امریکہ پاکستان کو افغانستان نہ بنادے

وسیم راشد

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی اس دھمکی کے بعد کہ اگر آئندہ ٹائمز اسکوائر جیسے واقعات ہوئے تو اس کے نتائج پاکستان کو بھگتنے پڑیںگے۔ساتھ ہی  ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پاکستان کے بعض افسران کو اسامہ اور ملا عمر کے ٹھکانوں کا پتہ معلوم ہے۔ دہشت گردی کے تعلق سے اب امریکہ کا یہ موقف بن گیا ہے کہ وہ خو د ہی دہشت گردی اور دہشت گردوں کے نام، پتے اور ٹھکانے طے کرلیتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے کہ اس نے عراق اور افغانستان کے لیے طے کرلیا تھا اور اس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔ عراق کی طویل جنگ نے آج تک بھی وہاں کی عوام کو پنپنے نہیں دیا۔ یہی حال افغانستان کا ہے، آج وہاں کے حالات اور وہاں کی اقتصادی حالت کسی بھی طرح صومالیہ سے کم نہیں ہے۔ نوجوان نسل نے جس طرح افغانستان میں ہتھیار اٹھالیے ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکہ کی بڑھتی دخل اندازی نے وہاں کے عوام وخواص اور نوجوان نسل کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اب جو کرنا ہے انہیں خود ہی کرنا ہے، اس لیے جگہ جگہ امریکی جوانوں کو مارنے کے لیے بم رکھ دیے جاتے ہیں۔ ہلیری کلنٹن کے اب تک کے دیے گئے بیانات میں سے تازہ بیان اس لیے بے حد اہم ہے، کیوںکہ اس سے مستقبل کے خطرے کا اشارہ ملتا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی حکومت کی خاموشی یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ کے اس بیان سے حکومت بھی کسی نہ کسی طرح دباؤ میں آگئی ہے۔ شاہ محمود قریشی کا بیان اس ضمن میں بہت اہم ہے کہ انہوں نے کہا کہ یہ ڈرون حملوں کا اثر ہے اور یہ بھی تسلیم کرلیا کہ ٹائمز اسکوائر جیسے واقعات میں پاکستانی طالبان کا ہاتھ ہے۔ یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ پاکستان کے اہم عہدوں پر فائز ذمہ داران جو بیانات دے رہے ہیں، وہ بغیر سوچے سمجھے ہی دے رہے ہیں، لیکن ان کو ان بیانات کی سنگینی کا شاید احساس نہیں ہو رہا ہے کہ یہ معمولی باتیں اور یہ اعتراف کس حد تک پاکستان کے آئندہ معاشی ، سیاسی، سماجی اور اقتصادی ڈھانچے میں تبدیلی لاسکتا ہے۔ ایک بات اور بھی قابل حیرت ہے کہ آرمی چیف کیوں خاموش ہیں۔ا س خاموشی کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ گزشتہ ماہ واشنگٹن میں ہوئے اسٹریٹجک ڈائلاگ میں امریکہ کو اس بات کا احساس تھا کہ اس نے کافی باتیں منوالی ہیں، لیکن ہوا اس کے برخلاف۔ جب آرمی چیف وطن واپس آئے اور صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیا پاکستانی فوج شمالی وزیرستان میںآپریشن کرے گی اور امریکہ اور اس کی اتحادی ناٹو افواج کی افغانستان میں مدد کرے گی تو آرمی چیف کابڑا ہی واضح جواب تھا کہ پاکستانی فوج شمالی وزیرستان میں جنوبی وزیرستان کی طرح کا کوئی آپریشن کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی سرحدوں کے پار امریکہ اور ناٹو افواج کی کسی طرح کی مدد کرنے کا کوئی ارادہ ہے۔ اس سے یقینا امریکہ کی امیدوں پر پانی پھر گیا اور اس کے بعد بدقسمتی سے ٹائمز اسکوائر کا حادثہ ہوا، لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ آرمی چیف اور حکومت کے اعلیٰ عہدیداران امریکہ کو دوٹوک جواب دیں اور ہلیری کلنٹن کو بھی یہ بات سمجھائی جائے کہ ان کا یہ بیان کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔ اس سے پاکستان میں اور انتشار اور اشتعال پھیلے گا۔ پاکستان کی اندرونی حالت تو ویسے ہی بہت خراب ہے، وہاں کے نوجوانوں نے تو خود ہتھیار اٹھالیے ہیں۔ ہر دسویں نوجوان کے ہاتھ میں گن ہے۔ بے روزگاری نے ان کو چوری، ڈکیتی اور لوٹ مار پر مجبور کردیا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ گن پوائنٹ پر دن دھاڑے خواتین کو لوٹ لیا جاتا ہے۔ پوری کی پوری بارات لٹ جاتی ہے۔پورا ملک انتشار کا شکار ہے۔ اب اگر امریکہ کے اس بیان کو ملک کے نوجوان سنجیدگی سے لے لیتے ہیں تو پورے ملک میں آگ لگ جائے گی، ویسے بھی وہاں کی اقتصادی حالت نے ملک میں آگ ہی لگا رکھی ہے۔ عوام جہاں مہنگائی کے بوجھ سے بے حال ہیں، وہیں بنیادی ضرورتوں جیسے بجلی پانی کے فقدان نے بھی ان کی کمر توڑ دی ہے۔ امریکہ افغانستان میں ایک طرح سے شکست کھا چکا ہے، لیکن وہاں سے جاتے جاتے وہ ایک بار پھر افغانستان کو خانہ جنگی کی آگ میں دھکیل دینا چاہتا ہے۔ اگر افغانستان میں خانہ جنگی ہوئی تو پورا پاکستان اس کی زد میں آجائے گا۔ افغانستان کے لوگوں کو تیسری بار دھوکہ مل رہا ہے۔ پہلے جو مجاہدین تھے امریکہ کی نظر میں وہ جہادی اور طالبان بن گئے ہیں اور امریکہ ان کو اقتدار میں شراکت داری کرانے پر آمادہ نہیں ہے۔ اب ہلیری کے اس بیان کے بعد یوں تو صدر آصف علی زرداری، وزیر اعطم یوسف رضا گیلانی اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ایک میٹنگ کر کے کافی اہم فیصلے کیے ہیں، جن میں ایک فیصلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کسی ملک کے دباؤ میں آکر آپریشن نہیں کرے گا۔ پاکستانی حکومت کے اس طرح کے فیصلے ہوتے رہتے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت اپنے آپ کو ہر طرف سے بچا کر حکومت چلاتے رہی، یعنی دونوں ہاتھوں میں لڈو رہیں۔ ایک طرف فوجی اختیارات اور آزادانہ فوجی اقدامات کی بات کی جاتی ہے تو دوسری طرف اس بات سے بھی خائف ہیں کہ فوج کو زیادہ اختیارات دینے سے کہیں وہ اقتدار پر قبضہ نہ کرلے۔ ایسے حالات میں پارلیمنٹ کو اختیارات دیے جائیں کہ وہ ملک کے مفاد میں اہم فیصلے کرے، پوری ذمہ داری فوج پر نہ ڈالی جائے۔دہشت گردوں نے ساری دنیا کے امن کو متاثر کیا ہے اور اس کی عالمی سطح پر مذمت کی جارہی ہے۔ اسلامی ممالک میں بھی دہشت گردوں کے خلاف سخت نفرت پائی جاتی ہے۔ بلاشبہ امریکہ میں نیویارک ٹائمز اسکوائر پر بم حملہ کی ناکام کوشش اور اس سلسلہ میں امریکہ کی تشویش اپنی جگہ درست ہے، لیکن اس پورے تناظر کو عالمی دہشت گردی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے نہ کہ صرف پاکستان کے حوالے سے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *