ایران پر امریکہ کی ٹیڑھی نظر

ایران کو بھولنا نہیں چاہئے ۔ امریکہ کی ٹیڑھی نظر ایران پر ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ایران اس کی پالیسیوں کے تحت ہی چلے۔ جون کے آخری مہینے میں یا جولائی میں ایران پر اگر امریکہ سخت اقتصادی پابندی عائد کر دے تو حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ امریکہ اب کسی بھی قیمت پر ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنا چاہتا ہے۔ ایران ہے کہ ہر قیمت پر نہ صرف ایٹمی پروگرام بلکہ خود کو طاقتور بنانے کے لئے کسی بھی پروگرام کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ پہلے تو اندیشہ تھا،لیکن اب صاف اشارہ مل رہا ہے کہ ٹکرائو ہوگا، ہوگا ہی ہوگا۔ پورے ایشیا میں چین کے علاوہ ایران ہے جو امریکی دبائو کے باوجود خود کو زندہ رکھے ہوئے ہے ۔ایران سیاسی طور پر تقسیم ضرور ہے۔ لیکن امریکہ معاملہ میں سبھی یک رائے ہیں۔ پاکستان کی حکومت امریکہ کے ساتھ ہے لیکن یہاں کے عوام امریکہ کی مخالفت میں کھڑے ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ ایک جانب امریکہ کا پیسہ ہے جو کہاں خرچ ہو رہا ہے پتہ نہیں اور دوسری جانب دہشت گردی ہے جس کا شکار عام لوگ زیادہ ہیں۔
ایران پر اگر امریکہ پابندی عائدکرتا ہے تو اس کا اثر مغربی ایشیا پر یقینی طور پر پڑے گا۔مغربی ایشیا کی سبھی حکومتیں امریکہ کے دبائو میں ہیں ۔یہاں کے پیسے والے بھی کم و بیش امریکی ذہنیت کے ہیں لیکن عام آدمی کا مزاج اس سے الگ ہے ۔ایران پر عائد کردہ پابندی مغربی ایشیا کی حکومتوں اوروہاں کے عوام کو اپنے سامنے کھڑا کرنےکے عمل کا آغاز کر سکتی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ  ہوگا۔ اسی کے ساتھ دہشت گردوں کو ایک نئی دلیل مل جائے گی اور وہ اپنی مہم کو تیز رفتار سے چلائیں گے۔ آج مغربی ایشیا میں سعودی عرب کو لیڈر مانا جاتا ہے، مگر امریکی دخل اندازی ایران کو قیادت کی قطار میں کھڑا کر دے گی۔امریکی پالیسی ساز سوچتے ہوں گے کہ شیعہ سنی کے جھگڑے کی وجہ سے ایران کو وہ منتشر کر دیں گے مگر 2010کا مسلمان ،خواہ وہ عراق کا ہو یا ایران کا، افغانستان کا ہو یا پاکستان کا، ایک ہی ذہنیت رکھتا ہے۔
امریکہ کو بھی سمجھنا چاہئے ، امریکہ نہیں چاہتا کہ کہیں بھی حقوق انسانی کی ضابطہ شکنی ہو، مگر اس کی دنیا صرف امریکہ ہے۔ امریکہ کے باہر ان کی حکومت کیا کر کرتی ہے اس سے انہیں تب تک فرق نہیں پڑتا جب تک ان کی اقتصادی حالت بہتر ہے یا ٹیکس کا بوجھ نہیں بڑھ رہا ہے۔ امریکی شہری دو موقعوں پر پر یشان ہوئے ہیں ، پہلے ویتنام جنگ میں اور بعد میں عراق جنگ میں، کیونکہ ان دنوں تقریباً روز کسی نہ کسی ہوائی اڈے پر تابوت اترتاتھا ،جس میں کسی امریکی کی لاش ہوتی تھی۔ افغانستان سے تابوت  جا رہے ہیں مگر تعداد بہت کم ہے۔ ایران سے اگر امریکہ کا جھگڑا ہوتا ہے تو وہاں جانے والے تابوتوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔ اتنا ہی نہیں امریکی معیشت پر بوجھ بھی بہت بڑھ جائے گا۔ ایسی حالت میں امریکی شہری اپنی حکومت کے خلاف کھڑا ہونے لگیںگے۔
امریکہ کے پیمانے جمہوری برتاؤ کو لے کر اب کافی تبدیل ہو گئے ہیں۔ بات 1962 کی ہے۔ امریکہ کے صدر جان ایف کنیڈی تھے۔ امریکہ کیوبابحران میں پھنسا تھا۔ کیوبا میں واشنگٹن پوسٹ کا نمائندہ تھا جس کی بھیجی رپورٹ حکومت کو کافی پریشانی میں ڈال دیتی تھی۔ ایک دن صدر کنیڈی واشنگٹن پوسٹ کے دفتر پہنچ گئے اور اپنا کارڈ ایڈیٹر کے پاس بھیجا۔ ایڈیٹر نے جان ایف کنیڈی کو فوراً بلایا۔ دونوں کے درمیان ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں اور دونوں نے چائے پی۔ چائے پینے کے بعد کنیڈی نے ایڈیٹر سے اس نمائندے کے بارے میں کہا کہ اسے کیوبا سے بلا لیا جائے، کیوںکہ اس کی بھیجی رپورٹیں انتظامیہ کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتی ہیں۔
ایڈیٹر نے کسی سے ایک خط منگایا جو پوسٹ ہونے جارہا تھا۔ دراصل وہ خط اس نمائندے کو واپس بلانے کا آرڈر تھا جو دیگر وجوہات سے دیا گیا تھا، لیکن کینڈی کے کہنے کے بعد ایڈیٹر نے کنیڈی کے سامنے ہی وہ ٹرانسفر آرڈر پھاڑ دیا۔ اس نے کنیڈی سے کہا کہ میں تو اسے واپس بلا رہا تھا، لیکن آپ نے جو کہا ہے ، وہ ہماری صحافتی پالیسی میں مداخلت ہے، اس لیے اب وہ نمائندہ وہیں رہے گا۔ کنیڈی نے اسے خوشی سے قبول کیا اور ایڈیٹر کا شکریہ ادا کر کے واپس چلا گیا۔
اسی امریکہ کے صدر آج اوباما ہیں۔ اسرائیل نے غزہ جارہے فلے ٹیلا نامی جہاز پر حملہ کردیا۔ اس جہاز میں بیماروں کے لیے دوائیاں اور فاقہ کشی کے شکار لوگوں کے لیے اناج تھا۔ تقریباً 700امن پسند بھی اس پر سوار تھے۔ اسرائیلی حملے میں 16سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ ساری دنیا میں اس کی مذمت ہوئی۔ امریکہ کے وہائٹ ہاؤس میں بھی اس کی مذمت ہوئی۔ وہائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس کے ذریعہ کی گئی اسرائیلی حملے کی معمولی مذمت کو ایک امریکی صحافی ہضم نہیں کر پائی۔ اس نے بریفنگ کے دوران ہی کہا کہ انسانی مدد لے جانے والے جہاز پر اسرائیلی حملہ میسیکر ہے۔ سوچا سمجھا میسیکر۔ یہ عالمی جرم ہے۔ اس نے کہا کہ اسرائیلی یہودیوں کو فلسطین سے فوراً باہر چلے جانا چاہیے، ان کا گھر جرمنی اور پولینڈ ہے۔
اس صحافی کا نام ہیلن تھامس ہے۔ یہ وہائٹ ہاؤس کی سینئر پریس کور کی ممبر ہیں۔ ان کی عمر 80کے آس پاس ہے اور انہوں نے امریکہ کے 10صدور کے دور اقتدار کو نہ صرف دیکھا ہے، بلکہ ان کی سرگرمیوں کو بہت نزدیکی سے کور بھی کیا ہے۔ انسانی اقدار میں عمیق یقین رکھنے والی اس صحافی سے کئی صدور ہاتھ ملا کر عزت دیتے تھے۔ وہائٹ ہاؤس میں اپنے سخت تبصرے کا نتیجہ ہیلن تھامس کو بھگتنا پڑا۔ وہائٹ ہاؤس نے نیوز گروپ سے کہا کہ وہ ہیلن تھامس کو ہٹا دے اور ہیلن تھامس کو استعفیٰ دینے کے لیے کہہ دیا گیا۔ ہیلن تھامس نے 7جون 2010کو استعفیٰ دے دیا اور ریٹائرمنٹ لے لیا۔
4اگست 1920کو آنکھیں کھولنے والی ہیلن تھامس نے 57سال تک نامہ نگار کی شکل میں گزارے اور بعد میں وہ یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل کی وہائٹ ہاؤس کی بیورو چیف رہیں۔ جان ایف کنیڈی کے صدر رہتے ہوئے وہائٹ ہاؤس کور کرنے کی شروعات کی اور صدر اوباما کے دور اقتدار کے دوسرے سال میں انہوں نے وہائٹ ہاؤس چھوڑ دیا۔ وہ نیشنل پریس کلب کی پہلی خاتون افسر بنیں۔ کاپی گرل سے صحافت کی شروعات کرنے والی ہیلن تھامس جب وہائٹ ہاؤس سے گئیں تو شان سے گئیں۔ وہ اتنی بے خوف تھیں کہ جب صدر بش نے انہیں ملنے بلایا تو انہوں نے بے باکی سے کہا کہ آپ کا عراق میں بسنا ہزاروں عراقیوں اور امریکیوں کی موت کا سبب بن جائے گا۔ آپ کیوں عراق سے لڑائی کرنا چاہتے ہیں۔ ہیلن تھامس نے یکم جولائی 2009کو اوباما انتظامیہ کے ذریعہ پریس کو کنٹرول کرنے کی کوششوں پر سخت تبصرہ کیا کہ ایسا پہلے نہیں ہوتا تھا۔ نکسن کے وقت میں بھی نہیں۔ کچھ کنٹرول ہوتا تھا ، لیکن اتنا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلے پن اور شفافیت کی بات کرنے والے اوباما رچرڈ نکسن سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ہیلن تھامس نے 27مئی کو اسرائیل کی مذمت کی اور 7جون کو انہیں استعفیٰ دینے کے لیے کہا گیا۔
یہ واقعہ اس لیے بتا رہے ہیں کہ کنیڈی  کے وقت کا امریکہ اور اوباما کے وقت کے امریکہ میں فرق آگیا ہے۔ ایران پر اقتصادی پابندی لگانے کی تیاری کرنے والا امریکہ اسرائیل اور فلسطین کے بیمار اور بھوکے لوگوں پر کیے گئے حملے کو نظرانداز کرتا آرہا ہے۔ اسے امریکہ کے ذریعے اسرائیل کی کھلی حمایت بھی مانی جاسکتی ہے، اس لیے اس بات کا خطرہ بڑھ گیا ہے کہ عراق میں اگر امریکہ پابندی لگائے گا تو اس کی نگرانی اسرائیل کرے گا۔
مغربی ایشیا ایک نئی جد و جہد کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس جد وجہد کو روکنے کی کوشش میں ہیلن تھامس جیسے لوگ امید کی کرن جیسے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حوصلہ بڑھے اور وہ ہمت کے ساتھ آگے آئیں تبھی دنیا میں بحالی امن کی کرن روشن ہوگی۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *