نیا سلسلہ ہی نہیں سوالوں کو دیکھنے اور مسائل کو سمجھنے کا نیا انداز بھی ہم اپنانا چاہتے ہیں

آزادی کے بعد مسلمانوں کے سامنے سوال کچھ اس طرح اٹھے کہ وہ سوال کم مسائل زیادہ بن گئے۔ ملک کی کچھ طاقتوں نے ان حالات کا بھر پور فائدہ اٹھایا اور مسلمانوں کو حاشیے پر پھینک دیا۔حاشیے پر پہنچا مسلمان 60برسوں میں مزید نیچے کھسک گیا۔ویسے ہی مسلمان پڑھے لکھے کم ہیں جو ہیںانہیں بھی نوکری نہیں اور جو نہیں پڑھے لکھے ہیںان کے لیے تو کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔مسلمانوں کے پاس دستکاری جیسا قدرتی فن ہے لیکن ہر سال یہ کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ایسا نظریہ پیدا ہورہا ہے کہ ہر مسلمان ، کم سے کممسلم نوجوان کسی نہ کسی طرح کے غلط کام میں ملوث ہے۔ شک کی نظر سے اسے دیکھناکچھ لوگوں کا شوق بن گیا ہے۔
پر کیا یہ حالت صرف مسلمانوں کی ہے؟ نارتھ ایسٹ، آندھرا، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور بنگال میں تو مسلمان نہیں ہیں۔ پھر وہاں کیوں بندوقوں کی گرج سنائی دیتی ہے؟ دراصل ملک میں ترقی کا توازن درست ہے ہی نہیں۔ سارا پیسہ پرایوریٹی سیکٹر کی جگہ کنزیومر سیکٹر میں لگا ہے، جس کی وجہ سے غریبی تیزی سے بڑھی ہے۔بے روزگاری میں کمی کا کوئی امکان ہی نظر نہیں آتا۔کسان کو اس کی پیداوار کا صحیح نرخ نہیں ملتا اور اسے خود کشی کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہی نظر نہیں آتا۔ قبائلی علاقوں میں حالات اتنے خراب ہیںکہ کھانے او رپہننے کے خاص مواقع بھی ختم ہو گئے ہیں۔اس کے بعد بھی وہ اتنے سیدھے ہیں کہ اگر کوئی انہیں تیر مار دے تو اسے جسم سے نکالے بغیر20کلو میٹر دور سی آر پی ایف کے کیمپ تک دوڑ جاتے ہیں کہ کہیں پولس والے انہیں جھوٹا نہ سمجھ لیں۔آج یہ قبائلی ہاتھوں میں ہتھیا ر اٹھائے روزی روٹی اور ترقی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اتنا ہی نہیں انہیںیقین ہو گیا ہے کہ ان کے لیے کوئی سیاسی انتظام نہیں ہے۔ ان کی زندگی میں کوئی بہتری نہیںلا سکتا۔ جب انہیں بھوکے مرنا ہی ہے تو ایسے خواب کے لیے کیو ںنہ مرو جو بتاتا ہے کہ انہیں روزگار بھی ملے گا اور روٹی بھی، اگر یہ جیت گئے تو؟
آج یہ جیت کے لیے ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اسے نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیںجس کے نشانہ بنانے پر ملک میں شور شرابہ ہو۔ کیا یہ سب مسلمان ہیں، جواب ہے نہیں۔ ہاں ان کے مسائل بالکل ویسے ہی ہیں جیسے مسلمانوں کے ہیں۔ اسی طرح سماج کے دیگر کمزور طبقات ہیں جن کے مسائل بھی ایک جیسے ہی ہیں۔
تب کیوں مسلمان صرف مسائل کو اپنے مسائل کہیں۔ اسے دوسرے نظریے سے دیکھنا چاہئے ۔ مسلمانوں کے مسائل ملک کے مسائل ہیں۔ جیسے ملک کو مسلمانوں کے مسائل کو جاننا چاہئے، ویسے ہی مسلمانوں کو بھی ملک کے مسائل کو سمجھناچاہئے۔ خاص طور پر غریب اور محروم طبقے کے مسائل سے اپنی ذات کو جوڑنا چاہئے، اگر یہ نہیںہوگا تو مسلمان اپنی لڑائی لڑیں گے تو ضرور لیکن جیت ہوگی یا نہیں، ابھی نہیں کہہ سکتے۔
مسلمانوں کے درمیان تعلیم کی بھی کافی کمی ہے۔ مسلمانوں کی اقتصادی، سماجی، سیاسی اور تعلیمی پسماندگی کے اعدادو شمار مسلمانوں کے سامنے  ہی نہیں آ پاتے۔یا تو اردو اخباروں کے پاس ہے نہیں یا انہیں اس لائق نہیں سمجھتے کہ ان کا تجزیہ عام لوگوں تک پہنچایا جائے۔ مسلمانوں کے معاملے میںتحقیقی ادارے بھی تھوڑا کاہلی سے کام لیتے ہیں۔ بنیادی مسائل کے اعدادو شمار ، ان کا تجزیہ اور ان کی ویب سائٹ آج کی ضروریات ہیں۔مسلمانوں کے درمیان ان سے وابستہ معلومات کو بانٹنامسلمانوں کو طاقتور بنانے کی سمت میں پہلا قدم ہے۔
نکسل ازم سے متاثر علاقوں کا مسئلہ ملک کا مسئلہ ہے۔ دلتوں کے مسائل ملک کے مسائل ہیں، تو پھر مسلمانوں کے مسائل ملک کے مسائل کیوں نہیں ہیں؟ اور مسائل سے نبر آزمایہ تمام طبقات اگر متحد ہو جائیںتو؟ انہیں متحد کرنے کی کوشش با شعور مسلم معاشرے کو کرنی چاہئے۔
مسلمانوں کی سیاسی قیادت کمزور ہے۔ کہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ سیاسی قیادت ہے ہی نہیں۔ جو مذہبی رہنما ہیں وہی سیاسی رہنما بھی ہیں۔ مذہب کے معاملے میں مسلمان جن کی بات مانتے ہیں، ان کی بات سیاست کے معاملے میں نہیں سنتے۔الیکشن آتے ہی مذہبی رہنما الگ الگ سیاسی جماعتوں کی تشہیر کرتے نظر آتے ہیں۔غریبی اور مفلسی کی بنیاد پر بنا اتحاد الیکشن توڑ دیتا ہے۔اس کا دوسرا پہلو ہے کہ چار برسوں تک خاموش رہنے کے بعد جب الیکشن آتاہے تبھی مسلم لیڈر گھروں سے باہر نکلتے ہیں۔لوگ ان کی بات سننے کے لیے بڑی تعداد میں آتے ہیں لیکن فیصلہ اپنے مقامی حالات اور رشتوں کی بنیاد پر کرتے ہیں۔
60برسو ںمیں کئی تلخ تجربے ہوئے ہیں۔بہت مایوسی بھی ہوئی ہے۔ مسلمانوں نے جذباتی سوالوں پر بڑے اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔اب ضرورت بنیادی سوالوں پر اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی ہے۔یہ اتحاد اگر ملک کے دوسرے غریب اور محروم طبقات کے ساتھ نظر آیا تو تبدیلی کی کرن نظر آ سکتی ہے۔اس وقت مسلمان اکیلا کھڑا نہیں ہوگابلکہ سب کے ساتھ سب سے آگے سب کے حقوق کی قیادت کرتا نظر آئے گا۔
ملک میں مایوسی ہے، مہنگائی اپنے شباب پر ہے، بد عنوانیوں کا بول بالا ہے، غریبی ہے، بیکاری ہے لیکن اس کا مطلب یہ قطعی نہیںکہ ہم ہار مان لیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نئے سرے سے خواب دیکھیں اور ان خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے سماج کے دوسرے طبقات کو اکٹھا کریں۔کمزور طبقات کو کچھ نہیںکر پانے کے احساس سے آزاد ہونا ہوگا۔جمہوریت میں امیرو ںکے پاس پیسے کی طاقت ہے تو غریبوں کے پاس ووٹ کی طاقت ہے جس سے حکومت بنتی ہے۔مسلمانوں کو جمہوریت میںملی طاقت کا سمجھداری کے ساتھ اور دوسرے طبقات کے ساتھ مل کر استعمال کرنا چاہئے نیز ملک کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا تاریخی رول ادا کرنا چاہئے۔
مسلمانوں کے اوپر ایک اور ذمہ داری ہے، انہیں نوجوانوں کی جن میں لڑکے اور لڑکیاںدونوں شامل ہیں، سیاست کی باریکیاں سمجھانی چاہئیں، سیاست کی باریکیوں کے ساتھ زندگی کی جنگ لڑنے کا اور دوسرے سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ بھی دینا چاہیے، اسی معاملہ میں شمالی ہندوستان کے مسلمانوں اور جنوبی ہندوستان کے مسلمانوں کے برتاؤ میں فرق ہے۔ جنوبی ہندوستان کے مسلم لڑکے لڑکیاں زندگی کے ہر شعبے میں برابری کی دوڑ میں شامل ہوتے نظر آتے ہیں۔ بنگلور اس کی ایک مثال ہے، جہاں اندازاً 6لاکھ نوجوان آئی ٹی سیکٹر میں کام کر رہے ہیں، ان 6لاکھ نوجوانوںمیں ایک لاکھ نوجوان مسلمان ہیں، کیا ایسی کوششیں شمالی ہندوستان میں نہیں ہوسکتیں۔
جمہوریت بہت اہم ہے، پاکستان کے لوگوں سے پوچھنے پر پتہ چلے گا کہ جب وہاں جمہوریت نہیں ہوتی تو زندگی کس قدر عذاب بن جاتی ہے، مواقع کیسے ختم ہوجاتے ہیں اور آواز کیسے خاموش ہوجاتی ہے۔ ہندوستان میں جمہوریت نے لڑائی لڑنے، آواز اٹھانے اور خواب دیکھنے کا حق ہر شہری کو دیا ہے۔ اس حق کا استعمال مسلمانوں کو کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو ہندوستان میں کسی سے بھی کم شمار نہیں کرنا چاہیے۔ ہندوستانی جمہوریت کی ایک اور خاصیت ہے ، یہاں پارٹیوں کی حکومتیں ہیں اور حکومتیں بدلتی ہیں، لیکن حکومتوں کے بدلنے سے آئین نہیں بدلتا۔ ہاں پارٹیاں بدل جاتی ہیں، ایسا ہمارے پڑوسی ممالک میں نہیں ہوگا۔ ہمارے یہاں آئین کا راج ہے۔ اس پر عمل کتنا ہوتا ہے، یہ بحث کا ایشو ہوسکتا ہے، لیکن آئین گزشتہ 60سالوں سے ایک ہے۔ ہندوستان کی اس خوبی نے ہندوستان کے مسلمانوں کو بھروسہ بھی دیا ہے اور جینے کا حوصلہ بھی، لیکن جینے کا حوصلہ سماج بدلنے کے حوصلہ میں بدلے، اس کی امید بھی کرنی چاہیے اور دعا بھی۔ آنے والے 10سال مسلمانوں کے ساتھ ملک کے سبھی غریب طبقوں کے لیے خوشحالی لے کر آئیں، اس کی فکر سبھی سوچنے سمجھنے والے افراد کو کرنی چاہیے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *