بدعنوانیوں پر کاری ضرب

سینئر نوکر شاہوں کے خلاف محکمہ ٔ انکم ٹیکس کے چھاپوں کے بعد مدھیہ پردیش کی حکومت نے اپنے تمام وزراء اور آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسروں کو اپنی جائیداد کی تفصیل آن لائن فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اب مہارشٹر کی حکومت بھی مدھیہ پردیش کے نقش قدم پر چل پڑی ہے۔ سمجھا یہ جارہا ہے کہ مہاراشٹر کی حکومت کا یہ فیصلہ ایک تازہ سروے کے نتائج پر مبنی ہے۔ سروے کی رپورٹ کے مطابق ریاستی نوکر شاہی کا سب سے بڑا مسئلہ بدعنوانی ہی ہے۔ دریں اثناء مرکزی وزارت برائے ملازمین نے دہلی میں بتایا ہے کہ اس وقت آئی اے ایس کے 84 اور آئی پی ایس کے 33افسروں کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں بدعنوانی کے معاملات درج ہیں۔
امیدوں کے مطابق ہی مہاراشٹر کے نوکر شاہوں کی جماعت ریاستی حکومت کے اس فیصلے سے خوش نہیں ہے۔ان کا موقف ہے کہ اگر انہیں اپنی جائیداد کا اعلان کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے تو اس کے لئے پہلے آل انڈیا سول سروس رولز میں تبدیلی کرنی ہوگی۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ بدعنوانی پر لگام کسنے کے لئے پہلے سے ہی قانون موجود ہے ۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کے پس پشت سیاسی بازیگروں کا دماغ کام کر ہاہے،جو یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نوکر شاہ سیاسی لوگوں سے زیادہ بدعنوان ہیں۔
دریں اثناء یہ بھی خبر ہے کہ ریاستی حکومت نوکر شاہو ںکے خلاف بدعنوانی کے معاملوں کی جانچ کے لئے ایک کمیٹی کی تشکیل پر غور کررہی ہے، جس میں انا ہزارے ، ابھے بھنگ اور پرکاش آمٹے جیسے مشہور سماجی کارکنوں اور سبکدوش نوکر شاہوں کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بدعنوان افسران حکومت کے نشانے پر ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *