مگدھا گاڈسے کی پریشانی

فلم ’فیشن‘، ’ آل دی بیسٹ‘ اور جیل میں بااثر کردار ادا کر چکیں اداکارہ مگدھا گاڈسے ان دنوں موسم کی وجہ سے پریشان ہیں۔ ممبئی کی گرمی سے پریشان مگدھا گاڈسے کہتی ہیں کہ اس سال گرمی کچھ زیادہ ہورہی ہے۔ جب بھی وہ گرمیوں سے ہونے والی دشواریوں کے بارے میں سوچتی ہیں، تو ان کی آنکھوں کے سامنیبکنی، شارٹس، گنجی، فریش لائم جیوس، برف کے رنگ برنگے گولے وغیرہ تازگی دینے والی چیزیں گھومنے لگتی ہیں۔ گرمیوں کے دنوں میں انہیں سمندر کے کنارے جانا اور گھومنا اچھا لگتا ہے۔
بچپن کے دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے مگدھا گاڈسے کہتی ہیں کہ ان کی ماں انہیں اسکول کے دنوں میں مارچ کے مہینہ میںآنے والی ہولی منانے نہیں دیتی تھیں،کیونکہ اپریل میں امتحانات ہوتے تھے۔ اپریل میں انہیں دوہری گرمی کی مار برداشت کرنی پڑتی تھی۔پہلے کے دو ہفتے سالانہ امتحان میںاور باقی کے دو ہفتے نتیجہ کے انتظار میں گزر جاتے تھے۔کنبہ والے مجھ سے ہمیشہ اچھے نتیجے کی توقع رکھتے تھے۔ رزلٹ والے دن میں پہلے پورے کنبہ کے ساتھ مندر جاتی تھی اور پھر رزلٹ لانے اسکول ماہ مئی میں ہولی کی کسر دوستوں کے ساتھ پانی سے کھیل نکالاکرتی تھی۔
مگدھا بتاتی ہیں کہ تب میرے گھر میں اے سی نہیں ہوا کرتا تھا۔ بجلی کٹوتی کے دوران گھر والے پنکھے کی ہوا تک کے لئے ترس جاتے تھے۔ عام بچوں کی طرح مجھے بچپن میں آئیس کریم اور پھل جیسے تربوز اور آم بے حد پسند تھے۔ اس کے علاوہ کچے آمیعنی ہری کیری میں نمک مرچ لگا کر کھانا بھی پسند تھا۔ ان دنوں میری والدہ چھت پر سوکھنے کے لئے املی رکھتی تھیں ، جسے میں دوستوں کے ساتھ مل کر چوری کر کے کھا لیا کرتی تھی۔ میں وہی کپڑے پہنچتی تھی، جو گرمی سے راحت دلاتے تھے۔ گرمی کی چھٹیوں میں کہیں دور گھومنے جانے کا پروگرام نہیں بن پاتا تھا، کیونکہ تمام رشتے دار ممبئی کے قریب پونے کے آس پاس ہی رہتے تھے۔ ان دنوں میری سب سے پسندیدہ جگہ مہابلیشور ہوا کرتی تھی۔ وہاں مئی میں بھی موسم سہانا رہتا تھا۔ میں مئی کے آخر یا جون کے پہلے ہفتہ میں سنگھ گڑھ فورٹ جانا پسند کرتی تھی۔ کھنڈالا بھی مجھے پسند ہے۔ دور کی جگہوں میں منالی بہت خوبصورت ہے،مگر ابھی اگر جانے کا موقع ملا تو میں گرمیوں میں بالی جانا پسند کروںگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *