سیاسی تیاریوں کا مرکز بن رہا ہے اتر پردیش

سیاستدانوں کی اچانک بڑھتی سرگرمیوں سے اتر پردیش کا سیاسی پارہ چڑھ گیا ہے۔ دراصل یہ تیاری آنے والے 2012کے اسمبلی انتخابات کے لئے ہے۔ کانگریس نے تو لوک سبھا انتخابات کے بعد ہی راہل گاندھی کی سرپرستی میں مشن 2012پر کام شروع کر دیا تھا، مگر بی ایس پی نے 15مارچ 2010کی عظیم ریلی میں اپنے حامیوں اور کارکنان کو آنے والے وقت میں متحد ہو کر کانگریس، سماجوادی اور بی جے پی کی مبینہ تشہیر سے ہوشیار رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے تیاری کا اشارہ دیا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ دونوں جانب سے پر زور تیاریوں کا آغاز ہو گیا ہے۔
دلت ووٹران پر ما یاوتی کو بے حد اعتماد تو ہے، مگر یہی اعتمادکانگریس کے نوجوان لیڈر بلکہ کانگریس کے شہزادے راہل گاندھی کے ان کے ووٹ بینک پر اثر بڑھانے کے سبب ٹوٹنے بھی لگتا ہے۔ انھوں نے پہلے تواس کانگریسی شہزادے کے دلت پریم کو بناوٹی قرار دے کر دلتوں کو آگاہ کیا لیکن جب بات نہیں بنی تو لکھنو¿ میں مہرولی کے ذریعہ کانگریس پر دھاوا بول دیا۔ بی ایس پی سپریمو مایاوتی کو دلت سماج کی کمزور نبض کی اچھی پہچان ہے۔یہی وجہ تھی کہ اپنی مالا ریلی میں مایا نے خطاب کے دوران اپنی بات ایسے پیش کی جیسے پوری دنیا ان کی اور ان کے سماج کی دشمن ہو۔مایاوتی بی ایس پی کے بانی کانشی رام کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہنے سے بھی نہیں چوکتیں کہ کانشی رام جی نے پہلے ہی آگاہ کیا تھا کہ جیسے جیسے بی ایس پی کی طاقت بڑھے گی ، ویسے ویسے بی ایس پی مخالف لیڈران بی ایس پی کو عدالتی چکروںمیں پھنسائیں گے۔اس درمیان 22مارچ کو الہ آباد ہائی کورٹ سے مایاوتی کے لئے خبر آئی کہ بی ایس پی کی مہرولی پر مبینہ طور سے دو سو کروڑ روپے خرچ کرنے اور مایاوتی کو مالا پہنائے جانے کی تفتیش سی بی آئی سے کرائے جانے کا مطالبہ بے معنی ہے۔
ادھر ایک بار ریاست میں بااقتدار رہی بی جے پی کا حال بھی برا ہے۔ بی جے پی کی مرکزی سرپرستی میں ریاست کو لے کرانتشار صاف دکھائی دیتا ہے۔ پسماندہ طبقات کی سیاست میں دخل رکھنے والے کلیان سنگھ کبھی بی جے پی کے نہایت قریب نظر آنے لگتے ہیں تو کبھی ان سے فاصلہ بنائے رکھنے کی قسمیں کھاتے ہیں۔ورون گاندھی کو لے کربھی بی جے پی کا ارادہ نمایاں ہوتا ہے۔کبھی بی جے پی ورون گاندھی کو پیچھے کی قطار میں کھڑا کر دیتی ہے تو کبھی پارٹی کو ان میں یوتھ بی جے پی نظر آنے لگتا ہے۔ بی جے پی کے لئے نئی مصیبت بابا رام دیو بن گئے ہیں۔ ان کے عنقریب ایک نئی سیاسی جماعت بنا کر لوک سبھا انتخابات میں تمام سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کے اعلان سے بی جے پی لیڈران کے دلوں کی دکھڑکنیں تیز ہو گئی ہیں۔
امر سنگھ اور اعظم خاں جیسے باغی لیڈران کا خوف سماجواد ی پارٹی کو ستاتا رہتا ہے۔ ذات پات کی سیاست پر بھروسہ کرنے والے لیڈران کو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ 2012کی اسمبلی میں کون کون سے معاملات و مسائل کو ہتھیار بنایا جائے۔ بڑھتی مہنگائی،بدعنوانیاں، خراب ہوتے قانونی نظام سے عوام ہلکان ہے، لیکن ان مسائل کے ساتھ ایک لمبی لڑائی کی تیاری کسی پارٹی نے کی نہیں ہے۔
اس وقت اتر پردیش کے 28ممبران پارلیمنٹ اور 142 اسمبلی ارکان کے خلاف مجرمانہ مقدمات چل رہے ہیں۔درجن بھرتو ایسے ہیں جن پر قتل ، لوٹ، بلیک میلنگ اور گینگسٹر جیسے مجرمانہ معاملات چل رہے ہیں۔ اس میں کسی ایک کو قصوروار نہیں مانا جا سکتا ہے۔ اس حمام میں سبھی برہنہ ہیں۔حال ہی میں اختتام پذیر لیجیسلیٹو کونسل کے انتخابات کے بعد اتر پردیش کانظارہ ایسا بدلا کہ کچھ ماہ قبل تک جنہیں پولس تلاش کر رہی تھی، اب وہ آزاد گھوم رہے ہیں۔
مایاوتی ابھی ادھیڑ بن میں ہیں، اس لئے روز نت نئے تجربہ کرتی رہتی ہیں۔ ابھی وہ طے نہیں کر پا رہی ہیں کہ ان کے لئے دشمن نمبر ایک کون ہے۔ اس دفعہ برہمن سماج کو لبھانے کی ذمہ داری گوپال نارائن، مشر، رام ویر اپادھیائے اور او پی ترپاٹھی کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔ ٹھاکر ووٹروں کے لئے بادشاہ سنگھ،جے ویر اور دھنن جے سنگھ اور ویشیہ سماج کے لئے اکھلیش داس اور نریش اگروال کو آگے کیا گیا ہے۔ ویشہ سماج کو خوش کرنے کے لئے ہی نریش اگروال کو راجیہ سبھا بھیجا گیا۔ ان کے ایجنڈے میں دلت سرفہرست تھے اور رہیں گے۔مایاوتی کا یہ فارمولہ ہمیشہ ہٹ رہتا ہے۔
سماجوادی سپریمو پسماندہ اور اقلیتی طبقات کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بھی رجھانے میں لگے ہوئے ہیں۔اکھلیش یادو کو اتر پردیش سماجوادی پارٹی کا صدر بنا کر انہیں ریاست کی سیاست میں فعال کرنے کو اسی سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ امر سنگھ کا ساتھ چھوڑنا نیتا جی کے لئے سب سے بڑا جھٹکا رہا، وہیں اعظم خاں کے حملوں سے بھی وہ صدمہ میں رہے۔کلیان سنگھ سے بے میل دوستی کے سبب اقلیتی طبقہ انہیں شک کی نظروں سے دیکھنے لگا۔ پھر بھی ملائم سنگھ کے تیور کم نہیں ہوئے۔
کانگریس کے یووراج راہل گاندھی مشن 2012پر کام کرنے کے لئے اتر پردیش کی سر زمین باربار ناپ رہے ہیں۔ لوک سبھا انتخابات سے قبل تک جہاں راہل دلتوں کی محبت میں مست تھے ، وہیں اب ان کے نشانہ پر اتر پردیش کا نوجوان طبقہ بھی ہے۔ دلتوں کا دل جیتنے کے لئے انھوں نے ان کے ساتھ چوپال لگائی، ان کے ساتھ کھانا کھایا اور رات گزاری وہیں نوجوانوں کو اپنا بنانے کے لئے وہ ان سے سیاست میں آنے کی اپیل کر رہے ہیں۔وہ یونیورسٹی اور کالجوں میں جا کر نوجوانوں کادل ٹٹولتے ہیں تو نوجوان تنظیموں سے دل کے تار جوڑتے ہوئے بھی نظرآ جاتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *