سرمایہ کار راہ فرار اختیار کررہے ہیں

ونئے دکشت
مدھیہ پردیش کی صنعتی ترقی اور ریاست میں بنیادی ڈھانچے کی توسیع کیلئے حکومت ملک وبیرون ملک سے سرمایہ کاری کیلئے گذشتہ پانچ سالوں سے مسلسل کوشش کررہی ہے۔وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور ان کی وزارت کے اعلیٰ افسران ملک و بیرون ملک کے متعدد دورے بھی کرچکے ہیں ۔ریاست میں سرمایہ کاروں کا میلہ لگا کر انہیں سبز باغ بھی دکھائے گئے ۔اس سے متاثر ہوکرکئی سرمایہ کاروں نے ریاستی حکومت پر بھروسہ کرکے خطیر رقم کی سرمایہ کاری کیلئے اپنی رضامندی کا اظہار توکردیا‘لیکن چند دنوں میں ہی حکومت کے کام کاج کا جائزہ لینے کے بعد کئی ذی شعور سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری سے متعلق اپنی پیشکش واپس لے لی یا اس کومنسوخکردیا۔بعض افراد نے سرکاری محکموں کے لال فیتہ شاہی اور نوکر شاہی کی سست رفتاری اور ٹال مٹول  کے رویے سے تنگ آکر اور چند لوگوں نے کرپشن سے اوب کر ریاست میں سرمایہ کاری کرنے سے توبہ کرلیا۔
معتبر ذرائع سے موصول اطلاع کے مطابق‘ گذشتہ مالی سال میں 1389.8ارب روپئے کی سرمایہ کاری سے متعلق معاہدے کسی نہ کسی وجہ سے منسوخہوچکے ہیں۔ان میں 1259ارب روپئے کی پونجی کی سرمایہ کاری کے معاہدے مختلف بجلی کی اسکیموں سے متعلق تھے۔بجلی کے زبردست بحران سے دوچار مدھیہ پردیش انتظامیہ نے بجلی کی پیداوار کیلئے ملی پرائیویٹ سیکٹر کی مددسے فائدہ اٹھانا بھی پسند نہیںکیااور مختلف رکاوٹیں حائل کرکے سرمایہ کاروں کو ریاست سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔ان حقائق  کے باوجودوزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ مدھیہ پردیش میں ترقی اور سرمایہ کاری کیلئے انویسٹ منٹ فرینڈلی ماحول ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں۔ان کے علاوہ شہری انتظامیہ کے وزیر اور سابق وزیر صنعت بابولال گور کا بھی دعوی ہے کہ سرمایہ کاروں کو ہر طرح کی سہولت دینے کیلئے حکومت پوری طرح پابند عہد ہے۔سرمایہ کاروں کی تمام شکایتوں اور مسائل کو غلط بتاتے ہوئے ریاست کے محکمہ صنعت وکامرس کے چیف سکریٹری ستیہ پرکاش کہتے ہیںکہ حکومت کا رویہ سرمایہ کاروں کے تئیں مثبت ہے۔ ریاست کی ترقی کیلئے ہم بھی چاہتے ہیں کہ سرمایہ کاری ہو۔اگر سرمایہ کاروں سے کہیں کوئی افسر رشوت طلب کرتا ہے تو اس کی شکایت کرنی چاہئے ۔ابھی تک ہمارے پاس رشوت مانگنے کی کوئی شکایت نہیں پہنچی ہے اور نہ ہی کسی نے ایسی کوئی اطلاع دی ہے۔اس طرح حکومت اور انتظامیہ پر الزام عائد کرنا غلط ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جنوری 2010میں ریاستی حکومت نے بیرون ملک رہائش پذیر ہندستانیوں کو سرمایہ کاری کیلئے مدعو کرنے کیلئے ایک سیمنار  منعقد کیا تھا۔اس سیمنار میں شرکت کرنے آئے ایک غیر مقیم ہندستانی  پی سی تر پاٹھی نے وزیر اعلی سے ریاست میں پھیلے جرائم کے بارے میں دریافت کیا تھا تو وزیر اعلی نے ریاست میں جرائم اور کرپشن نہ ہونے کی دلیل دے کر یقین دلایا تھا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو بھرپورتعاون دے گی۔لیکن سرمایہ کاروں کے ذاتی تجربات کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔وہ جان چکے ہیں کہ وزیر اعلیٰ سے لیکر اعلیٰ افسران تک کوئی بھی یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے کہ ریاستی انتظامیہ کے ہر شعبے میں ہر سطح پر کرپشن موجود ہے۔
ہوسکتا ہے کہ وزیر اعلی ‘ وزراء اور انتظامیہ کے افسران کا بیان ان کی ذمہ دار حیثیت کے سبب درست ہو ‘لیکن کروڑوں روپئے کی سرمایہ کاری کرکے ریاست کی ترقی میں دلچسپی لینے والے سرمایہ کار بھلا مناسب ماحول چھوڑ کر کیوں بھاگ رہے ہیں‘ اس پر کوئی بھی سنجیدگی سے غور نہیں کررہا ہے۔میمرس لوریڈا انسفرااسٹرکچر لیمٹیڈ کے نمائندہ اے دلال کا کہنا ہے کہ دھار ضلع میں سیمنٹ پلانٹ لگانے کے لئے 450 کروڑ روپئے کا معاہدہ کیا گیا تھا‘لیکن جب ہمارے اہلکار زمین دیکھنے گئے تو ضلع کلکٹر سے لیکر نچلی سطح کے سرکاری ملازموں تک کا رویہ منفی اور غیر ذمہ دارانہ تھا اور وہ مختلف رکاوٹیں پیدا کررہے تھے ۔زمین کیلئے ہم نے پانچ درخواستیں دیں ‘لیکن ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔اس کے بارے میں وزیر صنعت جینت ملیا سے لے کر وزیر اعلی تک شکایت کی گئی لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔اس کمپنی نے 2007میں گجرات میں 355کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کرنے کا معاہدہ کیا تھا ‘وہاں حکومت گجرات نے امید سے بڑھ کر تعاون دیا ‘اسلئے وہاں کمپنی کا پروجیکٹ بھی جلدہی شروع ہونے والا ہے۔جندل انڈیا تھرمل پاور لمیٹیڈ کے اے کے سہدیو کا کہنا ہے کہ9000کروڑ روپئے کی لاگت سے 2000میگا واٹ کا بجلی پلانٹ سیدھی ضلع میں لگانے کا معاہدہ کیا گیا تھا ‘لیکن کوئلے کی دستیابی میں کمی و دیگر وجوہات سے کمپنی نے سرمایہ کاری کا ارادہ تبدیل کرلیا۔اسی طرح میگھالیہ سیمنٹ لمیٹیڈ کے ایچ سی کپل کا کہنا ہے کہ وہ        600میگا واٹ کا بجلی پلانٹ نصب کرنے کا معاہدہ منسوخ کرنا چاہتے ہیں۔کمپنی کے مفاد میں اور انتظامیہ کی وجہ سے وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتے ہیں۔میسرس بھوشن اسٹیل لمیٹیڈ کے جنرل منیجر ایم جے دھر کا کہنا ہے کہ حکومت کے ذریعہ زمین کی دستیابی میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی گئی ‘اسلئے انوسٹ منٹ کرنا بیکار ہے۔
ایک دوسری انوسٹ منٹ کمپنی کے نمائندہ نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایاکہ سرمایہ کاروں کو رجھانے اور لبھانے کیلئے وزیر اعلیٰ اور ان کی حکومت کے افسر بڑی بڑی یقین دہانیاں تو کراتے ہیں اور حکومت کی تعریف کے پل بھی باندھتے ہیں لیکن جب سرمایہ کاری سے متعلق معاہدہ طے پاجاتا ہے تو ان کا رویہ تبدیل ہوجاتا ہے ‘وہ اپنی نظریں پھیر لیتے ہیں اور کئے گئے تمام وعدے فراموش کردیئے جاتے ہیں‘اسلئے سرمایہ کاری کرنا بیکارہے۔
اقتصادی ترقی کے اس نئے دور میں  ہندستان تیزی سے ترقی کرنا چاہتا ہے اور کئی ریاستوں میں ترقی کی نئی منزلیں بھی طے کی جا چکی ہیں‘لیکن مدھیہ پردیش آج بھی ملک کی پسماندہ اور غریب ریاستوں کی جماعت میں شرم سے سر جھکائے کھڑا ہے۔ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور ان کے ایڈورٹائز منیجر اخباروںاور میڈیا میں باربار  سونیرم مدھیہ پردیش اور آؤ بنائیں اپنا مدھیہ پردیش کا پرچار تو کررہے ہیں ‘لیکن جب کبھی ریاست کی ترقی کیلئے باضابطہ جد وجہد ہوتی ہے تو اس کی راہ میں حائل رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ اپنے اختیارات کا استعمال کرنا بھول جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے وعدوں پر بھروسہ کرکے ریاست میں کروڑوں روپئے کی سرمایہ کاری کرنے کے خواہش مند غیر ملکی سرمایہ کار مدھیہ پردیش میں اپنا سرمایہ لگانے سے گریز کررہے ہیں۔

24بجلی کمپنیاں معاہدہ کرکے غائب
ادھرمحکمہ توانائی کے ذرائع کا کہنا ہے کہبجلی پیدا کرنے والی24 کمپنیوں نے ریاست میں 26135میگا واٹ کی صلاحیت کے بجلی پاور پلانٹ نصب کرنے کیلئے 1,25,925کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کے معاہدے کئے تھے ‘لیکن 31؍مارچ گزرجانے کے بعد بھی ان کمپنیوں نے معاہدہ کی شرائط کے مطابق نہ تو کوئی کام کیا اور نہ ہی کام کرنے میں کوئی دلچسپی دکھائی۔اتنا ہی نہیں ‘ ریاستی حکومت کے ذریعہ کئے گئے خط وکتابت کا بھی ان کمپنیو ںنے کوئی جواب نہیں دیا۔معاہدہ کی مدت 31مارچ کو پوری ہوگئی ‘لیکن ان 24کمپنیوں نے حکومت کو اپنی کارگزاری رپورٹ تک پیش نہیں کی ہے۔اس طرزعمل کی وجہ سے حکومت ان کمپنیوں کے خلاف سخت قدم اٹھا سکتی ہے۔
توانائی کے سکریٹری ایس پی ایم پریہار نے بھی تسلیم کیا ہے کہ24کمپنیوں نے حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی شرطوں کی تعمیل نہیں کی ہے ۔ہر ماہ کارگزاری رپورٹ پیش کرنے کی شرط ضابطے میں درج تھی لیکن کمپنیوں نے یہ شرط پوری نہیں کی ۔اس لئے 31مارچ کومعاہدے کی مدت  پوری ہوجانے کے بعد حکومت کارروائی کے بار ے میں غور کرے گی۔حالانکہ سرمایہ کاروں کی رائے میںاس کیلئے خود حکومت ہی  ذمہ دار ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے انہیں جو بھی یقین دہانی کرائی تھی ان کے مطابق  اہلکاروں نے مثبت رویہ نہیں اپنایا ‘اسلئے مایوس ہوکر معاہدہ توڑنا پڑرہا ہے۔
معاہدہ کرلینے کے بعد بجلی پاور پلانٹ نصب نہ کرنے سے ریاست کو 26135میگاواٹ کی اضافی بجلی کی پیداوار کے فائدے سے محروم ہونا پڑے گا۔اور اب ریاست میں125925کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کے بھی  ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ان کمپنیو ںکے ذریعہ اب تک سرمایہ کاری میں کوئی دلچسپی نہیں دکھانے کی وجہ سے ریاستی حکومت نے انہیںمتنبہ کرنے کیلئے وزارت طلب کیا تھا۔ان کمپنیوں نے اب تک نہ تو زمین خریدنے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی بجلی یونٹوں کیلئے پانی کا کوئی بندوبست کیا ہے۔ان میں سے کسی بھی کمپنی کو مرکز سے کول لنکیج نہیں ملا ہے۔
دوسری جانب ان کمپنیوں نے اپنی طرف سے اب تک کام میں پروگریس نہ ہونے کے تعلق سے اپنی کچھ دقتیں بتائی ہیں۔کچھ کمپنیوں نے پسندیدہ زمین کے فاریسٹ لینڈ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے لیز نہ ہوپانے کو وجہ بتایاہے۔ان کا کہنا ہے کہ اب نئی جگہوں کا تعین کرنے میں وقت لگ رہا ہے ۔ان کمپنیوں نے یہ بھی صفائی دی کہ کول لنکیج کے لئے درخواست دی گئی ہے ‘لیکن نہ تو زمین ہے اور نہ پانی کا بندوبست۔ایسے میں کول لنکیج کا ملنا ‘ممکن نہیں ہے ‘لہٰذا توانائی کے سکریٹری نے جگہ کے تعین کے کام کو فوری طور پر پورا کرنے کی صلاح دی تھی۔ان کمپنیوں سے معاہدہ کی مدت ستمبر میں مکمل ہو گئی تھی ‘لیکن ریاستی حکومت نے اس وقت معاہدہ منسوخ کرنے کی بجائے اس کی مدت میں 6ماہ کی توسیع کردی تھی۔حکومت اس سے پہلے بھی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی تین کمپنیوں ‘جندل پائیپ‘ لینکاانفراٹیک اور ٹورینٹ پاور سے12983کروڑ کا معاہدہ مختلف وجوہات سیمنسوخکرچکی ہے۔
گذشتہ پانچ سالوں میں کھجوراہو‘ اندور‘ گوالیار‘جبل پور اور ساگر کے علاوہ امریکہ میں انویسٹرس میٹ منعقد کرکے حکومت نے تقریبا سواتین لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری سے متعلق معاہدہ طے کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی‘ لیکن راجیہ سبھا میں حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ اس مدت میں صرف2932کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری ہی مل پائی ہے۔ ان سرمایہ کاروں نے کام شروع بھی کر دیا ہے۔ اب تک 3250ارب روپئے کی سرمایہ کاری کے معاہدوں میں سے 1389کروڑ روپئے کے معاہدے یاتو منسوخ ہوچکے ہیں یا منسوخ ہونے کے قریب ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *