چھوٹے پردے پر رومانس کا تڑکا

رومانس قدیم زمانے سے ہی ادیبوں، شاعروں اور کہانی کاروں کی توجہ کا خاص  مرکزرہا ہے اور ہو بھی کیوں نہیں، کیونکہ یہ ایسا موضوع ہے جس سے ہر خاص و عام کا نہ صرف تعلق ہوتا ہے، بلکہ جذباتی وابستگی ہوتی ہے۔کہانی کار و ادیب چونکہ نبض شناس ہوتے ہیںاور وہ جانتے ہیں کہ قارئین یا ناظرین کیا چاہتے ہیں  اور کس چیز میں ان کی زیادہ دلچسپی ہے۔بالی ووڈ کا بھی رومانس پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ایسی بے شمار فلمیں ہیںجو رومانس کے موضوع پر بنیں اور تاریخ رقم کر گئیں۔ بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ بالی ووڈ کی ہر فلم میں رومانس کا تڑکا لگا ہوا ہوتا ہے ۔ آج بھی بالی ووڈ کے بیشتر فلم سازوں کا رومانس محبوب موضوع بنا ہوا ہے۔چھوٹے پردے یعنی ٹی وی کی اگر بات کی جائے تو یہ بھی رومانس سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھ پایا۔آج کل ٹی وی پر ایسے کئی ریئلٹی شوز ہیں جو رومانس کی تھیم پر ہیں اور جن کا نوجوانوں میںخاصا کریز ہے۔یہ بات دلچسپی سے خالی نہیںہے کہ ٹی وی سیریلز کے علاوہ ریئلٹی شوز میںیہ موضوع عمدہ طریقے سے کام کررہا ہے۔رومانس پر بننے والے شوزنہ صرف کامیابی کی نئی منازل طے کر رہے ہیں بلکہ نوجوانوں میں ان کا کریز روز افزوں بڑھتا جا رہا ہے۔آج کل کے ریئلٹی شوز کا کانسیپٹ کا فی بدل گیا ہے۔پہلے ناطرین کو ان شوز کے نتائج کا انتظار رہتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔موجودہ ریئلٹی شوز میں رومانس کا کیا تڑکا لگا، ان کا ہر منظر دلچسپ بن گیا۔اب ناظرین شو کے نتائج کا انتظار نہیں کرتے بلکہ شو کے ہر منظر کو انجوائے کرتے ہیں۔ایسے کئی شوز ہیں جو ان دنوں چھوٹے پردے پر رومانس کے سبب ناطرین کی خوب واہ واہی لوٹ رہے ہیں۔ان میں ’’ڈیئر ٹو ڈیٹ‘‘،’’ لونیٹ‘‘، ’’اسپلٹس ولا‘‘ اور ’’اموشنل اتیاچار‘‘ جیسے شوز خاص اہمیت کے حامل ہیں۔جن میں رومانس کو ایک منفرد انداز میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ اسی لیے ان شوز کو نوجوانوں کی جانب سے خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔
انسان قدرتی طور پر فطرت کے بے حد قریب ہے اور اس کو وہ چیزیں زیادہ لبھاتی ہیں جواپنی اصل شکل میں ہوں، جن کے ساتھ کسی طرح کی کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کی گئی ہو۔ آج ریئلٹی شوز میں بھی انہیں نسخوں کو آزمایا جا رہا ہے یعنی بغیر ایڈیٹنگ کے ان شوز کو ناطرین کے سامنے پروسا جا رہاہے۔’’بگ باس ‘‘ جیسا ریئلٹی شو اس کی واضح مثال ہے۔ویسے ان شوز کی مقبولیت کا راز یہ بھی ہے کہ کہیں نہ کہیںہرفرد کا ان سے تعلق ہوتا ہے۔ناظرین کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شو میں ان کی اپنی کہانی دکھائی جا رہی ہے ، پھر ان شوز کا کنٹینٹ بھی نیا ہوتا ہے اس لیے لوگ انہیں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ویسے ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ لوگ دوسروں کی زندگی میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی رکھتے ہیں۔جب تک یہ شوز ناظرین کو دلچسپی کا سامان مہیا کراتے رہیں گے ، تب تک ناظرین ان کے گرویدہ بنے رہیں گے۔
ان شوز کو تیار کرتے وقت ٹی وی پروفیشنلزنوجوانوں کو ذہن میں رکھتے ہیں، کیونکہ 18سے 25برس تک کے نوجوان ہی عشق و عاشقی اور ڈیٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔ٹی وی پروفیشنلز یہ بات اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں کہ ان شوز کو نوجوان محض تفریح کا ہی ذریعہ نہیں سمجھتے بلکہ ان کے ذریعہ وہ اپنے رشتوں اور جذبات کو گہرائی سے سمجھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
اردو کے صف اول کے شاعر میر تقی میر کی شاعری اسی لیے جگ بیتی بن گئی کیونکہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ دنیا کو اپنی کہانی معلوم ہوتی ہے، یعنی میر تقی میر کی آپ بیتی جگ بیتی بن گئی۔بہر حال رومانس کے موضوع پر بن رہے ریئلٹی شوزنے سماج کے ایک بڑے طبقے بالخصوص نوجوانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے اور کامیابی کےنئے آسمان سر کیے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *