رنگناتھ مشرا رپورٹ: ایک لڑائی پارلیمنٹ سے سڑک تک

ہندوستانی سیاست میں اب ایسے مس¿لے کم ہی دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں، جن پر پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک ہنگامہ ہوتا ہو۔مگر جب چوتھی دنیا میں رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ شائع ہوئی تو سب سے پہلے پارلیمنٹ میں اس مس¿لہ پر آواز اٹھی۔ ہنگامہ ہوا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی کئی بار رد ہوئی۔چوتھی دنیا نے اپنے منصب صحافت کی ادائیگی بخوبی کی تو اس کے عوض میں راجیہ سبھا نے چوتھی دنیا کے ایڈیٹر کو خصوصی اختیارات کی ضابطہ شکنی کا نوٹس بھیج دیا۔ مگر تب تک سب کچھ ہو چکا تھا۔ارکان پارلیمنٹ کے دباﺅ میں حکومت کو یہ رپورٹ پیش کرنی پڑی۔ رپورٹ لوک سبھا میں پیش ہو چکی ہے۔پھر بھی ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت اس کمیشن کی سفارشوں کو نافذ کرانے سے بچنا چاہ رہی ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی مسلم برادری، لیڈران اور تنظیمیں اپنے حصول حق کے لئے آواز بلند کرتے نظر نہیںآ رہے ہیںَ حالانکہ، کچھ ایک ایسے مسلم لیڈر ضرور ہیں جو سالوں سے اقتصادی، تعلیمی اور سماجی طور سے پسماندہ مسلم فرقے کو انصاف دلانے اور ان کی بہتری کے لئے پارلیمنٹ میں آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ لیکن ایسے لیڈران کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔جے ڈی راجیہ سبھا رکن علی انور اکیلے ہی رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ عام کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔ رنگناتھ مدع پر ضرور انہیں کچھ مسلم اور غیر مسلم ممبران پارلیمنٹ کا تعاون ملا۔ اب، بجٹ سیشن ختم ہونے کو ہے مگر رنگناتھ مشرا کمیشن اور مسلم ریزرویشن کو لے کر مسلمانوں کے دانشور طبقہ یا چھوٹی چھوٹی باتوں پر بیان بازی کرنے والی مسلم جماعتوں کی جانب سے کوئی آواز اٹھتی نہیں سنائی دے رہی ہے۔ لیکن ایک اچھی بات ہے کہ رنگناتھ مس¿لہ پر پارلیمنٹ میں آواز بلند کرنے والے جے ڈی یو ممبر اور آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ کے قومی صدر علی انور انصاری ، رنگناتھ کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے کا مطالبہ کو لے کر سڑک پر اتر آئے ہیں۔
15مارچ کو جب پارلیمنٹ کی کارروائی چل رہی تھی۔ اسی وقت پارلیمنٹ ہاﺅس سے 100میٹر دور جنتر منتر پر ملک بھر سے ہزاروں پسماندہ (سماجی اور اقتصادی طور سے پسماندہ)مسلمان جمع تھے اور حکومت سے رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ موقع تھا آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ اور اکھل بھارتیہ آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ اور اکھل بھارتیہ میو ترقیاتی سبھا کے ذریعہ منعقد جنگجو مظاہرہ( ریلی)کا۔ریلی میں کئی مرکزی وزراءاور سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے بھی حصہ لیا۔ سی پی ایم لیڈر برندا کرات، سی پی آئی کے عزیز پاشا ، جے ڈی یو کے شیوا نند تیواری اور راجستھان سے ڈاکٹر کے ایچ میرا نے بھی اس ریلی میں شرکت کی اور ان جماعتوں کے مطالبات کی حمایت کی۔ ریلی میں بہار، جھارکھنڈ، اتر پردیش اور ہریانہ سمیت جنوبی ہند سے آئے دلت اور پسماندہ مسلمان اور عیسائی فرقہ کے لوگ بھی شامل تھے۔
مسلم ریزرویشن کے مسئلہ پر علی انور کا کہنا تھا کہ ہم مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں ما نگ رہے ہیں،لیکن مذہب کی بنیاد پر حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت دلت اور قبائلی مسلمانوں اور دلت عیسائیوں کے صبر کا امتحان نہ لے۔ اگر ان طبقوں کے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا تو کئی حکومت اس میں بہہ جائیں گی۔ اس کے علاوہ انھوں نے بنکروں اور کاریگروںکی خراب حالت کے لئے مرکزی اور ریاستی حکومت کی غلط اقتصادی پالیسیوں کو ذمہ دار بتایا ، جن کی وجہ سے وہ لوگ خودکشی کرنے کو مجبور ہو رہے ہیں۔ مریزی حکومت نے کسانوں کا قرض معا ف کر کے تو اچھا کام کیا، مگر وہ بنکروں اور چھوٹی صنعتوں سے جڑے دوسرے لوگوں کے ساتھ بے رخی برت رہی ہے۔ انھوں نے بنکروں اور دوسرے دستکاروں سے کہا کہ گھروں میں گھٹ گھٹ کر مرنے سے اچھا ہے کہ وہ سڑک پر اتر کر اپنے حق کے لئے لڑتے ہوئے مر جائیں۔
مظاہرین کے گیارہ اہم مطالبات تھے، جن میں ریزرویشن، مذہبی تعصب کو ختم کرنا، دلت مسلمانوں اور دلت عیسائیوں کو ایس سی کا درجہ دینا، رنگناتھ مشرا کمیشن اور سچر کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کرنا، بنکروں کی قرض معافی اور میو مسلمانوںکو ایس ٹی کا درجہ دینا، بنکروں کی قرض معافی وغیرہ شامل تھی۔ ریلی قیادت علی انور انصاری اور میو لیڈر رمضان چودھری کر رہے تھے۔
ریلی کی خاص بات یہ تھی کہ اس کا انعقاد ہندو مسلم اتحاد کی علامت امر شہید حسن خاں میواتی کے یوم شہید کے موقع پر کیا گیا تھا۔ راجہ حسن خاں میواتی 1527میں خانواں کے میدان میں بابر کی سینا سے لڑتے ہوئے 12ہزار گھڑسوار میواتیوں کے ساتھ شہید ہوئے تھے۔ ریلی کو خطاب کرتے ہوئے ممبر پارلیمنٹ علی انور انصاری نے سچر کمیٹی کی سفارشات میں میو قبیلے کو میرا قبیلے کی طرز پر ایس ٹی کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ انکا کہنا تھا کہ دونوں قبیلوں کی ہی انگریزوں نے کریمنل ٹرائب قرار کر دی تھی، جبکہ آزادی کے بعد میرا قبیلے کو ایس ٹی کا درجہ مل گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *