ہالینڈ میں مسلمانوں کی حالت زار

اسد مفتی۔ ایمسٹرڈیم ، ہالینڈ

جون  2008میں خبر آئی تھی کہ ہالینڈ کی حکومت نے ایک نئے قانون کی تیاری کا حکم دیا ہے جس کے تحت تارکین وطن کو ہالینڈ میں رہنے کے لئے انتہائی سخت امتحان پاس کرنا ہوگا۔ اس نئے قانون سے ہالینڈ میں مقیم کم از کم پانچ لاکھ مسلمانوں کو سخت مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ پھربھی حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ نیا قانون (سعادت حسن منٹو والا نہیں)تارکین کے امور سے متعلق وزیر ریٹا فرڈونک نے تیار کرکے پارلیمنٹ میں پیش کردیا ہے۔ اس قانون کے تحت ہالینڈ میں رہنے والے تارکین کو ہالینڈ کی تاریخ و جغرافیہ، زبان اور ثقافت کے بارے میں اور ان شعبوں سے متعلق معلومات پرمبنی سخت ٹیسٹ دینا ہوگا (جو برطانیہ میں رائج ٹیسٹ سے بھی مشکل ہے) اس ٹیسٹ کے لئے تارکین کو چھ سو گھنٹوں کے کورس میں شرکت کرنا ہوگی اور پانچ سال کے اندر کورس ختم نہ کرنے پر یا امتحان میں ناکام رہنے والوں کو سالانہ سات سو یورو جرمانہ کیا جاسکتا ہے اور ملنے والی مراعات میں کمی یا رہائشی پرمٹ منسوخ کیاجاسکتا ہے۔ نیا قانون تیار کرنے والی وزیر ریٹا نے مجھے ایک ملاقات میں بتایا تھا کہ یہ ٹیسٹ مساجد کے اماموں کو بھی دینے کا پابند کیا جائے گا جبکہ یوروپی یونین کے تمام شہری ٹیسٹ سے مستثنیٰ ہونگے۔ لیکن اب گذشتہ دنوں ہالینڈ کی حکومت نے برطانیہ میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد پاکستانیوں کے لئے مخصوص قانون کی منظوری دے دی ہے۔اخبار کے مطابق ہالینڈ آنے والے پاکستانی باشندوں کو ویزالینے کے لئے ڈچ(ولندیزی) زبان سیکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نئے قانون کے تحت ہالینڈ میں رہائش پذیر کوئی پاکستانی اپنی بیوی ،منگیتر،بچوں یا خاندان کے کسی فرد کو ہالینڈ بلواتا ہے تو اس امیدوار کے لئے ڈچ زبان سیکھنا لازمی ہوگا۔علاوہ ازیں اسے اسلام آباد (پاکستان)میں ڈچ ایمبیسی ٹیسٹ پاس کرنا ہوگا۔ ناکامی کی صورت میں اسے ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔ ہالینڈ میں مقیم پاکستانی تارکین نے اس نئے قانون پر شدید احتجاج کیا ہے جبکہ پاکستانی سفارت خانہ حسب معمول، حسب روایت اور حسب عادت خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ پاکستانیوں کا موقف ہے کہ پاکستان میں ڈچ زبان سیکھنے یا سکھانے کا کوئی ادارہ یا انسٹی ٹیوٹ نہیں ہے، جس کی وجہ سے ڈچ زبان سیکھنا بے حد دشوار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈچ ایمبیسی کے ساتھ حکومت پاکستان کو بھی مدد کے لئے آگے آنا چاہئے۔
ادھر ہالینڈ کے ہمسایہ ملک بیلجیم میں بھی لندن بم دھماکوں کے بعد صورت حال کشیدہ ہورہی ہے، نئے قوانین متعارف ہونے کے بعد تارکین میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے، گذشتہ دنوں خبر آئی تھی کہ حکومت  بیلجیم نے دہشت گردی کے خاتمہ اور ملک کو دہشت گردی سے بچانے کے لئے ’’ ٹم ٹم اور ایکسٹرا آپریشن‘‘ کے نام سے نئے قوانین پر باقاعدہ کام شروع کردیا ہے جن کے تحت پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامیہ کو مکمل اختیارات حاصل ہوںگے کہ وہ کسی کو بھی گرفتار کرکے تفتیش کرسکیں بلکہ اگر جرم ثابت ہوجائے تو ڈی پورٹ کرنے کے بھی اختیارات دے دئے گئے ہیں۔ اسی طرح ہوائی اڈوں پر امیگریشن کنٹرول کرنے والوں کو پہلے سے کہیں زیادہ اختیارات دے دئے گئے ہیں۔تاکہ وہ کسی کو بھی شک وشبہ ہونے پر ملک میں داخلے سے روک دیںیا کسی ملزم یا کسی مجرم کو باہر جاتے ہوئے گرفتار کرسکیں(۔اب تارکین وطن کو ملک سے باہر جانے سے پہلے اپنے واجب الادا بلوں کی ادائیگی ضروری بنادی گئی ہے) علاوہ ازیں برطانیہ نے فرانس اور بیلجیم کے بعد اپنا سرحدی کنٹرول وسیع کرنے کے لئے ہالینڈ سے بھی اپنے مذاکرات مکمل کرلیے ہیں۔ اس سے برطانوی امیگریشن افسروں کو ہالینڈ کی سرزمین پر مسافروں کی سفری دستاویزات کی پڑتال کے اختیارات مل گئے ہیں۔ اسی طرح ہالینڈ ،بیلجیم اور فرانس سے غیر قانونی تارکین وطن کی برطانیہ آمد کو روکا جاسکے گا۔ اسی قانون کے تحت یوروسٹار سے آنے والے تمام مسافروں کی بھی پڑتال کی جارہی ہے۔کوئی بھی امیگریشن افسر کسی جعلی یا ناکافی دستاویزات کے حامل مسافروں کو داخلے سے انکار کرکے اسے یوروسٹار میں سوار ہونے سے روک سکتا ہے ۔ مشتبہ افراد کی مزید چھان بین کے لئے اسے بیلجیم ، فرانس یا ہالینڈ کی پولس کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔ رواں سال میں سیاسی پناہ کے لئے آنے والے نوسو افراد کو روکا گیا ہے، 90فیصد سیاسی پناہ کی درخواستوں میں کمی آئی ہے۔ حال ہی میں انسانی اسمگلروں کے منظم گروہوں کو قابو میں کیا گیا ہے۔ دوگروہوں کا مکمل صفایا کردیا گیا ہے۔ برطانیہ بیلجیم کے تعاون سے ان انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورک پر مکمل قابو پا چکا ہے، کیونکہ بیلجیم میں بھی انٹری اب اتنی آسان نہیں رہی ، حکومت بیلجیم نے شہریت دینے کے قوانین مزید سخت کردئے ہیں۔ اس سے قبل تین سال سے سات سال تک بیلجیم میں قانونی طورپر مقیم افراد شہریت کے لئے درخواست دے سکتے تھے جبکہ اب اس مدت کو بڑھا دیا گیا ہے یعنی دس سال سے مقیم افراد ہی اب درخواست دینے کے مجاز ہونگے ۔ علاوہ ازیں اس سے قبل زبان پر عبور کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی تھی جبکہ یہ قانون بھی تبدیل کردیا گیا ہے۔ اب لکھنا پڑھنا اور بولنا از حد ضروری بنادیا گیا ہے۔ ایک خبر جو میں آپ کے علم میں لانا ضروری سمجھتا ہو ں کہ پچھلے دنوں بیلجیم کے شمال میں ایک ٹاؤن نے ان مسلمان خواتین پر جرمانہ لگانا شروع کردیا ہے جو پبلک میں روایتی برقعہ اوڑھتی ہیں ۔ اب تک پانچ خواتین کو ایک سو یورو تک جرمانہ ادا کرنا پڑا ہے۔ اس برقع کو ٹاؤن کے مقامی میئر نے ’’تقسیم کرنے والا اور جبر ‘‘ قرار دیا ہے۔اس ٹاؤن میں مسلمانوںکی آبادی تقریباً سات سو ہے۔ اس ماسک ٹاؤن میں مراکشی خاتون جرمانے کا پہلا نشانہ بنی ۔ٹاؤن کو نسل کے حکام کاکہنا ہے کہ یہ لباس کمیونٹیز کو تقسیم کرتا ہے اور منافرت پر اکساتا ہے۔ ماسک کی کل آبادی 24ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پانچوں عورت جنہوں نے جرمانہ ادا کیا ہے کوئی کام دھام نہیں کرتیں اور سوشل سیکورٹی مراعات و بنیفٹ لیتی ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر عائد کردہ جرمانہ بھی حکومت کوہی بھرنا پڑے گا، اس لئے یہ خواتین حکومت اور قانون کو برا بھلا کہنے کے بجائے جرمانہ بھر نے کو ہر دم تیار ہیں۔

کالم نگار ہالینڈ کے مشہور فلم ڈائریکٹراور پروڈیوسر ہیں

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *