تار تار ہوتا کانگریس کا مشن بہار

بہار میں اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں مسلسل تیزی پکڑتی جا رہی ہیں۔ جہاں تمام پارٹیاں انتخابات سے قبل اپنی تنظیم اور لیڈران کو تیار کرنے میں مصروف ہیں، وہیں کانگریس اپنے اندرونی خلفشار میں ہی مصروف ہے۔ پارٹی میں گروہ بندی شباب پر ہے جو اکثر آپسی جوتم پیزار کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔عالم تو یہ ہے کہ صوبائی صدر انل شرما اور صوبائی انچارج جگدیش ٹا ئٹلر بھی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں ہی لگے ہوئے ہیں۔ ڈر اس بات کاہے کہ کہیں راہل گاندھی کے مشن بہار کا خواب شروع ہونے سے پہلے ہی چکنا چور نہ ہو جائے۔
بہار میں اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کے لئے گزشتہ دنوں کانگریس نے گاﺅں -گاﺅں،پاﺅں-پاﺅں کا نعرہ بلند کیا تھا، مگر حال کی کچھ شرمسار کر دینے والے واقعات سے لگتا ہے کہ ریاست میں کانگریسوں کے پیر کم اور ہاتھ کچھ زیادہ ہی چل رہے ہیں۔جلسوں و تقاریب میں ہنگامہ،دھکا مکی اور مارا ماری کی وجہ چاہے جو بھی ہو، مگر اس سے نکلنے والا پیغام صاف ہے کہ کانگریس پارٹی کے اندر کی گروہ بندی اور لیڈران کی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے کرتوت سے راہل گاندھی کے مشن بہار کا خواب تار تار ہورہا ہے۔ یہ ریاستی لیڈران کی نہایت بری خواہشات ہی ہیں جس کے سبب نتیش حکومت کے خلاف ایک مضبوط دعوے دارکے طور کانگریس کا چہرا ابھر نہیں پا رہا ہے۔کانگریس چار قدم بڑھتی ہے مگر اگلے ہی دن تین قدم واپس لوٹ آتی ہے۔ریاستی انچارج جگدیش ٹائٹلر لاکھ چھپائیں مگر یہ بات صاف ہے کہ تمام کوششوں کے باوجود وہ پوری پارٹی کو متحد نہیں کر پائے ہیں۔ پارٹی کے ممبران اسمبلی کچھ سوچتے ہیں تو تنظیم کچھ اور ۔ دونوں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کی زبان عام طور پر بول رہے ہیں۔یہ سبھی مان رہے ہیں کہ اس بار پارٹی کے لئے بہتر مواقع اور ماحول ہے، مگر ہم بڑے کہ تم ،میں سارا کھیل خراب ہو رہا ہے۔
ریاستی کانگریس میں گروہ بندی کوئی نئی کہانی نہیں ہے مگر انل شرما کے صدر بننے کے بعد سے اس کہانی میں کئی نئے کردار آئے ہیں۔لالو پرساد سے علیحدہ ہونے کے بعد سے ریاست کی عوام میں یہ امید جاگی ہے کہ کانگریس اب اپنا پرانا وقار پھر سے حاصل کرنے میں مصروف ہوگی۔ اس کا آغاز بھی اچھا ہوا، لوگوں کی حمایت سے کانگریس کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا اور ایسا لگا کہ تنظیم کو مضبوط کر کے کانگریس اسمبلی انتخابات میں ایک مضبوط دعوے دار بنے گی۔ لیکن نئی کمیٹی کی تشکیل کے بعد سے جو تنازعہ شروعہ شروع ہوا، وہ مسلسل بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ تازہ تنازعہ رنجیت رنجن،پپو یادو اور سادھو یادو کو لے کر ابھرا ہے۔راہل کے نوجوان ہندوستان کے خوابوں کوحقیقت میں بدلنے کے مقصد سے سابق ممبرپارلیمنٹ اور پپو یادو کی اہلیہ رنجیت رنجن نے اپنے آپ سے جڑے نوجوان کارکنان کو کانگریس میں شامل کرنے کے لئے ملن تقریب کا اہتمام کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ملن تقریب کے لئے جگدیش ٹائٹلر سے بھی اجازت لی گئی تھی مگر اس تقریب میں صوبائی صدر انل شرما شامل نہیں ہوئے۔ انل شرما نے کہا کہ انہیںتقریب کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا۔انھوں نے حیرانی جتائی کہ جو کانگریسی سونیا گاندھی زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں، وہ پپو یادو زندہ باد کا نعرہ کیسے لگا سکتے ہیںَسونیا گاندھی اور پپو یادو کی ایک ساتھ تصویر والے پوسٹروں پر بھی انھوں نے ناراضگی ظاہر کی۔انل شرما رنجیت رنجن سے بھی خفا نظر آئے۔انھوں نے کہا کہ رنجیت رنجن کا یہ بیان نہایت قابل اعتراض ہے کہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی بہار میں پارٹی کو نہیں جتا سکتے۔حالانکہ رنجیت رنجن نے اس طرح کے بیان دینے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے،لیکن شرما کے اس بیان سے اگلے دن ہونے والے نمائندہ اجلاس کی کہانی تیار ہو گئی ۔ ایس کے میموریل ہال میں نمائندہ اجلاس میں پارٹی انتظامیہ کی جم کر دھجیاں اڑیں۔اسٹیج پر ہنگامہ، دھکا مکی اور مارا ماری کی شروعات رنجت رنجن کے تقریرکے ساتھ ہی ہو گئی۔تقریرکے دوران رنجیت رنجن نے انل شرما سے سوال پوچھا کہ کیوں چالیس سال سے پارٹی کا جھولا ڈھونے والے ڈاکٹر اشوک کمار آج یہاں نہ آ کر کہیں اور میٹنگ کر رہے ہیں؟پپو یادو پر کی گئی تنقید سے خفا رنجت رنجن نے دوسرا سوال یہ داغا کہ شرما جی یہ بتائیں کہ ان کے جمبو پی سی سی میں کتنے ایسے لوگ ہیں جن پر کسی جرم کے لئے مقدمہ نہیں ہے۔رنجت رنجن کے اتنا کہتے ہی ایس کے میموریل ہال ہنگامے میں ڈوب گیا۔رنجیت رنجن کو اس ہنگامہ کے سبب تقریب سے درمیان میں ہی اٹھ کر جانا پڑا۔ ایس کے میموریل میں جب یہ سب کچھ چل ہی رہا تھا اسی وقت ڈاکٹر اشوک کمار کے گھر پر کانگریس کے ممبران اسمبلی اور ضلع نمائندگان نے انل شرما کو فوراً ہٹانے کی تجویز پاس کر دی۔ رنجت رنجن نے اگلے دن دہلی جا کر تمام واقعات کی معلومات اعلیٰ کمان کو دی۔ پپو یادو نے بھی کہا کہ یہ گاﺅں گاﺅں گھوم کر کانگریس کو مضبوط کرنے میں لگے ہیں تاکہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کا خواب سچ ہو سکے۔ اپنی مجرمانہ شبیہ پر پپو یادو نے تو کچھ نہیں کہا مگر ان کے حمایتی یہ ضرورکہتے ہیںکہ کانگریس پارٹی کو جب الیکشن آتے ہیں، تب ہی پپو یادو آتے ہیں۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں کئی ایسے امیدوار تھے، جنھوں نے پپو یادو کو اپنے حلقہ میں بھیجنے کی اپیل پارٹی اعلیٰ کمان میں کی۔ پپو ان حلقوں میں گئے بھی۔ حمایوں کا غصہاس بات کو لے کر ہے کہ اس وقت کانگریس پپو یادو کی مجرمانہ شبیہ کیوں نہیں دیکھ پائی۔
انل شرما سے خفا چل رہے سادھو یادو نے رنجت رنجن کے ساتھ ہوئے واقعہ کو ہوا دیتے ہوئے صوبائی صدر پر نشانہ سادھنا شروع کر دیا۔ سادھو نے کہا کہ اسی طرح سب کچھ چلتا رہا توسونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے خوابوںکی بہار میں تعبیر حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔اس کے بعد نمبر انل شرما کا تھا۔ جیسے ہی سادھو یادو نے خواتین بل میں کوٹہ کے اندر کوٹہ کی بات کہی۔انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا۔ مگر شام ہوتے ہوتے انل شرما کو جگدیش ٹائٹلر نے ہی جھٹکا دے دیا۔ٹائٹلر نے صاف کیا کہ سادھو کو معطل کیا ہی نہیں گیا ہے۔ پارٹی لائن کے خلاف کچھ نہیں ہوا ہے، کچھ بے تعلقی تھی جسے سادھو نے دور کر دیا۔لیکن پورے دن چینلوں میں آئے سادھو یادو کے کوٹہ کے اندر کوٹہ کے بیان کے باوجود لا تعلقی کی حالت کیسے بنی، اس کا کوئی جواب ٹائٹلر صاحب کے پاس نہیں ہے۔دراصل پورا معاملہ انل شرما کی سیاسی حیثیت اور ان کے قد کو لے کر ہے۔کانگریس کے لیڈر بار بار اعلیٰ کمان کو یہ سمجھانے میں لگے ہیں کہ انتخابی سال میں بہار کانگریس کو ایک بڑا سیاسی قد والا چہرہ چاہئے۔نتیش کے متبادل کی شکل میں بے داغ شبیہ اور سبھی کو ساتھ لے کر چلنے والے لیڈران کی پیش روی سے ہی مشن بہار کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ابھی حالت یہ ہے کہ کوئی بڑا لیڈر انل شرما کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔سبھی سیدھے دہلی بات کرنے کی حیثیت میں ہیں۔ رنجیت رنجن اور سادھو یادو معاملہ میں یہ بات عام طور پر ثابت بھی ہو گئی ۔ اجلاس اور تقاریب میں ضوابط کی دھجیاں اڑ رہی ہیں اور کسی کا اس پر قابو نہیں ہے۔ آرا کی تقریب میں انل شرما اور جگدیش ٹائٹلرکی موجودگی میں کانگریس کے 2گرو ہ میں تصادم ہو گیا اور جم کر کرسیاں برسائی گئیں۔ پارٹی لائن کے خلاف بیان دینے والے لیڈر کو دن میں انل شرما معطل کرتے ہیں اور شام میں جگدیش ٹائٹلر انہیں واپس لے آتے ہیں۔ ان واقعات سے عوام کا کانگریس کے تئیں بڑھ رہا اعتماد ٹوٹنے لگتا ہے۔ لوگوں کا سوال بھی صاف ہے کہ آپس میں ہی لڑ رہے کانگریس لیڈران ان کے حق اور عزت کی لڑائی کیسے لڑیں گے۔نتیش، لالو اور رام ولاس پاسوان کے سخت چیلنجوں کا سامنا اس انداز میں کانگریس کیسے کر پائے گی۔ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی اگلی بار جب بہار کے دورہ پر ہوں گے تو ان کے سامنے بھی یہ سوالات ہوں گے اور مشن بہار کو اگر انجام تک پہنچاناہے تو انہیں ان سوالوں کا جواب دینا ہی ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *