پارلیمنٹ ،سپریم کورٹ ،10جن پتھ ،اور انڈین فکسنگ لیگ

ہندوستان کی سیاست کو صاف کرنے کا وقت اب آگیا ہے پورے ملک کو بے قوف بنا کرپیسہ بنانے کا گھناؤنا کھیل اندرونی اختلافات کی وجہ سے عیاں ہو گیا ۔دراصل یہ ہندوستا ن کا واٹر گیٹ ہے جس کی ابتدا ء ایک تبصرے سے ہوئی ،اور آج اس میں مرکزی حکومت کے کئی وزراء ،کرکٹ سے منسلک بڑی ہستیاںاور جرائم کی دنیا کے  بادشاہ ایک ساتھ ہا تھ ملائے کھڑے دکھائی دے رہے ہیں ،اس میں پردے کے پیچھے کھیلنے والے فلمی دینا کے لوگ بھی اب سامنے آگئے ہیں ،۔
سب سے بڑا کھیل تو ان شاطروں نے دس جن پتھ سے جڑے لوگوں کو اپنے ساتھ دکھا کر کھیلا ہے ،راہل گاندھی ،پرینکاگاندھی ،رابر ٹ وڈیرا کو  آئی پی ایل سے جان بوجھ کر جوڑا ،آئی پی ایل کے کھلاڑی سب کچھ سوچ سمجھ کر کر رہے تھے انہیں معلوم تھا کہ اگر وہ پھنسے تو ملک کا سب سے طاقتور خاندان جس کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور ہے انہیں بچانے آجائیگا ،آج اس نا می گرامی خاندان کی ساکھ داؤں پر لگی ہو ئی ہے ،سوال یہ  ہے کہ کیا آئی پی ایل کے کھیل میں اس خاندان کا بھی پیسہ لگا ہے ؟جن لوگوں نے اس خاندان کو آئی پی ایل کے جال میںالجھایاہے ، انہوں نے ملک کی تجارتی دنیا کو یہی بتا یا ہے کہ اس خاندان نے انہیں سب کچھ کرنے کی اجاز ت دے دی ہے ،آخر سچ کیا ہے؟سوکروڑ سے زیادہطاقت والے ملک کی قسمت ایک مافیا ڈان کے ہا تھوں میں قید ہے ،اس ڈان کے پاس آئی پی ایل کے سودوں کی ٹیپ کے علاوہ وزیروں کے درمیان ہو نے والی بات چیت کے ٹیپ بھی مو جود ہیں اس ڈان نیکچھ ٹیپ انکم ٹیکس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ کو بھجوائے ہیں ،اپنی طاقت ظاہرکرنے کے لئے یہ ڈان ساری بات چیت عام کر سکتا ہے ،ااور اس حالتمیں حکومت کو استعفی دینا پڑسکتا ہے ۔
ہندوستان کی پارلیمنٹ اور عدلیہ کی ساکھ بھی سوالیہ دائرے میں آگئی ہے اس بڑے گھوٹالے کی جانچ ،جس نے ملک کے عام آدمی کو اپنے جال میں پھنسا لیا ہے ، سی بی آئی نہیں کر سکتی ،کیونکہ جس میں ملک چلانے والے ملوث ہوںاس کے سامنے سی بی آئی بے بس ہے ۔ اس کی جانچ صرف پارلیمنٹ کی مشترکہ جانچ کمیٹی ہی کر سکتی ہے ،یا پھر سپریم کورٹ کے موجودہ جج کر سکتے ہیں ،اس سوال پر سریم کورٹ کو سخت نوٹس لینا چاہئے کیونکہ یہ سارا معاملہ ملک کی جمہوریت پر اعتماد سے منسلک ہے ۔
مرکزی وزرا ء سینئر ممبر ان پارلیمنٹ ،بڑے افسران، بڑے صنعتکار ،نامی گرامی کھلاڑی اور فلمی دنیا کے سپر اسٹارس جب ملک کو لوٹنے کا منصوبہ بنا ئیں اور کامیابی کے ساتھ اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنائیںتب سپریم کورٹ ہی ایک امید بچتی ہے ،بندیل کھنڈ میں پا نی نہیں ہے ،اڑیسہ میں بھوک سے لوگ بلک بلک کر جا ن دے رہے ہیں ،چھتیس گڑھ میں بھوکے لوگ ہتھیا ر اٹھانے پر مجبور ہیں ،اورملک کے عوام مہنگائی کی وجہ سے خون کے آنسو رو رہے ہیں ،ایسی حالت میں حکومت کے طاقتور لوگ آئی پی ایل کے ذریعہ اربو ں روپیہ غیر ممالک میں بھیج رہے ہیں ۔
دس جن پتھ کی ساکھ خطرے میں ہے دیکھنا یہ ہے وہ کن لوگوں کو بچا تے ہیں ،وہ عوام کا ساتھ دیتے ہیں یا ان لوگوں کا جنہوں نے انہیں اقتصادی ملزموں کی صف میں کھڑا کر دیاہے ،پارلیمنٹ کی طاقت اور اس کی سوجھ بوجھ ہی یہ بتا ئے گی کہ وہ ملک کے سوا ل پر کچھ کر پا تی ہے یا نہیں۔یا ایک نا مرد ادارے کی طرح باتوں کی تالی بجا کر خاموش ہو جا ئے گی ،اگر آج سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ نہیں جاگے تو کل جمہوریت نہ چاہنے والے کھڑے ہو جائیں گے اور تب عوام ان کا ساتھ دے گی یہ بدنصیبی ہوگی۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *