نیرا راڈیا کی دلالی میں سونیا گاندھی شامل نہیں

چونسٹھ ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ کرنے کے بعد بھی بڑی شان سے وزیر مواصلات اے راجا اپنے عہدہ پرکیا اس لئے فائز ہیں کہ سونیا گاندھی سے ان کے قریبی رشتے ہیں؟جنتا دل کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی الزام لگاتے ہیں کہ2-جی اسپیکٹرم سودے میں سونیا گاندھی کے کے مین آئی لینڈ میں واقع بینک آف امریکہ کے کھاتے میں کروڑوں ڈالر کی انٹری ہوئی ہے اور اس کے تمام کاغذات ان کے پاس موجود ہیں۔بہر حال کیا بی جے پی اس مسئلہ پر اس لئے خاموش ہے، کیونکہ نینو کار کے پلانٹ کو گجرات میں قائم کرنے کے لیے اے راجا کی خاص الخاص دوست نیرا راڈیانے اہم کردار ادا کیا تھا اور گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے لئے ریاست کی صنعتی ترقی اور ریاست میں سرمایہ کاری کا یہ بہترین موقع تھا۔ یا وجہ یہ ہے کہ اے راجا نے بی جے پی کے خاص الخاص ممبئی میں ڈی بی ریئلٹی اور ’اوشیہ ‘نام کی کمپنی کے ذریعہ ریئلٹی اسٹیٹ کا دھندہ کرنے والے اور یونی ٹیک وائر لیس کے مالک شاہد بلوا کو ضوابط کے خلاف جا کر2-جی اسپیکٹرم کا لائسنس دے دیا، جس سے اس نے ناروے کی کمپنی سے 1661کروڑ روپیوں کے عوض میں6200کروڑ روپے کمائے یا اس لئے کہ جب اے راجا وزیر ماحولیات تھے تب انھوں نے بیجا طریقہ سے ریڈی برادران کی کئی غیر قانونی کانوں کو کلیئرینس سرٹیفکیٹ دے دئے تھے یا پھر دلال نیرا راڈیا سے بی جے پی کے قدآور لیڈر اننت کمار کی گہری نزدیکیوں کے سبب بی جے پی نے اپنی زبان پر تالے لگا لئے ہیں۔اننت کمار جب شہری ہوابازی کے وزیر تھے، تب سپر دلال نیرا راڈیا ’میجک ایئر‘ کے نام سے اپنا ایئر لائنس شروع کرنا چاہتی تھیں اور وہ بھی محض ایک لاکھ روپے میں۔نیرا راڈیا کے دیوا نے اننت کمار نے نیرا راڈیا کو وزارت سے منظوری دلانے کے لئے پوری طاقت لگا دی ،مگر اس وقت کے نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی نے معاملہ کی نزاکت سمجھی اور انھوں نے اننت کمار کے حوصلوں پر پانی پھیرتے ہوئے نیرا کی تجویز پر غور کرنے تک سے بھی انکار کردیا۔البتہ کانگریس کو گھیرنے کے جوش کے چکر میں بی جے پی لیڈر ارون جیٹلی نے پارلیمنٹ میںاس ایشو کو اٹھا تودیا مگر جب بی جے پی قیادت کو لگا کہ اس کیچڑ میں ان کا دامن بھی داغدار ہونا ہے تو بی جے پی لیڈران نے خاموشی اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔آج کی تاریخ میں آپ کسی بھی بی جے پی لیڈر سے پوچھ لیجئے، وہ سپر کارپوریٹ دلال نیرا راڈیا کو نہیں جانتا۔یہاں تک کہ پارلیمنٹ میں اپنی آواز بلند کرنے والے ارون جیٹلی بھی کہتے ہیں کہ انہیں صرف گھوٹالہ کی جانکاری ہے، نیرا راڈیا کیا بلا ہے،نہیں معلوم۔ویسے تو، سی پی آئی لیڈر سیتا رام یچوری نے بھی 29فروری 2008کو وزیر اعظم منموہن سنگھ کو خط لکھ کر وزیر مواصلات اے راجا کے ذریعہ 2-جی اسپیکٹرم کا لائسنس جاری کرنے سے متعلق ہدایات کو خارج کرنے کو کہا تھا،کیونکہ وہ احکامات ضوابط کے خلاف تھے اور سیتا رام یچوری کو یہ اندیشہ تھا کہ اس میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی ہے، مگر جیسے ہی اے راجا کے ساتھ نیرا راڈیا کا نام سامنے آیا اور نیرا کے فون ٹیپنگ کے ریکارڈ عام ہوئے،سی پی آئی اور سی پی ایم لیڈران کو بھی جیسے سانپ سونگھ گیا ،کیونکہ آج کی تاریخ میں بایاں بازو کے سب سے بڑے لیڈر پرکاش کرات نے نیرا راڈیا کے کہنے پر ہی ہلدیا پیٹرو کیمیکل سودے میں ریلائنس کی مدد کی تھی ۔ یہ بات بھی واضح  ہو گئی ہے کہ نیرا کے کئی اہم اور بڑے کمیونسٹ اور سیٹو لیڈران سے قریبی تعلقات ہیں۔علاوہ ازیں، نیرا راڈیا ان تمام صنعتی گھرانوں کے لئے دلالی کا کام کرتی رہی ہیں، جن سے سی پی آئی -سی پی ایم کا سابقہ کسی نہ کسی بہانے پڑتا رہتا ہے۔ آج جب سیتارام یچوری سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ لوگ اے راجا کے خلاف متحد کیوں نہیںہورہے ہیں اور نیرا راڈیا کی فوری گرفتاری کا مطالبہ حکومت سے کیوں نہیںکرتے ، تو وہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیتے ہیں کہ انہوں نے تو بہت پہلے ہی2-جی اسپیکٹرم میں ہورہے گھوٹالوں کے بارے میں وزیر اعظم کو خط لکھا تھا۔ ہاں نیرا راڈیا کون ہے، اس سلسلے میں انہیں خاص جانکاری نہیںہے۔خبروں کے توسط سے ہی انہیں یہ معلوم ہواہے ۔
وہیں سی پی آئی کے بزرگ لیڈر اے بی بردھن یہ سوال سنتے ہی بھڑک اٹھتے ہیں۔ جب ان سے دریافت کیاجاتا ہے کہ انہیں نیرا راڈیا کے بارے میں پتہ ہے؟ توناگواری کے ساتھ جواب دیتے ہیں کہ ملک میں غریب عوام سے جڑے اتنے مسائل ہیں اور آپ ہیں کہ نیرا راڈیا کی فکر میں نڈھال ہوئی جارہی ہیں۔
سماج وادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادوتو نیرا راڈیا کے نام پر بات چیت تو درکنار ، ملنے تک کے لئے راضی نہیں ہوتے ۔گویا اگر انہوں نے اس مسئلے پر اپنا منھ کھولا تو گناہ عظیم کربیٹھیں گے۔راشٹریہ جنتا دل کے سپریمو لالو پرساد یادو کی اموشی بھی ذہن میں کئی سوالات پیدا کرتی ہے۔سب کی خبر رکھنے والے اور ہرکسی کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کے لئے تیار رہنے والے لالو پرساد بھی نیرا راڈیا سے اتنی ہی دوری اختیار کئے ہوئے ہیں جتنی کہ ان  کے سیاسی ساتھی۔نیرا کا نام سن کر لالو یادو گھور کر دیکھتے ہیں اور پھر اپنی نظریں پھیر لیتے ہیں۔
کون ہے نیرا راڈیا؟ یہ سنتے ہی جنتا دل کے صدر شرد یادوکی پہلے سے خراب چل رہی طبیعت کچھ اور بگڑ جاتی ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ اس بارے میں وہ کبھی بعد میں بات کریںگے، فی الحال تو وہ اسپتال جارہے ہیں۔
جبکہ سچ یہی ہے کہ ان سبھی کو معلوم ہے کہ نیرا راڈیا کون ہے اور نہ صرف اے را جا بلکہ کئی بارسوخ لیڈروں کے ساتھ نیرا کے تعلقات کا راز کیا ہے؟ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈران کارپوریٹ معاملوں کی دلالی میں کہیں نہ کہیں ملوث ضرور ہیں یا دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ دلالی کے اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ لہٰذا زبان کھولنا خود کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اس لئے سبھی نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔اور تو اور بڑے صحافی کہے جانے والے برکھادت اور ویر سنگھوی کے ناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی ان چوٹی کے لیڈروں کی زبان لڑکھڑانے لگتی ہے۔ جن صنعتی گھرانوں کے لئے نیرا دلالی کا کام کرتی رہی ہے ، وہ سبھی گھرانے ملک کی سبھی بڑی پارٹیو ں سے منسلک ہیں۔ سبھی جانتے ہیں کہ ٹاٹا، امبانی، متل جیسے سرمایہ کار ہی ان جماعتوں کے لئے مالی اعتبار سے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں۔پارٹی کے روز مرہ کے اخراجات سے لے کر انتخابات تک کا بوجھ یہ لوگ اٹھاتے ہی اس لئے ہیں تاکہ ان کی پروردہ جماعتیں مسند اقتدار پر فائز ہوں تو ان کے سارے جائز و ناجائز کام قانون و ضابطے کی پرواہ کئے بغیر ہو سکیں۔
یہ برکھا دت اور ویر سنگھوی کی ٹی آرپی ہی ہے جو کوئی بھی ان کے خلاف منھ کھولنے کو تیار نہیں ۔ پائنیر ، دی ہندو، مڈ ڈے جیسے اخبار اور میڈیا پورٹل بھڑاس فار میڈیا کی بات چھوڑدیں تو دوسرے کسی بھی اخبار نے اس موضوع پر کوئی کوئی بات چیت نہیں کی۔ چھوٹی سے چھوٹی خبروں کو طول دینے والے نیوز چینل پرتو جیسے اندھے بہرے بیٹھے ہیں۔ ششی تھرور، لالو یادو، مایاوتی، بنگارو لکشمن وغیرہ کے مسئلوں پر ہفتوں چیخنے والے نیوز چینلوں کو کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ یہ ان کی معاشی مجبوری ہے یا یہ ڈر کہ ان کے چینلوں کے معروف صحافی بھی چینلوں کے مفاد میں کہیں نہ کہیں دلالی کا دھوکہ کر  رہے ہیں۔ تمام اپنی اپنی ٹی آر پی بھنا رہے ہیں۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو بے حد خسارے میں چل رہے این ڈی ٹی وی کا تجارتی نقصان ایک سال میں ہی اتنا کم نہیں ہوگیا ہوتا۔ یہ نیرا راڈیا اور برکھا کے مینجمنٹ کا ہی کمال ہے، جس کے تحت ہائی پروفائل انٹرویو کیے گئے اور کھلے عام ان لوگوں کی امیج میکنگ کا کام کیا گیا۔ ایسے میں این ڈی ٹی وی مینجمنٹ تو برکھا کے خلاف جاہی نہیں سکتا، حکومت بھی کوئی کارروائی کرنے کے بارے میں نہیں سوچ سکتی۔ اقتدار کے گلیارے میں پرینکا گاندھی، جینتی نٹراجن، پی چدمبرم، ششی تھرور سے لے کر فاروق عبداللہ تک سے برکھا کی گہری دوستی ہے۔ فاروق عبداللہ تو برکھا کے اتنے مرید ہیں کہ حال ہی میں این ڈی ٹی وی کے ایک ٹاک شو میں فاروق نے اینکر برکھا سے آن ایئر بڑے ہی شاعرانہ انداز سے کہا کہ برکھا ہمارے تمہارے رشتوں کی بحث تو پارلیمنٹ کے گلیاروں تک ہوئی ہے۔ برکھا کی سیاسی شطرنج کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایڈمرل سریش مہتا نے کارگل جنگ کے دوران برکھا کو تین جوانوں کے قتل کا مجرم مانا تھا۔ برکھا کارگل کا لائیو کوریج کر رہی تھی۔ اس درمیان وہ اپنی خبروں کو پختہ بنانے اور سنسی پھیلانے کی غرض سے ہندوستانی جوانوں کی صحیح پوزیشن کا بھی ذکر کر رہی تھی۔ مورچے پر تعینات جوان بار بار برکھا کو ایسا کرنے سے منع کر رہے تھے، لیکن برکھا نہیں مانی۔ سریش مہتا نے 4دسمبر 2008کو ’نیوی ڈے‘ کے موقع پر صحافیوں سے یہ بات کی کہ غیر ذمہ دارانہ کوریج کی وجہ سے تین جوانوں نے اپنی زندگی گنوا دی۔ پاکستانی جوانوں نے برکھا کے بتائے ٹھکانے کو ٹریس کر کے ہندوستانی جوانوں کی جان لے لی، حالانکہ این ڈی ٹی وی کے مالک پرنب رائے نے سریش مہتا کی بات کو سراسر بے بنیاد بتایا تھا۔ ایڈمرل مہتا آج بھی اپنی بات پر قائم ہیں۔
ویر سنگھوی تو خیر خود راجیہ سبھا کے ممبر بنتے بنتے رہ گئے، لیکن اقتدار کی جوڑ توڑ میں مہارت حاصل کر لی۔ وہ نہ صرف ہندوستان کے سیاست دانوں پر بلکہ غیرملکی سیاست میں بھی خاصی دخل رکھتے ہیں۔ قانونی طور پر طوائفوں  کے لیے مشہور تھائی لینڈ جیسے ملک کے وزیراعظم نے ویر کو ’دی فرینڈ آف تھائی لینڈ‘ ایوارڈ سے نوازا ہے۔ ارب پتیوں سے خاطر داری کرانے میں ویر سنگھوی پرانے ماہر ہیں۔ وہ ٹاٹا گروپ کے عالیشان ہوٹلوں میں ٹھہرتے ہیں تو ان کے ہوائی سفر کا بل امبانی بھرتے ہیں۔ ظاہر ہے ان سب کے عوض میں ویر سنگھوی سرکاری گلیاروں میں نیرا راڈیا جیسی دلالوں کی بیساکھی بن کر اپنی صحافت کی بولی لگاتے ہیں۔
جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کہتے ہیں کہ یوپی اے سرکار کے پہلے دور میں ہی جب اے راجا پر بہت سارے الزام لگے تھے، تب بھی انہیں وزیراعظم منموہن سنگھ کی مرضی کے خلاف دوبارہ وزیرمواصلات بنایا گیا، تو اس کا صاف مطلب ہے کہ اس میں سونیا گاندھی کی حمایت تھی اور اگر ایسا نہیں تھا تو یوپی اے سرکار میں وزیر، اقتدار کے دلال بناتے ہیں سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ نہیں۔ 29نومبر 2008کو سبرامنیم سوامی نے وزیراعظم منموہن سنگھ کو اس وقت کے وزیر مواصلات اے راجا کے خلاف تمام ثبوت سونپتے ہوئے خط لکھا کہ اے راجا کو وزارت سے فوراً ہٹا دیا جائے ،کیونکہ وہ مسلسل گھوٹالے کر رہے ہیں۔ وزیراعظم دفتر سے انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔پھر31اکتوبر2009،8مارچ اور 13مارچ 2010کو سبرامنیم سوامی نے پھر سے منموہن سنگھ کے نام خطوط لکھے، تب 19 مارچ 2010کومرکز کا جواب آیا کہ راجا کو کابینہ سے ہٹانے یا ان پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں لیا جا سکتا، کیونکہ ابھی جانچ چل رہی ہے اور ثبوت جمع کیے جا رہے ہیں۔آخر کار 12اپریل2010کو سوامی نے کورٹ میں اس سلسلے میں اپنی عرضی داخل کی۔کورٹ نے ان کی اپیل مان لی ہے۔سوامی کی عرضی پر موسم گرما کی چھٹیوں میں سماعت ہوگی۔
لیکن ایسا نہیں ہے کہ حکومت کو اس گھوٹالے کی بابت کوئی جانکاری نہیں تھی۔ نیرا راڈیا اور راجا کے درمیان بات چیت کے ٹیپوں کی بنیاد پر محکمۂ انکم ٹیکس نے حکومت کو اپنی عبوری جانچ رپورٹ جولائی2009میں ہی سونپ دی تھی۔ حکومت اس کالے دھندے کی حقیقت سے واقف ہو چکی تھی، پھر بھی وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی، کیونکہ اگر اس کھیل میں نیرا راڈیاہیروئن کے طور پر اپنا رول ادا کر رہی تھی تو گانگریس کے کئی دیگر قد آور لیڈر نیرا کو مہرے کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔حکومت کی پا لیسیوں اور ضوابط کو متاثر کرنے والے کارپوریٹ دنیا کا ایک مضبوط حصہ جیسے ٹا ٹا، امبانی، ویدانت،سہارا ایئر لائنس، ریمنڈ، سی آئی آئی،ڈی بی ، یونی ٹیک، اسٹار نیوز، این ڈی ٹی وی، نئی دنیا، نیوز ایکس وغیرہ نیرا راڈیا کی گود میں کھیل رہا تھا۔نیرا کی کمپنیوں میں حکومت ہند کے قد آور نوکر شاہ رہ چکے سابق توانائی سکریٹری اور ٹرائی کے صدر پر دیپ بیجل،سابق فائنانس سکریٹری سی ایم واسو دیو، ایئر پورٹ آف انڈیا کے سابق چیئرمین ایس کے نرولا، غیر ملکی سرمایہ کاری بورڈ کے سابق چیئرمین اجے دوا وغیرہ صلاح کار اور سربراہان کے طور پر نیرا کے زر خرید بن کر اس کا حکم بجا لا رہے تھے۔ظاہر سی بات ہے نیرا راڈیا محض ایک دلال ہوتے ہوئے بھی اتنی مضبوط ہے کہ حکومت اس کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو یہ اس کے اپنے پیر پر کلہاڑی مارنے جیسا ہی ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ معاملے کی تفتیش کرنے والے سی بی آئی ڈی آئی جی ونیت اگروال نے جب حکومت کو قصورواروں پر مقدمہ چلانے کی اجازت مانگی تو ان کا تبادلہ کرکے واپس ان کے ہوم کاڈر بھیج دیا گیا۔
سوچئے ذرا آئی پی ایل تنازعے میں ششی تھرور اور ان کی خاتون دوست سنندہ پشکر کی کیا حالت ہوئی۔ راہل گاندھی کے خاص ہونے کے باوجودششی کی وزارت ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔60کروڑ کا بو فورس گھوٹالہ ہوااور ملک کی حکومت بدل گئی، لیکن60ہزار کروڑ ورپے کے گھوٹالے کا پردہ فاش ہونے کے بعد بھی وزیر مواصلات اے راجا نہ صرف اپنے عہدے پر برقرار ہے بلکہ ان کی چہیتی نیرا راڈیا اپنا سارا مال سمیٹ کر لندن میں عیش کر رہی ہیں۔اور تو اور ہندوستان میں اس کی سبھی پی آر کمپنیاں اپنا کام پہلے جیسے ٹھاٹھ سے ہی کر رہی ہیں، لیکن حکومت خاموش ہے۔وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ خاموش ہیں۔ہندوستانی نوجوانوں کو محنت اور ایمانداری کا سبق پڑھانے والے  اورمخالفین کی خامیوں پر تیز حملہ بولنے والے کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری راہل گاندھی اندھے ناظر کے رول میں ہیں۔کیا واقعی نیرا راڈیا کے تعلقات سونیا گاندھی سے بہت قریبی ہیں؟ کیونکہ نیرا راڈیا تو یہی کہ رہی ہیں۔یقینا ایسی حالت میں سونیا گاندھی کو چاہئے کہ وہ ثابت کریں کہ ان کا نیرا راڈیا اور اس گھوٹالے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ڈاکٹر سبرامنیم سوامی جھوٹ بول رہے ہیں اور اس کی شروعات اس پورے معاملے کی عمیق جانچ کے اعلان سے ہو۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *