وزیر اعظم کے عہدہ کی دوڑ میں بابا رام دیو

جس کام کو راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ نہیں کر سکے، جسے کرنے کی امید لئے وشو ہندو پرشید بوڑھی ہونے لگی ہے اور بی جے پی کے جذباتی وزیر اعظم کا نام اعلان کرنے کے بعد بھی اس خواب کی جانب ایک قدم نہیں بڑھا پائی ہے، اس کام کو اب ایک بابا پورا کرنا چاہتا ہے۔ اس بابا نے انگلینڈ میں ایک پورا آئی لینڈ خرید لیا ہے، اس نے امریکہ کے ہیوسٹن میں تقریباً تین سو ایکڑ زمین خرید لی ہے۔ آج اس سادھو کے پاس ایک تخمینہ کے مطابق، 60سے 70کروڑ کی بادشاہت ہے۔ گزشتہ دس سالوں میں اس سادھو بابا کی کامیابی کی ایسی کہانی رقم ہوئی ہے، جس کی کوئی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ آج یہ بابا ملک کی تمام 542پارلیمانی سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا منصوبہ بنا کر اس پر عمل کر رہا ہے۔ بی جے پی اور کانگریس اس کی اس حکمت عملی سے پریشانی محسوس کر رہی ہیں۔ الیکشن لڑنے کے لئے سیاسی جماعتوں یا ایماندار حکمرانوں کو بھلے ہی پیسے کی کمی ہو، لیکن بابا کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ الیکشن جیتنے کے لئے زیادہ سے زیادہ جتنے پیسے کی ضرورت ہوگی، اس کا انتظام کیسے کرنا ہے اس کا پورا نقشہ بابا کے دماغ میں تیار ہے۔آیئے، آپ کو تفصیل سے بابا رام دیو کے بارے میں بتاتے اور روشناس کراتے ہیں۔
امریکہ میں صدراتی عہدہ کا انتخاب ہرچارسال میں ہوتا ہے اور وہاں کی تشہیر کرنے والی اور حکمت عملی بنانے والی ایجنسیاں ایک الیکشن ختم ہوتے ہی اگلے چار سال بعد ہونے والے انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ اب تک ہندوستان میں ایسا نہیں ہوا، مگر لگتا ہے کہ دماغ رکھنے والے گروپوں نے متحد ہو کر بابا رام دیو کی حکمت عملی بنائی ہے اور 2014میں ہونے والے عام انتخابات میں انہیں وزیر اعظم بنانے کی آخری بازی چل دی ہے۔ یہ گروپ ہو سکتا ہے دیسی ہو، لیکن غیر ملکی بھی ہو سکتا ہے۔لندن کے پاس کا آئی لینڈ اور ہیوسٹن کی زمین کچھ تو اشارے کر ہی رہی ہے۔
بابا نے ملک میں یوگ سکھانے کا آغاز کیا۔ بابا سے پہلے یوگ اپنے ملک میں میں کم، بیرون ممالک میں ’یوگا‘ کے نام سے زیادہ جانا جاتا تھا۔ ہمارے یہاں سے یوگ جاننے والے غیر ملکیوں میں جاکر بڑے دولتمند سوامی بن گئے۔وہاں جائیدادیں بھی خرید لیں۔ بابا نے ملک میں یوگا کو یوگ کی شکل میں از سر نو شروع کیا اور یوگ کو لے کر ایک نئی بیداری پیدا کی۔ نرم سنگھ راﺅ کی رواداری کی پالیسیوں کے بعد ملک میں پیسے کی تیزی سے آمد ہوئی، جس نے متوسط طبقہ اور اعلیٰ طبقہ کی طرز زندگی پر خاصا اثر ڈالا۔ جسم بے ڈول ہوا، بیماریاں بڑھیں۔ شوگر اور دل کی بیماریوں نے تو سردی زکام کی جگہ لے لی۔ بابا کے یوگ کی مارکیٹنگ نے لوگوں کو راغب کیا۔
انہیں دنوں ٹیلی ویژن آیا۔ سہارا گروپ کے مالک سبرت رائے نے سب سے پہلے بابا کو اپنے ٹیلی ویژن پر اتارا۔ بڑے میدان میں یوگ کے عام رقص کو ٹیلی ویژن کے ذریعہ دکھایا۔ اس میں سب سے بڑی افادیت بابا کے پیٹ کھینچنے کے یوگک اسٹائل نے دی۔پیٹ نکلنے کے احسا س کمتری کے شکار لوگوں نے اسے ایک سنہری موقع کے طور پر لیا۔ پیسے والوں میں یہ بیماری عام ہے، خصوصاً ان کی بیویوں کو لگا کہ بابا کا یوگ انہیں حسین اور جوان بنا دے گا۔ ان کا سوچنا غلط نہیں تھا۔ مسلسل یوگ کرنے سے یہ ممکن ہو سکتا تھا۔ کئی لوگوں کو اس کا فائدہ بھی ہوا۔ سبرت رائے کے سب سے قریبی ساتھی او پی شریواستو اور ان کی بیوی کو بھی اس کا فائدہ ملا۔ ان کی بیوی نے بابا رام دیو کو اپنا بھائی بنا لیا۔ سبرت رائے کا سامراج او پی شریواستو ہی چلاتے ہیں ۔بابا رام دیو کے ملک گیر دورہ اور ان کی شخصیت کو مقبول بنانے کے منصوبے عملی شکل اختیار کرنے لگے۔
بابا رام دیو کی یوگا اسٹائل کی سی ڈی تیار کی گئی اور انہیں تقریباً ہر ٹیلی ویژن پر صبح اور شام چلوایا جانے لگا۔ ملک کی عوام ان سے انجان تھی اور اس نے بابا رام دیو کے بارے میں جاننا اور پوچھنا شروع کر دیا۔ بابا کے بڑے میدانوں میں یوگا کیمپ کی سی ڈی اور ویڈیو کیسٹ بنا کر فروخت کئے جانے لگے۔ جن بیماریوں سے پیسے والے متاثر ہیں، انہیں سے حکمراں بھی متاثر ہیں۔ وزرا، اراکین پارلیمنٹ، وزراءاعلیٰ نے بھی بابا سے رابطہ کرنا شروع کر دیا۔ اور ، یہیں سے بابا رام دیو اراکین اقتدار کے ڈرائنگ روم، کچن روم اور بیڈ روم میں گھس گئے۔ بابا نے یوگ سکھانے کو بنیادی راستہ بنایا۔آپ خیریت سے ہیں تو سارا ملک خیریت سے ہے۔ بابا نے ہندوستان کے ہر حصے میں گھومنے کا پروگرام بنایا اور لوگوں سے رابطہ کا اہم ذریعہ یوگ کو بنایا۔بابا بیرون ممالک میں بھی گئے، ان کا منصوبہ بنانے والوں کو معلوم تھا کہ بغیر بیرون ملک میں ساکھ بنائے ہندوستان میں بابا کو طاقتور نہیں بنا جا سکتا، کیونکہ دنیا گلوبل ہو گئی ہے۔ اسی کڑی میں بابا رام دیو نے یوگ کے لئے پتنجلی یوگ پیٹھ ٹرسٹ بنایا اور ’بھارت سوابھیمان ‘کے نام سے تحریک کا آغاز کیا۔
بابا رام دیو ہردوار میں گرو شنکر دیو کے طالب علم تھے اور سائیکل پر چلتے تھے۔ انہیں سائیکل پر چلتے دیکھنے والوں کی بڑی تعداد ہے۔ اب گرو شنکر دیو کا کچھ پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں، نہ دیکھے جانے سے پہلے وہ بہت غمگین تھے، ایسا ہردوار میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے ۔کہاں ہیں گرو شنکر دیو، اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے اور بابا رام دیو تو اس پر بالکل خاموش ہیں۔ گرو کی عبادت خدا سے پہلے کی جاتی ہے،”گرو گووند دوﺅ کھڑے، کاکے لاگو پائے، بلیہاری گرو آپ نے، جن گووند دیو بتائے“ پر بابا رام دیو نے کبھی اپنے گرو کا نام کہیں،کسی بھی حالت میں نہیں ہے۔
بابا رام دیو کے سب سے بھروسہ مند ساتھی بال کشن مہاراج ہیں۔ بابا جنہیں بھی لاتے ہیں یا جنہیں کھینچتے یا اپنی جانب راغب کرتے ہیں، انہیں صلاح و مشورہ کرنے کا کام بال کشن مہاراج کرتے ہیں۔ بابا کے پیچھے رہنے والے بال کشن مہاراج نے بابا کے آیوروید کا سامراج کھڑا کیا ہے۔ پہلے آیوروید کو ہندوستان میں گلیمر میڈیسن کی شکل میں نہیں دیکھا جاتا تھا۔ جڑی بوٹیوں کو عزت دلانے میں، گلیمرس بنانے میں بال کشن مہاراج کی بڑی افادیت ہے۔ آج بابا رام دیو کو ایک برانڈ بنانے میں سب سے بڑی افادیت بال کشن مہاراج کی ہے۔ آج بابا سب کچھ فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ آٹا، آنولہ، پھلوں کا رس، ادویات، یہاں تک کہ اب وہ پانی بھی فروخت کرنے جا رہے ہیں۔ اوراس سب کے پیچھے بابا کے بھروسہ مند بال کشن مہاراج ہی ہیں۔
اب تک بابا رام دیو کو بی جے پی کے لوگ ہندوتو کا علمبردار مان رہے تھے اور کانگریس انہیں آر ایس ایس کا خفیہ ایجنٹ مان رہی تھی۔ مسلمانوں کے ایک حصہ کو ان میں سیکولرزم دکھائی دے رہا تھا۔ سب سے پہلے بابا کے مسلم لیڈران سے رشتوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ بابا نے ایک بات سمجھ لی کہ اگر ہندوستان میں سیاسی طور پر کچھ کرنا ہے تو بغیر مسلمانوں کے ممکن نہیں ہے، کیونکہ ان کی آبادی 18فیصد کے آس پاس ہے۔ اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی بی جے پی اور قدم آج تک نہیں اٹھا پائی۔ بابا نے سب سے پہلے مسلم علماءسے رابطہ کیا۔ بے حد پرکھنے کے بعد انھوں نے مذہبی رہنما کلب رشید رضوی سے رابطہ کیا۔
مہینوں کی بات چیت کے بعد بابا نے انہیں اپنے پروگراموں میں آنے کی پیشکش کی۔ مولانا کلب رشید رضوی کی تقاریر سے متاثر ہو کر، بابا انہیں اپنے پاس بٹھانے لگے اور ان کے ذریعہ مسلم سماج سے رابطہ کرنا شروع کیا۔ بابا کی اس کوشش کا نتیجہ جلد ہی سامنے آ گیا، جب جمعیة علمائے ہند کے مولانا محمود مدنی نے ایک بڑے جلسہ میں انہیں دیوبند آنے کی دعوت دی۔
دیو بند مسلمانوں میں انتہائی عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، بلکہ یہاں سے جاری کی گئی تمام باتیں اور اصلاحات فتوے کا اثر رکھتی ہیں۔ بابا رام دیو دیو بند گئے اور انھوں نے لاکھوں مسلمانوں کے اجتماع کو خطاب کیا۔ یہ خطاب انھوں نے قرآن شریف کی آیات سے شروع کیا۔ اس درمیان دیو بند سے کہا جا چکا تھا کہ وندے ماترم گانا غیر اسلامی ہے۔ بابا نے وہاں موجود لاکھوں کی تعداد میں اجتماع میں موجود اہم علماءسے کہا کہ جب میں قرآن کی آیت پڑھ کر مسلمان نہیں بن سکتا، تب آپ وندے ماترم پڑھ کر ہندو کیسے بن سکتے ہیں؟ انھوں نے وہاں موجود علماءسے یوگ کرنے کے لئے کہا، کیونکہ سبھی کے پیٹ نکل گئے ہیں۔ مسلم سماج کو بابا رام دیو میں ایسا سادھو نظر آیا، جو راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ یا وشو ہندو پرشید سے بالکل مختلف قسم کا سادھو ہے۔ مولانا مدنی نے بابا کی ملک کو بنانے کی کوشش میں تعاون دینے کا وعدہ کیا۔بابا کا بڑا مقصد پورا ہو گیا اور انہیں مسلم سماج ایک الگ نظر سے دیکھنے لگا۔
وشو ہندو پرشید یا بی جے پی سے الگ بابا رام دیو نے مذہب کی جگہ تہذیب کا سہارا لیا۔ بابا کو معلوم ہے کہ گجرات میں نوراتر میں مسلمان ڈانڈیا کھیلتے ہیں اور27واں روزہ شب قدر کا ہندو عورتیں رکھتی ہیں۔ بابا اس بات کو کہتے بھی ہیں اور سمجھاتے بھی ہیں ۔ اس لئے ان کی تعلیمات ہندو مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے علماﺅں سے بہت زیادہ ہیں۔ ایک مسلم مذہبی رہنما نے کہا کہ پتہ نہیں چولی کے پیچھے کیا ہے، مگر دکھنے میں چولی اچھی دکھائی دیتی ہے۔
مولانا کلب رشید رضوی کا ذکر ایک بار پھر کرنا چاہیں گے۔ بابا کے ساتھ جلسوں کے علاوہ بابا انہیں اپنے ٹی وی چینل پر بھی لاتے ہیں۔ ہردوار میں پتنجلی دوئم کے افتتاح کے موقع پر انھوں نے مولانا سے کہا ، آپ سے دل ملتا ہے، باقی سے آنکھیں ملتی ہیں۔ انھوں نے اس موقع پر منعقد اجلاس میں کہا کہ وہ 18کروڑ مسلمانوں میں سے ہیرا منتخب کر کے لائے ہیں۔ کہنا چاہئے کہ بابا نے اپنے ساتھ مسلمانوں، سکھوں، جینیوں اور عیسائیوں کے ایسے مذہبی رہنماﺅں کو لیا ہے، جن کی خوبیاں اور شبیہ سماج میں اچھی ہے۔ بابا نے 2009سے 2010اپریل تک ہر ریاست سے لوگوں کو ہریدوار میں بلایا اور پتنجلی یوگ پیٹھ میں بڑے بڑے کیمپ لگائے۔ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے جیسے ڈاکٹر ، ،چارٹڈ اکاﺅنٹنٹ ، اساتذہ، سینئر پروفیسر اور ان کے مطابق ملک سے پیار کرنے والے ایماندار لوگوں کے 8-8دنوں کے کیمپ لگائے گئے۔ ان کیمپوں کے آخر میں تمام لوگو ں کو کو صحت کی حفاظت، یوگ کی تعلیم اور ملک میں شریفوں کو جینے کا حق دلانے کے لئے لڑنے کا عزم دلایا گیا۔
بابا نے اپنا آخری غیر ملکی دورہ ابھی ابھی ختم کیا ہے۔ وہ نیپال گئے تھے اور وہاں انھوں نے ماﺅنواز لیڈر پرچنڈ سے سیاسی بات کی اور انہیں بھی اپنی مہم میں شامل کرنے کے لئے تیار کر لیا۔ اب بابا غیر ممالک نہیں جائیں گے، بلکہ ملک کے ہر حصہ میں گھومیں گے۔ اپریل کے بعد یعنی اسی ماہ کے بعد بابا ایک ملک گیر تحریک کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔انھوں نے بھارت سوابھیمان ٹرسٹ بنایا ہے اور اس کی سیاسی برانچ بھارت سوابھیمان جوان بنائی ہے۔ یہ بھارت سوابھیمان جوان ہی اس سال سیاسی جماعت کی شکل میں بدل جائے گی، جو لوک سبھا کا انتخاب لڑے گی۔ بغیر برادری کو بنیاد بنائے قوم کے بارے میں سوچنے والے جیتیں، ایسا بابا کا کہنا ہے۔ بابا نے ایک اور بات کہی ہے کہ ہندو مسلمانوں کو جتائیں اور مسلمان ہندوﺅں کو۔ بابا کا منصوبہ ہے کہ 2014تک بھارت سوابھیمان ٹرسٹ کے اراکین کی تعداد پچاس کروڑ ہو جائے۔
بابا رام دیو ہندوستان کی سیاست بدل دینا چاہتے ہیں۔ وہ تمام لوک سبھا سیٹوں پر انتخاب لڑنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ بیس سالوں میں یہ کام بی جے پی بھی نہیں کر پائی۔ اس کے پاس تمام پارلیمانی سیٹوں پرلڑنے والے امیدوار ہی نہیں دستیاب ہو پائے۔ بابا رام دیو کی پتنجلی یوگ پیٹھ میں ایک بھی مندر نہیں ہے اور نہ ہی وہ آج ہندو مذہب کو اپنا ’دھوج واہک‘ مانتے ہیں۔ اوشو رجنیش کے پاس مذہب اور دولت کا بڑا سامراج ہے۔ انھوں نے اپنے کو خدا کہلوانا شروع کر دیا تھا۔ مہارشی مہیش ہوگی کا ہیڈ کوارٹر ہالینڈ میں تھا اور تقریباً60ممالک میں ان کی یونیورسٹیاں تھیں۔ ہندوستان میں ان کے طلباءمیں رام ناتھ گوئنکا سے لے کر وزراءکی بڑی فوج تھی، مگر یہ خواب تو وہ بھی نہیں دیکھ پائے۔ بابا رام دیو 2014میں لوک سبھا کا الیکشن پوری تیاری کے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں۔ وہ دو ہزار گیارہ میں چھ لاکھ لوگوں سے ذاتی طور سے ملنا چاہتے ہیں۔ ملک بھر میں پھیلے ان چھ لاکھ لوگوں کی انتخابی کمیٹی لوک سبھا انتخابات کے لئے امیدوار منتخب کرے گی، جن کا اعلان بھی 2011کے آخری دنوں میں کر دیا جائے گا۔ ’ بھارت سوابھیمان ٹرسٹ کے پچاس کروڑ رکن بنانے کا ہدف بھی بابا دو ہزار گیارہ میں پورا کر لینا چاہتے ہیں۔
بابا کے پاس نام ہے، بابا کے پاس دولت، بابا کے پاس چہرہ، بابا کے پاس ادھورے ہی سہی ، مگر کچھ مدعے ہیں،لیکن بابا کو افسوس ہے کہ انہیں لوگ سنجیدگی سے نہیں لیتے اور ابھی تک انہیں یوگ گروہی نہیں مانتے ہیں۔اس لئے بابا نے اب اپنا ٹیلی ویژن چینل خرید لیا ہے اور کئی اور خریدنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک نیوز چینل بھی شروع کرنے جا رہے ہیں۔ کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ ان کی پوری بات کوئی ٹی وی چینل نہیں دکھائے گا۔ٹی وی چینلوں کی دلچسپی ان کی سیاست میں نہیں ہے، ان کے پیٹ سکوڑنے والے اسٹائل دکھا کر اپنے ناظرین کی تعداد میں اضافہ کرنے میں ہے۔جس سہارا ٹیلی ویژن نے انہیں سب سے پہلے دکھایا، اسی کے چیف کو وہ اپنے نیوز پروجیکٹ کا چیف بنا کر لے گئے ہیں۔دوردرشن کے لئے کام کرنے والے ویریندر مشر ان کے لئے اب پورے طور پر پروگرام بنا رہے ہیں۔ یہ لوگ صحافیوں کی بڑی تعداد کو اپنی جانب راغب کرنے کے منصوبہ پر عمل کر رہے ہیں۔
بی جے پی کے بڑے لیڈر اشوک ساہو کا کہنا ہے کہ بابا آتے ہیں، جاتے ہیں، پبلک نوٹ دیتی ہے، ووٹ نہیں دیتی۔ مگر بی جے پی صدر نتن گڈکری نے بابا کو خط لکھا ہے کہ اگر وہ انتخابات میں کھڑے ہوں گے تو ووٹ تقسیم ہوگا۔ ادھر کانگریس بھی پریشان ہے اور اس نے اپنے تمام وزرائے اعلیٰ اور وزراءکو ہدایت دی ہے کہ وہ بابا سے دور رہےں۔ صرف اس نے رابطہ ذرائع کی شکل میں سبودھ کانت سہائے کو بابا سے ملنے اور بی جے پی سے دور رکھنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔
ندوستان کے پرانے اور نئے سرمایہ کاروں کے گھروں میں بابا گھس گئے ہیں اور بابا کو یقین ہے کہ تمام ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ سبرت رائے، رجت شرما، گلاب کوٹھاری اور سبھاش چندر گوئل بابا کے ساتھ کھلے طور پر ہیں۔ بابا نے سادھووﺅں کے بڑے ادارے اکھاڑہ پریشد کو بھی اپنے ساتھ کر لیا ہے۔
مگر بابا نے ایک اعلان اور کیا ہے کہ وہ نہ خود انتخاب لڑیں گے اور نہ وزیر اعظم بنیں گے۔ بابا اس بنیادی بات کو جانتے ہیں کہ اگر آپ خود عہدہ سے دور بھاگیں گے تو لوگ آپ کو اس عہدہ پر بیٹھا دیں گے۔ آج بابا رام دیو نے اس لڑائی کا مورچہ خود سنبھال لیا ہے۔ انہیں لگتا تھا کہ رجت شرما، سبھاش گوئل اور گلاب کوٹھاری جیسے میڈیا کے مہارتھی ان کے لئے سیاست میں آنے کا ماحول بنا دیں گے، لیکن ایسا ہوا نہیں۔ اب بابا رام دیو چاروں جانب انتخابات لڑنے کی، اوراپنے مدعوں کو اجاگر کرنے کا اعلان خود کرنے لگے ہیں۔ ہندوستا نی صنعتی دنیا کے بڑے بڑے پیسے والوں کی بیویاں اور ان کی بہنیں بابا کے ساتھ اکثر پروگراموں میں دیکھی جاتی ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ طبقہ اس بار ایک نیا داﺅں کھیلنا چاہتا ہے۔
کچھ بھی ہو ، کیسے بھی سوال لوں، مگر ستر ہزار کروڑوں کی حیثیت سے زیادہ طاقت رکھنے والا ہندوستان کا یوگ گرو ملک کی صحت کو سدھارنے کے لئے ایک بڑا داﺅں کھیلنے جا رہا ہے۔ ایسا ہی داﺅں گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے وقت آندھرا میں وہاں کے سپر اسٹار چرنجیوی نے کھیلا تھا۔ ان کے جلسوں میں بے پناہ بھیڑ ہوتی تھی۔ لگتا تھا، آندھرا کی سیاست میں چرنجیوی کی واحد حکومت ہوگی، مگر ایسا ہوا نہیں۔ سنیما سے محبت کرنے والے عوام نے ان کا حوصلہ بڑھایا، لیکن ووٹ دے کر حکومت نہیں بنوائی۔ بابا رام دیو اور چرن جیوی میں بہت فرق ہے۔ بابا اپنا قدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے تئیں عوام میں پیدا ہوئی مایوسی ان کے لئے بہت بڑی امید ہے۔ اپنی بیماریوں سے نجات پانے کے لئے بابا کے یوگ کو امید کی شعاع ماننے والے ہندوستان کے لوگ بابا کی پارلیمنٹ کے لئے کتنی حمایت کریں گے،یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *