جناب وزیر اعظم اس ناکامی کو کامیابی کہتے ہیں

منموہن سنگھ حکومت کا ایک سال مکمل ہو گیا ہےاور اس سال آزاد ہندوستان میں دو سب سے بڑے گھوٹالے ہوئے۔ آئی پی ایل گھوٹالے میں مرکزی وزراء، لیڈر، فلم اداکار ، افسران اور انڈر ورلڈ کے خطرناک تال میل کا انکشاف ہوا۔ 2جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں 60ہزار کروڑ روپے کا نقصان بھی حکومت کے کھاتے میں آیا۔ علاوہ ازیں مہنگائی، سی بی آئی کا سیاسی استعمال، مائونوازوں کی دہشت اور بدعنوانیوں کی نئی نئی شکلیں دیکھنے کو ملیں۔کسانوں کی سبسڈی کے لئے حکومت کے پاس پیسہ نہیں ہے، مگر مندی کے نام پر کارپوریٹ کے لئے سرکاری خزانہ کھول دیا گیا اور عام آدمی کو مسائل سے خود نمٹنے کے لئے بے سہارا چھوڑ دیا گیا۔ وزیر اعظم ملک کے سب سے ایماندار لیڈران میں سےایک  ہیں، مگر یہ کافی نہیں ہے، گزشتہ ایک سال میں ان کی ایمانداری کا عکس حکومت کے کام کاج پر پڑتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
ہندوستان میں حکومت تو پانچ سال کے لئے ہی بنتی ہےاور اقتدار کاپہلا سال کسی بھی حکومت کے ہدف اور سمت کو طے کرتا ہے، مگر اس حکومت کا تجزیہ کرناکچھ مختلف ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 1991میں ملک کو ایک خواب دکھایا تھا، وزیر خزانہ کی شکل میں انھوں نے ہندوستان کی اقتصادی پالیسی پوری طرح سے تبدیل کر دی تھی۔ اقتصادی ترقی، نجکاری اورگلوبلائزیشن کا راستہ صاف کرکے انھوں نے یہ بھروسہ دلایا تھا کہ 2010تک ملک میں بے روزگاری ختم ہو جائے گی، تمام سڑکیں پکی ہو جائیںگی اور بجلی کا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ کسان خوشحال ہو جائیں گے، مزدوروں کی تمام ترضروریات پوری ہو جائیں گی اور ملک ترقی یافتہ ممالک کی قطار میں کھڑا ہو جائے گا۔ بیس سال گزر گئے، منموہن سنگھ وزیر خزانہ سے وزیر اعظم بن گئے ، مگر غریب پہلے سے زیادہ غریب اور امیر پہلے سے کئی گنا زیادہ امیر بن گئے۔ گائوں اور شہروں میں اتنا فاصلہ پیدا ہو گیا ہے کہ لیڈران کے جھوٹے وعدوں سے بھی بھروسہ اٹھ گیا۔ ترقی کی روشنی چند بڑے شہروں میں سمٹ کر رہ گئی ہےاور بقیہ ملک اندھیرے کی دلدل میں پھنس کر سسکیاں لے رہاہے۔منموہن سنگھ کی حکومت کا تجزیہ اسی تناظر میں کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ یو پی اے -2حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر وزیر اعظم نے ایک پریس کانفرنس کی، جس میں وہ  ایک دوراندیش وزیر اعظم کی جگہ سیاستداں زیادہ نظر آئے۔
منموہن سنگھ نے گزشتہ ایک سال میں انہیں پالیسیوںکو اپنایا، جن کی انھوں نے 1991میں شروعات کی تھی۔ منموہن سنگھ نے پورے سال ملک بھر کے عوام کو جدید ترقی کی آگ میں جھونکےرکھا۔سابق وزیر اعظم آنجہانی چندر شیکھر جی نے کافی پہلے ہی آج کے حالات سے پارلیمنٹ کو واقف کرایا تھا۔ منموہن سنگھ کے بجٹ سے وہ ا تنے بے چین ہوئے تھے کہ انھوں نے لوک سبھا میں یہ انتباہ دےدیاتھا کہ یہ اقتصادی پالیسی ملک کو بد امنی کی جانب لے جاکر رہے گی۔آج چندر شیکھر جی کی باتیں صحیح ثابت ہو رہی ہیں۔ ملک کے دو سو سے زیادہ اضلاع ایسے ہیں، جہاںسرکار کی موجودگی نہیں ہے یا پھر برائے نام ہے۔ آنجہانی چندر شیکھر جی جب وزیراعظم بنے تھے تب منموہن سنگھ ان کے اقتصادی مشیر تھے۔ جب نرسمہاراؤ کی حکومت بنی تو وہ وزیر خزانہ بنے۔ وزیرخزانہ بنتے ہی منموہن سنگھ نے پوری پلٹی ماری اور ترقی پسندی کے مسیحا بن گئے۔ وزیر خزانہ بننے سے پہلے منموہن سنگھ کے خیالات الگ تھے۔ انہوں نے ملک کی ترقی میں حکومت کے کردار کو ختم کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا، وہی پالیسی آج ملک میں چل رہی ہے۔ جدید ترقی کا اثر ہمارے ملک پر ایسا ہوا ہے کہ 80فیصد لوگ ترقی کے قومی دھارے سے الگ ہوچکے ہیں۔ حکومت کی پالیسیوں کا فائدہ ان 80فیصد لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہا ہے۔
گزشتہ سال جب منموہن سنگھ کی حکومت بنی تو دنیااقتصادی بحران کی زد میں تھی۔ ہندوستان بھی اس کے اثر سے محفوظ نہیں رہا۔ کیوںکہ 1991کی پالیسی کی وجہ سے ہندوستان اس نظام کا حصہ بن چکا تھا۔ ملک کی شرح ترقی پر منفی اثر پڑا، برآمدات بھی متاثر ہوئی اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے۔ یوپی اے حکومت گزشتہ ایک سال کے دوران عام آدمی سے زیادہ خاص لوگوں کے ساتھ نظر آئی۔ حکومت نے امیروں کو ٹیکس میں زیادہ رعایت دینے کی پالیسی پر کام کیا۔ 2009-10کے دوران 502299کروڑ روپے کی رعایت دی گئی۔ اس میں سے 79554کروڑ روپے کی رعایت کارپوریٹ سیکٹر کو دی گئی ور 40929کروڑ روپے کی رعایت انکم ٹیکس دینے والوں کو ملی۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہے کہ حکومت نے اقتصادی بحران کے نام پر ملک کے کارپوریٹ سیکٹر اور امیروں کو زیادہ فائدہ پہنچایا۔ گزشتہ ایک سال میں ہندوستان نے مہنگائی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ عام آدمی نے مہنگائی کی ایسی مار کبھی نہیں جھیلی تھی۔ خوردنی اشیاء کے دام آسمان چھو نے لگے۔ 2009میں مہنگائی کی شرح 20فیصد تک پہنچ گئی، جو اب بھی تقریباً 17فیصد ہے۔ اس ریکارڈ توڑ مہنگائی کی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے زراعت کو نظرانداز کردیا۔ گزشتہ سال خشک سالی کی وجہ سے کسانوں نے دوہری مار جھیلی۔ باقی کمی حکومت نے زراعتی شعبہ کا سرکاری خرچ کم کر کے پوری کر دی۔ کسانوں کی مدد کرنے کے بجائے حکومت نے فوڈ سبسڈی میں 400کروڑ اور کھاد سبسڈی میں 3000کروڑ روپے کی کمی کر دی۔ یہ کیسی پالیسی ہے کہ امیروں اور کارپوریٹ سیکٹر کی مدد کے لیے حکومت اپنی تجوری کھول دیتی ہے، لیکن غریب کسانوں کی مدد کے لیے حکومت کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ اس پالیسی کا کیا مطلب نکالا جائے۔ کیا یہ مان لیا جائے کہ سرکار پوری طرح صنعت کاروں، کارپوریٹ سیکٹر اور امیروں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن گئی ہے۔
عجیب و غریب بات یہ ہے کہ حکومت نے کار پوریٹ سیکٹر اور امیروں کو جو چھوٹ دی ہے، اس کی بھرپائی وہ عوام کی جیبیں کاٹ کر پورا کر رہی ہے۔ حکومت نے بالواسطہ طورپر ٹیکس بڑھا دیا۔ سرکار نے پٹرول اور ڈیزل سمیت کئی سرکاری چیزوں پر ایکسائز اور کسٹم ڈیوٹی بڑھا دی ۔ بازار میں سامان پہلے سے زیادہ مہنگا ہوگیا اور جس کا سیدھا اثر ملک کے غریب عوام پر پڑ رہا ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ ماہر اقتصادیات تو ہیں، لیکن جس طرح کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے، اس سے کوئی یہ کیسے مان لے کہ سرکار مہنگائی سے نمٹنے کے لیے کوئی کارگر قدم اٹھائے گی۔ یوپی اے-2کو اب بایاں بازوںکی حمایت کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے حکومت بے فکر ہو کر اب پبلک سیکٹر یونٹ کو بیچنے کی تیاری کر رہی ہے۔ حکومت کی اسکیم سے یہی پتہ چلتا ہے کہ کارپوریٹ اور امیروں کو ٹیکس میں جو چھوٹ دی گئی ہے، اس کی بھرپائی وہ سرکاری کمپنیوں کو بیچ کر پورا کرنے والی ہے۔ سرکار کی اسکیم ہے کہ ان کمپنیوں کو بیچ کر 40ہزار کروڑ روپے کا نقصان پورا کیا جائے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں حکومت نے جو بھی پالیسیاں بنائیں، ان کا سیدھا فائدہ ملک کے امیروں اور طاقتور خاندانوں کو ہوا۔ حکومت نے ملک کے غریب عوام کو فراموش کردیا، اس نے عام آدمی کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نبرد آزما ہونے کے لئے بے سہارا چھوڑ دیاہے۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ غریب کسانوں، جنگلوں میں رہنے والے قبائلیوں، مزدوروں، خواتین اور اقلیتوں کی ترقی و فروغ کے لئے یا ان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے گذشتہ ایک سال میں حکومت نے نہ تو کوئی پہل کی اور نہ ہی کوئی قانون بنایا۔حکومت ترقی کے اعدادوشمار دکھاکراپنی پیٹھ خود تھپتھپا رہی ہے کہ خشک سالی اور اقتصادی بحران کے باوجود ہندوستان کی شرح ترقی 7 فیصد سے زیادہ ہے۔یہ ایک اچھا عندیہ ہے ،لیکن یہ شرح ترقی کسی حکومت کی وجہ سے نہیں بلکہ ملک کے لوگوں کی محنت کا ثمرہ ہے۔اگر ملک بحران کے دور میں بھی ترقی کر رہا ہے تو اس کے لئے حکومت کو نہیں بلکہ ملک کے عوام کو شاباشی ملنی چاہئے۔سوال یہ ہے کہ اس فروغ کے لئے حکومت نے کیا کیا۔ کوئی یہ نہیں بتا سکتا ہے کہ حکومت نے ایسی کون سی پالیسی اپنائی ہے، جس کی وجہ سے ہندوستان کی ترقی ہورہی ہے۔
نیوکلیر لائبلیٹی بل بھی حکومت کی اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے ، جہاںحکومت نے عوام سے زیادہ منافع کو ترجیح دی۔ حکومت اس بل کو پارلیمنٹ میں لے کر آبھی گئی، لیکن مخالفت اتنی زبردست ہوئی کہ اس کے قدم پیچھے ہٹ گئے۔ یہ بل ہند۔امریکی ایٹمی معاہدہ کا حصہ تھا۔ اس بل کے ذریعہ یہ طے ہوگا کہ اگر کوئی حادثہ ہوجائے تو امریکی کمپنی اور حکومت کو کتنے کتنے پیسے دینے پڑیںگے۔ حکومت نے کل 450ملین ڈالر کی حد مقرر کی، جو بھوپال گیس سانحہ میں سپریم کورٹ کے ذریعہ طے شدہ رقم سے بھی کم تھی۔ اب یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ جب کوئی نیوکلیائی حادثہ ہوگا، تو وہ بھوپال گیس سانحہ سے بھی کہیں زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ثابت ہوگا۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اس بل کے مطابق کسی حادثہ کے بعد امریکی کمپنی کو تین سو کروڑ روپے دینے تھے۔ اس بل کے تحت 67ملین ڈالر حکومت ہند کو دینے پڑیںگے۔ حکومت کے ذریعہ مقررکی گئی رقم یوروپ اور امریکہ کی رقم سے کافی کم ہے۔ مطلب یہ کہ ہندوستان کے لوگوں کی زندگی امریکہ اور یوروپ میں رہنے والے لوگوں کی زندگیسے سستی ہے۔ اس بل کے ذریعہ حکومت نے یہی پیغام دیا کہ اسے ملک کے عوام کے مفادات سے امریکی کمپنیوں کے مفادات زیادہ عزیز ہیں۔ حکومت کو لگتا ہے کہ مارکیٹ میکانزم ہرمسئلہ کے حل کے لئے کافی ہے اور اس سے سب کا بھلا ہوگا۔ یہ باتیں صرف کتابوں میں پڑھتے وقت اچھی لگتی ہیں۔لیکن ہمارے ملک کی سچائی یہ ہے کہ نجکاری اور ترقی پسندی کے اس دور نے گذشتہ ایک سال میں ایک سے بڑھ کر ایک دلالوں کو پیدا کیا ہے۔ یوپی اے حکومت کی ایک سال کی کہانی گھوٹالوں سے بھری پڑی ہے۔گذشتہ ایک سال میںجتنے گھوٹالے سامنے آئے ہیں،وہ یوپی اے کے گذشتہ پانچ سالوں میںپیش نہیں آئے ۔ آئی پی ایل کی کالی دنیا کا جب انکشاف ہوا تو اس کی چھینٹوں نے حکومت کے کئی وزراء کو داغدار کردیا۔ یہ بات عام ہوگئی کہ کرکٹ کی آڑ میں صنعت کار، سیاسی رہنما، فلم اسٹاروں، کھلاڑیوں، افسروں اور انڈرورلڈ کا ایک خطرناک نیٹ ورک ملک میں پھل پھول رہا ہے۔ آئی پی ایل منی لاؤنڈرنگ، انڈر ہینڈ ڈیلنگ، اقرباء پروری، حوالہ اور بلیک منی کا مرکز بن چکا ہے۔یوپی اے کے اہم وزیر ششی تھرور کا استعفیٰ لے کر حکومت نے اس معاملے کی لیپا پوتی کرنے کی کوشش تو ضرور کی ، لیکن کئی اور وزیر اور لیڈر شک کے دائرے میں ہیں۔ یہ کیسی حکومت ہے ، جس کی ناک کے نیچے اس کے وزیر اور لیڈر گذشتہ تین سالوں سے اتنا بڑاگھوٹالہ کرتے رہے، لیکن اسے اس کا پتہ تک نہیں چلا۔ کہنے کو تو جانچ ہورہی ہے، لیکن عوام کو پوری طرح یہ یقین ہوچکا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر حکومت آئی پی ایل گھوٹالے کے سبھی گناہ گاروں کو بچالے جائے گی۔یوپی اے 2جی اسپیکٹرم اسکیم پردفاع کی پوزیشن میں ہے۔ انڈر ہینڈ ڈیلنگ کی وجہ سے سرکاری خزانے کو قریب60ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوگیا۔
وزیر کے خلاف کارروائی ہونا تو درکنار ، ایک پریس کانفرنس میں وزیر اعظم نے اس وزیر کو کلین چٹ بھی دے دی۔ منموہن سنگھ سے اس اسکیم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ سارا کام ضابطے کے تحت کیا گیا ہے اور اس میں کوئی گڑبڑ نہیں ہوئی ہے۔ ڈی ایم کے کو ساتھ رکھنا یوپی اے کی سیاسی مجبوری تو سکتی ہے، لیکن محاسبہ اور جوابدہی کے سوال پر منموہن سنگھ کی حکومت گھیرے میں آگئی ۔ گھوٹالے اور سازش کی کہانی کا ایک اور انکشاف تب ہوا ، جب یہ پتہ چلا کہ سرکاری ایجنسیاں کچھ وزرائے اعلیٰ اور اپوزیشن کے لیڈران کے ساتھ ساتھ کانگریس کے لیڈران کی بھی فون ٹیپنگ کر رہی ہیں۔جن ایجنسیوں پر دہشت گردوں اور انڈر ورلڈ پر نظر رکھنے کی ذمہ داری ہے، وہ سیاسی مخالفین اورعوامی نمائندوں پر نظر رکھنے کا کام کر رہی ہیں۔
وزیر اعظم کی شبیہ ملک کے سب سے ایمان دار لیڈر کی ہے، لیکن ان کا خود ایماندار ہونا کافی نہیں ہے۔وزیر اعظم صاحب کی ایمانداری کا عکس حکومت اور حکومت کے کام کاج پر بھی نظر آنا چاہئے۔حکومت کے اندر زبردست بد عنوانی ہے، یہ سب کو پتہ ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یو پی اے حکومت کے دور اقتدار میں بد عنوانی نے نئے نئے روپ لے لیے ہیں۔زمینی حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے بد عنوانی کے اپنے جال میںگائوں کے لوگوں کو بھی حصہ دار بنا لیا ہے۔نریگا ہو ، مڈ ڈے میل ہو یا پھر حکومت کا کوئی دیگر پروجیکٹ، سب بدعنوانی کے نئے مرکز بن چکے ہیں۔گائوں میںپیسے کی بندر بانٹ ہو رہی ہے۔سرکاری فائلوں میںکاموں کاپورا بیورا بھرا جا رہا ہے۔وزراء انہیں فائلوں کو دیکھ کر پریس کانفرنس میںاپنی پیٹھ ٹھونک رہے ہیں۔ ترقی کا سارا کام صرف سرکاری فائلوں پر چل رہا ہے۔ایک سال میں یو پی اے حکومت کے کھاتے میں یہ بھی شامل ہونا چاہئے کہ ملک کے افسران نے فائلوں کے ذریعہ ترقی کے پل باندھنے میں مہارت حاصل کر لی ہے۔اس سے تو یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ بد عنوانی کی ندی حکومت سے سر سے ہوکر بہہ رہی ہے۔
بدعنوانی روکنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے، لیکن اس کے لیے اخلاقی اختیارات بھی ہونے چاہئیں۔اگر اعلیٰ وزراء کے نام گھوٹالے اور اسکیم میں آتے رہیں گے تو بد عنوانیوں کو روکنے کی پہل کیسے ہو سکتی ہے۔اگر مستقل بدعنوانی کوسیاسی ہتھیار بنایا جائے گاتو افسران کی کیسے لگام کسی جا سکے گی۔مہنگائی کو لیکر اپوزیشن کے تیوروں اور کٹ موشن پر حکومت بیک فٹ پر آگئی ہے۔لوک سبھا میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ملائم سنگھ، لالو پرساد یادو اور مایا وتی کے ساتھ جس طرح کی ڈیلنگ ہوئی، اس سے حکومت کی شبیہ تو خراب ہوئی ہی، ساتھ ہی عوام کا اعتماد بھی ٹوٹ گیا۔اس کا اثر یہ ہوا کہ سونیا گاندھی کے اصرار کے باوجودخواتین ریزرویشن بل ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا۔
یوپی اے2-حکومت ملک میں کیا کرنا چاہتی ہے، یہ شاید ملک کے عوام کو صحیح ڈھنگ سے پتہ نہیں ہے۔وجہ یہ ہے کہ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی یو پی اے کا کوئی مشترکہ پروگرام نہیں ہے۔ حکومت کی پالیسی کیا ہے، منصوبہ کیا ہے اور ویزن کیا ہے،یہ ہمارے سامنے واضح نہیں ہے۔حکومت بننے کے بعد یہی پیغام دیا گیا کہ یو پی اے اپنے دوسرے دور میں انہیں کاموں کو کرے گی، جو پچھلی بار متحدہ سیاست کی مجبوریوں کی وجہ سے نہیںکر سکی۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *