پاکستانی نوجوان دہشت گرد کیوں بن رہے ہیں

حیات کے

فیصل  شہزاد دولت مند ہے ،گریجویشن تک تعلیم یافتہ ہے، دو بچوں کا باپ ہے اور اس کی خانگی زندگی بھی خوشحال ہے۔بظاہر اپنی زندگی سے دکھی ہونے کی کوئی وجہ بھی نظر نہیں آتی۔توپھر وہ کون سی بات تھی جس کی وجہ سے وہ ٹائمس اسکوائر میں بم رکھنے کے لئے تیار ہوا؟فیصل کی اس حرکت نے پاکستان میں دہشت گردی کے چہرے اور کردار پر پھر سے غور وفکر کرنے پر مجبور کردیا ہے۔عام طور پر یہی سمجھاجاتا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی غربت و افلاس سے پیدا شدہ یاس و ناامیدی کا نتیجہ ہے۔اجمل قصاب اس کی واضح مثال ہے۔ اسکول کی تعلیم نامکمل چھوڑکر مزدوری کرنے والے قصاب کے سامنے زندگی میں آگے بڑھنے کے امکانات معدوم ہوگئے تھے اور دہشت گرد تنظیموں کے ذریعہ رنگ روٹ کی شکل میں بحال کئے جانے کے لئے وہ آسان ہدف تھا۔مذکورہ تنظیمیں ایسے نوجوانوں کی ہی تاک میں لگی رہتی ہیں۔ چھوٹے شہر اور قصبے ان کے نشانے پر ہوتے ہیں اور اس کام میں بے روزگاری ان کے لئے مددگار ثابت ہوتی ہے۔ہاتھوں میں بندوق لے کر چلنے کے شوق پر قابو پانا، قصاب کی عمر کے غریب نوجوانوں کے لئے اکثر مشکل ہوتاہے۔ نفسیاتی طور پر بھی اس کو سمجھنا بے حد آسان ہے۔لیکن فیصل شہزاد سماج کے اس طبقے سے تعلق نہیں رکھتا۔ زندگی کی تمام سہولتیں اور آسائشیں مہیا ہونے کے باوجود فیصل شہزاد دہشت گردی کے راستے پر چل کر آخر کیا حاصل کرنا چاہتا تھا،یہ سمجھنا کسی پہیلی سے کم نہیں ہے۔ فیصل جیسے دوسرے نوجوان دہشت گردی کاراستہ کیوں اختیار کرتے ہیں، یہ معلوم کرنا خاصامشکل کام ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانیوں ‘خصوصاًپاکستانی نوجوانوں کی ذہنی حالت ہی کچھ ایسی ہے جس کی وجہ سے وہ تشدد کی جانب مائل ہوتے ہیں۔ان کی ذہنیت ہی انہیں تشدد کے راستے پر چلنے کے لئے مجبور کرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنرل ضیاء الحق کے فوجی دور اقتدار اور افغان جنگ میں پاکستان کی حصہ داری نے ایسی سوچ کے فروغ میں اہم کردار اداکیا ہے۔ اس حقیقت کو عافیہ صدیقی یا طالبان کو ملنے والی حمایت سے بھی سمجھا جاسکتاہے۔ حالانکہ دودہائی پہلے طیارہ حادثہ میں جنرل ضیاء کی موت کے بعد نوجوان طبقہ سے تعلق رکھنے والا ایک چھوٹا سا گروپ اس سوچ سے باہر نکل کر روشن خیالی کو اپنانے میں کامیاب رہا، لیکن اس کی ایک بڑی تعداد ابھی بھی ماضی میں ہی جی رہی ہے اور اپنی سوچ کو بدلنے میں ناکام ہے۔
لیکن ایسی سوچ کی موجودگی خطرے کی گھنٹی ہے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ نے پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی کی پالیسی بنانے کے کتنے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔طلبہ کو اندیشہ ہے کہ انہیں ویزا ملنے میں زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پہلے ہی سے امریکہ میں رہائش پذیر پاکستانی شہریو ںکو شکایت ہے کہ امریکی عوام انہیں دشمن سمجھتے ہیں اور حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔اس میںکوئی حیرت کی بات بھی نہیں ہے۔کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ آج پوری دنیا کی نظر میں دہشت گردی کا پاکستان سے گہرا ربط ہے اور ہر تخریبی کارروائی کا تانا بانا پاکستان سے جاملتا ہے ۔ اس نظرئے کو کلی طور پر مسترد بھی نہیں کیا جاسکتاکیونکہ اس میںکہیں نہ کہیں سچائی موجود ہے ۔ ملک کو اس کی وجہ سے زبردست نقصان اٹھانا پڑا ہے اور بدستوملک کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔
دہشت گردوں کو شکست دینے سے کہیں زیادہ مشکل ہے اس سوچ کا مقابلہ کرنا،جو دہشت گردی کو فروغ دیتی ہے۔ممکن ہے کہ طالبان کے خلاف جاری جنگ میں کسی طرح فتح حاصل ہوجائے ۔ ملک کے شمال مغربی حصے میں کئی علاقوں کو طالبان کے قبضے سے چھڑانے میں کامیابی بھی ملی ہے،حالانکہ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ بڑے لیڈروں کو گرفتار نہ کئے جانے سے دہشت گردوں پر پوری طرح لگام لگانا بہت مشکل ہے ۔ سرکردہ لیڈروں سے چشم پوشی کرنے سے دنیا کو غلط پیغام جائے گا اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔اگر مسند اقتدار پر براجمان لیڈروں کے طالبان کے ساتھ خفیہ روابط کااس وقت انکشاف نہیں کیا گیا اور اس معاملے کوسنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو پھر مستقبل میں ایسا کبھی ممکن نہیں ہوپائے گا۔ حالیہ عرصے میں آرمی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا گیا اور راولپنڈی میں ان مسجدوں کو نشانہ بنایا گیا ،جہاں فوجی افسران کی اکثرآمدورفت رہتی ہے۔ مذکورہ واقعات موجودہ حالات کی سنگینی کا اندازہ لگانے کے لئے کافی ہیںاور اگرہم اسے اس وقت سمجھ نہیں پائے تو پھر دوبارہ شاید ایسے موقعے نہ ملیں۔ اگر شمال مغربی علاقوں میں طالبان کو نیست ونابود کرنے کی مہم جاری بھی رہتی ہے ،پھربھی ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ اس ذہنیت کو دور کیسے کیا جائے اور اس کے لئے کیا اقدامات کئے جائیں، جس کی وجہ سے فیصل شہزاد جیسے نوجوان طالبان میں شمولیت اختیار کرلیتے ہیں۔
ابھی تو یہی بات موضوع بحث بنی ہوئی ہے کہ شہزاد نے یہ کام انفرادی طور پر کیا ہے یا پھر وہ ملک کے مختلف حصوں میں مصروف عمل دہشت گرد تنظیموں میں سے کسی ایک کا حصہ ہے۔ایسی کئی تنظیمیں ہیں جو باہمی انتشار کا شکار ہوگئیں اور اس انتشار کے نتیجے میں چھوٹے چھوٹے اتنے گروپ بن گئے کہ سبھی کا نام یاد رکھنا بہت مشکل ہے۔کئی تنظیموں نے 9/11کے بعد اپنے نام تبدیل کرلئے ہیں ،جس کی وجہ سے ان کی صحیح شناخت اور بھی مشکل ہوگئی ہے۔بڑے بڑے صحافیوں کوبھی ان کے نام اپنی میز پر لکھ کررکھنے پڑتے ہیں ،تاکہ کسی نئی واردات کی صورت میں ممکنہ ملزموں اور ان کی تنظیموں کی شناخت ہوسکے۔ لیکن سوال یہ نہیں ہے کہ فیصل شہزاد ان میں سے کسی تنظیم سے منسلک تھا یا نہیں بلکہ اصل سوال تو یہ ہے کہ اس کے کام کرنے کا طریقہ بالکل ویسا ہی تھا جیسے دوسرے دہشت گرد کرتے ہیں۔مطلب یہ کہ فیصل شہزاد دہشت گردوں اور ان کے کام کرنے کے طریقے سے اتفاق رکھتا ہے اور یہی فکر کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
ہمیں اس ذہنیت کو بدلنے کی کوشش کرنی ہوگی،جس کے تحت نیویارک جیسے حادثات کو انجام دیا جاتا ہے۔یہ سمجھ لینا کہ ضیاء الحق کے بعد سے اب تک بہت سی چیزیں بدل چکی ہیں، بہت بڑی بھول ہوگی۔یہ درست ہے کہ پہلے کے مقابلے معاشرے کی حالت میں سدھار ہوا ہے ،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔موجودہ حالات ایران میں انقلاب سے پہلے کے حالات جیسے ہیں۔ پاکستان کے اس نئے چہرے میں کئی ایسی چیزیں ہیں،جو دورخی کا احساس دلاتے ہیں۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو روشن خیال ہونے کادم بھرتے ہیں،لیکن اکثر اہم ایشوز پر ان کی رائے شدت پسندوں سے میل کھاتی ہے۔ حالیہ عرصے میں کرائے گئے سروے پر نظر ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ لوگوں کی اکثریت انتہاپسندی کی جانب مائل ہے۔ تقریباً80فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ سیاسی زندگی میں مذہب کے لئے بھی جگہ ہونی چاہئے۔لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو مذہب کے نام پر ووٹ نہیں ملتے۔ جنرل ضیاء کے زمانے میں معرض وجود میں آنے والی دقیانوسی اور شدت پسند مذہبی تنظیمیں رفتہ رفتہ ایسی روشن خیال تنظیموں کو کمزور کرنے میں کامیاب ہوتی جارہی ہیں ، جو روایتی طور پر براعظم ایشیا میں معاشرتی اور مذہبی شناخت کا حصہ تھیں۔ فکر کی بات یہ ہے کہ ان شدت پسند تنظیمو ں کے نظریات آہستہ آہستہ شہر کے نامور اسکولوں کے بچوںکو بھی اپنی گرفت میں لے رہے ہیں اور وہ ان کی انتہاپسندانہ سوچ سے متاثر ہورہے ہیں۔اسکارف سے منھ ڈھانک کر سڑکوں پر چلتی ہوئی لڑکیوں یا کھیل کے میدانوں میں بچوں کے درمیان آپسی بات چیت کو سن کر اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔
ان حالات کو بدلنے کے لئے زبردست سیاسی قوت عمل کی ضرورت ہے۔لیکن سچائی یہ ہے کہ موجودہ دور میں ایسی کوئی طاقت نظر نہیں آتی، جس کے پاس اس کام کو انجام دینے کے لئے درکار قوت عمل اور عز م وحوصلہ موجود ہو ۔ہمیں تو یہ بھی نہیں پتا کہ ہمارا ملک دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کا مرکز کیوں بنتا جارہا ہے۔ ممکن ہے کہ کل کوئی پاکستانی شہری ممبئی ‘ نیویارک‘ لندن‘ یا کہیں اور کسی دہشت گردانہ واردات کو انجام دینے میں کامیاب ہوجائے اور ہم سب کی زندگیاں اور بھی زیادہ خطرے میں پڑ جائیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *