نکسلی مسئلہ پر حکومت اور فوج آمنے سامنے

پربھات رنجن دین

ندوستانی افواج نے حکومت ہند سے پہلی بار کچھ سوال پوچھے ہیں اور حکومت ہند  ان سوالوں کے دائرے میں بری طرح الجھ گئی ہے، یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ حکومت گھبرا گئی ہے ۔ ان سوالوں کو حکومت کے سامنے اٹھاکر فوج نے صاف اشار دیا ہے کہ نکسل مخالف مہم کے نام پر اپنے ہی ملک کے لوگوں پر گولی چلانا اسے پسند نہیں ہے۔ فوج کی مرضی کے خلاف اگر مرکزی حکومت فیصلہ کرتی ہے تو فوج کا اندازہ ہے کہ ملک میں خوفناک اور افسوسناک حادثات کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
بروز ہفتہ پانچ جون کو وزیر دفاع اے کے اینٹونی لکھنؤ اس لئے گئے تھے کہ وہ سینٹرل کمانڈ کے صدر دفتر کے کمانڈر سمیت سینئرفوجی افسران سے مائونوازوں کے خلاف براہ راست کارروائی کے لئے فوج بھیجنےکے معاملہ کا جائزہ لے سکیں۔ نکسلی نقل و حرکت سے متاثر ہ بیشتر صوبے سینٹرل کمانڈ کے اختیار میں ہی آتے ہیں۔ لکھنؤ جانے کا بہانہ بنایا گیا وہ بھی لکھنؤ چھائونی کے سنجوگ چھتری وہار میں فوجیوں کے لئے بنی رہائشی کالونی کے افتتاح کے لئے ۔تو پھر ساتھ میںبری فوج  کےسربراہ  جنرل وی کے سنگھ کو لے جانے کی کیا ضرورت تھی؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میریڈ اکامڈیشن پروجیکٹ( میپ) کے تحت یہ کالونی پہلے ہی بن گئی تھی اور گزشتہ دو ماہ سے فوج کے جونیئر کمیشن افسران اور دیگر عہدیدران کے کنبے باقاعدہ الاٹمنٹ کے بعد ان میں سکونت بھی اختیار کئےہوئے تھے۔
دراصل وزیردفاع اور بری فوج کے سربراہ کے سفر کا مقصد کچھ اور ہی تھا ۔تاہم سینٹرل کمانڈ کے افسران بھی الرٹ تھے۔سینٹرل کمانڈ کے صدر دفتر کے سوریہ آڈیٹوریم میں وزیر دفاع اور فوجی سربراہ کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں سینٹرل کمانڈ کے جنرل افسر کمانڈنگ ان چیف لیفٹیننٹ جنرل وجے کمار اہلووالیہ ، سینٹرل کمانڈ کے چیف آف اسٹاف گوتم بنرجی، سب ایریا کمانڈر میجر جنرل وی ایم کالیا اور دیگر فوجی محکموں کے سربراہان سمیت وہ تمام اعلیٰ افسران موجود تھے جن کے کندھوں پر سینٹرل کمانڈ کے وسیع فوجی علاقہ کی ذمہ داری ہے ۔ اگر مرکزی حکومت مائونوازوں کے خلاف فوج بھیجتی ہے تو ان کی قیادت میں ہی ’اینٹی نکسل آپریشن‘ چلایا جائے گا۔میٹنگ میں جو ایشوز اٹھائے گئے ان سے  کچھ درجن بھر سوال سامنے آئے ،جن   میں صرف وزیر دفاع ہی نہیں، بلکہ پوری مرکزی حکومت ہی پھنس گئی ہے۔اس کے پاس ان سوالوں کاکوئی جواب ہی نہیں ہے ۔
ملک کے وزیر دفاع اے کے انٹونی فوج کے’گراس روٹ موڈ‘‘ کا جائزہ لینے گئے تھے اور ان کے سامنے فوج کا رخ صاف طور پر سامنے آیا کہ فوج اپنے ہی ملک کے لوگوں پر گولی چلانے کے لئے تیار نہیں ہے۔فوج کا ماننا ہے کہ اس میں بہت ساری الجھنیں ہیں ۔ نکسلی مسئلہ لا اینڈ آرڈر سے جڑا ہوامسئلہ ہے، لہٰذا اس سے سول پولس اور انتظامیہ کو ہی نمٹناچاہئے۔فوج کے سینئر افسران کی متفقہ رائے جاننے کے بعد وزارت دفاع اور مرکزی حکومت کی سمجھ میں آ جانا چاہئےکہ ’اینٹی نکسل آپریشن‘ میں فوج کو اتارنا کتنا حساس اور مشکل ہے۔ نکسلی مسئلہ سے نمٹنے کے لئے سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جو تفصیلی رپورٹ وزیر دفاع کو بھیجی گئی تھی، اس سے ہی فوج کا رخ صاف نظر آ رہاتھا۔یہ رخ فوجی کمانڈروں کے اجلاس میں بھی نظر آیا، مگر انٹولی سینٹرل کمانڈ جا کر اپنی نظروں سے اس کا موڈدیکھنا چاہتے تھے۔وزیر دفاع اور فوجی سربراہ کے سامنے کھڑے ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی جدوجہد میں دفاعی امور کی مرکزی  کمیٹی لگی ہوئی  ہے۔
ملک کی انٹرنل سیکورٹی کے سبب وزارت داخلہ کی غفلت کس طرح عیاں ہوئی اس کا نمونہ دیکھئے۔جب وزیر دفاع کو یہ بتایا گیا کہ نکسل متاثرہ صوبوں میں سول پولس پوری طرح ناکام ہو چکی ہے اور بہار، جھارکھنڈ ، چھتیس گڑھ اور اڑیسہ کے ساتھ ساتھ اتر پردیش، اتراکھنڈ اور مدھیہ پردیش کی حکومتیں سینٹرل کمانڈ کے صدر دفتر کے سامنےاصرار کر چکی ہیں، تو یہ اطلاع وزیر دفاع کوحیرت میں مبتلا کر نے کے لئےتھی۔ صوبائی حکومتوں کے اصرار کے بعد ہی سینٹرل کمانڈ نے ان ریاستوں کے مسلح پولس دستوں اور ریزرو بٹالینوں کومائونوازوں کی دہشت گردی سے لڑنے کی خصوصی تربیت دی۔ سینٹرل کمانڈ کے مختلف ریجمنٹل سینٹروں میں ان ریاستوں کی پولس کو خصوصی تربیت دی گئی۔علاوہ ازیں انہیں ’’امپرووائزڈ ایکسپلوسیو ڈوائسیز‘‘ سے نمٹنے کے بارے میں بھی خصوصی ٹریننگ دی گئی۔نکسل متاثرہ ریاستوں میں سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ہتھیاروں کی مرمت اور نرسنگ کی خصوصی تربیت دئے جانے کا کام اب بھی جاری ہے۔سینٹرل کمانڈ اب تک 46,343پولس اہلکاروں کو نکسل وارفیئر کی تربیت دے چکا ہے۔اس میں مذکورہ ریاستوں کی پولس کی 200بٹالینیں اور نیم فوجی دستے کی 25بٹالینیں شامل ہیں، تاہم پھر بھی نتیجہ صفر ہی ہے۔
وزیر دفاع نے لکھنؤ دورہ کے دوران اپنا منھ تو نہیں کھولا، مگر حقیقت یہ ہے کہ کمانڈ کے افسران نے ان کے سامنے منھ کھولااور وزیر دفاع نے خاموشی سے تلخ حقیقت کا احساس کیا۔ انٹونی  نے عام طور پر اتنا ہی کہا کہ یہ معاملہ نہایت ہی حساس ہے اور مائونوازوں کے خلاف فوج اتارنے کا فیصلہ کافی غور وخوض کے بعد ہی کیا جائے گا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سینٹرل کمانڈ کے لیفٹیننٹ جنرل وجے کمار اہلوالیہ کی جانب سے دی گئی رپورٹ کو گزشتہ ماہ 17سے21مئی تک چلنے والی کمانڈرس کانفرنس میں غور وخوض کے لئے رکھا گیا تھا اور اس پر پانچ دنوں تک خوب بحث بھی ہوئی، مگر اس کے بعد حکومت نے اس پر خاموشی اختیار کر لی اور اس مسئلہ پر حکومت کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ اس رپورٹ میںاور فوجی کمانڈروں کی بحث میں بری فوج کے نکسل آپریشن میں استعمال کئے جانے پر ناراضگی ظاہر کی گئی۔حالانکہ اس کے باوجود بری فوج کے چار ایم آئی17 ہیلی کاپٹر اینٹی نکسل آپریشن میں گشت کرنے ، وسائل مہیا کرانے اور زخمیوں کو باہر نکالنے کے لئے تعینات ہیں۔علاوہ ازیں بری فوج کے ٹرانسپورٹ طیارے اے اینـ- 32کو بھی ضرورت پڑنے پر اس کام میں لگانے کے لئے تیار رکھا گیاہے۔
وزارت دفاع نے نکسل مخالف مہم میں فوج کے استعمال کے حالات پر وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزوں اور رپورٹوں کا معائنہ شروع کر دیا ہے۔ وزارت خارجہ نے حکومت کو نکسل مخالف مہم میں فوج کے استعمال کا بلو پرنٹ تیار کر کے دیا تھا۔ گزشتہ دنوں وزیر دفاع کے ساتھ فوج کے تینوں سربراہان کی میٹنگ میں بھی دفاعی سربراہان نے نکسل مخالف مہم میں فوج اتارے جانے پر نا اتفاقی ظاہر کی تھی اور اس کے نتیجہ میں ہونے والی ہولناک تباہی کا اندیشہ ظاہر کیا  تھا۔فوجی سربراہان کا ماننا تھا کہ نکسلی مسئلہ ریاستوں کی سول پولس کا مسئلہ ہے اور مقامی مسائل اور مقامی جغرافیہ سے نمٹنا ان کا اولین فرض ہے ۔ دنتے واڑہ میں سی آر پی ایف جوانوں کے مارے جانے کے حادثہ اور جھار گرام ریل حادثہ جیسے واقعات مقامی پولس اور انتظامیہ کے کولیپس ہو جانے کا نتیجہ ہے۔تاہم اس کی ذمہ داری طے کئے بغیر فوج کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیسے لیا جا سکتا ہے؟ فوج نے نکسل آپریشن میں شامل کئے جانے سے بھلے ہی مخالفت ظاہر کی ہو مگر مائونوازوں سے نمٹنے کے لئے پولس اہلکاروں کو اضافی تربیت دینے اور الگ سے خصوصی ٹریننگ سینٹر کھولنے کی وکالت کی ہے۔وزیر دفاع سے یہ سفارش کی گئی ہے کہ اسپیشل ٹریننگ دینے کے لئے میزورم میں واقع کائونٹر انسرجینسی اینڈ جنگل وارفیئر اسکول کی طرز پر الگ سے ایک اسپیشل ٹریننگ سینٹر قائم کیا جائے۔
آپ کو یہ یاد دلا دیں کہ دنتے واڑہ کے حادثہ کے فوراً بعد گاندھی نگر میں باقاعدہ پریس کانفرنس بلا کر فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل پی وی نائک نے واضح کر دیا تھا کہ نکسلی ٹھکانوں پر ہوائی حملوں سے فضائیہ قطعی متفق نہیں ہے۔نائک نے مزید کہاتھا کہ زیادہ  نقصان دینے کے لئے فوج کو خصوصی طورپر تربیت دی جاتی ہے۔ایسے میں مہلک ہتھیاروں کے ساتھ مائونوازوں کے خلاف میدان میں آنا اور ہوائی حملے کرنا غیر منطقی  ہے۔ہوائی حملے میں فضائیہ کو کم سے کم 15سو سے 18سو میٹر دور سے راکٹ فائر کرنا ہوتا ہے۔ اس میں ٹارگیٹ کی اصل پہچان نہیں ہو پاتی۔ اگر خفیہ اطلاعات 120فیصدی صحیح ہو ں تبھی اپنے ملک کے اندر ایسے ہوائی حملے کئے جا سکتے ہیں، جو مکمل طریقہ سے نکسلی اڈے کو تباہ کر سکیں۔ورنہ سول آبادی میں ہولناک تباہی ہو سکتی ہے۔فضائیہ صرف ٹرانسپورٹ طیارے اور ڈپلائےمنٹ کے لئے ہیلی کاپٹر وغیرہ دے سکتی ہے ، مگر فوج کے ہیلی کاپٹر مائونوازوں کا نشانہ بنے تو اس کے بعد کے نتائج کیا ہوں ہوںگے اندازہ لگانا مشکل ہے۔ بری فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کا بھی یہی کہنا ہے کہ مائونوازوں کے خلاف فوج کو سیدھے اتارنا قطعی مناسب نہیں ہے۔سول پولس اور نیم فوجی دستوں کو ہی اس کے لئے تیار اور ذمہ دار بنانا ہوگا۔غور طلب ہے کہ کارگل جنگ میں شہید ہوئے 523فوجیوں میں سے 208فوجی انہیں مبینہ نکسل متاثرہ صوبوں کے ہیں، جو سینٹرل کمانڈ کے تحت آتے ہیں۔ اسی علاقہ میں سینٹرل کمانڈ کے 18مختلف اہم رجمنٹس اور دیگر کئی حساس فوجی ادارے بھی ہیں۔
سیاست نے فوج کو غیر ضروری تنازعہ میں الجھا دیاہے۔ نکسل معاملہ میں فوج کے استعمال کے مسئلہ کو لے کر حکومت نے اتنا طول پکڑا کہ جنگلوں کے اندر ہونے والی فوج کی معمول کی سرگرمیوںکو نکسل مخالف مہم کی تیاریوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔مرکزی خفیہ ایجنسی(آئی بی) کی رپورٹ خود اس کا انکشاف کرتی ہے۔ آئی بی کے نکسلی معاملات سے وابستہ برانچ کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا ہے کہ فوج کا کام ہی عام آبادی سے دور جنگلوں اور غیرآبادعلاقوں میں کارروائی کرنا ہے۔تاہم جب سے نکسل مخالف مہم میں فوج کے استعمال کے معاملہ نے زور پکڑاہے، جنگلوں کے اندر فوج کی معمول کی ٹریننگ ، فائرنگ مشق ، جنگی مشق اور تمام روزمرہ کی مشق کو نکسل مخالف مہم کی تیاریوں کی نظر سے دیکھا جانے لگا ہے۔اس سے فوج کے تئیں غیر ضروری اور غیر یقینی کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔آئی بی نے وزارت خارجہ کو اس بارے میں آگاہ بھی کیا ہے۔ دوسری جانب نکسل مخالف مہم کوقدرتی وسائل سے بھرے جنگلی علاقوں سے قبائلیوں اور مقامی باشندوں کا صفایا کرنے کو سرمایہ داروں کی سازش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔آئی بی نے اپنی رپورٹ میں صاف صاف کہا ہے کہ نکسلی متاثرہ علاقوں میں مقامی انتظامیہ اور پولس عوام کا یقین حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہی ہے۔ ان علاقوں میں سول پولس اپنا ترجیحاتی فرض ادا کرنے تک سے دامن بچا رہی ہے۔
اپنے ہی ملک کے باشندوں سے جنگ کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ نکسل متاثرہ علاقوں کی جاسوسی کرنے کے لئے امریکی خفیہ سیٹلائٹ کی مدد ، سی آر پی ایف، کوبرا فورس سی60گرے ہائونڈس ، انڈو تبت بارڈر پولس،اینٹی نکسل اسٹرائکنگ فورس اور سات ہزار تین سو کروڑ روپے لگائے جانے کے بعد اب فوج اتارنے کی تیاری!فوج کا بھی سروے ہے کہ نکسل متاثرہ ریاستوں میں ہیرا،سونا ، آئرن اور باکسائٹ، چونا پتھر، کوئلہ،گرینائٹ ،سلیکا، کوارٹجائٹ جیسی 28بیش قیمتی معدنیات کا خزانہ ہے۔اس خزانہ پر ملکی اور غیر ملکی سرمایہ داروں کی نظر ہے۔دنڈکارنیہ کی پہاڑیاں، آبی وسائل اور جنگل مختلف گھرانوں کو حکومت کے ذریعہ فروخت کئے جا چکے ہیں۔باکسائٹ کی کان کنی کے لئے اڑیسہ کا نیم گری پہاڑ ملٹی نیشنل کمپنی ویدانتنا(اسٹر لائٹ) کو محض7فیصدی رائلٹی پر کوڑیوں کے دام فروخت کیا جا چکا ہے۔نیم گری پہاڑ پر رہنے والے ڈونگری کوندھ قبائلیوں کو یہاں سے بھگائے جانے کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔پہاڑی علاقے ہی کوندھ عوام کے لئے آکسیجن ہیں۔ملک کا 16فیصدی کوئلہ اور 20فیصد فولاد جھارکھنڈ میں ہے، جس پر ٹاٹا، ایسار،جندل جیسے گھرانوں کا قبضہ ہے۔عالمی بازار میں آئرن کی قیمت 210،ڈالر (10ہزار روپے ہندوستانی کرنسی)فی ٹن ہے، جبکہ مذکورہ سرمایہ دار گھرانے اسے 27روپے فی ٹن کے حساب سے خریدتے ہیں اور عالمی بازار میں فروخت کر کے موٹا منافع کماتے ہیں۔جھارکھنڈ، اڑیسہ اور چھتیس گڑھ میں بیش قیمتی معدنیات سے بھری لاکھوں ایکڑ زمین ٹاٹا، بڑلا، ایسار، جندل، متل ، ویدانتا، پاسکو، ہولکم، رایو ٹنٹو جیسے کارپوریٹ گھرانوں کے ہاتھوں  فروخت کی جا چکی ہے۔ ان علاقوں کےآبائی باشندے بھگائے اور مارے جا رہے ہیں۔ سرمایہ دار گھرانوں کے ارادوں میں نکسلی تنظیم ہی رکاوٹ بن رہی  ہے۔فوج کے دم پر وہ اسے بھی اکھاڑ پھینکنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *