خسرہ کا ٹیکہ یا موت کا ٹیکہ

مدھیہ پردیش کا محکمہ صحت بدعنوانی اور لاپروائی کیلئے خاصا بدنام ہے۔اس محکمہ کو لوگ’’ قاتل محکمہ‘‘ تک کہنے لگے ہیں۔حال ہی میں دموہ ضلع کے ہیڈ کوارٹر میں ٹیکہ لگانے کی اسکیم کے تحت خسرے کا ٹیکہ لگانے کے بعد چار بچوں کی موت ہوگئی اور دس بچے شدید طور پر بیمار ہوگئے ۔ریاست کیلئے یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے ۔
وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔علاوہ ازیں انہوں نے متاثرہ بچوں کے لواحقین کو ایک ایک لاکھ روپئے بطور معاوضہ دینے کا بھی اعلان کیا ۔اس سے پہلے ریاستی وزیر صحت انوپ مشرا نے بھی دس دس ہزارر وپئے کے معاوضہ کا اعلان کیا تھا۔محکمہ صحت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس کے لئے اے این ایم درگا تیواری کو اصل ذمہ دار قرار دیا ہے‘ جس کو دموہ ضلع کی پولس نے دفعہ 304کے تحت گرفتار بھی کرلیا ہے۔دیگر تین ملازموں کو لاپروائی کے الزام میں معطل کردیا گیا ہے۔دوسری جانب بیماری میں مبتلا دس میں سے چار بچوں کی حالت تشویشناک ہے۔انہیں میڈیکل کالج جبل پور بھیجا گیا ہے‘جہاں اسپیشلسٹ ڈاکٹر ان کا علاج کررہے ہیں۔قومی خاندانی صحت کے سروے اور حکومت ہند کے صحت سے متعلق مختلف سروے سے پتا چلتا ہے کہ مدھیہ پردیش ملک کی بہت ہی پسماندہ ریاست ہے۔حکومت ہند اور عالمی تنظیم برائے صحت کی جانب سے بچوں کو امراض سے پاک اور صحت مند رکھنے کیلئے پیدائش سے لیکر پانچ سال کی عمر تک مختلف بیماریوں کے پانچ ٹیکے لازمی طور پر مفت لگانے کا بندوبست ہے ‘لیکن ٹیکہ لگانے کے معاملے میں مدھیہ پردیش ملک کی دیگر ریاستوں سے کافی پیچھے ہے۔یہاں صرف40.3فیصد بچوں کوہی بنیادی ٹیکہ کے فوائد حاصل ہیں۔ان میں شہر ی علاقہ کے 69فیصد اور دیہی علاقوں کے32فیصد بچے شامل ہیں۔ریاست میں پانچ فیصد بچے ایسے بھی ہیں ‘جنہیں کسی طرح کا کوئی ٹیکہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔    حکومت ہند کی اس رپورٹ کے بعد ریاستی محکمہ صحت نے ٹیکہ لگانے کے ٹارگٹ کو حاصل کرنے کیلئے مہم شروع کی ۔اس مہم کے تحت سال 1998میں ایک سال تک کی عمر کے بچوں کو مکمل ٹیکے لگانے کی شرح 22فیصد تھی‘جو سال 2006میں بڑھ کر36اور 2009میں40.3فیصد ہوگئی۔لیکن پھر بھی حکومت سو فیصدی ٹیکہ لگانے کا ٹارگٹ پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔چند ماہ قبل ریاست کے وزیر صحت انوپ مشرا نے محکمہ کے اعلی افسران کی میٹنگ میں ہدایت جاری کی تھی کہ خاندانی منصوبہ بندی اور  ٹیکہ لگانے کے ٹارگٹ کو پورا کرنے کیلئے بھر پور کوششیں کی جائیں۔انہوں نے طبی خدمات میں اصلاح اوردیہی علاقوں میں بہترطبی خدمات فراہم کرنے کیلئے بھی ہدایتیں دی تھیں‘لیکن برسوںسے سست روی اور مستی میں کام کررہے محکمہ صحت کے افسران پر وزیر موصوف کی ہدایتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ محکمہ صحت کو مختلف خدمات کے ٹارگٹ کو پورا کرنے کا ہوش آخری وقت میں آیا اور آنا ً فاناً میں ملازمین کو کام میں مشغول ہوجانے کی ہدایت دے دی گئی۔
سانحہ والے شہر دموہ میں بھی ٹیکہ لگانے کا ٹارگٹ پورا کیا جارہا ہے‘جس کے تحت 12مارچ کو آنگن باڑی مرکز بالترتیب تین‘ چار ‘چھہ اور نو سول وارڈ میں بچوں کی ٹیکہ کاری کی گئی ۔دوسال تک کی عمر کے بچوںکو ڈی پی ٹی ‘ خسرہ اورٹیٹنس کے ٹیکے لگائے گئے ۔ٹیکہ لگانے کا کام نرس سطح کی کارکن درگاتیواری نے کیا ۔ٹیکہ لگانے کے بعد دیر رات گئے کچھ بچوں کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور انہیں معمول سے زیادہ قے اور دست ہونے لگے۔اس پر کچھ بچوں کو رات میں ہی اور بعض کو دوسرے دن صبح دموہ کے ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا ۔13مارچ کو اسپتال میں روشنی (بھورے گونڈکی ایک سالہ بچی)‘ آرتی (منا ٹھاکر کی 11ماہ کی بچی)اور گورو(راجیو وشوکرما کا نوماہ کا بچہ)کی موت ہوگئی۔ان کے بعد ارمان نام کے ایک اور بچے کی موت ہوگئی ۔بچوں کے متعلقین نے آہ وبکا کرنا شروع کردیا ۔کچھ دیر بعد لوگوں نے ہنگامہ آرائی شروع کردی ۔اطلاع ملتے ہی سب سے پہلے ضلع کلکٹر آر اے کھنڈیلوال اسپتال پہنچے اور اس کے بعد ضلع کے صحت افسرڈاکٹر آرکے شریواستوبھی اسپتال آئے ۔دونوں افسروں نے بچوں کے لواحقین کو تسلی دی اور بیمار بچوں کے بہتر علاج کیلئے ہدایتیں دیں۔اس کے بعد ڈاکٹر شریواستو نے ہدایت جاری کی کہ جہاں کہیں بھی ٹیکہ کاری کے لئے ویکسین بھیجی گئی ہے‘ اس کا استعمال نہ کیا جائے اور نئی ویکسین آنے تک ٹیکہ لگانے کا عمل روک دیا جائے۔ڈاکٹر شریواستو نے بتایاکہ بچوں کی موت کے اسباب کی جانچ کرائی جائے گی اور ویکسین کو جانچ کیلئے دہلی یا پونے کی تجربہ گاہ میں بھیجا جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *