فٹبال کے عالمی کپ کا آغاز

فٹبال عالمی کپ میں جوش، جنون  اور تفریح کا ایسا سنگم دیکھنے کو ملتا ہے کہ کھلاڑی تو کھلاڑی شائقین بھی اس میں غوطے لگاتے رہتے ہیں۔شاید پوری دنیا میںفٹ بال شائقین کی تعداد دیگر کھیلوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے، اس لیے عالمی کپ کااعلان ہوتے ہی اس کے دیوانوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔میچ دیکھنے کے لیے میدان میں لوگوں کی بھیڑ امڈ پڑتی ہے۔وہ جوش سے اتنے لبریز ہو جاتے ہیںکہ کبھی کبھی میدان میں ہی الجھ پڑتے ہیں۔عالمی کپ فٹ بال2010کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔آہستہ آہستہ اس کا رنگ کھیل شائقین پر چڑھتا جا رہا ہے۔ ہر ٹیم پورے جوش و جذبے کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔
عالمی کپ فٹ بال کا سفر1930سے شروع ہوااور تب سے لیکر آج تک یہ 18 بار منعقد ہو چکا ہے۔19ویں بار یہ عالمی کپ جنوبی افریقہ میں شروع ہو چکا ہے۔ یہ11جون سے11جولائی2010تک چلے گا۔عالمی کپ کے لیے جنوبی افریقہ کو دلہن کی طرح سجایا گیا ہے اور فٹ بال شائقین بھی اسی رنگ میں  رنگے ہوئے ہیں۔حالانکہ جنوبی افریقہ کے لیے میزبانی کی راہ آسان نہیں تھی۔اگر6سال قبل اس نے آخری وقت میں چار ووٹ سے بازی نہیں ماری ہوتی تو عالمی کپ کی میزبانی کرنے کا اس کا خواب پورا نہیں ہو پاتا۔میزبانی کے لیے اس کو مورکو سے سخت مقابلہ کرنا پڑا تھا۔ان دونوں کے علاوہ نائیجیریا ، مصر، لیبیا اور ٹیونیشیا نے مشترکہ طور پر دعویداری پیش کی تھی، مگر فیفا کی جانب سے اجازت نہیںملنے کے سبب لیبیا اور ٹیونیشیا دوڑ سے باہر ہو گئے۔اس کے بعد عالمی کپ کے انعقاد کو لیکرمقابلہ سہ رخی ہو گیا۔ انعقاد کی جگہ متعین کرنے کے لیے جیورکھ میں 15مئی 2004کو فیفا نے ووٹنگ کرائی، جس میں جنوبی افریقہ کو14، مورکو کو10اور مصر کو ایک بھی ووٹ نہیںملا۔ اس طرح افریقہ بر اعظم میںپہلی بار ہورہے فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی جنوبی افریقہ کو سونپ دی گئی۔ حالانکہ اس سے قبل2006کے ٹورنامنٹ کے لیے بھی اس نے دعویداری پیش کی تھی، لیکن جرمنی سے وہ ایک ووٹ سے ہار گیا تھا۔یہ تو ہوئیں میزبانی کی باتیں۔اب ذرا مضبوط ٹیموں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عالمی کپ میں کھیلنے کا اعزاز اب تک76ٹیموں کو مل چکا ہے، لیکن صرف سات ممالک ایسے ہیںجو فائل جیت کر چیمپئن بنے ہیں۔
برازیل کا عالمی فٹ بال پر زبر دست دبدبہ رہا ہے، لیکن اٹلی اور جرمنی جیسی ٹیمیں اس کی مضبوطی کو وقتاً فوقتاً چیلنج دیتی رہی ہیں۔ اگر سابقہعالمی کپوں پر غور کریں توبرازیل واحد ایسی ٹیم ہے، جس نے سبھی عالمی کپ میں شرکت کی اور ریکارڈ پانچ بار چیمپئن بنا۔اس کے علاوہ دو بار رنر اپ اور دو بار تیسرے مقام پر رہا۔یعنی18 میں سے9بارٹیم کو پوڈیم پر جگہ ملی۔برازیل سے زیادہ صرف جرمنی10بار پوڈیم پر جگہ بنانے میں کامیاب رہا ہے۔وہ تین بار چیمپئن چار بار رنر اپ اور تین بار تیسرے مقام پر رہا ہے۔اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔چار عالمی خطاب کے ساتھ موجودہ چیمپئن اٹلی تیسری سب سے کامیاب ٹیم ہے۔جو دو بار رنر اپ اور ایک بار تیسرے مقام پر رہی ہے۔ اٹلی نے 2006کے عالمی کپ میںفرانس کو فائنل میں ہراکر اپنا چوتھا خطاب جیتا تھا۔
جرمنی نے اپنی شاندار فٹبال کی تاریخ میں 1954,1947اور 1990میں عالمی کپ جیتا۔اس نے 2006میں عالمی کپ کی میزبانی کی تھی اور وہ تیسرے مقام پر رہا تھا۔جرمنی کو سیمی فائنل میںاٹلی سے0-2سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن تیسرے مقام کے میچ میںاس نے پرتگال کو3-0سے ہرایا تھا۔پچھلے ٹورنامنٹ کی طرح اسے اس بار خطاب کے مضبوط دعویداروں میں شمار نہیں کیا جا رہا ہے۔پھر بھی اسے نظر انداز نہیںکیا جا سکتا۔ حالانکہ کوالیفائنگ دور میں جرمنی کی کارکردگی لاجواب رہی تھی۔اس نے اپنے حریفوں پر26گول داغے تھے اور صرف 5گول کھائے تھے۔جرمنی کے لیے سب سے بڑی تشویش کی بات مروسلائو کلوس اور لکاس پودولسکی جیسے اسٹار اسٹرائکروں کا فارم میں نہیں ہونا ہے۔کپتان مائیکل بلاک کے زخمی ہوکر باہر ہو جانے سے بھی اس کی پریشانیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔جرمنی کو اپنی ٹیم کی طرف سے ایسی صلاحیتوں کو میدان میں اتارنا ہوگا، جو اسے ناک آئوٹ مرحلے میں لے جا سکیں۔ویسے اسٹرائیکر اسٹیفن کیسلینگ ٹیم کی فارورڈ لائن کو مضبوطی دے سکتے ہیں، لیکن جرمنی کو کلوس اور پودولسکی کے فارم میں لوٹنے کی پوری امید رہے گی۔سابقہ عالمی کپوں کی بنیاد پر جرمنی کو مکمل طور پر خارج کرنا غلط ہوگا اور اس ٹیم میں گروپ مرحلے سے ناک آئوٹ مرحلے میں پہنچنے کی پوری صلاحیت ہے، لیکن اس کے لیے ٹیم کو چیلنجز کا ہمالیہ سر کرنا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *