اسرائیلی بربریت کا تازہ نمونہ

وسیم راشد

اسرائیلی جارحیت یک طرفہ تھی۔ یہ بیان ہے اسرائیل سے رہائی کے بعد وطن واپس پہنچنے والے پاکستانی صحافی طلعت حسین کا۔ طلعت حسین پاکستان میں ایک نجی ٹی وی چینل ’آج نیوز‘ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور اینکر ہیں، وہ ان تین پاکستانیوں میں سے ایک ہیں جو غزہ کے فلسطینیوں کے لیے امداد لے جانے والے بحری بیڑے میں شامل تھے۔ وطن لوٹنے کے بعد ٹیلی فون پر ایک انٹرویو کے دوران طلعت حسین نے کہا کہ ہم اپنی تحریری شہادتیں تیار کر رہے ہیں۔ غزہ پٹی میں محصور فلسطینیوں کے لئے امدادی سامان لے جانے والے قافلہ پر اسرائیلی فوج کے ظالمانہ حملے جس میں تقریباً 20افراد ہلاک،38زخمی اور 450کارکنان کو اسرائیل نے قید کرلیا ہے، کے خلاف یوں تو پوری دنیا میں ہی احتجاج ہو رہا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان میں بھی اسرائیلی سفارت خانے پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور ہندوستان میں مختلف تنظیموں کے ذریعے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ہندوستان اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرلے۔ ادھر مختلف ممالک کے اہم عہدوں پر فائز افراد کے بیانات بھی لگاتار اخباروں کی زینت بن رہے ہیں، جن میں فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کا بیان ہے، جس میں انہوں نے اسرائیل کی فوجی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے حادثہ میں مرنے اور زخمی ہونے والے افراد کے گھر والوں سے اظہار تعزیت کیا ہے۔ وہائٹ ہاؤس کے ترجمان کا بیان ہے کہ امریکہ کو اس واقعہ میں لوگوں کی موت اور زخمی ہونے پر افسوس ہے۔ امریکہ اس المیہ سے متعلق حالات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کا بیان بھی اس ضمن میں بہت اہمیت رکھتا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس طرح کے تشدد کی مذمت کرتے ہیں اور اس تمام واقعہ کا پتہ لگانے کے لیے مکمل تحقیقات کرانے اور اسرائیل سے وضاحت طلب کی ہے۔ سب کچھ ہورہا ہے سارے ممالک احتجاج کر رہے ہیں، مگر یہ کوئی نیا واقعہ تو ہے نہیں، کئی نسلیں اسرائیل اور فلسطینی نفرت کو جھیل چکی ہیں۔ اسرائیل اور فلسطین میں کچھ خاندان تو ایسے ہیں جن کے گھروں میں سے کوئی ایک شخص بھی اب اس نفرت کو پالنے اور آگے بڑھانے کے لیے نہیں بچا ہے۔
فلسطینی تقریباً نصف صدی سے بھکمری، بیماری، غریبی اور جنگ جیسے حالات سے نبرد آزما ہیں۔ تقریباً 60سالہ تاریخ اگر اسرائیل اور فلسطین کی اٹھا کر دیکھی جائے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ اسرائیل نے سفاکی کا مظاہرہ نہ کیا ہو یا انسانی حقوق کی پامالی نہ کی ہو۔ مجھے یاد ہے کہ 1981-82میں بھی لبنان کے فلسطینی کیمپوں پر اسرائیل کی وحشیانہ کارروائی کے سبب تقریباً 800کے قریب بھکمری اور مفلسی سے چھلنی ہوئی عورتوں، بچوں کا قتل عام ہوا تھا، جس کا اسرائیل میں بھی شدید رد عمل ہوا تھا اور اسی کے بعد اسرائیل کے اس وقت کے وزیر دفاع ایریل شیرون کو برطرف کردیا گیا تھا۔ اس وقت تو فلسطینی کیمپوں کی حالت اور بھی خراب ہے، وہاں خوردنی اشیاء کی زبردست قلت ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو ہتھیار اٹھانے پڑ رہے ہیں، وہ معصوم جن کو پیٹ بھر روٹی نہیں مل رہی ہے،انہیں اسرائیلی بربریت کے سامنے کھڑا ہونا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں جب برطانیہ، آئرلینڈ، الجیریا، کویت اور ترکی کی کچھ تنظیموں نے ریلیف مشن تیار کیا اور 6بحری جہازوں پر مشتمل یہ بیڑا جس میں 700افراد تھے اور اس میں نہ صرف امدادی کارکنان تھے بلکہ کئی ملکوں کے اہم عہدوں پر فائز رہ چکے سفارت کار، نوبل انعام یافتہ ہستیاں، سرکردہ صحافی اور یوروپی پارلیمنٹ کے ممبران شامل تھے۔ یہ سبھی افراد کسی خاص خطے، کسی خاص ملک ، کسی خاص تنظیم سے تعلق نہیں رکھتے تھے، ان سبھی کے اندر ان مظلوم فلسطینیوں کا دکھ، ان کا درد، غریبی، بھکمری، بیماری اور موسم کی سختیوں سے جھیلنے کا ان کا کرب موجود تھا۔ ان پر حملہ کر کے اہم لوگوں کو ماردینا اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل کے پیچھے کوئی بڑی طاقت کار فرما ہے اور یہ بڑی طاقت کون ہے، اس کا نام بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس امدادی بیڑے میں اسرائیل کا سر پرست ملک بھی شامل ہے۔ یہ بھی سبق امریکہ کے لیے بہت بڑا ہے کہ وہ بار بار اسرائیل کی پشت پناہی کرتا ہے۔ اسرائیل ہر غلط کام کو اپنا حق سمجھتے ہوئے اقوام متحدہ کے ذریعے بنائے گئے قوانین کی خلاف ورزی کرتا چلا جاتا ہے۔ اسرائیل اس بار بھی اپنے اس حملہ کو جائز قرار دے رہا ہے، اس کا کہنا ہے کہ جہاز ہتھیاروں سے لیس تھا اور یہ ہتھیار ہمارے دشمنوں کو اسمگل کیے جارہے تھے اور جب ہمارے کمانڈوز نے بحری بیڑے کو روکنا چاہا اور اس کا گھیراؤ کیا تو ان پر فائرنگ کی گئی، حالانکہ ریلیف کا سامان لے جارہے قافلہ نے اس کی تردید کی اور کہا کہ بحری بیڑے پر امن کا سفید جھنڈا لہرایا گیاتھا۔ یہاں جوکچھ ہوا سو ہوا، اقوام متحدہ نے اس کی مذمت تو کی ہے لیکن ابھی تک کوئی کمیشن اس کے لیے قائم نہیں کیا، لیکن چونکہ اس بار معاملہ ہر بار سے تھوڑا الگ ہے، اگر صرف اور صرف معاملہ فلسطینیوں کا ہوتا تو شاید اس کو بھی دوسرے حملوں کی طرح دبا دیا جاتا، مگر اس بار اس مشن میں دنیا کے اہم ممالک کے اہم ترین لوگ شامل تھے۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، سوئیڈن، آئرلینڈ وغیرہ کی بین الاقوامی تنظیمیں اور ممتاز شخصیات شامل تھیں اور ان حکومتوں کو بھی اپنے شہریوں اور اہم شخصیات کے بارے میں اپنے ملک میں جواب دینا تھا۔ اس لیے چوطرفہ مذمتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ترکی نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلالیا ہے۔ صدر ترکی عبداللہ گل کا بیان ہے کہ 32ملکوں کے بحری کارواں پر اسرائیل کا حملہ قابل مذمت ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ امدادی سامان لے کر جانے والوں پر یہ حملہ ناقابل فہم ہے۔ ترکی چاہتا ہے کہ اس کی تحقیقات ہو، ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل اس واقعہ کے لیے ذمہ دار مجرموں کے خلاف کارروائی کرے۔
ترکی کے صدر کے اس بیان سے عالمی برادری میں بھی کچھ جوش آیا ہے اور مختلف ممالک میں اس حملہ کا رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ مگر یہاں اسرائیل کی پالیسی بھی خوب اچھی طرح سمجھ میں آرہی ہے، وہ یقینا یہ نہیں چاہتا کہ غزہ کے لوگوں کی امداد کے لیے کوئی سامان پہنچے۔ ہمدردی کا کوئی لفظ ان مظلوم فلسطینیوں تک پہنچ پائے۔ یہاں تک کہ وہ تعمیراتی سامان بھی حماس تک پہنچنے نہیں دے رہا ہے جس کے جواز میں وہ کہتا ہے کہ حماس سیمنٹ کو لانچر بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ غریبی، بھکمری، لاچاری اور بیماری سے نبرد آزما یہ غریب قوم اس وقت پوری عالمی برادری سے ہمدردی اور مدد کی طلب گار ہے ، ہندوستانی حکومت کو بھی اس ضمن میں آگے آنا چاہیے اور اپنے ملک کی سب سے بڑ ی اقلیت کا احترام کرتے ہوئے مظلوم فلسطینیوں کو انصاف دلانے کی جانب پیش رفت کرنی چاہیے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *