جرمنی میں مسلمانوں کی صورتحال اور ادبی سرگرمیاں

بشریٰ اقبال ملک۔جرمنی

آج کل جرمنی کے تمام اسکولوں میں اسلام کو بطور ایک مضمون پڑھانے کے لیے اساتذہ کی تربیت اور اسلامی نصاب مرتب کرنے کے لیے زور شور سے کام کے علاوہ مساجد کے امام مقرر کرنے کے لیے اصول مرتب کرنے کاسلسلہ جاری ہے۔اس سلسلے میں جرمنی میں مسلمانوں کا پڑھا لکھا طبقہ جرمن حکومت کی مدد کر رہا ہے۔
جرمنی میں موجو د ا قلیتی مذہبی گروپوں میں مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ  ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جرمنی میں چار ملین سے کچھ زیادہ مسلمان ہیں جو کہ کل جرمن آبادی کا تقریباً 6 فیصد ہیں۔ ان میں سے تقریباً دو ملین مسلمان جرمنی کی شہریت حاصل کر چکے ہیں۔ان چار ملین مسلمانوں میں 64  فیصدترکی سے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہے اور سابقہ یگوسلاویہ کے ممالک کے مسلمان،عرب ممالک کے مسلمان، ایران اور پھر افغانستان کے مسلمان ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر مسلم برلن میں رہتے ہیں۔ پھرفرینکفرٹ اور ھمبرگ کا نام آتا ہے۔یورپ کے دیگر ممالک کی بہ نسبت جرمنی کے چھوٹے چھوٹے گائوں اور قصبوں میں  مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔خصوصاً باڈن ورتیم برگ  اور باویریا کے دیہاتوں میں اور نار تھ رائن وسٹ فالن کے مضافات میں۔ جرمنی میں بسنے والے75فیصد مسلمان سنی ہیں۔ باقی شیعہ، احمدی اور علوی ہیں۔اعداد وشمار کے مطابق جرمنی کے اسکولوں میں پڑھنے والے مسلم بچوں کی تعداد سات لاکھ سے زیادہ ہے ۔یہاں جرمن سوسائٹی اورمسلم معاشرت کا فرق نمایاں ہے جس سے دونوں معاشرتوں میں دوریاں اور اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ان کی وجوہات میں دونوں معاشروں کے رہن سہن کے انداز کے فرق کے علاوہ مذہب کا فرق بھی شامل ہے ۔مسلمانوں کو ہر قدم پر حلال اور حرام کی تمیز کا مسئلہ درپیش رہتا ہےجو کہ مسلمانوںکو جرمن معاشر ے کا حصہ بننے نہیں دیتا۔اس پر مزید یہ کہ مسلم خواتین کا برقع اور حجاب یہاں کے باشندوں کے ساتھ ساتھ یہاں کی پولیس اور دوسرے اداروں کے لیے پیچیدگیاں پیدا کرتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے جرمن معاشرے میں مسلم  مشکوک سا ہوجاتا ہے اور اکثریت احتجاج پر مجبور ہو جاتی ہے اس طرح دونوں طرف غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اس وجہ سے سالوں اکٹھا رہنے کے باوجود یہاں اجتماعی طور پر محبت و اعتبار اور اعتماد کا ماحول پیدا نہیں ہو پا رہاہے۔11اکتوبر2001کے واقعے نے ان مسائل کو بے حد اجاگر کیا تھا، مگر اس کے بعد،اسپین اور پھر انگلینڈ میں ہونے و الے حملوں نے دنیا بھر کے غیر مسلمانوںکو مسلمانوں اور اسلام سے مزید دہشت زدہ کر دیا ہے،جس کی وجہ سے ایک عام سیدھا سادہ امن پسند مسلمان بری طرح متاثر ہوا ۔ خاص طور پر ان واقعات کے بعد غیر مسلم ممالک میں ہرمسلم کومشکوک سمجھ کر نہایت حقارت بھرے انداز سے دیکھا جانے لگا ، جس کی وجہ سے مسلمانوں میں ردعمل بڑھا ہے جس سے حالات اور ماحول میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غلط فہمی کو کم کرنے کے لیے جرمن حکو مت نے کانفرنسوں اور ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی کانفرنس 2006 میں ہوئی تھی، جس میں یہاںکے مسلم آرگنائزیشنز کے لیڈروں کا حکومت سے شکوہ تھا کہ انہوں نے Islamophobia   کم کرنے کی کوشش نہیں کی ہے، بلکہ اس کو مزید  بڑھایا ہے۔
جرمنی میں مسلمانوں کی آواز بلند کرنے کے لیے چھوٹی چھوٹی بہت سی  جماعتیں ہیں جن میں سے کچھ رجسٹرڈ ہیں، لیکن بہت سی ایسی ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق ترکی سے ہے۔ جرمنی میں موجود اکثر مساجد کے امام صاحبان ترکی کی حکومت کی جانب سے بھیجے جاتے ہیں۔ ان کی سرپرست4 بڑی مذہبی تنظیمیںہیں،جن میں سے ایک بڑی تنظیمIslamrat in Deutschlandہے اوردوسری کانام The Central Council of Muslims in Germany یعنی (Zentralrat der Muslime in Deutschland)ہے، اس تنظیم کے لیڈر ایوب کوہلر نے2006  کی پہلی جرمن اسلام کانفرنس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا اور جرمن حکومت سے شکوہ کیا تھا کہ انہوں نے اپنے عوام کو محفوظ کرنے کی آڑ میں ایک عام پر امن مسلم کو خوف وہراس میں مبتلا کر دیااور اب اس کا تدارک اور کوئی حل تلاش کرنے میں جرمن حکام مخلص نہیں ہیں، اس لیے پہلے اس مسئلے کا حل ہونا چاہیے، اس کے بعد ہی کوئی کانفرنس نتیجہ خیز ثابت ہوسکتی ہے ،جب تک ایک عام مسلمان خود کو قابل بھروسہ محسوس نہیں کرے گا اس وقت تک اسلام کانفرنس  اور ڈائیلاگ جیسی تمام کوششیں ناکام ہو ںگی۔
اب اسی سلسلے کی دوسر ی اسلام کانفرنس حال ہی میں17 مئی 2010  کو ہوئی، جس میں جرمن حکومت کا موقف اس کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں جرمن وزیرخارجہ کی تقریر سے ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس کانفرنس کا مقصد جرمنی میں مسلم آبادی کی معاشرتی اور مذہبی بہتری کرنا ہے اور ان کو یقین دلانا ہے کہ جرمن حکومت اسلام کے ساتھ مخلص ہے اور وہ اپنی مسلم آبادی یا آباد کاروں کو حکومت کی مشنری کا اہم حصہ سمجھتی ہے۔2006پچھلی کانفرنس  سے اب تک یعنی2010 تک 4 سال کے درمیانی عرصے تک بات چیت کے ایک طویل مدتی سلسلے کے بعد حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ یہ ڈائیلاگ  صرف اس وقت کامیاب ہوسکتے ہیں، جب ہم نوجوان مسلم بچوں کو جرمن معاشرے میں اور جرمن روزگار یعنی نوکریوں میں برابری کا مقام دیں۔ جرمن حکومت نے یہ پلیٹ فارم اس لیے بنا یا تاکہ مسلمانوں کو جرمن معاشرے میں  مدغم کیا جائے۔ان کی غربت دور کی جائے،ان میں تعلیم حاصل کرنے کا شعور  پیداکیا جائے اور ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔اس کانفرنس کو بے حد میڈیا کوریج ملی اور شہرہ بھی ہوا۔
اس کانفرنس کا حال بھی پچھلی کانفرس کی طرح مسلم آرگنائزیشنز کے عدم تعاون والا مسئلہ رہا۔4 بڑے مسلم آرگنائزیشنز میں سے اس بار پھر صرف دو نے شرکت کی جبکہ باقی لوگوں نے ٹیبل پر آنے سے انکار کر دیا۔
The Central Council of Muslims in Germany (ZMD),جو کہ جرمنی میں سنی مساجد کے ساتھ منسلک ہے نے یہ کہہ کر  بائیکاٹ کر دیا کہ اس کانفرنس سے مسلمانوں کے لیے پیدا ہونے والے مسائل کا فوری حل حاصل نہیں ہوگا۔ کانفرنس میںIslamophobia  کے موضوع کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرنا ہوگا، جب کہ پچھلے سال مارچ میں دوسری کانفرنس کی تیاری کے دوران وزیر داخلہ تھوماس ڈی مائزیرے نے  4 بڑے آگنائزیشنز میں سے ایکIslam Council کو کانفرنس میں آنے سے منع کر دیا تھا،کیونکہ اس پرٹیکس کی چوری اور انتہاپسندی کی تعلیم  دینے کے مقدمے قائم تھے۔ ان دو وجوہات کے نتیجے میں اس کانفرنس میں مسلمانوں کی آگنائزیشنز کے نمائندوں کی شرکت احتجاجاً کم رہی۔جب کہ وزیرداخلہ نےکانفرنس کے ایجنڈے میںgender equalityخواتین کے حقوق،انتہا پسندی کے تدارک اور اسکولوں میں مذہب اسلام کے بارے میں تعلیم کو اہم قرار دیا۔اس کانفرنس میں جرمن حکومت کا موقف اس کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں جرمن وزیرخارجہ کی تقریر سے ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس کانفرنس کا مقصد جرمنی میں مسلم آبادی کی معاشرتی اور مذہبی بہتری کرناہے۔
مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک حکومت کے پاس وہ پر اثر ذرائع موجود  نہیں ہیںکہ وہ جرمنی میں بسنے والے ز یادہ سے زیادہ مسلمانوں تک اپنی آواز پہنچاسکیں۔ اس بڑی وجہ کے علاوہ ا س ناکامی کی بہت سی دوسر ی وجوہات بھی  ہیں،جن میں سب سے زیادہ پریشان کن مسلم فرقوں کے آ پس کے ا ختلافات ہیں ،جو ان کوآپس میں مل کر بیٹھنے ہی نہیں دیتے۔ مزید یہ کہ مختلف ممالک سے آئے ہوئے مسلمانوں میں سے 90  فیصد افراد جرمن زبان سے ناواقف ہیں اور سونے پر سہاگہ کہ ان کی آپس میں بھی کوئی مشترکہ زبان نہیں ہے تاکہ ایک دوسر ے سے رابطہ قائم کر سکیں۔ بے شک یہاںمسلمانوں کی بڑی تعداد میں آرگنائزیشنز تو ہیں،مگر ان کے ممبران کی تعداد جرمنی میں موجود مسلمانوں کی آبادی کا 20 فیصد بھی نہیں ہے۔ یعنی 80 فیصد مسلمانوں کا ان جماعتوں یا آرگنائزیشنز یا پلیٹ فارمز سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ان 2 کانفرنسوں نے یہاں پر بسنے والے مسلمانوں کو سرکاری طور پر یہ نادر موقع فراہم کیا ہے کہ وہ حکام کو اپنے مسائل سے آگہی کروا کر دونوں معاشروں میں بڑھتی خلیج کو کم کریں۔ جرمن حکومت کی اس پیشکش کو کھلے دل اور دماغ سے قبول کریں اور مسلمانوں کو جرمنی میں معاشی ترقی کرنے کی سیڑھیاں فراہم کریں اور اب جرمنی میں کچھ اردو ادب کی سرگرمیوں کے تعلق سے۔جرمنی کے شہر بون میں اردو سوسائٹی آف یورپ کے زیر اہتمام ایک شاندار مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا، جس میں اردو سوسائٹی آف یوروپ نے اہل ہند کی دو ایسی روایات کو یکجا کر کے پیش کیا جن کا اہتمام اس طرز پر کہیں نظر نہیں آتاہے۔ پہلی روایت کتھک اور دوسری مشاعرہ ہے۔ کتھک جو کہ ہندو کلچر کا مذہبی ورثا ہے،جسے مغل بادشاہوں نے آرٹ اور فن کے رتبے پر پہنچا دیا آج وہ ان دونوں صورتوں میں جوں کی توں مو جود ہیں۔ کتھک آج بھی اپنے روایتی طریقے اور ادب و آداب کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور مشاعرہ بھی۔South Asian Poetry Symposium کے عنوان کے تحت ہونے والے اس پروگرام میں ساوئتھ ایشیاء کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور تمام شعراء کو  بھرپور داد اور تحسین سے نوازا۔
پروگرام کا آغاز کتھک سے ہوا جسے ابھا مونڈھے نے پیش کیا۔ اس حصے کی اناوئسر فرح عباسیتھیں ۔ ابھا وائس آف جرمنی کے ہندی سیکشن سے تعلق رکھتی ہیں۔آپ کتھک کے علاوہ فن شاعری میں بھی طاق ہیں۔ابھا کے رقص کو حاضرین نے بے حد سراہا۔ پروگرام کا دوسرا حصہ مشاعرہ بے حد کامیاب رہا۔

کالم نگار جرمنی کی سینئر صحافی ہیں

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *