نیکی کے سفیر

خورشید عالم

انسانی اقدار کی کبھی موت نہیں ہوتی ، یہ اقدار خواہ کسی بھی زمانے کی ہوں ہمیشہ سدا بہار رہتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ 1400 سال گزر جانے کے بعد بھی پیغمبر محمد ﷺ کے صحابہ کرامؓ آج بھی انسانیت کے لیے نمونہ بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے جو زندگی بسر کی اور معاشرہ کو جو اسوہ حسنہ پیش کیا ، وہ آج بھی قابل تقلید ہے۔ انہیں باتوں پر تبادلۂ خیال کرنے کے لئے 10-11؍اپریل 2010 کو مسلمانوں کی سب سے پرانی تنظیم مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذریعہ 30ویں اہل حدیث کانفرنس عظمت صحابہؓ کے عنوان سے منعقد کی گئی۔ خیال رہے کہ پیغمبر محمد ﷺ کے ساتھیوں کو صحابہ کرام ؓ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت محمدﷺ سب سے آخری نبی ہیں ۔ انہوں نے اپنے وقت میں جو انقلاب برپا کیا، اس میں ان کے آس پاس کے لوگوں میں دس سالہ چچا زاد بھائی حضرت علی ؓ سے لے کر 40سالہ حضرت ابوبکر صدیقؓ تک شامل تھے۔ انہوں نے ان سبھی کو منزل من اللہ قرآن شریف اور اپنی ہدایات و احکام پر مشتمل احادیث کے ذریعہ ان کی تربیت کی ۔کہا جاتا ہے کہ پیغمبر محمدﷺ اور ان کے صحابہ کرامؓ نے جس معاشرہ کی تعمیر کی ، وہ نوع انسانیت کے لئے نمونہ بن کر ابھرا۔ اس میں صرف عبادت کرنے والے اشخاص ہی نہیں بلکہ مختلف علوم کے ماہرین بھی پیدا ہوئے ۔ ان اشخاص میں جو بھی تربیت کے بعد سامنے آیا وہ مکمل انسان تھا، ان کے مکمل ہونے کی اہم وجہ یہ تھی کہ ان کی تربیت حضرت محمدﷺ نے کی تھی ،انہوں نے تعلیم کے ذریعہ مکمل طور پرمعاشرہ کو بدل ڈالنے کی بات کی تھی اور اپنی ساری زنددگی سماج کے لئے وقف کردی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جنہیں انسانیت کے لئے نمونہ کہا جاسکتا ہے۔اس عظیم جماعت نے ایک ایسا اقتصادی نظام دیا ، جو ایک طرف سماجی کارکنوں اور کمیونسٹوں کا وہ نظام نہیں تھا ، جو معاشرہ کو جکڑے رکھتا ہے ۔ دوسری طرف مادہ پرستی کا وہ نظام نہیں تھا ، جو کھلے بازار ہونے کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا کرتا ہے۔صحابہ کرامؓ کے اقتصادی نظام میں سود کا نام ونشان تک نہیں تھا۔ وہ سود جو مالدار کو زیادہ مالدار بنا کر اور غریب کو زیادہ غریب بناکر سماج کا توازن بگاڑ دیتا ہے۔
جو تعلیم آج ہمارے ملک میں لازمی اور مفت کی گئی ہے ، وہ پیغمبر محمد ﷺ اور ان کے صحابہ کرامؓ کے وقت میں بھی لازمی اور مفت تھی ۔30 ویں کل ہند اہل حدیث کانفرنس کے منتظم مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کہتے ہیں کہ مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد پیغمبر محمد ﷺ نے اپنے صحابہؓ کو لے کر مدینہ میں مختلف مذاہب کے نمائندوں کے ساتھ مل کر دنیا کی جو پہلی حکومت بنائی تھی، اس نے اپنے تشکیل کے دوسرے سال ہی تعلیم کے مفت اور لازمی ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ ان لوگوں کے سامنے تعلیم کو لازمی اور مفت قرار دیتے وقت 6سے14کی عمر کی کوئی قید نہیں تھی۔ کسی بھی عمر کا شخص آئیڈیل بننے کے لئے مکمل تعلیم حاصل کرسکتا تھا۔مولانا سلفی کی اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کانفرنس میں مہمان خصوصی کے طور پر آئے شوبھتی یونیورسٹی کے پرو چانسلر کنور شیکھر وجیندر کہتے ہیں کہ پیغمبر محمدﷺ اور ان کے صحابہ کرامؓ کی تعلیم کی خاصیت ہی یہی ہے کہ یہ مکمل ہے اور انسان کو مکمل بناتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج خاصیت کے نام پر جس طرح ایک ایک خاصیت والے اشخاص کی تعمیر ہورہی ہے، اس سے معاشرہ کا پورا توازن بگڑگیا ہے۔ انجینئرنگ‘ میڈیکل، مینجمنٹ، سائنس،ادب، تاریخ اور دیگر علوم حاصل کرنے والا شخص زندگی کی ان اقدار سے نابلد ہے ، جو ایک انسان کو انسان بناتی ہیں ۔ دوسری جانب مذہبی تعلیم حاصل کرنے والے افراد مذکورہ خصوصی تعلیم سے متفکر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سماج میں رہ کر بھی سماج سے کٹے رہتے ہیں۔ماہر تعلیم کنور شیکھر وجیندر سنگھ کو امید ہے کہ حال میں شاندار ماضی کی باتیں کر کے سماج کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں بانٹنے سے بچایا جا سکے گا۔
سابق رکن پارلیمنٹ و سینئر صحافی سنتوش بھارتیہ، جو ہندی  ہفت روزہ چوتھی دنیا کے چیف ایڈیٹر ہیں، نے کہا کہ کسی بھی معاشرتی تبدیلی و انقلاب کے لیے نوجوان طاقت فیصلہ کن رول ادا کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پیغمبر محمدﷺ کے عظیم رفقاء میں بیشتر نوجوان ہی تھے۔ان کے مطابق نوجوان طبقہ تبھی مثبت و انقلابی رول ادا کر سکتا ہے جب وہ تعلیم یافتہ ہو اور خوشحال زندگی بسر کر رہا ہو۔انھوں نے کہا کہ چوتھی دنیا نے رنگ ناتھ مشر کمیشن رپورٹ کے کچھ حصوں کو شائع کر کے پارلیمنٹ میں دھوم مچا دی اور پھر حکومت کو اسے پارلیمنٹ کی میز پر رکھنے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ اس قدم کا بھی یہی مقصد تھا کہ آج مسلم اور پسماندہ و محروم  معاشرے کا نوجوان طبقہ تعلیم اور ملازمت حاصل کرنے میں ریزرویشن جیسی سہولت سے فائدہ اٹھاکر خوشحال زندگی بسر کرے اور پھرسماج کو صحیح سمت دینے اور تبدیلی لانے میں اپنا مثبت اور انقلابی رول ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کے لیے بھی صحابۂ کرام  ؓآئیڈیل کی شکل میں موجود ہیں۔ان کی تعلیمات پر عمل کرکے نئی نسل کو سماج کی تعمیر نو کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔معروف سماجی کارکن  و آریہ سماج کے لیڈر سوامی اگنی ویش نے کہا کہ پیغمبر محمدﷺ اور ان کے رفقاء کا سب سے بڑا تعائون یہ ہے کہ انہوں نے ایک لمبے عرصے کے بعد ایک خدا کے تصورکو زندہ کیا اور بندھوا بچہ مزدوری و خواتین کے استحصال کو ختم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیغمبر ﷺاور ان کے رفقاء خواتین کے سب سے بڑے محافظ تھے۔آج اس میٹنگ میں ایک بھی خاتون نہیں دیکھ کر مایوسی ہو رہی ہے۔کسی بھی سماج کی تعمیر نو کسی بھی وقت میں مرد و خواتین دونوں کو لیکر ہی ممکن ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جمیعت اہل حدیث خواتین کے تئیں اپنی سوچ میں تبدیلی لائے گی اور انہیں برابر کی حصہ داری دے گی۔میٹنگ کے کنوینر اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے سکریٹری مولانا مقیم فیضی نے کہا کہ سماج کی تعمیر میں مرد و خواتین دونوں کی خصوصیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسلام نے ان کی ذمہ داریاں متعین کی ہیں۔خاتون کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر پریوار کو مکمل طور پر خوشحال بنائے اور نئی نسل کی اس طرح تربیت کرے کہ وہ سماج کی آئیڈیل بن کر ابھرے۔اسلام مرد اور خواتین دونوں کی تعلیم پر زور دیتا ہے۔صحا بۂ کرامؓ کے دور میں بھی خواتین نے پیغمبر محمدﷺ کی احادیث کو جمع کرنے اور اپنا فرض نبھانے میں بہت بڑا رول ادا کیا۔راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو کا خیال تھا کہ ہندوستان کی 104سالہ سب سے پرانی مسلم تنظیم مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے پیغمبرﷺ اسلام اور ان کے صحابۂ کرامؓ کو سماج کے آئیڈیل اور ماڈل کی شکل میں ایک ایسے وقت میں پیش کرنے کی جسارت کی ہے، جب پورا سماج الٹے راستے پر چل رہا ہے۔اس لیے تنظیم مبارکباد کی مستحق ہے کہ وہ ملک کی تعمیر نو کے بارے میں سوچتی ہے۔
نیکی کے نگہبانوں کے نام پر اس دو روزہ کانفرنس کی خاصیت یہ تھی کہ اس میں مختلف مذاہب ، طبقوں، علاقوں اور ملک کے لوگ آئے اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ان میں اجودھیا کے سوامی جگل کشور شاستری، مذہبی رہنما اونکار نند سری واستو، عالمی مذاہب کے ماہر ڈاکٹر ایم ایم ورما، مذہبی اسکالر اور سماجی کارکن پنڈت این کے شرما، رکن پارلیمنٹ محمد ادیب،  دہلی اسمبلی کے رکن شعیب اقبال، دیو بند میں واقع جامعہ انور شاہ کشمیری کے سربراہ مولانا احمد شاہ خضر ، مساجد کے اماموں کی تنظیم کے صدر مولانا عمیر الیاسی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری مولانا رفیق احمد قاسمی، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مولانا عطاالرحمٰن قاسمی اور دیگر مسلم تنظیموں واداروں کے نمائندے خاص طور پر شامل ہیں۔ 30ویں اہل حدیث کانفرنس کے اختتام پر مذہبی، علاقائی، قومی و بین الاقوامی ایشوز سے متعلق 30تجاویز اتفاق رائے سے پاس کی گئیں۔ہال میں ترکی کے  مردین شہر میں 14ویں صدی کے امام عبرے تیمیہ جیسے عظیم دانشور کے فتوے کی دوبارہ تشریح کرنے کی جسارت کا نام لئے بغیر کہا گیا کہ آج غیر ضروری طور پر امام ابن تیمیہ جیسی سلجھی اور پاکیزہ اسلامی ہستی کی شبیہ داغدار کی جا رہی ہے، جو کہ افسوسناک ہے ۔میڈیا انچارج شیش تیمی کے مطابق، یہ کانفرنس اپنے مقاصد کی حصولیابی کے لحاظ سے پوری طرح کامیاب رہی، جمعیت کے جنرل سکریٹری کے ذاتی سکریٹری اور کارکنان محمد رئیس فیضی نے کہا کہ کانفرنس میں شامل ہوئے لوگ یہی پیغام لے کر گئے کہ مذہب اور فرقہ سے اوپر اٹھ کر صحابہ کرامؓ آج بھی پوری انسانیت کے لیے ایک نمونہ ہیں اور رب کے وفادار اور انسانیت کے سچے علمبردار ہیں۔ان کی زندگی اور مشن کو آئیڈل اور ماڈل کی شکل میں لینا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *