کانگریس جوا نہ کھیلے تو بہتر ہے

کانگریس کو تھوڑی احتیاط برتنی چاہئے،بجٹ سیشن کے اس دوسرے دور میں اس کے لئے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے ،خواتین یرزرویشن بل راجیہ سبھا کے بعد لوک سبھا میں پاس ہو نا ہے،محترمہ سونیا گا ندھی کی صاف ہدایت ہے کہ اس بل کو ہر حال میں پاس کرانا ہے ،انہیں برندا کرات ،سشما سوراج ،جیسے بہی خواہوں نے سمجھا یا ہے کہ اگر انہوں نے یہ بل پاس کرادیا تو وہ تاریخ میں امر ہو جا ئینگی اور ان کا نام لینن اور ماؤ کی طرح ہمیشہ یا دکیاجا ئیگا ،لیکن یہی خواتیں رہنما نہیں چا ہتیں کہ خواتین کو مردوں کے برابر روزگار کے مواقع حاصل ہوں ،اورانہیں معاشی آزادی حاصل ہو ،وہ اس بارے میں کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتیں ،وہ کانگریس ،بی جے پی اور سی پی ایم کے ساتھ مل کر یہ قانون کیوں نہیں بنا تیںکہ ملک کی سرکاری اور پرائیوٹ دونوں جگہ ملازمتوں میں خواتین کے لئے  33فیصد ریزرویشن ضروری ہے ۔
دراصل دونوں خواتین نے کانگریس کو اپنے جال میں الجھا لیا ہے ،خواتین ریزرویشن بل جب پا س ہو گا تب پاس ہو گا لیکن اس سے قبل ہی کانگریس نے اپنے کچھ ساتھیوں کو خود سے دور کر دیا ہے ،ملائم سنگھ یادو ،لا لو یا دو ،اور مایا وتی اس بل پر کانگریس کے ساتھ نہیں ہیں ۔بی جے پی چاہتی ہے کہ یہ دوری اتنی بڑھ جائے اوران میں اتنا من مٹاؤ ہو جائے کہ یہ فا ئننس بل پر کٹوتی تجویز لا ئیںاور اس وقت بی جے پی اور سی پی ایم ان کے ساتھ مل کر ووٹ ڈال دے ،اس حالت میں حکومت گرے گی اور وسط مدتی انتخابا ت ہو نگے ۔
وسط مدتی انتخاب کے صرف قیاس اور اندازے  نہیں ہیں،اس خطرے کو کانگریس میں جو سب سے زیا دہ سمجھتاہے وہ ہیں منموہن سنگھ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت چلے  ،وہ شا ید اس حق میںہیں کہ اگر ٹالنا ہو تو ٹال دیاجائے ،جب لوگ تیار ہو جائیں یا کوئی متفقہ حل نکل آئے تبھی اسکو بحث ومباحثہ کے لئے رکھا جائے اور ووٹنگ ہو ،لیکن ان رپورٹوں کو کیا کریں گے جو کانگریس صدر کے پا س بھیجی جا رہی ہیں ،ایک رپورٹ کہتی ہے کہ ملک کی تمام خواتین کانگریس کو ووٹ دینگی اور پارٹی چار سو سے زیادہ سیٹیں جیتے گی ،دوسری رپورٹ کہتی ہے کہ ملک کا پورا جوان طبقہ راہل گا ندھی کے نام پر کانگریس کو ووٹ دے گا  اور جو کسر با قی رہ جائے گی اس کو نوجوان پو را کر دیں گے ۔
ہو سکتا ہے یہ رپورٹ درست ہو ں، لیکن ایسی رپورٹ پر جب بھی انتخابات ہو ئے نتیجہ بہت اچھا بر آمد نہیںہوا،راجیو گاندھی نے چندر شیکھر کی حکومت گراکر اس امید میں انتخابات کرائے تھے کہ ان کو اکثریت ملے گی لیکن بد قسمتی سے وہ ان کی زندگی کا آخری انتخاب ثابت ہو ا،ان کے انتقال کی وجہ سے دو مرحلوںمیں یہ انتخاب ہوئے ،جب نتائج سامنے آئے تو معلوم ہوا کہ ان کے انتقال سے قبل کی ووٹنگ میں ان کی پارٹی کو بری طرح شکست ہو ئی تھی ۔لیکن انتقال کے بعد جہاں جہاں ووٹنگ ہوئی وہاں سے بڑے اچھے ووٹوں سے جیتے ،اس کا مطلب یہ کہ اگر ان کا انتقال نہ ہوا ہو تا تو کانگریس کو اس انتخاب میں شکست ہو جاتی،اس کے بعد بھی نر سمہا راؤ کی وزارت عظمی کو اکثریت والی حکومت کا سکون نصیب نہیں ہوا ، انہیں اقلیت کی حکومت ہی چلا نی پڑی ۔
اٹل بہاری واجپئی نے بھی شائننگ انڈیاکے لالچ میں ہی پہلے انتخاب کرا یا تھا لیکن بی جے پی کو بری طرح شکست ہوئی،ممکنہ وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی کے نام پر بھی بی جے پی کو شکست نصیب ہو ئی ،اوراب یہ جوا کانگریس کھیلنا چاہتی ہے اگر وہ نہ کھیلے تو زیادہ بہتر ہے ۔
کانگریس میں کچھ ایسی خامیاں ہیں جنہیں وہ دور کر نا ہی نہیں چاہتی ،بہار اور اتر پردیش اس کی مثال ہیں ،بہار میں کانگریس کو ووٹ مل سکتے ہیں لیکن کانگریس کے پاس کو ئی چہرہ ہی نہیں ہے ،جب ریاستی پارٹی کی صدارت کے لئے کوئی نام ان کے پا س نہیں ہے تو وزیر اعلی کو ن بنے گااس پر وہاں اندھیرا ہی اندھیرا ہے ،چوتھے نمبر پر آنیوالی پارٹی اس طرح انتخاب لڑرہی ہے جیسے اسمبلی انتخابات  میں اسی کو کمان سنبھالناہے ۔
اتر پردیش کی بھی یہی کہانی ہے موجودہ صدروہاں سب کچھ کر رہی ہیں جی جان لگا رہی ہیںلیکن اثر نہیں چھوڑ پا رہی ہیں ،اب راہل گاندھی کی رتھ یاترا شروع ہو نے جا ہی ہے ،نہ پارٹی میں لیڈر ہیں اور نہ منصوبہ سازی کر نے والے لوگ،اس رتھ یاتر اکے بعد جمع ہوئی پونجی کو بٹورے گا کون ؟
اتر پردیش میں صرف دو نام نظر آتے ہیں سنجے سنگھ اور راج ببر ،سنجے سنگھ کو دس جن پتھ یہ ذمہ داری دینا نہیں چاہتا جس کی سب اہم وجہ یہ ہے کہ کہیں وہ اپنا آزادوجود نہ بنا لیں دوسری جانب راج ببر یہ ذمہ داری لینا نہیں چاہتے، فیروز آباد کی سیٹ جیتنے کے بعد اتر پردیش میںراج ببر قد کافی بڑھ گیا ہے ،وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر انہوں نے یہ ذمہ داری لے لی تو سب ان کے سر آجائیگا ۔
جو بھی ان ریاستوں میں کانگریس کے تئیں بیداری کے بارے میں سوچتا ہو اسے سنجیدگی سے سوچنا چاہئے لیکن شاید جب سے راہل گاندھی نے کما ن سنبھالی ہے تب سے کوئی کچھ سوچنے کے خطرے میں پڑنا ہی نہیں چاہتا ،جو را ہل گاندھی کرنا چاہیں کریں ان سے کو ئی مطلب نہیں ،اس کا مطلب کہ ان صوبوں میں ایک پارٹی ہو نے کے ناتے ساری پہل اب راہل گا ندھی کے ہاتھ میں ہے ۔
جھارکھنڈ کے انتخاب کو ابھی چند مہینے ہی گذرے ہیں ،انہی اسباب کی بناپر کانگریس اندازہ لگا رہی تھی کہ حکومت اس کی بنے گی ،لیکن نہیں بن پائی ،اب بہار اور اتر پردیش میں انتخاب ہو نے والے ہیں ،کانگریس سے پسماندہ ذات کے لوگ دور ہیں ،کانگریس سے دلت دور ہیں ،کانگریس کے ساتھ مسلمان آنے سے جھجھک  رہے ہیں ،ان طبقوں سے بات چیت کر نے والا کا نگریس میں کو ئی نہیں ہے ،شاید راہل گاندھی اس طریقے کو ہی غلط مانتے ہیں ،ان کا خیال ہے کہ نوجوان طبقہ منظم ہو کر ان کی حمایت کرے گا ،ہو سکتا ہے یہ صحیح ہو ،لیکن ابھی اس سوچ میں زیادہ دم نہیں دکھائی دیتا ،راہل گاندھی سے امید کرنی چاہئے کہ وہ ہر سماج کے مختلف طبقوںکے مسائل کی گہرائی کو اس کے صحیح روپ میں سمجھیں گے اس کے بعد ہی  مختلف طبقات کی کانگریس سے بات چیت شروع ہو سکتی ہے ۔
کانگریس بنے یا بگڑے ہمیں اس سے کو ئی سرو کار نہیںہے ،لیکن کانگریس ملک میں حکومت کی قیادت کر رہی ہے اوراس کے ساتھ کئی پرانی قدریں جڑی ہو ئی ہیں ، اس کے علاوہ اور کئی پرانی وجوہات ہیں جن میں ملک کے بہت سے لوگو ں کو یقین ہے ،ملک میں جمہوریت قائم رہے ،اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت میں شامل تمام پارٹیاں لوگوں کے مسائل کو ان کے معاشرے کی بنیاد پر سمجھیں ،اگر ایسا نہیں ہو تا تو دانتے واڑہ میں نکسلی حملہ بار بار دہرایا جا تا رہے گا ،ہتھیاروں سے جنگ میں دشمن کو مارا جا تا ہے ،اپنے ہی ملک میں رہنے والوں کے ساتھ چل رہے تصادم کو اگر ہم جنگ کہنے لگیں تو ہم ایک طرف جمہورت کے خلاف ایک اور کام کر رہے ہیں اوردوسری طر ف ملک کو تقسیم کرنے میں مدد کر رہے ہیں ۔
کانگریس کو اپنے مکمل نظرئیے پر غورو فکر کر نا چاہئے  اور ملک میں رہنے والوں کو نہ صرف سیاسی بلکہ سماجی حل دینے میں بھی اپنی قوت صرف کرنی چاہئے ۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *