پاکستان میں کئی کرکٹ کھلاڑیوں پرپابندی عائد

آسٹریلیا دورہ میں ملی کراری شکست کے بعد پاکستانی کرکٹ میں جو بھونچال آیا ہے وہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ کوچ کی شکل میں وقار یونس کی تقرری کے بعدپاکستان کرکٹ بورڈ( پی سی بی)نے ٹیم کے دو سابق کپتانوں محمد یوسف اور یونس خان پربے مدت پابندی عائد کردی ہے جبکہ ایک اور سابق کپتان شعیب ملک اور تیز گیند باز نوید الحسن رانا پر ایک ایک سال تک کھیلنے کی ممانعت کر دی ہے۔علاوہ ازیں وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل اور ان کے چھوٹے بھائی عمر اکمل اور آل راﺅنڈر شاہید آفریدی پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیاہے۔
غور طلب ہے کہ گزشتہ ماہ آسٹریلیا دورہ پر گئی پاکستانی ٹیم کو بری طرح ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا اور پورے دورے میں ٹیم ایک بھی جیت حاصل نہیں کر پائی تھی۔ دورے کے درمیان میں ہی ٹیم میں گروہ بندی اور کھلاڑیوں پر ضابطہ شکنی کا الزام عائد ہوا تھا۔ ٹیم کی وطن واپسی پر پی سی بی نے ایک تفتیشی کمیٹی تشکیل دی ۔ وسیم باری کی قیادت والی اس کمیٹی نے کئی کھلاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی تھی۔
پی سی بی نے حالانکہ کمیٹی کی رپورٹ کو عام کرنے سے انکار کر دیا، لیکن اس کی بنیاد پر کھلاڑیوں کے خلاف انتتظامی کارروائی کی گئی ہے۔ خبروں کے مطابق رپورٹ میں محمد یوسف، یونس خان، شعیب ملک اور ناوید الرانا پر ٹیم کے مفاد کے خلاف کام کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ دورے پر وکٹ کیپنگ اور بلے بازی میں بری طرح ناکام رہنے والے کامران اکمل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ آخری ٹسٹ میں پہلے انھوں نے پی سی بی کے فیصلہ کے خلاف ٹیم میں خود شامل ہونے سے متعلق بیان دیئے تھے،جبکہ عمر اکمل نے اسی میچ میں زخمی ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے ٹیم سے باہر رہنے کی کوشش کی تھی۔ پاکستانی ٹی-20ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی پر جان بوجھ کر گیند کی حالت بگاڑنے اور پاکستانی کرکٹ کی شہرت کم کرنے کا الزام ہے۔اس جرم کے لئے آئی سی سی پہلے ہی آفریدی کو سزا سنا چکی ہے۔
پی سی بی کی اس کارروائی کے بعد کچھ ہی دنوں بعد ہونے والے ٹی-20ورلڈ کپ کے لئے پاکستانی ٹیم کی تیاریوں پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔ آفریدی کی کپتانی میں ٹیم نے پچھلی بار اس ٹورنمنٹ میں فتح حاصل کی تھی لیکن اس پورے معاملے کے بعد کئی اور کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کرنے کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔پاکستان کے کئی سابق کھلاڑیوں نے پی سی بی کے اس ا قدام پر تنقید کرتے ہوئے رپورٹ کو عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹیم کے نئے کوچ وقار یونس بھی اس کارروائی سے خوش نہیں ہیں۔ ایسے میں پاکستانی کرکٹ کولے کر قیاس آرائیوں کا دور ابھی جاری رہ سکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *