دہشت گردی: حقائق کو پہچاننے کی ضرورت

سلیم شفیع

فوجی کارروائی مسئلے کا حل نہیں ہے۔اس موضوع کے ساتھ کئی پہلو جڑے ہوئے ہیں، جن پر خوب اچھی طرح غور وخوض کرنے کی ضرورت ہے۔یہ موضوع مذہبی تو ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ یہ سیاسی،سفارتی، اقتصادی اور سماجی بھی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی سطح پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانے کے ساتھ اپنی پالیسی میں لچک پیدا کرکے اس کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے۔ تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) اور افغان طالبان کے ذریعہ لڑائی کے ایک طریقے کی شکل میں استعمال کئے جانے والے خود کش حملے کی تربیت انہیں القاعدہ سے ملی تھی۔افغان طالبان پہلے ویڈیو اور تصویروں کے سخت خلاف تھے، لیکن اپنے پیغامات دوسرے علاقوں تک پہنچانے کے لئے وہ اب اسے ایک اہم وسیلہ کی شکل میں دیکھتے ہیں۔اسی طرح موجودہ وقت میں پاک اور افغان طالبان کے لئے انٹر نیٹ بھی ایک اہم ہتھیار بن چکا ہے۔ اس کی شروعات بھی القاعدہ نے ہی کی تھی۔ہر جگہ سب سے آگے القاعدہ ہے ۔ اس طرح القاعدہ کو نظر انداز کرکے نہ تو ہم معاہدہ کے بارے میں سوچ سکتے ہیں اور نہ ہی دہشت گردی کے مسئلے کو حل کرسکتے ہیں۔
ایک ہی پارٹی کے لوگ کسی ایک موضوع پر مختلف طریقے سے سوچ سکتے ہیں۔ ہم اگر اس کی سچائی جاننا چاہتے ہیں تو ہمیں پاکستان پیپلز پارٹی کے اعتزاز حسن اور بابر کے ذریعہ اختیار کردہ پالیسیوں کی جانب دیکھنا چاہئے۔ یہی فرق ملا عمر ، حکیم اللہ محسود اور اسامہ بن لادن کی پالیسیوں میں بھی نظر آتا ہے۔ قومی سطح کی ہر سیاسی اور مذہبی پارٹی مقامی حالات سے متاثر ہوتی ہے۔ہماری سیاسی پارٹیاں پنجاب میں کالا باگھ باندھ کی حمایت کرتی ہیں، لیکن سندھ میں اس کے خلاف جلسے منعقد کرتی ہیں۔ یہی فرق ہمیں القاعدہ ، ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کی سرگرمیوں میں بھی نظر آتا ہے، لیکن جہاں تک  جہاد اور شریعت پر مبنی ان کے نظریات کا تعلق ہے ،تو اس معاملے میں یہ دونوں نہ صرف ایک ہیں ، بلکہ ایک ہی دشمن کے خلاف لڑائی بھی لڑتے ہیں ۔فرق صرف اتنا ہے کہ جہاں القاعدہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ بر سرپیکار ہے، وہاں افغان طالبان کی سرگرمیاں افغانستان میں محدود ہیں، جبکہ ٹی ٹی پی کا پہلا نشانہ پاکستان ہے۔ القاعدہ کو افغانستان میں افغان طالبان اور پاکستان میں ٹی ٹی پی کے تعاون کی ضرورت ہے اور بدلے میں وہ ان دونوں کی مدد کرتا ہے۔
طویل عر صے سے جاری بدامنی اور خون خرابے کے دور نے اس علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل کردیا ہے۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف حکومت کا کوئی زور نہیں چلتا، بلکہ مختلف ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔کون دوست ہے اور کون دشمن ، اس کا امتیاز کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ پاکستان کے علاوہ را، سی آئی اے، موساد اور روسی وایرانی خفیہ ایجنسیاںبھی اس علاقے میں سرگرم ہیں۔ممکن ہے کہ دہشت گردوں کا ایک چھوٹا سا گروپ بھی انجانے میں یا جان بوجھ کر ان ایجنسیوں کے لئے کام کررہا ہو۔بیشتر دہشت گرد اپنے نظریات کے اتنے پکے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے مقاصد سے بھٹک نہیں سکتے۔ القاعدہ اور ٹی ٹی پی کی کمان اب انتہا پسندطاقتوں کے ہاتھوں میں ہے۔ امریکہ اور اس کے مسلم اتحادیوں کے خلاف جنگ کرنا ان کے ایمان و یقین کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بابراک کارمل، ڈاکٹر نجیب اللہ اور ان کے اتحادیوں جیسے سویت یونین کے معاونوں کے خلاف لڑائی ایک جہاد تھا ،تو موجودہ وقت میں حامد کرزئی اور امریکہ کے دیگر مسلم اتحادیو ںکے خلاف جنگ کو جہاد کیوں نہ تسلیم کیا جائے۔ حالیہ عرصے میں امریکہ سے پہلے عرب ممالک اور پاکستان کو نشانہ بنانے کی سوچ بھی اپنی جڑیں گہری کرتی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انتقامی جذبات بھی مسلسل بھڑک رہے ہیں۔
انہیں لگتا ہے کہ پاکستان نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے ۔ پہلے وہ صرف سرکاری افسروں اور فوج کے جوانوںکو ہی نشانہ بناتے تھے، لیکن اب ان کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ان کی نئی سوچ کے مطابق ہر وہ شخص جو ان کی مخالفت کرتا ہے ،اس کو جینے کا کوئی حق نہیں ہے۔افغان طالبان کی طرح پاکستانی طالبان کا بھی ایک حصہ پاکستان کے خلاف لڑائی کے حق میں نہیں ہے، لیکن اکثریت اب القاعدہ کی حمایت میں ہے۔محسود کے حامی گروپ کے علاوہ جہادیوں کا وہ طبقہ جو قبائلی علاقوں سے واپس اپنے گھر لوٹ رہا ہے، پوری طرح القاعدہ کی سوچ کی گرفت میں آچکا ہے۔ یہ طبقہ افغان طالبان کے مقابلے القاعدہ سے زیادہ متاثر ہے۔ ابتدا میں یہ دعوی کیا گیا کہ قبائلی علاقوں میں کوئی غیر ملکی نہیں ہے، لیکن جب یہ دعوی جھوٹا ثابت ہوگیا تو ہم دوسرے بہانے تلاش کرنے لگے۔یہ مشہور کیا جانے لگا بیت اللہ محسود حقیقت میں ایک امریکی ایجنٹ ہے، لیکن جیسے ہی امریکی ڈرون حملے شروع ہوئے، ہم میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔اب  ٹی ٹی پی اور محسود کے بارے میںہر  طرح کی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں اور ان کی دھمکیوں کو گیدڑ بھبکیبتانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ ان کی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان کھڑے کئے جارہے ہیں، لیکن ایک عرب خود کش حملہ آور کے ذریعہ خوست میں واقع سی آئی اے مرکز کو تباہ کرکے امریکہ کے منہ پر جو طمانچہ انہوں نے لگایا ہے، کیا اس کے بعد بھی ہم ان کی صلاحیتوں پر شک کرسکتے ہیں؟ مشن پر روانہ ہونے سے پہلے خود کش حملہ آور کے ساتھ حکیم اللہ محسود کا ویڈیو ٹیپ ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے درمیان نزدیکی رشتوں کی تصدیق کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ٹی ٹی پی کی مضبوطی میں ہی القاعدہ کا استحکام ہے اورالقاعدہ کی مضبوطی میں ٹی ٹی پی کا استحکام ہے۔ یہی بات القاعدہ اور افغان طالبان پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ تینوں کے خلاف ایک ہی طرح کی پالیسی بنائی جائے ۔ اگر القاعدہ کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے تو ہم ٹی ٹی پی یا افغان طالبان کے ساتھ سمجھوتہ یا دوستانہ رویے کی امید نہیں کرسکتے۔اگر ہم افغانستان میں افغان طالبان کی فتح کے لئے دعائیں کررہے ہیں تو پاکستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف جنگ نہیں چھیڑ سکتے ۔ ایک علاقے میں سمجھوتہ اور دوسرے علاقے میں فوجی کارروائی، ایک گروپ کے خلاف لڑائی اور دوسرے کے ساتھ دوستانہ رویہ کی پالیسی اپنا نے سے ہم یقینی طور پر برباد ہوجائیں گے۔ ہمیں اس مسئلے کی وسعت کو سمجھتے ہوئے اپنی خانگی اور غیر ملکی پالیسی پر پھر سے غور کرنا ہوگا اور اس کے مطابق اس کا ایک سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔اگر ہم ایسا نہیں کرپاتے ہیں تو پھر ہمیں اس کے سنگین تنائج بھگتنے کے لئے بھی تیار رہنا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *