ہتلر اور موسولینی کی راہ پر مت چلئے

ہمارے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ بہت بہادر اور دور اندیش ہیں۔ان کو ماؤنوازوں سے لڑنے اوران کی بات کسی کے پاس نہ پہونچے اس کا نایاب طریقہ مل گیاہے ۔انہوں نے ایک حکم نامہ جاری کر کے کہا ہے کہ ملک کا کوئی بھی سوچنے ،سمجھنے والا ماؤنوازوں کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالات پر بات چیت نہیں کرے گا ۔مہذب معاشرے میں سوچنے سمجھنے والے لوگوں کو دانشور کہا جاتا ہے ۔وزارت داخلہ نے ایک حکم نامہ میں کہا ہے کہ حکومت کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ ماؤنوازوں کے کچھ لیڈر غیر سرکاری تنظیموں سے براہ راست رابطہ قائم کر رہے ہیں تاکہ اپنے نظریات کی تشہیر کر سکیں ۔جو شخص بھی اس طرح کی دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کا جرم کرے گا اور جو اس طرح کے گروپوں کی سرگرمیوں کو پھیلانے کا ارادہ کرے گا اس کو غیر قانونی سر گرمیوں (روک تھام ) قانون 1967کی دفعہ 39کے تحت زیادہ سے زیادہ دس سال کی سزا  یا جرمانہ یا دونوںسزائیں دی جا سکتی ہیں ۔اس طویل بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عوام کو یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ وہ بھاکپا( ماؤنواز) کی غلط پبلسٹی سے ہو شیار رہیں اور اس کا غیر شعور ی طور پر شکار نہ ہوں ۔بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی ماؤنواز اور اس کی تمام حلیف پارٹیاں دہشت گرد تنظیمیں ہیں ۔جن کا صرف ایک ہی مقصد ہے ہندوستانی حکومت کو ہتھیا ر کے زور سے اکھا ڑ پھینکنا ۔ان کے لئے ہندوستان کی پارلیمانی جمہوریت میں کو ئی جگہ نہیں ہے ۔عام پبلک کو معلوم ہو نا چاہئے کہ غیر قانونی سر گرمیاںایکٹ 1967کی دفعہ 39 کے تحت اگرکو ئی شخص اس طرح کی تنظیموں کی حمایت کا جرم کرتا ہے تو اس کو دس سال کی جیل یا جرمانہ یادونوںسزائیں ہو سکتی ہیں ۔بیان میں کہا گیاہے کہ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی (ماؤنواز )مسلسل آدیواسیوں اور بے قصور لوگوں کو قتل کر رہی ہے اور سڑکوں ،پلوں ،اسکولی عمارتوں اور گرام پنچایت بھونوں اور اہم تعمیرات کو نقصان پہنچا رہی ہے تاکہ  ترقیاتی کاموں کو روکا جا سکے ۔
ہماری ہردلعزیز حکومت کتنی فکر مندہے کہ آدیواسی علاقوں میں تیزی سے ترقی ہو لیکن ماؤنواز اس کو روک رہے ہیں ۔مہا شویتادیوی جیسی سینئر ادیبہ ان علاقوںکی ترقی کیوں نہیں دیکھ پاتیں ،اخبار نویس جانتے ہیں تو کیوں ان کو بھوکے ننگے بغیر کسی وسائل کے جانوروںجیسی سی زندگی گذارنے والے لوگ دکھائی دیتے ہیں ،دانشوروں کی آنکھیں خراب ہو گئی ہیں اسی لئے ان کو دانتے واڑہ ،لال گڑھ ،اڑیسہ ،آندھرپردیش میںترقی کی بہتی گنگا نہیں دکھائی دیتی،ان کے علاج کی حقیقت میں ضرورت ہے ۔
وزیر اعظم اور ان کا وزارت داخلہ آئی پی ایل کے واٹر گیٹ کو دبانے میں شرد پوار اور للت مودی کے ساتھ کامیاب ہو گیا ۔لاکھوں کروڑ روپیہ آئی پی ایل کے گھپلے میں بیرونی ممالک چلا گیا ۔اس ملک کے عام آدمی کو بے وقو ف بنا یا گیا وہ سمجھ رہا تھا کہ وہ سچ مچ کر کٹ دیکھ رہاہے لیکن وہ تو بند ر کا تما شہ تھا ۔اس بندر کے تماشے میں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی تک کو شامل کر لیا گیا دونوں کو پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ کب آئی پی ایل کے ملزمین کے ساتھ کھڑے ہو گئے ۔پیسہ ماریشس کے ذریعہ کس کا آیا یہ کبھی پتہ نہیں چلے گا ۔کیا داؤد ابراہیم کا پیسہ ہے ؟پرنب مکھرجی نے اس معاملے کی مکمل جانچ کے لئے کہا ہے لیکن ایک تہائی بھی جانچ نہیں ہو پائے گی ۔نریگا یا منریگا کا سارا پیسہ اثر ورسوخ والے لوگوں اور افسران کے درمیان تقسیم ہو رہاہے ۔جہا ں بھی سوشل آڈٹ ہو رہی ہے وہاں کچھ نہیں ملتا غریب جوں کا توں ہے ۔اس کی روٹی بھی پیسے والوں کے پاس جا رہی ہے ۔
اس سسٹم نے دیہی سطح پر بد عنوانی پھیلا دی ہے ۔بد عنوانی کا حال یہ ہے کہ کچھ مقامات پر تو افسر گڑ گڑاتے ہیں کہ کچھ کام تو کر لو کم سے کم فلیش لیٹرین ہی بنا لو ،راہل گاندھی کے باپ نے کہا تھا کہ غریب کے پاس صرف پندرہ پیسے ہی پہونچ پاتے ہیں اور راہل گاندھی کا ماننا ہے کہ اب یہ سطح آٹھ پیسے پر پہونچ گئی ہے ۔طبقوں کی بات کریں تو دلت ،مسلمان ،آدیواسی اور گاوؤں کی بات کریں تو سارا ہندوستان اس آٹھ پیسے کی ترقی کے ارد گرد گھوم رہاہے ۔
لیکن یہ اتنا بڑا مسئلہ کہاں ہے جو حکومت توجہ دے گی ۔ٹیلی کام اسکینڈل سامنے آتا ہے ۔اے راجہ کو ہٹانا تو دوران سے پوچھ تاچھ کرنے کی ہمت تک وزیر اعظم نہیں جٹاپاتے کیونکہ کرونا ندھی دھمکی دے چکے ہیں ۔حکومت کا کہیں زور نہیں چلتا ، اور اگر چلتا ہے تو بے چارے دانشوروں پر جو صرف آپس میں غریبی ،بیکاری ،بھکمری،نا برابری ،مہنگائی اور موت کے بارے میں  بات کرسکتے ہیں ۔نہ ان میںکچھ کرنے کی طاقت ہے اور نہ ہی ہمت ۔لیکن حکومت کو بات کر نے کا حق بھی گوارہ نہیں ۔وہ اپنی ناکارہ بہادری دانشوروں اور غریبوں پر دکھانا چاہتی ہے ۔
اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ این جی او کی شکل میں کام کرنے والے لوگ دلتوں اوراقلیتوں کے لئے آواز اٹھانے والے لوگ اور اخباروں میں کالم لکھنے والے بہت سے لوگ کسی داروغہ کے شکار کبھی بھی بن جائیں گے ۔کیونکہ وزارت داخلہ نے آدی واسی علاقوںاورپسماندہ علاقوںمیںاس کو یہ حق دے دیا ہے ۔
ماؤنواز تحریک حکومت کے خلاف ہتھیار بند جنگ ہے۔اس سے بڑا دماغی دیوالیہ پن اور کیاہو گا کہ ہندوستانی حکومت صوبوں کی ذمہ داری اپنے ذمہ لے رہی ہے۔جن آٹھ صوبوں میں نکسل واد کا مسئلہ خاص طور سے ہے ان میں صرف ایک میں کانگریس کا وزیر اعلٰی ہے باقی میں غیر کانگریسی وزیر اعلٰی ہیں ۔جبکہ چدمبرم صاحب نے سارے صوبوں کی ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے ۔اس ملک کی بدقسمتی یہی ہے کہ ایسے لوگ فیصلے کر رہے ہیں جن کو ملک میں رہنے والوں کی تکلیف نہیں دکھائی دیتی  ۔اس کے اسباب نظر نہیں آتے ۔وہ ایسے بد دماغ پاگل ڈاکٹر کی طرح ہیں جو اپینڈکس کے درد سے چلانے والے مریض کو ڈانتا ہے کیونکہ اس کے شور وغل سے اس کی نیند میں خلل پڑتا ہے ۔اپوزیشن کے بارے میں بھی کیا کہیں ،جس کو وہی نظر آتا ہے جو اس کو حکومت دکھا تی ہے۔اخبارات نہ ہوں تو اس کے پاس پارلیمنٹ اور اسمبلی میں اٹھانے والے موضوع ہی نہ ہوں اور اخبار نویسوں کو کیا کہیں ؟ بڑے اخبار نویسوں کے رشتے آئی پی ایل سے جگ ظاہر ہیں ،ویر سنگھوی اور برکھا دت کے نام بڑے دلالوں کی طرح لئے جا رہے ہیں ۔لوگوں کے مسائل پر نظر ڈالنا تو دور، جو نظر جارہی ہے اس کو دبانے کا کام اخبار نویسوں کا ایک طبقہ زور وشور سے کر رہا ہے۔
مرکزی حکومت کو اب جاگنا چاہئے کہ تاریخ بھی ایک سچی حقیقت ہے ۔ہم جب بھی ہٹلراورمسو لینی کا نام لیتے ہیں تو نفرت سے لیتے ہیں ۔وزیر اعظم منموہن سنگھ اوروزیرداخلہ پی چدمبرم کوتاریخ جمہوریت پسندلوگوں کے روپ میںیا دکرے،جمہوریت کو بر باد کرنے والوں کے روپ میں نہیں ۔اتنی امید تو ہم کر ہی سکتے ہیں ۔اسی طرح اپوزیشن پارٹیوں اور اخبار نویسوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ اپنے کو بے بس ،بے سہارا ،لاعلم یا خریدے ہو ئے لوگوں کی طرح تاریخ میں درج نہ ہو نے دیں ۔
email: santoshbhartiya@hotmail.com

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *