داڑھی اور برقعہ دہشت گردی کی علامت نہیں

گنگا جمنی تہذیب سے آراستہ یہ میرا چمن ہندوستان ہے جہاں مذہب وملت کے نام پر کوئی تفریق نہیں ہوتی۔ لیکن جیسے جیسے دہشت گردی کا سایہ دنیا کے تمام ممالک میں پھیلتا جارہا ہے ویسے ویسے ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں بھی مسلمانوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھاجانے لگا ہے۔2چیزیں جو مسلمانوں کی خاص شناخت ہیں جس میں ایک داڑھی اور دوسرا برقعہ دونوں کوہی دہشت گردی کی علامت سمجھ لیا گیا ہے ۔یہاں میرے سامنے خبر ہے کہ کولکاتا ہوائی اڈے پر اسپائس جیٹ کی فلائٹ کو ایمرجنسی لینڈنگ کرکے اتارلیا گیا اور وہ اس لئے کہ روس کی ایک برقع پوش خاتون اور اس  کے ساتھی مسافرپر دہشت گرد ہونے کا شک تھا۔ جہاز کے پائلٹ کو اس عورت کے قد وقامت کی وجہ سے ایسا لگا کہ وہ عورت نہیں مرد ہے ۔جہاز کے عملہ نے خاتون سے برقع اٹھانے کے لئے کہا‘جب اس نے جب انکار کیا تو پائلٹ صاحب نے کولکاتا کے ہوائی اڈے پر ایمرجنسی لینڈنگ کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔اور پھر کیا تھا وہی ہوا جو ایک معمولی سی چنگاری سے ہوتا ہے کہ آناً فاناً میں کولکاتہ ہوائی اڈے پر اس خبر سے ہنگامہ مچ گیا کہ دہلی سے ڈھاکہ جارہی اسپائس جیٹ کی فلائٹ پر دو مشتبہ دہشت گرد موجود ہیں۔یہی نہیں جناب ‘بلکہ کولکاتا ہوائی اڈے پر ہنگامی حالات کا اعلان بھی کردیاگیا ۔انسداد دہشت گردی سے متعلق سیکورٹی دستے ‘پولس فورس بم اسکواڈ اور فائر بریگیڈ سمیت سبھی لوگ اس طرح کھڑے ہوگئے جیسے برآمد ہونے والے یقینا دہشت گرد ہی ہونگے ۔سی آئی ایس ایف کے جوانوں اور پولس نے پوری طرح طیارے کو گھیر لیا اور پھر جس طرح ان دونوں کی تلاشی لی گئی اور جس اذیت سے انہیں گزرنا پڑا وہ ایک الگ کہانی ہے ۔ہاں !یہ بتانا بے حد ضروری ہے کہ اس روسی خاتون یا اس کے ساتھی کے پاس سے کوئی بھی قابل اعتراض چیز بر آمد نہیں ہوئی ۔پھر بھی بے حد خطرناک طریقے سے سخت لہجہ میں ان سے بات چیت کی گئی۔یہ خبر کوئی معمولی خبر نہیں ہے ‘جسے سرسری طور پر پڑھ کر گزرا جاسکے ۔اس خبر سے مسلم حلقوں میں نہایت تشویش پائی جاتی ہے اور لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ اگر یہی رویہ ہر طیارہ میں ہر پائلٹ یا ساتھی عملہ نے اپنایا توہر برقع پوش خاتون کو ہوائی سفر کرنے میں بہت ہی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ اس خبر کا ایک حصہ تھا اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جہاز پر سوار ہونے سے قبل چاہے وہ اندرون ملک ہو یا انٹر نیشنل فلائٹ کئی جگہ چیکنگ کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ڈومیسٹک فلائٹ میں بھی 3جگہ چیکنگ ضرور ہوتی ہے ایک تو گیٹ پر ہی جو سیکورٹی آفیسر ہوتا ہے‘ وہ آپ کو دیکھ کر آپ کا ٹکٹ چیک کرکے اورآپ کا شناختی کارڈ چیک کرکے ہی اندر جانے دیتا ہے ۔اور یہ سنی سنائی کی بات نہیں ہے ۔خود مجھے بھی اس طرح کے مراحل سے دسیوں بار گزرنا پڑا ہے اور جب سیکورٹی گارڈ اندر بھیج دیتاہے ‘تو بورڈنگ پر بھی کارڈ لیتے ہوئے بھر پور چیکنگ ہوتی ہے اور شناختی کارڈ دکھاکر ہی بورڈنگ کارڈ ملتا ہے ۔پھر چیک ان کاؤنٹر پر لڑکیاں ہوتی ہیں جو آپ کو پردے کے پیچھے لے جاکر جامہ تلاشی لیتی ہیں اور تبھی ان کی مہر آپ کے بورڈنگ کارڈ پر لگتی ہے ۔
اس کے علاوہ سیکورٹی چیک کے لئے جب مسافر جاتے ہیں تو وہاں بھی خواتین پولس تعینات ہوتی ہے‘ جو سفر کرنے والی خواتین کی برقع اترواکر جانچ پڑتال کرتی ہیں ۔یہاں پھر وہی سوال کھڑا ہوتا ہے کہ اتنی زبردست چیکنگ کے باوجود اگر کوئی اندر جاسکتا ہے تو ہمارے سیکورٹی گارڈ کی نوکریاں خطرے میں ہیں۔دوسرے بورڈنگ پر موجود بورڈنگ آفیسرز کی نوکری خطرے میں ہیں اور پھر چیکنگ پر موجود آفیسرز کی نوکری خطرے میں ہونی چاہئے۔
چلئے مان بھی لیں کہ کوئی دہشت گرد خاتون طیارے تک پہنچ بھی جاتی ہے اور طیارے میں سوار بھی ہوجاتی ہے اور اپنے مذہبی عقیدے کی وجہ سے وہ خاتون برقع اتارنے یا چہرہ دیکھانے سے انکار بھی کردیتی ہے تو اس کے ساتھی مرد کو تمام اونچ نیچ سمجھاکر کسی بھی طرح راضی کیا جاسکتا تھا ۔کیونکہ مسلمان کوئی ایسی اڑیل قوم بھی نہیں ہے کہ اس کو سمجھایا نہ جاسکے ۔جان ہرکسی کو پیاری ہوتی ہے ۔اگر نرم گفتاری سے ان کو تمام بات اور آج کے حالات سے آگاہ کیا جاتا تو یقینا ایمر جنسی لینڈنگ کرانے کی نوبت نہیں آتی ۔پر دیکھا یہ گیا ہے کہ پرقع پوش خاتون یا ڈاڑھی والے مرد حضرات سے ایئر ہوسٹس یا جہاز کا عملہ سختی سے ہی پیش آتا ہے اور جہاز میں سوار ہوتے ہی ان کی نظر انہی لوگوں پر رہتی ہے ‘یہ اسی کا اثر ہوسکتا ہے کہ اس جوڑے سے کسی نے نرمی سے بات نہیں کی ہوگی۔کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو جب کوئی شدید نفرت سے دیکھتا ہے تو آپ بھی ضد میں آجاتے ہیں ۔خیر‘ یہاں بحث یہ نہیں ہے ‘اصل بات یہ ہے کہ ہندوستان میں ہی نہیں پوری دنیامیں مسلمانوں کے خلاف ایک مہم سی چھڑ گئی ہے ایک طرف جہاں طیارہ اترواکر خاتون پر شبہ کرکے ان کو بے عزت کیا جاتا ہے وہیں اس دن کی دوسری خبر بھی ہمارے سامنے ہے۔جہاں اٹلی میں برقع اوڑھنے کی پاداش میں مسلم خاتون پر 500یوروکا جرمانہ کردیا جاتا ہے ۔بلجیئم میں تو برقع پر پہلے ہی پابندی عائد کردی گئی ہے ۔یہاں چہر ہ ڈھانپ کر نکلنے پر 25یورو جرمانہ اور عدم ادائیگی پر سات دنوں کیلئے جیل کی سزاء ہے ۔یہ بل  ابھی بیلجیئم کی پارلیمنٹ کے لوئر ہاؤس میں پاس ہوا ہے ۔پر اگریہ بل بیلجیئم کے سینیٹ سے بھی پاس ہوجاتا ہے تو بیلجیئم میں رہائش پذیر ایسی 400مسلمان خواتین متاثر ہونگی جو اسلامی شریعت کے مطابق سخت پردے کی قائل ہیں ۔روس میںبھی یہ قانون بن گیا ہے کہ برقع پہن کر نکلنے پر 700یورو جرمانہ ہوگا ‘بلکہ ان خواتین کو ورکنگ ویزا اور ریزیڈنس پرمٹ بھی ایشو نہیں کئے جائیں گے ۔وہ ملک جہاں 5ملین مسلم آبادی ہو وہاں یہ فیصلہ لینا مسلمانوں کے لئے تشویشناک تو ہے ہی مگر یہ پھر بھی ان ممالک کی اپنی پالیسی ہے اور وہ اپنے ملک کے قوانین جیسے چاہیں بنائیں ‘جو چاہیں کریں ۔حالانکہ اگر ایمانداری سے دیکھاجائے تو یہ بھی ایک طرح سے غلط ہے ۔پر یہ بہت لمبی بحث ہے ۔ہم اس مسئلے پر بات نہیںکر رہے ہیں کیونکہ یہاں ان ممالک کے قوانین کے بارے میں اگر ہم بات کرنا شروع کردیںگے تو اصل ایشو ہمارے ملک میں ہے ‘ہم اس سے دور ہوجائیں گے۔ان مثالوں کامطلب صرف یہی تھا کہ یہ واضح کردیا جائے کہ مسلمانوں پر تو پوری دنیا میں ہی عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے ‘مگر ہم اپنے ملک کے سیکولر کردار پر جان دیتے ہیں ۔یہ وہ ملک ہے جہاں آج بھی بہت سی ریاستوں‘ شہروں‘گاؤں‘ قصبوں اور دیہاتوں میں ہندو عورتیں بھی چہرہ ڈھک کر چلتی ہیں۔یہ وہ ملک ہے جہاں آج بھی نئی نویلی دلہن چاہے مسلمان ہو ‘ ہندو ہو‘ سکھ ہو یا عیسائی اپنا چہرہ ڈھک کر ہی اپنے گھروں کے بڑوں سے آشیر واد لیتی ہیں۔ایسے گوناگوں تہذیب وتمدن والے ملک میں مسلمانوں سے کچھ خاص قسم کی چھیڑ بھی چل گئی ہے ۔کیونکہ ہر جگہ ڈاڑھی والوں پر شبہ کیا جاتا ہے ‘ہر جگہ برقع پوش خاتون کو شک وشبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ہمارے اس سیکولر ملک میں ہر مذہب کے لوگوں کو پوری طرح کی مذہبی آزادی حاصل ہے ۔وہ جیسے چاہیں اپنے مذہبی فرائض کو انجام دے سکتے ہیں اور اپنے مذہب کے مطابق کپڑے زیب تن کر سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ مذہبی طور پر جو نشانیاں ضروری سمجھی گئی ہیں ‘انہیں اپنا سکتے ہیں ‘مثلاً سکھ حضرات کرپان رکھتے ہیں ‘ہندو جنیو باندھتے ہیں ‘اسی طرح مسلمان بھی شرعی پاجامہ یا داڑھی رکھ سکتے ہیں ۔مگر جب مسلمان اس مذہبی آزادی کا استعمال کرتے ہیں تو انہیں ہر طرف سے ذلیل وخوار کیا جاتا ہے ۔ مسلم نوجوان اگر اکٹھے ہوکر کہیں گھومنے پھرنے نکل جاتے ہیں تو پولس ان کی گاڑی روک کر ان سے دسیوں سوالات کرلیتی ہے‘بلکہ یہ تک ہونے لگا ہے کہ پولس الرٹ ہوجاتی ہے اور ہزاروں لنک ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکال لیتی ہے  پر وہ یہ بھول جاتی ہے کہ جب قصاب کو پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے تو یہی مسلمان اپنے ملک کے دشمن کو نفرت سے دیکھتے ہیں ۔اور اس پھانسی کی سزا کا پر جوش خیر مقدم کرتے ہیں ۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *