صرف مقصد اچھا ہونے سے بات نہیں بنتی

خواتین ریزرویشن بل کی نیک نیتی کو لے کر کوئی شک نہیں ہے، مسئلہ تو بل کے ضابطوں کو عمل میں لانے کے طریقوں پر ہے۔ایسا لگتا ہے ، جیسے سیاسی نقطہ¿ نظر سے صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں سیاسی حقائق کو الگ رکھ دیا گیا ہے۔ خواتین کو ریزرویشن کیوں چاہئے۔آبادی کے حساب سے دیکھیں تو انتخابی عمل میں وہ سب سے طاقتور اور اہم ہیں۔ملک کی ہر دوسری رائے دہندگان عورت ہے۔ اگر یہ ووٹ بینک جنس کو اتنی اہمیت دیتاتو سب سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ خواتین ہی ہوتیں۔لیکن، حقائق کی کسوٹی پر اصول اکثر کھرے نہیں اتر پاتے ہیں اور کئی بار تو ان کے درمیان زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔
کوئی بھی سیاسی جماعت جب اپنے امیدواروں کا انتخاب کرتی ہے تو اس کی سب سے بڑی بنیاد اس کی جیت حاصل کرنے کے امکانات ہوتی ہے۔ملک کی دو سب سے طاقتور خواتین سیاست داں ،سونیا گاندھی اور شیلا دکشت دور حاضر میں دہلی میں کانگریس کی ا ہم ستون ہیں۔ان کی سیکولر سوچ پر بھی شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ان دونوں نے مل کر لوک سبھا انتخابات میں دہلی کی سات سیٹوں کے لئے صرف ایک خاتون کو منتخب کیا، جو اقلیتی طبقہ سے نہیں آتی۔جگیدش ٹائٹلر اور سجن کمار کو پارٹی نے اپنا امیدوار منتخب کیا،لیکن جب ان کا جیتنے کا امکان شک و شبہات میں دکھنے لگا تو ان کے نام واپس لے لئے گئے۔یہی سیاست کی حقیقت ہے اور یہی وجہ ہے کہ خواتین ریزرویشن کا مدع اتنا زور پکڑنے لگا،کیونکہ جب تمام امیدوار خواتین ہی ہوں تو جیتنے کے امکان کا فیکٹر پس منظر میں چلا جاتا ہے۔لیکن، تمام خواتین ایک ہی سلسلہ خیال کو نہیں مانتیں۔ان کی سوچ الگ الگ ہوتی ہے،جو ان کی سماجی، اقتصادی حالت کی زمین پر تیار ہوتی ہیں۔ جس طرح الیکشن میں مرد فطری طور سے خواتین کے مقابلہ بڑھت کی حالت میں ہوتے ہیں، اسی طرح برادری،مذہب یا سماجی-اقتصادی پریشانیوں کے سبب خواتین کا ایک طبقہ بھی دیگر خواتین سے بڑھت کی حالت میں ہوتا ہے۔جس دلیل کی بنیاد پر مرد پردھان سماج میں خواتین کو ریزرویشن کے اندر ریزرویشن کے مطالبہ کو بھی جائز ٹھہراتا ہے۔
طاقتور ہر خاتون کا حق ہونا چاہئے نہ کہ کسی طبقہ¿ خاص کا۔ اس دلیل، کہ قانونی رکاوٹوں کے بغیر بھی سیاسی جماعتیں چاہے تو کسی مخصوص برادری یا مذہب سے تعلق رکھنے والے خواتین کو اپنا امیدوار بنا سکتے ہیں،اس میں کوئی دم نہیں ہے۔آخر گزشتہ 6دہائیوں میں بی جے پی یا کانگریس پارٹی چاہتی تو خواتین کو آدھی سیٹوں پر اپنا امیدوار بنا سکتی تھی۔ انہیں ایسا کرنے سے کسی نے بھی نہیں روکاتھا،مگر انھوں نے کیا ۔ کوٹہ کے اندر کوٹہ کا قانون نہ ہو تو خواتین کے طاقتور ہونے کا مقصد ان کے لئے محفوظ نشستوں پر بھی جیتنے کے امکان والے فیکٹر کی نذر ہو جائے گا۔
چونکہ یہ کوئی معمولی بل نہیں ،بلکہ ایک آئینی ترمیم ہے، اس لئے ضروری ہے کہ اس میں ایسے ضابطے بنائے جائیں جن سے اس کی مدت قبولیت کو کٹگھرے میں کھڑا نہ کیا جا سکے۔ اتنا ہی نہیں، بل میں کچھ ایسے ضوابط بھی ہیں، جو ملک میں پارلیمنٹ نظام کی پہلے سے کمزور پڑی ساکھ کو اور کمزور کر سکتے ہیں۔
ہماری پارلیمنٹری جمہوریت کی بنیاد امیواروں اور رائے دہندگان کے درمیان ایک قرار ہے۔جیتنے والے امیدوار سے ووٹ کے بدلے اس حقہ کی ترقی کی توقع کی جا تی ہے۔اپنی اس ذمہ داری کی فرائض منصبی منتخب ممبران کیسے کرتے ہیں، یہ ان کے دوبارہ منتخب ہونے کے امکانات کو متاثر کرتا ہے۔حالانکہ یہ واحد فیصلہ کن سبب نہیں ہے،لیکن ایسا سبب ضرور ہے، جو ممبران پارلیمنٹ کو تھوڑا بہت ہی صحیح،عمل کی سطح پر آنے کو مجبور کرتے ہیں۔108ویں آئین ترمیم بل میں سیٹوں کو باری باری سے محفوظ کئے جانے کا قانون ہے۔اس کا مطالب ہے کہ پارلیمنٹ کے قریب دو تہائی مطلب 360ممبران ایک بار ہی اپنے حلقہ سے منتخب کئے جا سکیں گے۔ان میں181وہ سیٹیں ہیں، جنہیں آئندہ انتخابات میں خواتین کے لئے ریزروکیا جائے گا۔ ان دو کلاسوں میں آنے والی سیٹوں پر جیتے ہوئے امیدوار دوبارہ انتخاب لڑنے کی حالت میں نہیں ہوں گے۔ حالانکہ، کوئی خاتون امیدوار چاہے تو اپنی سیٹ کے Unreservedہونے کے بعد بھی اس سیٹ سے دوبارہ انتخاب لڑ سکتی ہے،لیکن ایسا ہونے کے امکانات کم ہی ہیں۔اس طرح لوک سبھا کے دو تہائی ممبران کے پاس اپنے انتخابی حلقہ پر توجہ دینے کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہوگا۔ سیاست میں اخلاقیت کی جو حالت ہے ،اسے دیکھتے ہوئے یہ نظام ممبران پارلیمنٹ اور وزراءکو اپنے دور اقتدار کے اندر اپنی شخصیت کے ہتھیار مفاد کا لائسنس دینے کے برابر ہوگی۔لوگ یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ اس سے زیادہ فرق نہیں پڑنے والا ، کیونکہ قومی یا اپنے حلقہ خاص کی ترقی کے معاملہ میں پارلیمنٹ پہلے بھی اپنی ذمہ داریوں سے دور بھاگتے رہے ہیں۔ اگر ہم اس سیاسی حقیقت سے واقف ہیں تو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے کو فتحی ماننے کی پرانے سلسلہ خیال کی جگہ ہمیں ملک میں پارلیمنٹ عوامی نظم کی دوسری پری بھاشا تلاش کرنی ہوگی۔اس کا ایک آپشن یہ ہو تو سکتا ہے کہ سیاسی جماتیں حاصل ووٹوں کے تناسب میں اپنے منتخب ہوئے نمائندوں کوپارلیمنٹ میں درج کریں ۔ اس بنیاد پر پارلیمنٹ کے دو تہائی ممبران کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ سے پارلیمنٹ اور رائے دہندگان کے درمیان براہ راست تعلق کو اختیاری طور سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی معزز قیادت کے لئے یہ نظام بے مانگی مراد سے کم نہیں ہوگی۔
اگر اس جانب توجہ دی جائے تو خواتین ریزرویشن بل کی خامیوں کو آسانی سے دور کیا جا سکتا ہے۔لیکن،اب تک جو دیکھنے کو ملا ہے،اس میں ایسے امکانات نہیں بنتے،بل کے حمایت اپنی کامیابی پر اتراتے نہیں تھک رہے، جبکہ اس کے مخالفین کو لگتا ہے کہ شور و غل کرنے سے ان کی دلائل کو مان لیا جائے گا۔بل کے حامیوں نے اپنی خوشی جتانے کے لئے میڈیا کا سہارا لیا تو اس کے مخالفین نے اپنی باتوں کو با اثر ڈھنگ سے رکھنے کے لئے میڈیا کے عطر ذرائع کا بھی بخوبی استعمال کیا۔ کانگریس پارٹی شروعات میں تو بل کو لے کر کافی جوش میں تھی ، لیکن جب ملک کے الگ الگ حصوں سے رد عمل ملنے لگے تو اس کے قدم ڈگمگانے لگے۔ حکومت سیاسی جماعتوں کی مخالفت سے یقینی تھی،لیکن وہ رائے دہندگان کی ناراضگی کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔خواتین کا طاقتور ہونا ایک ضروری اور پر مقصد ٹارگیٹ ہے،لیکن اس حاصل کرنے کا اراستہ کیا ہو، اس پر سنجیدگی سے منطقی بنیاد پر غور کئے جانے کی ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *