راہل صاحب سیاست کا یہ کھیل آسان نہیں

کانگریس کے یوراج راہل گاندھی ایک ماہر کھلاڑی کی طرح اتر پردیش میں سیاسی بساط بچھا رہے ہیں۔پہلے دلتوں کی بستی میں چوپال لگاکر تیزی سے مقبولیت حاصل کرنے والے راہل نے آج کل کانگریس سندیش یاترائوں کے ذریعہ سے پارٹی کو مضبوطی فراہم کرنے کی مہم چھیڑ رکھی ہے۔راہل کے دوروں کو اسمبلی انتخابات2012کے نقطۂ نظر سے کافی اہم مانا جا رہا ہے۔دو مرحلوں میں ہونے والے یہ دورے 10نومبر کو الہٰ آباد میں سونیا گاندھی کی عوامی میٹنگ میں تبدیل ہوکر ختم ہو جائیںگے۔ دورے کا پہلا مرحلہ14اپریل سے31مئی تک تھا اور دوسرا مرحلہ گاندھی جینتی کے موقع پر 2اکتوبر سے 10نومبر تک چلے گا۔10نومبر کو سوراج بھون میں عوامی میٹنگ کرکے کانگریس صدر سونیا گاندھی اپنے بیٹے راہل گاندھی کی کامیابی کی کہانی عوام کو سنائیں گی۔کانگریس کی سندیش یاترا ریاست کے سبھی403اسمبلی حلقوں سے ہو کر گزرے گی۔2012کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کانگریس کی سندیش یاترا میل کا پتھر ثابت ہو سکتی تھی، لیکن اس کی شروعات ہی اچھی نہیںرہی۔اپوزیشن کو تو ایسی تقریبات  پر تنقید کرنے کا حق ہے، لیکن کانگریس بھی راہل کے خواب کو پورا نہیںہونے دے رہی ہے۔مختلف اضلاع میں جب یاترا پہنچتی ہے تو مقامی لیڈران وقار کی لڑائی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔اس وجہ سے اندر سے لیکر باہر تک سندیش یاترا تنازعات کا شکار ہو گئی ہے۔
کافی غورو خوض کے بعد کانگریس نے یاترا کی شروعات کا وقت اور مقام طے کیا تھا۔لمبے وقت سے دلتوں کو کانگریس کے ساتھ جوڑنے کی مہم میںلگے راہل گاندھی نے جب سندیش یاترا نکالنے کا منصوبہ بنایاتو ان کے دل و دماغ میں دلتوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔اس لیے انہوں نے اس کی شروعات امبیڈ کر نگر سے کرنے کا فیصلہ کیا۔امبیڈ کر نگر بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی کا گڑھ ہے۔یہاں سے وہ کئی مرتبہ الیکشن جیت چکی ہیں۔بی ایس پی کو کانگریس کے منصوبے کے بارے میں پتہ چلا تو اس کے کان کھڑے ہونا فطری تھے۔یہی وجہ تھی کہ 14اپریل کو امبیڈ کر نگر میں بی ایس پی اور کانگریس کے درمیان چلے سیاسی ڈرامے کا کلائمیکس مزیدار رہا۔امبیڈ کر جینتی پر بی ایس پی نے بھی شہر میں کئی پروگرام منعقد کر رکھے تھے۔مقامی پولیس اورانتظامیہ کو دونوں پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر کرانے میں پسینے آگئے۔کہا تو یہاں تک گیا کہ امبیڈکرنگر انتظامیہ نے راہل کے ذریعہ بابا صاحب کے مجسمے پر گل پوشی کرنے میں بھی کافی روڑے اٹکائے۔ادھر بابا صاحب بھیم رائو امبیڈ کر کے جنم دن پر کانگریس نے سندیش یاترا کے لیے جو پوسٹر چھپوائے، ان میں بابا صاحب کی تصویر غائب تھی۔اس سے بی ایس پی کو کانگریس کی نیت پر انگلی اٹھانے کا موقع مل گیا۔بی ایس پی کی سربراہ مایا وتی نے کانگریس پر الزام لگایا کہ اسی کے سبب با با صاحب کو بھارت رتن نہیںملا۔ بہر حال سندیش یاترا کے پوسٹر میں بابا صاحب کی تصویر نہیںہونے کی غلطی کا احساس ہوتے ہی آناً فاناً میں دوسرا پوسٹر بنواکر لگا دیا گیا۔جس میں گاندھی نہرو پریوار، جگ جیون رام، بابا صاحب، نیتا جی سبھاش چندر بوس، سردار پٹیل اور مولانا آزاد کی تصویریں تھیں۔ کانگریس اس حادثے سے نکل بھی نہیںپائی تھی کہ 16اپریل کو بلند شہر میں سندیش یاترا کے دوران ہوئی استقبالیہ میٹنگ میں چیئر گرلس کے بھدے رقص نے یاترا کی مٹی خراب کر دی۔بلند شہر میں ایک کالج کے میدان میں ہوئے عریاں رقص کے اس پروگرام کو مقامی ٹی وی چینلوں کے ذریعہ نشر کیا گیا۔اسے لیکر بی ایس پی اور دیگر جماعتوں نے کانگریس پر جم کر حملہ بولا۔معاملہ اتنا گرمایا کہ کانگریس کی ریاستی صدر ریتا بہوگنا جوشی نے تفتیش کا حکم صادر کر دیا۔بعد میں کانگریس نے صفائی پیش کرتے ہوئے اسے لوک رقص بتاکر معاملے کو رفع دفع کیا۔
سندیش یاترا کے دوران ایک کے بعد ایک غلطی کر رہے کانگریسیوں کی نیت پر اپوزیشن کو انگلی اٹھانے کا موقع مل گیا۔رہی سہی کسر کانگریسیوں کی باہمی خلفشار نے پوری کردی۔جن اضلاع سے یاترا کا گزر ہواوہاں وہاں کانگریسیوں میں خلفشار دیکھنے کو ملا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کہیں یہ دبا چھپا تھا تو کہیں کھل کر سامنے  آگیا۔مئو، میرٹھ اور الہٰ آباد میںتو خلفشار کا رنگ سڑک پر بھی صاف صاف دیکھنے کو ملا۔یاترا کے چوتھے دن میرٹھ کے کینٹ اسمبلی حلقے میں استقبالیہ میٹنگ میں شروع ہوئی الزام تراشی کی جنگ کا خاتمہ زبردست فائرنگ سے ہوا۔جس میں آٹھ رائونڈ گولیاں چلیں۔کانگریس کے ریاستی نائب صدر راجیندر شرما کے دو بیٹوں رمن اور ترون کے خلاف رپورٹ درج تک ہو گئی۔بتایا گیا کہ یاترا کے دوران اسٹیج پر ہی مسرور احمد اور راجیندر شرما کے مابین تلخ کلامی ہوئی تھی۔حامیوں نے جوش میں نعرے بازی اور فائرنگ کر دی۔اس کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔
میرٹھ کے مقامی لیڈروں کے ما بین لمبے عرصے سے چلے آ رہے اختلافات کے سبب اس بات کی امید پہلے سے ہی تھی کہ یہاں ہنگامہ ہو سکتا ہے۔در اصل سندیش یاترا شروع ہونے سے قبل منڈل تربیتی کیمپ میں حصے لینے کے لیے  ریتا بہوگنا جوشی یہاں آئی تھیں۔اس موقع پر میرٹھ کے کانگریسی نہ صرف آپس میں الجھ گئے بلکہ ریتا بہوگنا جوشی کے ساتھ بھی بد کلامی کی۔اس کے لیے اتر پردیش کے انچارج دگ وجے سنگھ نے مقامی لیڈروں کو پھٹکار بھی لگائی۔معاملہ پھر بھی ٹھنڈا نہیں ہوا تو دہلی اور لکھنو میں بیٹھے قد آوا کانگریسی لیڈروں نے یہاں آنے کا پروگرام ہی منسوح کر دیا۔ریتا بہو گنا جوشی نے لوگوں کو فون پر خطاب کرکے کام چلا لیا۔حالانکہ کانگریسی اب اس بات سے انکار کر رہے ہیں کہ ان لوگوں کے درمیان کسی طرح کی فائرنگ بھی ہوئی تھی۔ ان کا الزام تو یہ ہے کہ پولیس بی ایس پی حکومت کو خوش کرنے کے لیے بیہودہ پر چار کرر ہی ہے۔ایسا ہی نظارہ مئو میں بھی دیکھنے کو ملا۔سندیش یاترا کے دوران کوپا گنج میں 10مئی کی رات کو حالات تب خراب ہو گئے جب دو گروپوں میں منقسم کانگریسی سندیش یاترا کی قیادت کر رہے سکریٹری ڈاکٹر بھولاناتھ پانڈے کو اپنے اپنے اسٹیج پر لانے کے لیے آپس میں الجھ گئے۔ بالآخر ایک گروپ پولیس کی لاٹھیاں کھاتے ہوئے بھی پانڈے کو اپنے ساتھ لیکر اوڑیانے کے میدان میں میٹنگ کے مقام پر پہنچ گیا۔واقعے کے سبب شاہراہ پر نقل و حمل کا نظام ٹھپ ہو گیا۔نصف درجن کانگریسیوں کو چوٹیں بھی آئیں۔
اتر پردیش میں کانگریس کے لیڈران کے مابین اختلافات نے اعلیٰ قیادت کے کان کھڑے کر دیے ، لیکن مرکزی حکومت کی سخت ہدایت کے بعد بھی کانگریسی لیڈران مقامی اختلافات دور نہیں کر پائے ہیں۔سندیش یاترا کے دوران کوئی بھی ضلع ایسا نظر نہیں آیا جہاں سبھی کانگریسی ایک ساتھ کھڑے دکھائی دیے ہوں۔اسی وجہ سے کانگریس کے قد آور لیڈروں نے سندیش یاترا سے دوری اختیار کرنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھی،جس کا نقصان کانگریس کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔راہل گاندھی کی صلاحیتوں پر کانگریسیوں کے اختلافات کاری ضرب لگا سکتے ہیں۔خوشی کی بات بس اتنی ہے کہ اتر پردیش  کے کانگریسی بھلے ہی آپس میںلڑ رہے ہوں لیکن راہل کے تئیں ان کے اخلاص میں کوئی کمی نہیں ہے۔ریاستی کانگریس کے لیڈروں سے پریشان راہل اس بار پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں۔انہوں نے کانگریس سندیش یاترا کی کامیابی کی ذمہ داری اپنے قریبی نوجوان چہروں کے کندھوں پر ڈال رکھی ہے۔راہل کے کہنے پر پردیپ جین ، آر پی این سنگھ، سچن پائلٹ، جیوتی رادتیہ سندھیا،ملند دیوڑا، ارون یادواور میناکشی نٹراجن جیسے جواں سال چہروں کو سندیش یاترا کے ساتھ خصوصیت سے جوڑا گیا ہے۔یہ لیڈر سندیش یاترا کے بعد بھی کسی نہ کسی بہانے اتر پردیش میں رہ کر راہل کا ہاتھ مظبوط کرتے رہیں گے۔در اصل راہل کا ماننا ہے کہ ریاست میں کوئی ایسا جواں سال چہرہ نظر  بھی نہیں آرہا ہے،جس کے سہارے آگے کی لڑائی لڑی جا سکے۔دوسری طرف کانگریس کے پاس پورے ملک میں بہت سارے جواں سال چہرے ہیں۔    اترپردیش کی کمی اب ان لیڈروں کے سہارے پورا کرنے کی مہم چھیڑی جا رہی ہے۔ اس فہرست میں راہل گاندھی کی ہدایت پرسابق مسٹر دہلی اور کانگریس کے سینئر لیڈر آسکر فرنانڈیز کے فٹنس سکریٹری راکیش راجپوت ایٹہ اور انائو میں کانگریس کی عوامی بیداری یاترا میں شرکت بھی کر چکے ہیں۔کئی ہندی فلموں میں اداکاری کر چکے راجپوت نے راہل گاندھی کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے نوجوانوں سے اپیل کی۔انہوں نے نوجوانوں کو راہل گاندھی کا پیغام بھی دیا کہ بہتر مستقبل کے لیے کانگریس کا ساتھ دینا ہی بہتر متبادل ہے۔
اتر پردیش کے کانگریسیوں کو سمجھنا ہوگا کہ اگر ریاست میں انہیں اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرنا ہے تو متحد ہو کر رہنا پڑے گا۔ان کے سامنے بی ایس پی کی چنوتی ہے،کیونکہ عوام کی بنیاد پر وہ اتر پردیش کی نمبر ون پارٹی ہے۔سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو کو بھی کمزور نہیں کہا جا سکتا،جو سیاست کی بساط پر کب کیسے اپنے مہرے فٹ کر دیں، کوئی نہیںجانتا۔2007میں فتح کا پرچم لہرانے والی بی ایس پی کا رنگ2009کے لوک سبھا انتخابات نے کچھ پھیکا ضرور کر دیا ہے،لیکن اسے کمزور سمجھنے کی بھول کوئی نہیں کر سکتا۔جہاں تک کانگریس کی صورتحال کا سوال ہے تو اس کے پاس خوش ہونے کے لیے 2009میں ہوئے لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش میں22سیٹوں پر فتح حاصل کرنے کے علاوہ کوئی اورحصولیابی نہیں ہے۔بس اسی فتح نے کانگریسیوں کے پر لگا دیے ہیں۔ان کے سامنے سیاست کا پورا میدان ہے اور راہل جیسا نوجوان لیڈر ، جس کی سیاسی قابلیت کا لوہا پارٹی کی اعلیٰ قیادت ہی نہیں بلکہ حزب مخالف بھی مانتا ہے۔راہل کی قیادت میں کانگریسی بھلے ہی خود کو خوش نصیب سمجھ رہے ہوں، لیکن راہل کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ہے مضبوط تنظیم کی کمی اور ضلعی سطح پر شدید اختلافات۔ کانگریسیوں کے اختلافات کا نظارہ مختلف اضلاع سے گزر رہی سندیش یاترا کے دوران ٹکرائو کی شکل میں مختلف مقامات پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اگر وقت رہتے ریاست کے کانگریسی نہیں سدھرے تو عوام کو پھر منہ موڑتے دیر نہیں لگے گی۔جہاں تک بات راہل کی ہے تو اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *