایا ہوا تھا، اب سیاسی ماحول تبدیل ہوا ہے تو سماجی زبوں حالی کا آغاز ہوا ہے۔ لندن کیا پورے ملک میں رہنے والی مختلف  نسلیں ایک ہفتہ وار اخبار شائع کرتی ہیں جس کاخرچہ مرکزی حکومت دیتی ہے۔ اب کوئی کونسل لیبر کے پاس ہے تو وہ ٹوری کے خلاف خوب مواد چھاپ رہی ہے، جب کہ ٹوری حکومت سے ہی مخارج ملتے ہیں۔ اس امر پر کمیونٹیز کے وزیر ایرک پکلز نے کہا کہ جلدی ان اخبار وں پر کریک ڈاؤن کا اعلان کیا جائے گا۔ اس سے بے روزگاری مزید بڑھے گی۔ ایشیائی آبادی والی کونسل اکثر ہندوستان کے حق میں خبریں اور تصاویر شائع کرتی ہے۔اسی طرح سے محکمہ سے بڑی تعداد میں ملازم نکالے جارہے ہیں۔ اب برطانیہ میں تھیراپیز کی سروس محدود ہوجائیں گی، اس لیے لوگ سخت ناراض ہیں۔
اب کھیل کے میدانوں میں مثال کے طور پر ومبلڈن کے ٹینس اسٹیڈیم یا فٹ بال، ہاکی اور کرکٹ کے کھیلوں میں سگریٹ نوشی یکسر بند کردی گئی ہے، کاروں میں بچے بھی سوار ہیں اور سگریٹ بھی پی جارہی ہو تو سخت چالان ہوگا۔
آئندہ ہفتے لنکا شائر کے بڑے شہر بلیک برن میں تین ملین پونڈ کی لاگت سے مسجد توحید کا افتتاح لارڈ آدم پٹیل کریںگے۔ مسجد تو بناڈالتے ہیں شب بھر میں لیکن اس قول پر کوئی عمل نہیں کرتا کہ: ’’مسلمان وہ ہے جو کسی میں عیب تلاش نہ کرے اور مومن وہ ہے جو کسی کا عیب جان کر کسی کو نہ بتائے۔‘‘

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *