اسلام میں خواتین کا مرتبہ

پروفیسر اختر الواسع

فرمان  الٰہی ہے : ظہر الفساد فی البر و البحر بما کسبت ایدی الناس انسانی کرتوتوں کے سبب خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا۔ اس لیے فساد کسی بھی نوعیت کا ہوگا اس کی نسبت کسی مذہب او راس کی تعلیمات کی طرف نہیں کی جاسکتی۔ یہ ممکن ہے کہ فساد پھیلانے والے کوئی مذہبی لبادہ اوڑھے ہوئے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے مزعومات کی تشہیر و تنفیذ میں مذہبی تعلیمات کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوں۔ لیکن مذہب اپنی حقیقت میں فساد اور بگاڑ کا ذریعہ نہیں ہوسکتا کیوں کہ اس کا وجود ہی فساد اور بگاڑ کے خاتمے کے لیے ہواہے۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم انسان کو اس کے کام کے حوالے سے جاننے کے بجائے ، اس کے مذہب، تہذیب، جغرافیے اور زبان سے شناخت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس کے کام بھی ان حوالوں سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ خواتین کی حیثیت کا مسئلہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، جسے ان کی حیثیت کو متاثر کرنے والے افراد کے بجائے اکثر ان کے مذہب کے حوالے سے جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں مسلم خواتین کی حیثیت مختلف اسباب کے تحت موجودہ دنیا کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور اکثر ذرائع ابلاغ کی سرخیوں میں بھی رہتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں مسلم خواتین کی پسماندگی بہت زیادہ ہے۔ تعلیم، معیشت، سیاست اور دیگر شعبہ جات زندگی میں وہ اپنی Counterpartsسے بہت پیچھے ہیں۔ لیکن مسلم خواتین کی اس پسماندگی کا تعلق ان کے مذہب یا مذہبی تعلیمات سے نہیں ہے جیسا کہ اکثر پیش کیا جاتا ہے۔ بلکہ یہ ان سماجوں کے جبر کا نتیجہ ہے جن میں رہنے پر وہ مجبو رہیں اور اس طرح کے جبر کا شکار صرف مسلم خواتین نہیں ہیں بلکہ مختلف حوالوں سے دنیا بھر کے مختلف سماجوں میں رہنے والی خواتین اس کا شکار ہیں۔ کہیں پر ان کے حقوق و اختیارات سلب کر لئے گئے ہیں تو کہیں حقوق و آزادی کے نام پر خواتین سے ان چیزوں کا مطالبہ کیا جاتاہے جن کی متحمل وہ نہیں ہوسکتیں۔
اسلام دین فطرت ہے۔ انسان کے خالق و مالک نے اسے اس لیے منتخب کیا ہے کہ اس پر عمل پیرا ہو کر وہ اس معیار مطلوب تک پہنچ سکتا ہے جس میں اللہ تعالی کی رضا ہے۔ خواتین کی حیثیت کے حوالے سے اسلام کی تعلیمات وہی ہیں جو کسی بھی مثالی (آئیڈیل) معاشرے میں خواتین کو حاصل ہوسکتی ہے اور اسلامی تاریخ میں ایسے معاشروں کا وجود ملتا ہے جن میں اسلامی تعلیمات پورے طور پر جاری و ساری تھیں اور خواتین کو وہ تمام حقوق و اختیارات حاصل تھے جن کی توقع کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے میں خواتین کے لئے کی جاسکتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آگے چل کر جب مسلم معاشرے اسلامی تعلیمات سے گریزاں ہوئے تو خواتین کی حیثیت بھی متاثر ہوئی اور انہیں محرومیوں اور مایوسیوں سے بھی دوچار ہونا پڑا۔
ڈاکٹر علی شریعتی کا شمار جدید اسلامی فکر کی تشکیل میں ایک اہم ستون کے طور پر ہوتا ہے۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ انقلابی فکر کے باوجود ان میں اسلامی روایت سے انحراف نہیں پایا جاتا۔ وہ دنیا کے تمام مسائل کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھتے، سمجھتے اور پھر ان کا حل پیش کرتے ہیں۔ دور جدید میں خواتین کی حیثیت کے حوالے سے جو سوالات قائم کئے گئے ہیں اور مسلمانوں کے بعض رویوں کے سبب اسلام کو مطعون کرنے کی جو کوششیں ہوئی ہیں، ایک اسلامی مفکر کے طور پر ڈاکٹر شریعتی نے ان سوالات و اعتراضات کا بھی جائزہ لیا ہے اور اس حوالے سے اسلام کی صحیح اور واضح پوزیشن کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ انہوںنے دور اول کے اسلامی معاشرے سے ایسی مثالیں بھی پیش کی ہیں جس میں خواتین اسلام نہ صرف یہ کہ ایک ترقی یافتہ معاشرے کا حصہ تھیں بلکہ اس میں ایک فعال کردار بھی رکھتی تھیں۔ڈاکٹر عفت فاروقی ایک ایسی اسکالر ہیں جو مسائل کا ادراک ہی نہیں بلکہ ان کے حل تک پہنچنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہیں۔انہوں نےبھی اسلام میں خواتین کی حیثیت کے بارے میں بہت ہی معروضی اور منصفانہ خیالات کا اظہار کیا ہے اور سبھی شعبوں میں اہم کردار ادا کرنے اور معاشرہ کو بہتر بنانے میں خواتین کے کردار کی اہمیت سے روشناس کرایا ہے۔

ڈائریکٹر:ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیزجامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *