پرینکا گاندھی کانگریس کی آندھی

کانگریس پارٹی پرینکا گاندھی کو بہار کے انتخابی میدان میں اتارنے والی ہے۔ کانگریس کی انتخابی تشہیر میں پرینکا کا سب سے اہم کردار ہوگا۔ انتخابات سے قبل اور انتخابی تشہیر کے دوران پرینکا کے بہار دورہ کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔ بہار کی پارٹی تنظیم کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ وہ کس ضلع میں کب جائیں گی۔ کانگریس پارٹی چاہتی ہے کہ بہار میں پرینکا کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔ پرینکا کو بہار کے دو سو سے زیادہ جگہوں پر گھمایا جائے گا۔ پرینکا کو بہار الیکشن میں سرگرم کرنے کے پیچھے کانگریس کا مقصد بہار میں حکومت بنانا نہیں ہے، بلکہ یہ گاندھی خاندان کی سب سے اہم اور سب سے چیلنج بھری اسکیم کا ایک حصہ ہے، جس کے تحت 2014کے لوک سبھا انتخابات میں مکمل ووٹ دلا کر راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانا ہے۔
کانگریس کے لئے 2014کا لوک سبھا انتخاب کرو یا مرو کی حالت جیسا ہے، لیکن بہار اور اتر پردیش میں کانگریس تنظیم کی حالت اچھی نہیں ہے۔ ان ریاستوں میں صرف تنظیم کی طاقت پر کانگریس انتخاب نہیں لڑ سکتی ہے۔ کانگریس کے حکمت عملی بنانے والوں کو یہ لگتا ہے کہ پرینکا اس حالت سے نجات دلا سکتی ہیں۔ وہ تنظیم کو درکنار کر کے براہ راست عوام سے رابطہ قائم کرنے میں پوری طرح سے اہل ہیں۔سونیا گاندھی کو اس بات پر بھرو سہ ہے کہ مضبوط تنظیم نہ ہونے کے نقصان کی بھر پائی پرینکا اپنی بہتر شبیہ اور قابلیت سے کر سکیں گی۔ پرینکا میں وہ ذہانت ہے کہ غریبی ہٹائو جیسے نعروں کو جنم دے سکتی ہیں۔ وہ عوام کو نعرہ  بازی کے زریئے اپنی پارٹی کی جانب متوجہ کرنے کی اہل ہیں۔ ایسے نعروں کے سہارے کسی بھی انتخابی ماحول کو بدلا جا سکتا ہے۔پرینکا کی اس قابلیت سے ملک بھر کے لیڈران خوفزدہ ہیں۔ کانگریس پارٹی بھی جانتی ہے کہ جب پرینکا انتخابی تشہیر میں اتریں گی تو مخالفین میں ہا ہاکار مچ جائے گا۔
کانگریس پارٹی نے یہ طے کر لیا ہے کہ راہل گاندھی کو 2014میں ملک کا وزیر اعظم بنانا ہے۔ پارٹی 2019تک انتظار نہیںکرنا چاہتی ہے۔ اس اسکیم کو کامیاب کرنے کے لئے پارٹی نے ابھی سے ہی تیاری شروع کر دی ہے۔ راہل گاندھی اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر پارٹی کو اپنے حساب سے شکل دینے میں لگے  ہوئے ہیں۔ اس اسکیم کے بارے میں کانگریس پارٹی کے لیڈران کو پختہ خبر نہیں ہے۔ کانگریس کے حکمت عملی بنانے والوں کو یہ لگتا ہے کہ اگر پارٹی کو لوک سبھا انتخاب 2014میں برتری پانا ہے تو بہار اور اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات اسے جیتنے ہوں گے۔ پہلا امتحان بہار میں ہونا ہے۔ بہار میں پارٹی کی حالت مضبوط کرنا ضروری ہے۔ وہاں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ گزشتہ لوک سبھا انتخاب میں کانگریس کو بہار میں صرف دو سیٹیں ملی تھیں۔ بہار انتخاب میں کانگریس پرینکا کی زبردست تشہیر کے ذریعہ منتشر ہوئی پارٹی کو منظم کرنا چاہتی ہے۔ پارٹی منظم نہ بھی ہو، کیونکہ اتنی جلدی تنظیم نہیں بنتی، مگر ووٹران کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ الیکشن کے نظریہ سے پرانے ووٹ بینک کو واپس کھینچنا، نوجوانوں کے درمیان پارٹی کو مقبول بنانا اور خواتین اور اقلیتوں کا اعتماد حاصل کرنا جیسے نکات پرینکا کے ایجنڈے میں خاص طور سے شامل کئے گئے ہیں۔کانگریس پارٹی کو لگتا ہے کہ جس طرح راہل گاندھی نے لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش میں کرشمہ کیا، ویسا ہی کرشما بہار میں پرینکا گاندھی کرنے میں کامیاب ہوں گی۔
اب سوال ہے کہ کیا پرینکا بہار میں یہ کمال دکھا پائیں گی؟ لوگوں کو پرینکا میں اندرا گاندھی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ پرینکا میں ایک ایکس فیکٹر ہے۔ گزشتلہ انتخابات میں جس طرح پرینکا نے مودی کو جواب دیا کانگریس بڑھیا پارٹی ہے کے جواب میں جس طرح انھوں نے کانگریس گڑیا پارٹی ہے کہا، اسے لوگوں نے زیادہ پسند کیا۔ پرینکا نے بڑی دانشمندی کے ساتھ اپنی مارکیٹنگ بھی کی ہے۔ انہیں سب سے پہلے خود کو دادی اندرا گاندھی جیسا بتایا۔ ثبوت میں ناک دکھائی اور کہا کہ یہ اندرا گاندھی جیسی ہے اور پھر اپنی ساڑیوں کے بارے میں بتایا کہ وہ تو ان کی دادی کی ہی ہیں۔ اتنا ہی نہیں، ساڑیاں بھی وہ اندرا جی کی طرح ہی پہنتی ہیں۔پرینکا نے پیغام دے دیا ہے کہ وہ نہ صرف بہادر ہیں، بلکہ اپوزیشن کا سامنا بھی کر سکتی ہیں اور ملک کو بہتر نوجوانوں کی سرپرستی میں دے سکتی ہیں۔ پرینکا 2004میں پہلی بار انتخابی تشہیر میں اتریں۔ انھوں نے اپنا سکہ رائے بریلی میں آزمایا۔ یہاں کانگریس پارٹی کی طرف سے گاندھی خاندان کے قریبی ستیش شرما اور بی جے پی امیدوار ارون نہروتھے، جو کسی زمانہ میں راجیو گاندھی کے قریبی ہوا کرتے تھے۔ پرینکا کے رائے بریلی میں آتے ہی انتخابی ماحول بدل گیا۔ ان کی پہلی تقریر ہی اتنی اثردار تھی کہ ان کے مخالفین کے بھی ہوش اڑ گئے۔ رائے بریلی کی پہلی میٹنگ میں پرینکا نے کہا ، مجھے آپ سے ایک شکایت ہے کہ میرے والد کی وزارت میں رہتے ہوئے جس نے غداری کی، بھائی کی پیٹھ میںچھرا گھونپا، جواب دیجئے کہ ایسے آدمی کو آپ نے یہاں گھسنے  کیسے دیا؟ ان کی یہاں آنے کی ہمت کیسے ہوئی؟۔پرینکا نے یہ بھی کہا کہ یہاں آنے سے پہلے میں نے اپنی ماں سے بات کی تھی ۔ ماں نے کہا کہ کسی کی برائی مت کرنا۔ مگر میں جوان ہوں، دل کی بات آپ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں؟
پرینکا گاندھی جہاں جاتیں، وہاں اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کو یاد کرنا نہیں بھولتیں۔رائے بریلی کے اس الیکشن میں پرینکا نے کہا کہ مجھے یہاں آ کر فخر محسوس ہو رہا ہے۔ یہ اندرا جی کی ’کرم بھومی‘ ہے۔وہ میری دادی ہی نہیں تھیں، ساری عوام کی ماں بھی تھیں۔ اس الیکشن میں ارون نہرو( بی جے پی) اور ستیش شرما( کانگریس) آمنے سامنے تھے۔ انتخابی تشہیر کے دوران دونوں ہی ایک دوسرے پر سیدھا حملہ کرنے سے بچتے رہے۔ ارون نہرو کی فتح تقریباً یقینی تھی، لیکن پرینکا نے انتخابات سے تین دن قبل آ کر ایسا ماحول بنا دیا کہ ستیش شرما جیت گئے۔ یہی پرینکا گاندھی کا جادو ہے۔ ان میں عوام کو اندرا گاندھی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اسی جادو کا استعمال کانگریس پارٹی بہار میں کرنا چاہتی ہے۔ بہار کے انتخابات میں پرینکا کا جادو کتنا چلے گا، یہ ابھی کہنا مشکل ہے، لیکن اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ بہار میں اپنی زمین کھو چکی کانگریس مضبوط ہوگی، جس کا فائدہ اسے 2014کے لوک سبھا انتخابات میں ملے گا۔
2014کے انتخابات کی پیش گوئی کانگریس کے لئے اچھی نہیں ہے۔ اگر راہل گاندھی کو مکمل اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم بنانا ہے تو تنظیم کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ کئی طرح کے سیاسی دائوں کھیلنے پڑیں گے۔ راہل گاندھی کے لئے ماحول بنانا پڑے گا۔ ایسی حالت پیدا کرنے کی ضرورت پڑے گی کہ ملک کے عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ کانگریس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ 2009کے انتخابات میں کانگریس پارٹی کو امید سے زیادہ کامیابی ملی۔ لوک سبھا میں کانگریس کے پارٹی ممبران کی تعداد 203ہے۔ کئی ریاستوں میں تو کانگریس اتنی سیٹیں جیتیں، جسے پھر سے دہرانا ناممکن سا ہے۔ 2009میں کانگریس نے دہلی، ہریانہ، اترا کھنڈ، ارونا چل پردیش اور منی پور کی تقریباً تمام سیٹیوں پر فتح حاصل کر لی۔ ان ریاستوں میں پھر سے ایسا کرشمہ دکھانا مشکل ہوگا۔ آندھرا پردیش میں42میںسے 33سیٹیں جیت کر کانگریس نے تاریخ رقم کی۔ اس کے علاوہ آسام میں7،گجرات میں11،کیرل میں13، مدھیہ پردیش میں12،پنجاب میں8،اور راجستھان میں20سیٹیں جیت کر کانگریس نے تمام سیاسی تجزیہ کرنے والوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ اتر پردیش میں پارٹی 21سیٹیں جیت کر دوسرے مقام پر رہی اور مہاراشٹر میں اسے 17سیٹیں ملیں۔ ہندوستانی سیاست کا تقاضا یہ ہے کہ ہر الیکشن میں30فیصد سے جیت حاصل کرنے والا الیکشن ہار جاتا ہے۔ اعداد و شمار اگر صیح ثابت ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ 2014کے انتخابات میں ان ریاستوں میں کانگریس کی سیٹیں کم ہوں گی۔ اگر اعداد و شمار پر یقین نہ بھی کیا جائے، پھر بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان ریاستوں میں ایسی جیت پھر سے حاصل کرنا ناممکن ہے۔ سونیا گاندھی اسی ناممکن چیلنج کو ممکن کرنے کی تیاری میں لگ گئی ہیں۔ کانگریس کی حکمت عملی یہ ہے کہ جن ریاستوں میں 2009کے الیکشن میں کم سیٹیں آئی ہیں، وہاں پارٹی کو مضبوط کرنا ہے، تاکہ 2014کے عام انتخابات میں 203سے زیادہ سیٹیں مل سکیں اور راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنایا جا سکے۔ کانگریس پارٹی کو یہ بھی محسوس ہو رہا ہے کہ 2014اچھا موقع ہے، کیونکہ اپوزیشن پارٹیاں کمزور ہو رہی ہیں اور کوئی بھی پارٹی فی الحال کانگریس کو چیلنج کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو بہت دیر ہو جائے گی۔ کانگریس پارٹی راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کے لئے 2019تک کا انتظار کرنے کو تیار نہیں ہے۔
کانگریس کی فتح میں روزگار گارنٹی اسکیم، خواتین کو تحفظ گارنٹی، خواتین کی تعلیمی اسکیم،حفظان صحت سے متعلق اسکیم، کسانوں کی قرض معافی اسکیم اور پسماندہ طبقات کے لئے اسکیمیں وغیرہ ایسے عوام کو لبھانے والے کاموں کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔اس لئے نئی حکومت میں ترقی کا پہیہ اور بھی تیزی سے دوڑنا طے ہے۔ سونیا گاندھی کا نیشنل ایڈوائزری کو نسل کا صدر بننا بھی کانگریس کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔ اس کے ذریعہ آنے والے وقت میں غریبوں، اقلیتوں اور دیہی عوام کی ترقی کی مختلف اسکیمیں اور منریگا وغیرہ جیسی اسکیمیں صحیح طریقہ سے نافذ ہوں، اس پر سونیا گاندھی کو پورا دھیان رہے گا۔اس سے خواتین ریزرویشن،نریگا، تعلیم، صحت اور دیہی ترقی وغیرہ کی کامیابیوں کا شرف سونیا گاندھی کو ملے گا۔ علاوہ ازیں کانگریس 2014کے عام انتخابات کی تیاری میں مصروف ہو گئی ہے۔ کانگریس کے لئے اتر پردیش اور بہار میں پارٹی کو مضبوط کرنا کتنا ضروری ہے، اس کے ثبوت ہمیں 14اپریل کو امبیڈ کر نگر میں ہوئی ریلی سے ملتے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے اس ریلی میں کہیں بھی کچھ بھی وسائل اور پیسہ مہیا کرانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ ملک کے تمام کانگریسی وزراء اور وزراء اعلیٰ کو یہ بات صاف الفاظ میں بتا دی گئی ہے کہ پارٹی کو منظم کرنے اور خاص کر راہل گاندھی کے کسی بھی پروگرام میں ذرائع کی کمی نہیں ہونی چاہئے۔ سماجی کاموں کے ذریعہ دیہی علاقوں میں کانگریس پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے غیر سرکاری ادارے کھولے جا رہے ہیں اور انہیں روپیہ مہیا کرایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس پارٹی اخبار اور ٹی وی چینل کھولنے کی تیاری میں ہے، تاکہ پارٹی کی کاموں کا زیادہ سے زیادہ تشہیر ہو سکے۔ ساتھ ہی راہل گاندھی نے تنظیم کو مضبوط کرنے کی ذمہ داری خود پر لے لی ہے۔ یہ بہار اور اتر پردیش میں نوجوانوں کو موقع دینا چاہتے ہیں۔ ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ 2014کے انتخابات میں بہار اور اتر پردیش میں نئے چہرے میدان میں اتریں۔ انہیں لگتا ہے کہ پرانے لیڈران کی شبیہ اور ان کے آپسی جھگڑوں کی وجہ سے ان ریاستوں میں پارٹی کی یہ بدتر حالت ہوئی ہے۔ راہل گاندھی این ایس یو آئی اور یوتھ کانگریس کے لیڈران کو ترغیب دینا چاہتے ہیں۔ راہل گاندھی کی یہ اسکیم ہے کہ بہار اور اتر پردیش میں2014کے انتخابات میں صاف و شفاف شبیہ والے نوجوان امیدواروں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ ان دونوں تنظیموں کی دیکھ ریکھ کا کام راہل کے تغلق روڈ واقع رہائش سے آ رہا ہے۔کانگریس کارکنان کے درمیان یہ دفتر راہل سکریٹریٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بتایا یہ جا رہا ہے کہ اس دفتر سے پارٹی تنظیم کو صرف ہدایات دی جا رہی ہیں۔ یہاں صلاح مشورے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔
2014میں کانگریس کے سامنے کئی چیلنج ہوں گے۔ گزشتہ بار کانگریس کے حق میں لوگوں کی رائے اس لئے سب سے زیادہ بنی کہ راہل گاندھی اور سونیا گاندھی نے صاف کہا کہ انہیں وزیراعظم نہیں بننا، جبکہ باقی جماعتوں میں وزیراعظم عہدہ کے لئے کئی کئی دعویدار گھوم رہے تھے۔ ہندوستان کی عوام نے انہیں اس لئے پسند کیا کیوں کہ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں، بااقتدار ہوتے ہوئے بھی اقتدار کی چوٹی پر نہیں پہنچتے۔ کانگریس کا دوسرا چیلنج یہ ہوگا کہ مرکزی حکومت کو مہنگائی اور بے روزگاری کو اہمیت دینی ہوگی۔ صحیح انتظامیہ، کمزور طبقات کے لئے اسکیمیں، کسانوں کی خود کشی پر روک تھام اور کھیتی کو منافع بخش بنانے جیسے نکات بھی اسے اپنی ترجیحات میں شامل کرنے ہوں گے۔ دلت اور اقلیت خود کو محفوظ سمجھیں، انہیں اقتصادی ترقی کا فائدہ اور سیاسی عمل میں حصہ داری ملے، یہ بھی حکومت کا فرض ہے۔ اقلیتوں کے لئے ، خاص کر رنگناتھ مشراکمیشن کی رپورٹ کو بلا تاخیر نافذ کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ منموہن حکومت کو اس بات سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ 2014تک کوئی اقتصادی گھوٹالے نہ ہوں۔ کانگریس پارٹی اگر ان باتوں کا دھیان رکھے گی تو اسے ملک میں ہر جگہ پیار اور حمایت حاصل ہوگی۔ اور، اس کی تمام تر اسکیمیں کامیاب ہوں گی۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *