لندن نامہ

حیدر طباطبائی۔لندن۔یوکے

ابھی عالمی دہشت گردی کے امین اسرائیل کے خلاف دنیا بھر میں آوازیںبلند ہو رہی تھیں جو اس نے فریڈم فلوٹیلا نامی جہاز کو اس لئے بیچ سمندر میں روک لیا تھا کہ یہ جہاز 95ٹن راشن غزہ کے بھوکے پیاسے بچوں، خواتین اور بیمار فلسطینیوں کے لئے لے کر جارہا تھا کہ 5؍جون کو صیہونیت کی دوسری ضرب انسانیت پر یو ں پڑی کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کے لئے امداد لے جانے والے دوسرے جہاز کو بھی اسرائیلی ساحل سے 55کلو میٹر دور پکڑلیا۔ اس جہاز میں آئرلینڈ کے نوبل انعام یافتہ ادیب میریڈ میگوائر اور اقوام متحدہ کے سابق نائب سکریٹری جنرل ڈینس ہیلی ڈے بھی سوارتھے۔ گزشتہ روز جیسے ہی یہ دردناک خبر آئی لندن کی سڑکوں پر ہزاروں مسلمان اپنے عیسائی بھائیوں کے ہمراہ نکل آئے۔ تقریباً 50ہزار افراد کا یہ جلوس پلے کارڈ اٹھائے 10ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جانب ایک سیل رواں کی مانند بڑھتا ہوا سیدھا اسرئیلی سفارت خانے کی جانب جا پہنچا اور خوب کھل کر امریکہ،برطانیہ و اسرائیل کے خلاف فلک شگاف نعرے بلند کئے۔ ڈیوڈ کیمرون کو اپنی حکومت سنبھالے ابھی دوسرا ہی ہفتہ ہے کہ اتنا بڑا مظاہرہ دیکھنا پڑا۔ یہ بتاتا چلوں کہ یہاں اگر دھمکی دی جاتی ہے تو اس کو پورا بھی کیا جاتا ہے۔
اب سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت برطانیہ اسرائیل کے خلاف کیا اقدام اٹھاتی ہے۔ اگر ان اقدامات سے برطانیہ میں آباد تقریباًدو ملین مسلمان راضی ہوگئے تو ٹھیک ہے ورنہ خطرناک نتائج کے لئے ارباب حکومت تیار رہیں۔ دن کو یہ مظاہرہ ہوا اور رات کو حکومت نے اپنی ایک سب سے بڑی مسلمان لیڈر سعیدہ وراثی سے یہ بیان دلوایا کہ فلسطین کے تمام مسائل کو حل کرنا کنزرویٹو پارٹی کی اولین ترجیح ہوگی، ساتھ میں مسئلہ کشمیر کا بھی ذکر برسبیل تذکرہ اس لئے کردیا کہ مسلمان خاموش ہوجائیں۔ سعیدہ وارثی نے کہا کہ ہم غزہ کی ناکہ بندی اور اسرائیل کی جانب سے کھلے سمندر میں امدادی جہازوں کو روکنے کی مذمت کرتے ہیں۔ اسرائیل کو چاہئے کہ وہ فوراً جنگی صورت حال کا خاتمہ کرے۔ ساتھ میں کنزرویٹو پارٹی نے اپنی چیئر پرسن وزیر پارلیمانی امورسعیدہ وارثی سے یہ بھی اعلان کروادیا کہ ٹونی بلیئر حکومت کے بنائے گئےانسداد دہشت گردی بل پر 28دنوں میں جائزہ لیا جائے گا۔ اس بل کے ذریعہ باہر سے آئے ہوئے ان برطانوی شہریوں کو جن کو شہریت دی گئی ہے ، ان سے برطانوی پاسپورٹ چھین کر ملک بدر کردیا جائے گا۔ اس سے پاکستانی بہت گھبراگئے تھے ۔ ایساہی اعلان اس وقت بھی ہوا تھا جب سلمان رشدی کے خلاف مظاہرے زور پکڑگئے تھے اور اس اعلان کے ساتھ ہی تمام مظاہرے ختم ہوگئے تھے۔
اسرائیل نے بے غیرتی کے ساتھ یہ اعلان کیا ہے کہ آئندہ بھی ہر جہاز کو روکا جائے گا۔ جبکہ وہائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ غزہ کا محاصرہ ناقابل برداشت ہے۔ اقوام متحدہ نے یہ تو کہا تھا کہ امدادی جہازوں پر اسرائیل کی بحری قذاقی روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے کوئی ٹاسک فورس بحیرہ روم میں پہنچ جائے گی ۔ ڈیوڈ کیمرون نے بھی اسرائیل کو تنبیہ کی ہے کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی ختم کردے تاکہ بھوک وپیاس سے تڑپتے ہوئے فلسطینی عوام کو بچایا جاسکے۔ وائٹ ہاؤس کی نیشنل سیکورٹی کے ترجمان مائیک ہمیر نے کہا ہے کہ غزہ کا اسرائیلی محاصرہ اب ناقابل برداشت ہوچکا ہے۔
برطانیہ بھر میں کل سے مظاہرے ہورہے ہیں۔ آج پھر سینٹرل لندن بند ہے ، اگر مسلمانان برطانیہ نے کوئی غیر قانونی حرکت کرڈالی یعنی پولیس وین کو آگ لگادی ، کسی سرکاری عمارت کو جلاڈالا تو ڈیوڈ کیمرون کی حکومت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔اسی لئے کل رات سے برمنگھم کے دومسلم علاقوں میں سرویلنس کیمرے نصب کئے جارہے ہیں۔ مسلم آبادی والے دو علاقے یہ ہیں(1)’’واش وڈہتھ‘‘(2)’’اسپارک برو‘‘ جہاں کوئی انگریز نہیں رہتا ہے اور ایک ملین سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔ تھوڑی تھوڑی دور پر مساجد ہیں جہاں لاؤڈ اسپیکر نصب ہیں۔اذان یا تلاوت کے ہمراہ مسلمانوں کو ان کی ذمہ داری قرآن وحدیث کی روشنی میں یاددلائی جاتی ہے۔ اب ان کیمروں کی وجہ سے کوئی بھی شخص بچ کرنکل نہیں سکتا ہے، مقامی کونسلروں نے کہا ہے کہ سرویلنس کیمروں کی اس طرح سے تنصیب بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اب تک یہ کیمرے کاروں کی چوری یا خواتین کے پرس چھیننے کی وارداتوں کے لئے نصب ہوتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ 40کیمرے تو خفیہ ہیں یعنی ان کو عوام کی نظروں سے پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ اب دیکھئے امید تو یہی ہے کہ یہ وارداتیں اور کسی علاقے میں منتقل کردی جائیںگی، لیکن اللہ نہ کرے اگر اسرائیل کی بحری قذاقی کے خلاف فلسطین کے عوام کے حق میں کوئی غیر قانونی اقدام ہوا تو ڈیوڈ کیمرون کی حکومت کو شدید نقصان پہنچے گا۔لندن کے ادبی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ قیام پاکستان سے قبل 9؍اگست 1947کو محمد علی جناح نے اردوکے شاعر جگن ناتھ آزاد کو بلاکر پاکستان کا قومی ترانہ لکھنے کو کہا ۔ جگن ناتھ آزاد نے یہ ترانہ پانچویں روز جناح صاحب کو دے دیااور یہی ترانہ 14؍اگست1947سے18ماہ تک نشر ہوتا رہا۔جب23؍ فروری1949کو قومی ترانے کی کمیٹی بنی تو جگن ناتھ آزاد کا لکھا ہوا پاکستان کا قومی ترانہ بند ہوا۔خود جگن ناتھ آزاد نے اس کا ذکر اس مصلحت سے نہیں کیا کہ پھر ان کو پاکستان و گلف اسٹیٹ کے مشاعروں میں مدعو نہیں کیا جائے گا۔ جگن ناتھ آزاد کی پاکستان سے محبت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
یہ دو نوں موضوع یعنی اسرائیل کی Crusade Warاور پاکستان کا قومی ترانہ تازہ موضوع بحث ہیں۔

کالم نگار لندن سے شائع ہونے والے اردو کے مشہور رسالہ شہرزاد کے مدید اعلیٰ ہیں

Latest posts by حیدر طباطبائی (see all)

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *