مسلمانوں کو تعلیم اور روٹی چاہیے فتوے نہیں

وہ بھی ایک دور تھا جب مسلمان کسی بھی شرعی مسئلہ میں الجھ جاتا تھا تو مفتیان دین سے رجوع کرتا تھا اور ان مفتیوں کی زبان سے نکلی ہر بات ہر فتویٰ پتھر کی لکیر ہوتا تھا، اس وقت مسلم معاشرے میں مفتیان دین کی بہت مضبوط ساکھ تھی، ان کے فتوے نکاح، طلاق، وراثت، ہبہ، وقف ہر موضوع پر ہوتے تھے۔ مسلمانوں میں دو چیزوں کی بڑی اہمیت ہے۔ ایک استخارہ اور دوسرا فتویٰ۔ استخارہ میں مسلمان جب کوئی فیصلہ نہیں کرپاتا تو وہ قرآن کی مختلف آیات سے یا علمائے کرام سے استخارہ نکلواتا ہے جس سے فیصلہ لینے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ استخارہ ایک طرح سے اللہ سے مشورہ ہے، جس طرح کہا گیا ہے کہ مشورے میں برکت ہے اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ سے مشورہ کرلینا چاہیے، لیکن یہاں بھی یہ بات بہت اہم ہے کہ مشورہ اگر ہم کسی سے کرتے ہیں تو اس کو ماننا یا نہ ماننا مارے اختیار میں ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ سے مشورہ کرنا ضرور آیا ہے، لیکن جس طرح کچھ علماء اس کو بھی سختی سے ماننے کا مشورہ دیتے ہیں، وہ غلط ہے، کیوںکہ یہاں بھی مسلمانوں کے پاس یہ آزادی ہے کہ وہ چاہیں تو اس استخارے کو مانیں یا نہیں۔ اسلام میں اتنی ہی اہمیت اتنا ہی اہم معاملہ فتوے کا ہے۔ فتویٰ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ یہ اللہ سے مشورہ نہیں ہے، بلکہ اللہ کے احکامات جو قرآن پاک میں دیے گئے ہیں، ان کے تحت زندگی بسر کرنے کا عمل ہے، جو لوگ شرعی طور پر قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنی زندگی بسر کرنا چاہتے ہین، وہ ان فتوؤں پر یقین رکھتے ہیں۔
ان فتوؤں کی اتنی اہمیت و افادیت ہوتی ہے کہ اس پر رائے زنی کی گنجائش نہیں ہوتی لیکن آج کل تو ہر ہفتہ ہر مہینے کوئی نہ کوئی فتویٰ سرخیوں میں آجاتا ہے اور پھراس پر شروع ہوجاتا ہے سیاست کا کھیل۔ یہاں پر دو باتیں بہت اہم ہیں کہ فتوے دینے والے ادارے اور ان کے مفتیان کو اپنے مرتبے اور ادارے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہی فتوے دینے چاہئیں۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی فتوے پر دیوبند کے علمائ، بریلوی علمائ، اہل حدیث علماء غرضیکہ جتنے فرقے اتنے علماء سبھی فتویٰ الگ الگ ہوتا ہے اور ایسے میں میڈیا کو مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کا نادر موقع ہاتھ آجاتا ہے۔ مثال کے طور پر مظفرنگر کی عمرانہ کے کیس میں اس کے سسرکی دست درازی کے واقعے اور اس کے حوالے سے جتنی کھلواڑ میڈیا نے کی اس سے زیادہ مختلف فرقہ کے علماء نے اس پر الگ الگ فتویٰ دے کر ایک مذاق سا بنادیا۔
اسلام بہت ہی لچکیلا مذہب ہے، اس میں وقت اور حالات کے سبب خود کو بدلنے کے کافی حد تک امکانات ہیں۔ ایسے میں جو فتوے صادر کئے جاتے ہیں ان میں آج کے حالات کے حساب سے کہیں نہ کہیں بیچ کا راستہ نکالنے کا طریقہ بھی ہوتا ہے۔ بے شک مفتی صاحبان قرآن کو سامنے رکھ کر ان فتوؤں کو عام مسلمانوں کے لیے بتاتے ہیں مگر وہ ان میں وہ کٹرپن اور سختی بھی شامل کرلیتے ہیں جن سے ایک عام مسلمان لمحہ بھر کو گھبرا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر صرف حال ہی میں لیے گئے فتوؤں کا اگر ذکرکیا جائے تو تین فتوے اس وقت اخبار کی سرخیوں میں اور ٹی وی چینلزپر موضوع بحث ہیں، جس میں سب سے اہم خواتین کا ایسے اداروں میں کام کرنا اور ان کی تنخواہ کو حرام قرار دیا گیا ہے، جہاں مرد و عورت مل جل کر کام کرتے ہیں۔ یہاں صرف ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ ہندوستان کی ایک تہائی آبادی گاؤں میں بستی ہے اور وہاں کے مسلمان بالکل ان پڑھ اور جاہل ہیں، وہ صرف اللہ اور رسول کو ہی جانتے ہیں، وہ اپنا رہبر مسجد کے مولوی کو مانتے ہیں اور پانچوں وقت مسجد میں جا کر نماز ادا کرنا ہی مسلمان ہونے کا فرض سمجھتے ہیں،مگر یہ غریب ان پڑھ لوگ کھیتوں میں مرد و عورت مل جل کر کام کرتے ہیں، وہاں کوئی فیکٹری ہوتی ہے تو وہاں بھی سب مل جل کر کام کرتے ہیں، اگر یہ نادار مل کر کام نہ کریں تو ان کا چولہا تو جل ہی نہیں سکتا کیوںکہ آج بھی شہروں کے مقابلے میں گاؤں میں اجرت بہت کم ملتی ہے تو ایسے میں کیا یہ فتوے گاؤں میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے لاگو نہیں ہوتے اور اگر وہ غریب بھی ان فتوؤں میں پڑ جائیں گے تو کسی بھی گاؤں میں کسی بھی غریب مسلمان کے گھر ہفتوں چولہا نہیں جلے گا تو پھر کیا سارے فتوؤں کا دار و مدار صرف شہروں میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے ہوگا۔ اب اگر کسی کے گھر میں کوئی مرد ہے نہیں اور کسی غریب مسلم لڑکی کو ہی گھر کی ذمہ داری سنبھالنی ہے اور وہ نوکری کی تلاش میں نکلتی ہے توایسے میں جسے صرف اپنے گھر کے لوگوں کی دو وقت کی روٹی جٹانی ہے وہ یہ تو نہیں سوچے گی نہ کہ اسے مردوںکے ساتھ مل کر کام نہیں کرنایا مان لیجئے وہ حجاب پہن کر اور پورا بدن ڈھانپ کر بھی چلی جاتی ہے اور ان مردوں کے بیچ کام کرتی ہے تو کیا پھر بھی اس کی تنخواہ حرام مانی جائے گی؟ 12گھنٹے کام کرنے کے بعد اگر وہ اپنے گھر کے افراد کا پیٹ بھرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس کے گھر کے سبھی افراد کے پیٹ میں تو حرام کا ہی کھانا گیا۔ ایسے میں اس بے چاری لڑکی کے پاس کون سا راستہ بچتا ہے اور اگر کوئی مسلمان لڑکی فحاشی نہیں کرتی اپنا جسم نہیں بیچتی، مجبور ی اور لاچاری میںاپنے حسن و جوانی کا سودا نہیں کرتی اور کسی آفس میں اسے کام مل جاتا ہے تو ایسے میں اسے کیا کرنا چاہیے؟ میرا یہاں صرف اور صرف مقصد یہ ہے کہ جو بھی فتوے دیے جانے چاہئیں ان کو قرآن و حدیث کی روشنی میں رکھنے کے ساتھ ساتھ بدلتے حالات، معاشرہ، سماج اور انسانی ضروریات کے مد نظر کہیں نہ کہیں بیچ کا راستہ نکال کر ہی دیے جانے چاہئیں۔ ہاں ایک بات یہاں ضروری کہنی ہے کہ زیادہ تر فتوے بلکہ 90فیصد فتوے صرف اور صرف مسلم خواتین کے تعلق سے ہی آتے ہیں۔ مردوں کے لیے فتوؤں کا تذکرہ کم ہی آتا ہے، جن میں ایک آدھ فتویٰ سلمان رشدی کے ناول؛ پر دیا گیا تھا اور اسے واجب القتل قرار دیا گیا، حالانکہ مغربی میڈیا نے  اس فتوے کے خلاف بھی خوب واویلا مچایا تھا یہ جانے سمجھے بغیر کہ سلمان رشدی کی تحریریں پوری دنیا کے مسلمانوں میں اشتعال پیدا کر رہی ہیں اور اگر اس ایک کو نہ مارا گیا نہ دبایا گیا تو پوری دنیا میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوجائے گا۔ مسلمان کھلاڑی مرد بھی تو نیکر پہن کر کھیلتے ہیں تو ان کے خلاف تو کوئی فتویٰ نہیں آیا، جب کہ سترپوشی ان کے لیے بھی ضروری ہے، یہاں علمائے کرام اور مفتیان کو اپنی اہمیت سمجھنی چاہیے اور ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے کسی بھی فتوے کو کسی کمیٹی میں رکھ کر ہی فیصلہ لینا چاہیے۔ بینکنگ کے مسئلہ پر جو دیوبند کا فتویٰ آیا ہے اس میں بھی بہت ضروری ہے کہ علمائے کرام کو بینکنگ سسٹم کو اچھی طرح سمجھ کر ہی اور مطالعہ کر کے کوئی فتویٰ جاری کرنا چاہیے تھا، کیوںکہ اگر بینکوں میں نوکری حرام ہے تو پھر مسلم ممالک میں بھی تو سارا کار و بار، ساری معیشت بینکوں کے تحت ہی چل رہی ہے۔ اگر کسی کو حج کے لیے جانا ہوتا ہے تو ڈرافٹ بنوانے کے لیے یا فارن ایکسچینج لینا ہو تو بینک تو جانا ہی پڑتاہے۔ بینک صرف سود کا ہی کارو بار نہیں رکتے وہ تمام ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام سرکاری، غیر سرکاری ملازمین کو تنخواہیں بھی  بینک کے ذریعے ہی ادا کی جاتی ہیں۔ بینکوں کے ذریعہ جاری کیے گئے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈوں کا بھی سبھی لوگ استعمال کرتے ہیں۔ خود مسلمانوں کے بھی اپنے بینک شروع ہوچکے ہیں، جہاں سیونگ اکاؤنٹ، کرنٹ اکاؤنٹ، فکسڈ ڈپوزٹ سبھی طرح کے پیسے کا لین دین ہوتا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ دیوبند یا دوسرے مسلم اداروں میں فنڈ میں جو رقم آتی ہے وہ بھی بینک میں ہی جاتی ہے۔ ہم کوئی کار و بار کرتے ہیں اور ایک چیز ہزار کی خرید کر اسے 1500میں بیچ دیتے ہیں تو یہ منافع ہوا اور اگر ہم 1000روپے جمع کراتے ہیں اور ایک سال بعد اس رقم پر ہمیں سو دو سو روپے زیادہ ملتے ہیں تو یہ سود ہوا کیوں؟ اس لیے کہ اس رقم پر ہمیں گھر بیٹھے بٹھائے سو دو سو مل گئے تو وہ سود کیسے ہوا، وہ اس وقت جو پیسے کی بڑھتی ہوئی قیمت ہے وہ ہم کو ملی ہے ، بالکل اسی طرح جیسے کہ 5سال پہلے ہمارے پاس 5ہزار روپے تھے، 5سال بعد پیسے کی ویلیو یقینا بڑھے گی تو اگر وہ پانچ سال پہلے والے 5ہزار ہم گھر میں رکھے چھوڑ دیں تو پانچ سال بعد اگر اس کی ویلیو ہمیں 5سال پہلے والی ہی ملے گی تو ہم تو ہر طرح نقصان میں رہے، اگر اس رقم پر بینک اپنے وقت کی پیسے کی ویلیو لگا رہا ہے تو وہ سود کیسے ہوا؟ میری ناقص رائے تو یہ ہے کہ اس طرح مالی معاملات پر فتوے دینے سے پہلے اس وقت اور حالات کا اندازہ لگالینا چاہیے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں۔ تیسرا فتویٰ یوم پیدائش یعنی برتھ ڈے منانے سے متعلق ہے جس کو غیر اسلامی قرار دے دیا گیا ہے، اس میں شاید یہ کہا گیا ہے کہ یہ یہودیوں کی رسم ہے اور ہمیں اس رسم کو نہیں اپنانا چاہیے۔ بے شک اسلام اس بات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا کہ قرآن کے برخلاف ان غیراللہ کے طور طریقے اپنائیں جو کہ اسلام اور اسلامی تعلیمات کے مترادف ہیں، لیکن اس رسم کو حرام قرار دینا میرے خیال میں تھوڑا زیادہ کہہ دیا گیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا یوم پیدائش 12ربیع الاول کو پوری دنیا مناتی ہے، جلسے جلوس کئے جاتے ہیں، چراغاں کیا جاتا ہے، صرف اس لیے کہ آپ جیسی عظیم شخصیت کو یاد رکھا جائے، آپ کی تعلیمات کو سینوں میں زندہ کیا جائے اور آپ کے حسن اخلاق ، مروت اور رواداری جیسی خوبیوں کو عالم اسلام کے سامنے لایا جائے ہاں یہ ضرور ہے کہ اس دن ہم کیک نہیں کاٹتے لیکن کچھ نہ کچھ میٹھا بنا کر غریبوں میں کھانا تقسیم کرتے ہیں، میٹھا اس لیے پکاتے ہیں کہ حضور ﷺ کی سنت تھی کہ آپ کھانا کھانے کے بعد میٹھا ضرور کھاتے تھے، اب اگر گھر میں کسی بچے کی یوم پیدائش منائی جاتی ہے اور کچھ کھانا غریبوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے اور میٹھے کے نام پر کیک منگالیا جاتا ہے تو اس میں حرام و حلال کا تصور کہاں سے آگیا؟ صرف موم بتی لگانے اور کیک کاٹنے پر ہی اگر اعتراض ہے تو بھی علماء کو اسی طرح کا فتویٰ بدلتے حالات ، نسلوں کے بدلتے رویے، نوجوان نسل کو خوبی سے سمجھا کر ہی کوئی فتویٰ دینا چاہیے۔
فتویٰ اسلامی نظام کی شہ رگ ہے، اگر اس شہ رگ کو کاٹ دیا جائے تو جسم بے جان ہوجائے گا، اسی طرح اگر فتوؤں کی اہمیت ختم ہوگئی تو مسلم سماج ومعاشرہ بے جان ہوجائیگا۔ ہمارے مفتیان کو اس ذمہ داری کو سمجھنا چاہیے اور بدلتے تناظر میں فتوؤں کی اہمیت سے آگاہ کرانا چاہیے، کیوںکہ اس دور پرآشوب میں مسلمانوں کو خاص کر نوجوان نسل کو تعلیم دلانا بہت ضروری ہے اور ان کو اس کمپیٹیٹیو ورلڈ میں آگے لانے کے لیے آج کی تعلیم سے آراستہ کرنا بہت ضروری ہے، اگر نوجوان نسل فتوؤں میں پھنس جائے گی تو روزی روٹی کے مسائل کیسے حل ہوںگے؟ مسلمان ترقی یافتہ کیسے بنیںگے؟ آج ان کو علمائے کرام کی رہنمائی کی ضرورت ہے تاکہ وہ ایک اچھے، سچے دیندار مسلمان کے ساتھ ساتھ دنیا دار بھی بنیں تاکہ اپنے گھر بار اور بیوی بچوں کا پیٹ پال سکیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *