آرٹی آئی: جاننے کا حق جینے کا حق

چوتھی دنیا نے اپنے قارئین اور عام لوگوں کے لئے ایک نئی شروعات کی ہے ،اس کالم کے ذریعہ ہم آپ کو بتا ئیں گے کہ کیا ہے قانون حق اطلاعات اورکیسے آپ اس قانون کا استعمال کر کے بدل سکتے ہیں اپنی زندگی اور سکھا سکتے ہیں بد عنوان افسران اور عوامی نمائندوں کو سبق۔چوتھی دنیا آپ کو بتائے گا کہ کیسے کریں اس قانون کا استعمال اور کیسے تیار کریں آرٹی آئی عرضی۔اگر آپ کواس قانون کے استعمال سے کوئی پریشانی ہو یا کوئی مشورہ چاہئے تو آپ ہم سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں ہم آپ کی رہنمائی کریں گے۔
کیا ہے قانون حق اطلاعات؟
یہ ہندوستا نی پارلیمنٹ کا منظور شدہ ایک قانون ہے۔جو اکتوبر 2005میںنافذ ہوا ،یہ قانون ہندوستانیوں کو سر کاری فائلوںاورریکارڈس میں درج معلومات کو دیکھنے اور اس کو حاصل کرنے کا حق دیتا ہے۔جموں وکشمیر کو چھوڑ کر ہندوستان کے تمام صوبوں میں یہ قانون نافذ ہے۔ہم انکم ٹیکس کی صورت میں جو پیسہ دیتے ہیں اسی سے حکومت کے علاوہ افسران اور ملازمین کو تنخواہیں دی جا تی ہیں۔یہاں تک کہ ایک رکشہ چلانے والا جب بازار سے کچھ خریدیتا ہے تو وہ خریداری کرکے مصنوعات ٹیکس کی صورت میں ٹیکس ادا کر تا ہے۔اس لئے ہم کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس پیسے کو کس طرح خر چ کیا جا رہاہے ،یہ ہمارے بنیادی حقوق کا ایک حصہ ہے۔
کس سے اور کیا معلومات حاصل کر سکتے ہیں ؟
تما م اکائیاں /شعبے جو آئین یا کسی دوسرے قوانین یا سر کاری ضابطوں کے تحت ہیں یا حکومت کی تحویل میں ہیںیا ان کو حکومت مالی امداد مہیا کراتی ہے ،وہاں سے متعلقہ معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
1۔حکومت سے ہر قسم کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
2۔حکومت سے اس کے کسی بھی فیصلے کی کاپی لی جاسکتی ہے۔
3۔حکومتی دستاویز کا معائنہ کیا جا سکتا ہے۔
4۔حکومت کے کاموں کا معائنہ کیا جا سکتا ہے۔
5۔حکومت کے کاموںکے اشیاء کے نمونے لئے جا سکتے ہیں۔
کس سے حاصل ہو سکتی ہے اطلاع اور فیس کیاہوگی ؟
اس قانون کے تحت تمام سرکاری شعبوں میں پبلک انفارمیشن آفیسر(پی آئی او) ہو تا ہے آر ٹی آئی عرضی اس کے پاس جمع کرنی ہوتی ہے ،عرضی کے ساتھ مرکزی حکومت کے محکموںکے لئے دس روپئے فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔حالانکہ مختلف صوبو ں میں الگ الگ فیس متعین ہے۔اطلاع حاصل کرنے کے لئے دو روپئے کاپی مرکزی حکومت کے محکموںکو دینے پڑتے ہیں۔یہ فیس مختلف صوبوں میں الگ الگ ہے۔آرٹی آئی عرضی کی فیس نقد ،ڈیمانڈڈرافٹ (ڈی ڈی)چیک یا پوسٹل آرڈرکے ذریعہ دی جا سکتی ہے۔کچھ صوبوں میں آپ کورٹ فیس ٹکٹ خرید کر ا ٓرٹی آئی فارم پر چسپاںکر سکتے ہیں ،ایسا کرنے پر آپ کی فیس جمع مانی جائے گی۔آپ اپنی آر ٹی آئی کی درخواست خود دے سکتے ہیں اور ڈاک سے بھی بھیج سکتے ہیں۔
عرضی کا خاکہ کیسا ہو؟
مرکزی حکومت کے محکموں کے لئے کوئی متعینہ خاکہ نہیں ہے ،آپ ایک سادہ کاغذ پر عام عرضیوں کی طرح درخواست لکھ سکتے ہیں اور اس کو پبلک انفارمیشن آفیسر (پی آئی او)کو خود دے سکتے ہیں اور ڈاک کے ذریعہ بھی بھیج سکتے ہیں۔(اپنی درخواست کی ایک کاپی اپنے پاس ذاتی ضروریات کے تحت ضرور رکھیں )
اطلاع حاصل کرنے کی مقررہ مدت
پی آئی او کو درخواست دینے کے 30دنوں کے اندر اطلاع حاصل ہو جانی چاہئے اگر عرضی پی آئی او کے معاون کو دے دی گئی ہے تو اطلاع 35دنوں میں مل جا نی چاہئے۔
اطلاع نہ ملنے کی صورت میں کیا کریں؟
اگر اطلاع نہ ملے یا آپ اس سے مطمئن نہ ہو ں تواپیل آفیسر کے پاس حق اطلاع قانون کی دفعہ 19(1)کے تحت ایک اپیل دائر کی جاسکتی ہے ہر شعبے میں ایک اپیل آفیسر ہو تا ہے ،اطلاع پاجانے کے 30دنوںاور عرضی دا خل کر نے کے 60 دنوںکے اندر اندر آپ اس آفیسر کے پاس اپیل دائر کر سکتے ہیں۔
دوسری اپیل کیا ہے ؟
دوسری اپیل آر ٹی آئی قانو ن کے تحت اطلاع حاصل کرنے کا آخری متبادل ہے۔دوسری اپیل سوچنا کمیشن کے پاس دائر کی جا سکتی ہے۔مرکزی حکومت کے محکموں کے خلاف سوچنا کمیشن اور ریاستی حکومت کے محکموں کے خلاف ریاستی سوچنا کمیشن کے پاس اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔پہلی اپیل کی سماعت کے 90 دنوں کے اندر یا اس تاریخ کے 90دنوں کے اندر، جب پہلی اپیل کی سماعت ہو نی تھی ،دوسری اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔
اگر آپ نے حق اطلاع قانون کا استعمال کیا ہے اور آپ کے پاس کوئی اطلاع ہے جس کو آپ ہمارے ساتھ شیئر کر نا چاہتے ہیں تو ہمیں وہ اطلاع مندرجہ ذیل پتہ پر ارسال کریں اس کے علاوہ حق اطلاع قانون سے متعلق کسی بھی مشورہ کے لئے ہمیں ای میل کر سکتے اور خط بھی لکھ سکتے ہیں۔

ہما را پتہ ہے،
چوتھی دنیا ،ایف 2‘سیکٹر 11‘نوئیڈا، گوتم بدھ نگر،
اتر پردیش،پن: 201301

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *