مسلم نوجوان فتووں سے بے فکر

عنبرایک نوجوان مسلم خاتون ہیں اور نوئیڈا کے ایک پرائیویٹ اسکول میں فزیکل ٹریننگ ٹیچر ہیں۔عنبر کہتی ہیںایئر کنڈیشن دفتروں میں بیٹھ کر فتوے جاری کرنے والے علماء کو چاہیے کہ وہ ذرا عام لوگوں کے درمیان جائیں، ان کے حالات دیکھیں، ان کے حقیقی مسائل کو سمجھیں اور پھر فتویٰ جاری کرنے کے بارے میں سوچیں۔ جی ہاںیہ رد عمل ہے ان نوجوانوں کا جو اب اپنے ساتھ کسی بھی طرح کی غیرمساوات برداشت نہیں کرنا چاہتا۔ یہ ردعمل ہے اس فتوے کے خلاف جس کے مطابق مسلم خواتین کسی سرکاری یا پرائیویٹ دفتر میں کام نہیں کر سکتیں یا اپنے مرد کلیگ سے بات نہیں کرسکتیں۔ یہ رد عمل ان علماءکے خلاف بھی ہے جو پس منظر کو سمجھے بغیر بات بات پر فتوے سنانے سے نہیں ہچکچاتے۔دراصل فتوے تبھی جاری کیے جاتے ہیں کوئی مفتی حضرات سے سوال کرتا ہے۔ ایسے میں ان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ دوسرے مفتی حضرات سے مشورہ کر کے ہی فتویٰ جاری کریں۔
گزشتہ چند مہینوں کے اندر ہی دارالعلوم دیوبند کی جانب سے تقریباً درجن بھر فتوے جاری کیے گئے۔ ان میں سے زیادہ تر فتوے مسلم خواتین سے متعلق جاری ہوئے تھے۔ مثلاً مسلم لڑکیاں سرکاری یا غیر سرکاری دفتروں میں کام نہیں کرسکتیں، اپنے مرد کلیگ سے بات چیت نہیں کرسکتیں،جنم دن منانا غیر اسلامی ہے، بینک یا شراب کمپنی میں کام کرنا اسلام کے خلاف ہے یا یہ کہ بیمہ کروانا حرام ہے۔ فتویٰ کی اسلام میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اسلام میں فتویٰ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہی دیے جاتے ہیں، لیکن سوال اٹھتا ہے کہ آخر نوجوان مسلموں (لڑکے اور لڑکیاں) کی رائے میں آج کل جاری ہونے والے فتوؤں کی اہمیت کتنی ہے؟ کیا وہ واقعی ایسے فتوؤں کو ماننا چاہتے ہیں جو ان کی آزادی میں خلل ڈالتے ہوں یا بے وجہ ان پر بندش ہوںیا مرد اور عورتوں کے درمیان غیر مساوات کو بڑھاتے ہوں؟ آخر کار ایسے فتوؤں اور انہیں جاری کرنے والے علماء کے بارے میں 21ویں صدی کے پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان مسلم کیا سوچتے ہیں؟ یہی سب کچھ جاننے کے لیے چوتھی دنیا نے دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی یونیورسٹی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبا اور کچھ ملاز مت پیشہ خواتین سے بات چیت کی۔ ان طلبا سے بات کرنا ایک خوشگوار احساس کی طرح تھا۔ مسلم لڑکیاں کھل کر کیمرے کے سامنے ہم سے بات کر رہی تھیں۔ اپنا فوٹو کھنچوانے میں انہیں کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھی۔ ان کی باتوں سے واضح ہو رہا تھا کہ بس بہت ہوا۔ اب مزید نہیں۔ اب ہم اپنا مستقبل خود بنائیںگے۔
دارالعلوم دیوبند کا وہ فتویٰ جس کے مطابق خواتین کو مردوں کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہیے اور اپنے مرد کلیگ سے بات چیت بھی نہیں کرنی چاہیے، اس کی مخالفت کرتے ہوئے ذاکر حسین کالج کی طالبہ ہدیٰ حسن کہتی ہے کہ مسلم لڑکیاں کام کیوں نہیں کر سکتیں، کام ضرور کرسکتی ہیں لیکن حجاب میں رہ کر اور اگر ضرورت ہو تو اپنے مرد کلیگ سے بات چیت بھی کرسکتی ہیں۔ جامعہ سے ہندی میں آنرس کر رہی خوشبو تو ایک قدم آگے بڑھ کر کہتی ہیں ’’ساری بندشیں لڑکیوں کے لیے ہی کیوں؟ قرآن میں تو پہلے مردوں کے لیے ہی پردہ ہے کہ وہ کسی خاتون کو بری نظر سے نہ دیکھیں۔ دفتر میں اپنے مرد کلیگ سے ضرورت پڑنے پر ضرور بات چیت کی جاسکتی ہے۔ بات چیت نہیں کریںگے تو کام کیسے چلے گا؟‘‘ نوئیڈا کے راکفورڈ اسکول میں فزیکل ٹریننگ ٹیچر عنبر ظفر کہتی ہیں کہ وہ ایک ٹیچر ہیں اور انہیں 20سال تک کے بچوں کو فزیکل ٹریننگ دینی ہوتی ہے، ان سے بات کرنی ہوتی ہے اور ان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ان بچوں سے بغیر بات کیے اپنی نوکری کر سکیں۔ عنبر یہ ضرور مانتی ہیں کہ وہ یہ سارا کام دائرے میں رہ کر کرتی ہیں، ان کے مطابق اس طرح کے فتوے جاری کرنا غلط ہے۔ تو کیا علماءساری بندشیں خواتین پر لاد کریہ بتانا چاہتے ہیں کہ مسلم خواتین سماج میں غیرمحفوظ ہیں یا وہ اپنی حفاظت خود نہیں کرسکتیں، لیکن شایدوہ یہ بھول جاتے ہیں کہ مسلم خواتین کو کہیں باہر سے خطرہ نہیں ہے۔ طلاق جیسا مسئلہ ابھی بھی مسلم خواتین کے لیے ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے، جہاں صرف تین بار طلاق دے کر ایک مرد اپنی بیوی سے آزادی پا لیتا ہے۔ کیا ایسے حالات سے گزرنے والی خاتون کی حفاظت کے لیے ان کے پاس کوئی فتویٰ نہیں ہے؟ لیکن مسلم خواتین اور ان کے خاندان کو معاشی لحاظ سے غیر محفوظ بنانے کے لیے ان کے پاس فتوؤں کی کمی نہیں ہے۔ ان کے فتوے کے مطابق ایک مسلم خاندان بھلے ہی مفلسی میں اپنی پوری زندگی گزار دے لیکن اپنی بیٹی کی کمائی قبول نہیں کرسکتا،ایسا کرنا حرام ہے۔ اب کوئی ان لوگوں کو سمجھائے کہ اگر کسی خاندان میں بیٹا ہو ہی نہ یا آوارہ نکل جائے تو بیٹی اگر اپنی ایمانداری اور محنت کی کمائی سے اپنے خاندان کی روزی روٹی کا انتظام کرتی ہے تو اس میں غلط کیا ہے؟ یا پھر وہ خاندان اپنی بیٹی کی کمائی نہ لے بھلے ہی بھوکے مر جائے۔ اس فتوے پر جامعہ سے ٹیچر ٹریننگ کا کورس کر رہی شہلا کہتی ہیں کہ جب ماں باپ بیٹوں کی کمائی قبول کرسکتے ہیں تو بیٹی کی کیوں نہیں؟ لڑکی کی کمائی قبول کرنا بالکل حرام نہیں ہے۔ جب اسلام میں تمام چیزوں میں مساوات کی بات ہے تو پھر اس معاملے میں غیرمساوات کیوں؟ وہیں عنبر ظفر کہتی ہیں ’’ہمارے ماں باپ ہم پر اتنا خرچ کرتے ہیں، مہنگی تعلیم دلاتے ہیں تو اگر ہم کما رہے ہیں تو ہماری بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے خاندان کا تعاون کریں۔‘‘ جب کہ ہدیٰ حسن کی سوچ اس مسئلے پر تھوڑی جدا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ خاندان کو اگر ضرورت ہو تبھی لڑکی کی کمائی قبول کرنی چاہیے، ویسے گھر کا خرچ مرد کی کمائی سے ہی چلے تو اچھا ہے، لیکن طاہرہ اس مسئلے پر ہدیٰ کی باتوں سے اتفاق نہیں رکھتی ہیں۔ جامعہ کی طالبہ طاہرہ کہتی ہیں کہ مان لیجئے اگر میرا خاندان مجھ پر منحصر ہے تو کیا ہم اپنے خاندان کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔ بیٹی کی کمائی قبول کرنا بالکل بھی حرام نہیں ہے۔ اس طرح کے فتوے مسلم سماج کو اور پسماندگی کی طرف لے جائیںگے۔
حالانکہ کئی خواتین تنظیموں نے مسلم لڑکیوں کے کام کرنے پر جاری فتوؤں کی سخت مخالفت بھی کی ہے۔سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے اس فتوے پر کہا کہ وہ دیوبند اور اس کے فتوے کو کوئی اہمیت نہیں دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلم خواتین کی زندگی میں جبراً مداخلت کرنے جیسا ہےپھر بھی اس فتوے کا تعلیم یافتہ خواتین پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ مشہور نغمہ نگار اور شاعر جاوید اختر نے جب اس فتوے کی مخالفت میں منھ کھولا تو انہیں جان سے مارنے کی دھمکی ملنے لگی۔ بعد میں علماء نے اپنے فتوے پر صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے کام کرنے سے کسی کو منع نہیں کیا ہے لیکن خواتین کو مردوں کے ساتھ کام کرتے وقت اپنی عزت اور آبرو کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس کے پیچھے ان کی دلیل ہے کہ آج کل جس طرح مغربی تہذیب کا اثر بڑھ رہا ہے اس سے لوگ اپنے حقوق اور حد کو بھول جاتے ہیں، لیکن فتویٰ جاری کرنے والے یہ دانشور کیا اپنے حقوق اور حد کو یاد رکھے ہوئے ہیں؟ کیا ایسے فتوے مسلم خواتین کے بنیادی حقوق کو متاثر نہیں کرتے؟
نوکری کر کے اپنی زندگی بسر کرنا بھی تو بنیادی حق ہی ہے۔ ایسے میں یہ فتویٰ سنا دیا جاتا ہے کہ مسلم بینک یا شراب کمپنی میں کام نہیں کرسکتے۔ اب اگر کسی مسلم نوجوان کو کہیں کوئی کام نہیں ملتا ہے اور کسی بینک میں نوکری مل رہی ہوگی تو کیا وہ اسے چھوڑ دے گا۔ جامعہ سے تعلیم حاصل کرنے والے نور عالم کہتے ہیں ’’اگر کہیں اور کام نہیں ملتا ہے اور اس وقت کسی بینک یا شراب کمپنی میں کام ملتا ہے تو کیوں نہیں کروںگا۔ مجبوری ہے، خاندان کی پرورش کرنی ہے تو کام کیوں نہیں کریںگے۔‘‘ اس ایشو پر سنجیدگی سے بات کرتے ہوئے جامعہ سے ہی پرشین کی تعلیم حاصل کر رہے فضل کہتے ہیں کہ ضروری نہیں ہے کہ جو بات سیکڑوں سال پہلے کہی گئی وہ آج کے زمانے میں بھی نافذ ہو، بینک میں کام کرنا ہمارا پیشہ ہے تو اس میں کیا برائی ہے، لیکن جے این یو کے شعبہ فارسی کے محمد عامر شراب کمپنی میں کام کرنے کی پرزور مخالفت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’شراب کمپنی میں کام تو بالکل بھی جائز نہیں ہے۔ ہاں، اگرکوئی دوسرا کام نہیں مل رہا ہو تب بینک میں کام کیا جاسکتا ہے کیوںکہ ہندوستان جیسے ملک میں سود سے کہاں کہاں بچا جاسکتا ہے۔‘‘
فتوؤں کے بارے میں ان طلبا کی رائے بھی کافی اہم ہے۔ جامعہ کے فضل کا کہنا تھا کہ جب کسی بڑی ہستی کے خلاف فتویٰ جاری کیا جاتا ہے تو کیا وہ اسے مانتا ہے، بالکل نہیں۔ تو پھر فتویٰ جاری کرنے کا مطلب ہی کیا ہے؟ ایسے ہی عنبر ظفر کہتی ہیں ’’اے سی آفس میں بیٹھ کر فتویٰ جاری کرنے والے علماء کو چاہیے کہ وہ ذرا عام لوگوں کے درمیان جائیں۔ ان کی حالت دیکھیں۔ ان کے حقیقی مسائل کو سمجھیں اور پھر فتویٰ جاری کرنے کے بارے میں سوچیں۔ آج کے زمانے میں زندگی بسر کرنے کے لیے سب کو کمانا پڑتا ہے۔‘‘ چند مہینے پہلے جب شیعہ رہنما کلب جواد کا یہ بیان آیا تھا کہ خواتین صرف بچے پیدا کریں، سیاست ان کا کام نہیں ہے تب بھی چوتھی دنیا نے اس معاملے پر مسلم خواتین سے بات کی تھی۔ ساتھ ہی اس حوالے سے کئی مضامین بھی شائع کیے تھے جس میں کئی اہم دانشور مسلم خواتین اور خواتین ماہر تعلیم نے کلب جواد کے اس بیان کی سخت مخالفت کی تھی۔ چوتھی دنیا سے بات کرتے ہوئے مسلم طالبات نے کھل کر اس بیان کی مخالفت کی تھی۔ جامعہ سے بایو سائنس کی تعلیم حاصل کر رہی بشرہ نے کہا تھا کہ مسلم خواتین کو نہ صرف سیاست بلکہ تمام شعبوں میں آنا چاہیے۔ سائنس کی طالبہ ہونے کی وجہ سے میں مانتی ہوں کہ ہم لڑکیوں کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے اور ہمیں سیاست سے لے کر تمام شعبوں میں جانے کے لیے سوچنا چاہیے۔ مذہب کی غلط تشریح کر کے کوئی ہمارے حقوق کو پامال نہیں کرسکتا ہے۔
بہرحال یہ رخ تو مسلم نوجوانوں کا رہا جس سے ہم نے آپ کو روبرو کرایا، لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ کھاپ پنچایت کے معاملے پر کئی لیڈروں نے اپنی زبان خوب چلائی۔ ایسے لیڈروں میں نوین جندل، وزیرداخلہ پی چدمبرم تک شامل تھے۔ یہاں تک کہ بابا رام دیو بھی کھاپ پنچایت پر بولے، لیکن جب معاملہ فتوؤں کا آتا ہے تو ہر جگہ خاموشی چھا جاتی ہے۔ ہاں جاوید اختر جیسے کچھ مسلم دانشور یا چند تنظیمیں ہی اپنی بات کہنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں اور کب تک؟

Share Article

2 thoughts on “مسلم نوجوان فتووں سے بے فکر

  • June 23, 2010 at 1:11 am
    Permalink

    اک اچھی پیشکش ہے، اچھا جایزہ لیا گیا ہے،انٹرویو بھی کارآمد ہے.اچّھی کوشش.جاوید اختر. نی دلھی
    +1

    Reply
  • June 15, 2010 at 6:07 pm
    Permalink

    اک اچھی پیشکش ہے، اچھا جایزہ لیا گیا ہے،انٹرویو بھی کارآمد ہے.
    اچّھی کوشش.
    جاوید اختر. نی دلھی

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *