کیسی ہے فلم بم بم بولے

دہشت گردی صرف سیاسی مسئلہ ہی نہیں، بلکہ یہ کسی خاص علاقے  میں رہنے والے عام آدمی کے لئے مصیبتوں کا سبب بھی ہے۔ اس مسئلہ سے متاثرہ علاقوں میں رہنا کتنا مشکل ہے، اس کا اندازہ ہمیں آئے دن اخباروں اور نیوز چینلوں کے ذریعہ ملتا رہتا ہے۔ یہاں کے سویلین کبھی فوجیوں کے شک کا تو کبھی دہشت گردوں کے حملوں کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ 13اپریل کو کشمیر میں ایک 70سالہ کے آدمی کو دہشت گرد مان کر پولس نے انکائونٹر کر دیا تھا جبکہ تین دنوں بعد اہل خانہ کے ذریعہ شناخت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ دہشت گرد نہیں، ایک معمولی بھکاری ہے۔پولس کو غلط خبر ملی تھی ، مگر بغیر کسی تفتیش کے پولس نے انکائونٹر کر دیا، جس کا خمیازہ صرف اور صرف اس کے اہل خانہ کو اٹھانا پڑا۔دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں کسی بھی سویلین کے دہشت گردوں سے تعلق کا پتہ چلتے ہی مذکورہ شخص اور اس کے اہل خانہ پر مشکلوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ بغیر کسی ثبوت، بغیرکسی بنیاد کے اس شخص کا جینا حرام ہو جاتا ہے۔ وہ سماج سے خارج کر دیا جاتا ہے جبکہ پولس ان حقائق کا پتہ لگانے میں ناکام رہتی ہے، جو حقیقت میں دہشت گردوں کے رابطہ میں رہتے ہیں۔
ایرانی ہدایت کار ماجد مجیدی کی مشہور فلم ’’چلڈرن آف ہیون ‘‘پر مبنی فلم بم بم بولے بھی ایسے ہی ایک کنبہ کی کہانی ہے۔ آسام کے ایک گائوں میں دہشت پسندوں کا ساتھی کہہ کر سماج کے ذریعہ خارج کیا گیا دیارام (اتول کلکرنی)، اس کی بیوی (ریتو پرنا سین گپتا) اور اس کا کنبہ مشکل بھرے حالات کا سامنا کرتا ہے۔ زندگی گزارنے کے تمام راستے بند ہو جانے سے اس کا کنبہ غریبی کی آگ میں جھلستا رہتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑتاہے۔بیٹے پنو(درشیل سفاری)اور چھوٹی بیٹی رمجھم(جیا)کو ایک جوڑی جوتوں میں شیئر کر کے اسکول جانا پڑتا ہے۔ایسے میں پنو کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی بہن کو کسی طرح نئے جوتے لا کر دے دیں۔ ’تارے زمین پر‘ کے کردار سے ہٹ کر درشیل نے اس فلم میں سنجیدہ کردار بخوبی ادا کیا ہے۔رم جھم کے کردار میں جیا نے چھوٹی سی عمر میں اپنی فنکاری کا لوہا منوایا ہے۔کامیڈی فلموں میں ماہر پریہ درشن نے اس بار سماج کے ایک سلگتے ہوئے مسئلے کو اٹھایا ہے۔ خوبصور ت میٹوگرافی اور منظم اسکرپٹ پر پریہ درشن نے تمام اداکاروں کی صلاحیت کا بہتر استعمال کیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *