میرے خلاف لکھنا منع ہے

حکومت کی اسکیموں اور کاموں کی تشہیر کرنے کے لئے محکمہ رابطہ عامہ ہوتا ہے۔ ہر حکومت اس کی خواہاں ہوتی ہے کہ اس کے اچھے کاموں کی تشہیر ہو اور حکومت کی کمزوریاں باہر نہ آئیں۔حکومت کی ناکامیوں اور کمزوریوں کو عوام کے سامنے لانا میڈیا کا کام ہے ۔ مگر بہار میں حالات مختلف ہیں۔ بہار میں غیر اعلانیہ سینسر شپ نافذ ہے۔پٹنہ کے اخبارات نے نتیش حکومت کی خامیاں اور برائیوں کو شائع کرنا بند کر دیا ہے۔ حکومت کے خلاف خبر شائع کرنے پر اخبار مالکان کو معافی مانگنی پڑتی ہے اور خبر لکھنے والے صحافی کو سزا ملتی ہے۔ بہار کی میڈیا نے حکومت کے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں اور وہ محکمہ رابطہ عامہ کی طرح کام کر رہا ہے۔
پٹنہ کے ایک شخص کو عوام کے مسائل سے متعلق بٹائی داری قانون کے بارے میں ایک خبر شائع کرانی تھی۔ پٹنہ کے تمام اخبارات کے دفتروں کے چکر لگاتا رہا، لیکن ہر اخبار نے اس خبر شائع کرنے سے منع کر دیا۔ اس شخص کو اخبار کے دفتروں میں بتایا گیا کہ جو خبر آپ شائع کرانا چاہتے ہیں، وہ نتیش حکومت کے خلاف ہے، اس لئے ہم اسے شائع نہیں کر سکتے۔اس شخص نے اپنی خبر ایک اشتہار کی شکل میں شائع کرنے کی کوشش کی، لیکن پھر بھی کسی اخبار نے اس خبر کو شائع کرنے کی ہمت نہیں کی۔بہار کے اخبارات پر نظر ڈالیں تو ایک عجیب وغریب پیٹرن دکھتا ہے۔ صفہ اول پر حکومت کے اچھاے کاموں کا بڑھا چڑھا کر بیورہ ملتا ہے، وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی اچھی تصویر ہوتی ہے اور بقیہ جگاہوں پر قتل، آبروریزی اور ڈاکہ زنی کی خبریں ہوتی ہیں۔جتنی ترقی ہوئی نہیں ، اخبار اس سے کہیں زیادہ ڈھول پیٹتے ہیں۔نتیش کمار کے مخالفین ، دوسرے لیڈران اور ان کے خیالات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔ بہار کے کچھ صحافیوں سے بات کرنے معلوم ہوا کہ وہ ریاست کے مسائل سے متعلق لکھنا چاہتے ہیں ، مگر ان کی قلم کو روک دیا جاتا ہے۔ جس اخبار میں نتیش حکومت کے خلاف خبر شائع ہو جاتی ہے۔ یہ تب تک بند رہتا ہے، جب تک اخبار کے مالک بہار حکومت کے صدر کے پاس جا کر گڑگڑاتے نہیں ہیں۔ بہار کے صحافیوں نے بتایا کہ کچھ دن قبل ہندی کے ایک بڑے اخبار نے بہار حکومت کے خلاف ایک خبر شائع کی۔ خبر کی سرخی تھی’ وزیر اعلیٰ جی، شراب بڑی ظالم ہوتی ہے‘۔ اس اسٹوری میں ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے ایک گھوٹالہ کی کہانی تھی۔ یہ خبر شائع ہوتے ہی اس اخبار کو ملنے والے تمام سرکاری اشتہارات بند ہو گئے۔ اخبار مالکان نے گھٹنے ٹیک دیئے۔ مدیران، مالکان کو معافی مانگنی پڑی اور رپورٹر کو پٹنہ سے تبادلہ کر کے جھارکھنڈ کے جنگلوں میں نکسلیوں کی خبر لینے بھیج دیا گیا۔فی الحال اس درمیان مالکان میں سے ایک نے نتیش کمار کے مخالفین سے ہاتھ ملا لیا۔ انھوں نے نتیش کے مخالفین کو بتایا کہ حکومت زیادتی کر رہی ہے۔ بہار میں حکومت کے خلاف اور حزب اختلاف کی خبروں کو اہمیت دینے کا انجام کیا ہوتا ہے ، وغیرہ باتیں عام ہیں۔
یہی وجہ ہے، بہار کے اخبارات اور نیوز چینلوں کی رپورٹوں سے بس یہی معلوم ہوتا ہے کہ بہار میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ بیشتر اخبار اور نیوزچینل نتیش کمار کی شان میں قصیدے ایسے پڑھتے اور لکھتے ہیں کہ جیسے آپ بہار حکومت کا چینل دیکھ رہے ہوں یا پھر بہار حکومت کے پبلک رلیشن ڈپارٹمنٹ کا کوئی پرچہ پڑھ رہے ہوں۔
اس سال الیکشن ہونے والے ہیں۔ نتیش حکومت اپنے اقتدار کے پانچ سال پورے کرنے جا رہی ہے، مگر اس دور اقتدار کے دوران کیا کیا خامیاں رہیں، یہ شائع کرنے یا دکھانے کی ہمت کوئی بھی اخبار یا نیوز چینل نہیں کر سکا۔ کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بہار حکومت میڈیا کو مینج کرنے کی ضرورت نہیں ہے،کیونکہ وہ خود مینج ہونے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ اب جب میڈیا ہی حکومت کے پبلک رلیشن ڈپارلیمنٹ کا کام کرنے لگ جائے تو ایسے میں اخباروں اور نیوز چینلوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔
نتیش کمار کی حکومت پہلے سے بہتر طریقہ سے بہار میں کام کر رہی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ترقی کے کام ہو رہے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سال ہونے والے الیکشن کی نظر سے دیکھا جائے تو فی الحال نتیش برتری کی حالت میں ہے۔ وہ اپنے مخالفین سے آگے چل رہے ہیں، مگر یہ واک اوور والا معاملہ نہیں ہے۔ ذرا سے حالات تبدیل ہونے سے نتیش کمار کے لئے انتخاب میں جیت مشکل ہو سکتی ہے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ بہار کے اخبار جس طرح سے سیاسی رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔ اس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ میڈیا نتیش کمار کو انتخابات سے قبل فتحی بنانے میں لگی ہیں۔ایسا ہگتا ہے کہ بہار کے اخبار نتیش حکومت کے پبلک رلیشن ڈپارٹمنٹ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
بہار میں کیا زمین کی تقسیم کی حالت مستحکم ہو گئی ہے، کیا ہر شہر اور دیہی علاقاوں میں پینے کا صاف شفاف پانی میسر ہونے لگا ہے، کیا بہار میں بے روزگاری پر قابو پا لیا گیا ہے، کیا بہار کا طبی نظام ٹھیک ہو گیا ہے، کیا مہا دلتوں کے مسائل کا حل ہو چکا ہے، کیا سیلاب متاثرہ علاقوں میں راحت کا کام صحیح طریقہ سے ہو چکا ہے، کیا بہار میں نریگا جیسی اسکیمات میں میں کوئی بدعنوانی نہیں ہے، کیا بہار میں سرکاری دفاتر میں رشوت خوری ختم ہو گئی ہے، کیا بہار میں تعلیمی نظام بہتر ہوا ہے اور کیا بہار میں نظام قانون کی حالت بہتر ہو گئی ہے؟ کسی صحافی نے یہ ہمت نہیں کی کہ کوسی کی حقیقت کو سامنے لایا جائے۔ بہار کے کئی صحافی کہتے ہیں کہ حکومت کے خلاف لکھنے کا مطلب نوکری سے ہاتھ دھونا ہے۔مگر، اشتہارات کا لڈو دکھاکر بہار حکومت جو کھیل کر رہی ہے، وہ نیا نہیں ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ 2004کے انتخابات میں این ڈی اے کی حکومت نے بھی شائننگ انڈیا کے اشتہار کے نام پر میڈیا کو کروڑوں روپے دیئے تھے۔ اس وقت بھی اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے انتخابات سے قبل این ڈی اے کی حکومت کو فتحی قرار دے دیا تھا۔ اس الیکشن کا نتیجہ کیا نکلا، یہ بھی ہمارے سامنے ہے۔
حکومت کے محکمہ رابطہ عامہ کی طرح کام کرنا بہار میں صحافت کا نیا چہرا ہے۔ کیا سبب ہے کہ ہڑتال سے بہار میں پورا ورک کلچر متاثر ہو جاتا ہے اور اخبارات میں اس خبر کو اندر کے صفحات میں معمولی سی جگہ مل پاتی ہے۔ کیوں حکومت کے مخالفین کو ولین کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ نتیش حکومت نے سرکاری اشتہارات کا استعمال کر کے اخبار مالکان کو لالچ دیا اور اخباروں کو پالتو بنانے میں کثر نہیں چھوڑی۔ بہار کے کچھ سینئر صحافی بتاتے ہیں کہ اخباروں کو بھیجے گئے اپوزیشن جماعتوں کے بیان شائع ہونے سے قبل وزیر اعلیٰ کی میز پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ دہلی سے چلائی گئی خبروں کو لے وزیر اعلیٰ کے دفتر سے ہدایات آتی ہیں کہ حکومت کی منفی شبیہ والی خبریں نہ شائع کی جائے۔ بہار میں یہ غیر اعلانیہ سینسر شپ بہت ہی متعین طریقہ سے نافذ کی گئی ہے اور اخباروں کو اپنے مفاد میں استعمال کر کے انہیں ریاستی حکومت کا ایجنٹ بنا ڈالا گیا ہے۔ مندی کے دور میں نتیش حکومت نے میڈیا کی کمزوری کو بخوبی سمجھا اور سرکاری اشتہارات کو ایک ہتھیار کی طرح استعمال کیا۔ ایسے ایسے ہتھکنڈے اپنائے گئے، جنہیں ہم تانا شاہی سے جوڑ کر دیکھ سکتے ہیں۔ لالو رابڑی کی حکومت کے دوران بہار میں جنگل راج پر ہمیشہ کچھ کچھ خبریں شائع کرتی تھیں، لیکن موجود دور میں خبر شائع ہونے سے پہلے اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ حکومت کے مکھیا کا سیاسی قد کم نہ ہو جائے۔
دراصل، نتیش حکومت نے میڈیا کی کمزوری کو پہچان لیا ہے اور ، یہ کمزوری ہے اشتہارات کی۔ نتیش حکومت نے اشتہارات کے سہارے میڈیا کو قابو میں رکھنے کا کام بخوبی کیا ہے۔ محکمہ اطلاعات رابطہ عام  کی جانب سے سال 2005سے 2010کے درمیان( نتیش کمار کے دور اقتدار کے سالوں میں) تقریباً 64.48کروڑ روپے خرچ کر دیئے گئے۔ جبکہ لالو رابڑی حکومت کے دور اقتدار آخری6سالوں میں محض23.90کروڑ روپے ہی خرچ ہوئے تھے۔ ملی اطلاعات کے مطابق، محکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ نے سال 2009-10میں(28فروری2010تک)19,66,11,694( تقریباً20کروڑ)روپے کے اشتہارات جاری کئے۔ جن میں سے 18,28,22,183(تقریباً18کروڑ سے زیادہ)روپے کے اشتہارات پرنٹ میڈیا اور 1,37,89,511(تقریباًڈیڑھ کروڑ) روپے کے اشتہارات الیکٹرانک میڈیا کو دیئے گئے۔ اتنا ہی نہیں، نتیش حکومت کے چار سال پورے ہونے پر ایک ہی دن میں1,15,44,045(تقریباً 1کروڑ سے زیادہ) روپے کے اشتہارات ایک ساتھ 24اخباروں کو جاری کئے گئے۔ اس میں بھی سب سے زیادہ اشتہار ایک خاص گروپ کے اخبار کو دیا گیا۔ کچھ خاص اخباروں کو تو اکیلے 50لاکھ روپے سے زیادہ کے اشتہارات دیئے گئے ہیں۔
صحافیوں کا یہ کام ہے کہ کسی ڈاکٹر کی طرح جسم کی خوبصورتی کے اندر سے بیماری کو نکال کر باہر کرنا ۔ اگر اخبار حمایتی کا کام کرنے لگیں تو عوام کے سوالوں کو حکومت تک کون پہنچائے گا۔ اگر بہار کے صحافی یہ کہیں کہ خلاف خبر لکھنے پر انہیں نوکری سے نکال دیا جائے گا تو ایسی حالت کو کیاکہیں گے؟ کیا یہ نہیں مان لیا جانا چاہئے کہ بہار میں غیر اعلانکہ سینسر شپ نافذ ہے۔

میرے خلاف لکھنا منع ہے
حکومت کی اسکیمات اور کاموں کی تشہیر کرنے کے لئے محکمہ رابطہ عامہ ہوتا ہے۔ ہر حکومت اس کی خواہاں ہوتی ہے کہ اس کے اچھے کاموں کی تشہیر ہو اور حکومت کی کمزوریاں باہر نہ آئیں۔حکومت کی ناکامیوں اور کمزوریوں کو عوام کے سامنے لانا میڈیا کا کام ہے ۔ مگر بہار میں حالات مختلف ہیں۔ بہار میں غیر اعلانیہ سینسر شپ نافذ ہے۔پٹنہ کے اخبارات نے نتیش حکومت کی خامیاں اور برائیوں کو شائع کرنا بند کر دیا ہے۔ حکومت کے خلاف خبر شائع کرنے پر اخبار مالکان کو معافی مانگنی پڑتی ہے اور خبر لکھنے والے صحافی کو سزا ملتی ہے۔ بہار کی میڈیا نے حکومت کے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں اور وہ محکمہ رابطہ عامہ کی طرح کام کر رہا ہے۔
پٹنہ کے ایک شخص کو عوام کے مسائل سے متعلق بٹائی داری قانون کے بارے میں ایک خبر شائع کرانی تھی۔ پٹنہ کے تمام اخبارات کے دفتروں کے چکر لگاتا رہا، لیکن ہر اخبار نے اس خبر شائع کرنے سے منع کر دیا۔ اس شخص کو اخبار کے دفتروں میں بتایا گیا کہ جو خبر آپ شائع کرانا چاہتے ہیں، وہ نتیش حکومت کے خلاف ہے، اس لئے ہم اسے شائع نہیں کر سکتے۔اس شخص نے اپنی خبر ایک اشتہار کی شکل میں شائع کرنے کی کوشش کی، لیکن پھر بھی کسی اخبار نے اس خبر کو شائع کرنے کی ہمت نہیں کی۔بہار کے اخبارات پر نظر ڈالیں تو ایک عجیب وغریب پیٹرن دکھتا ہے۔ صفہ اول پر حکومت کے اچھاے کاموں کا بڑھا چڑھا کر بیورہ ملتا ہے، وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی اچھی تصویر ہوتی ہے اور بقیہ جگاہوں پر قتل، آبروریزی اور ڈاکہ زنی کی خبریں ہوتی ہیں۔جتنی ترقی ہوئی نہیں ، اخبار اس سے کہیں زیادہ ڈھول پیٹتے ہیں۔نتیش کمار کے مخالفین ، دوسرے لیڈران اور ان کے خیالات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔ بہار کے کچھ صحافیوں سے بات کرنے معلوم ہوا کہ وہ ریاست کے مسائل سے متعلق لکھنا چاہتے ہیں ، مگر ان کی قلم کو روک دیا جاتا ہے۔ جس اخبار میں نتیش حکومت کے خلاف خبر شائع ہو جاتی ہے۔ یہ تب تک بند رہتا ہے، جب تک اخبار کے مالک بہار حکومت کے صدر کے پاس جا کر گڑگڑاتے نہیں ہیں۔ بہار کے صحافیوں نے بتایا کہ کچھ دن قبل ہندی کے ایک بڑے اخبار نے بہار حکومت کے خلاف ایک خبر شائع کی۔ خبر کی سرخی تھی’ وزیر اعلیٰ جی، شراب بڑی ظالم ہوتی ہے‘۔ اس اسٹوری میں ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے ایک گھوٹالہ کی کہانی تھی۔ یہ خبر شائع ہوتے ہی اس اخبار کو ملنے والے تمام سرکاری اشتہارات بند ہو گئے۔ اخبار مالکان نے گھٹنے ٹیک دیئے۔ مدیران، مالکان کو معافی مانگنی پڑی اور رپورٹر کو پٹنہ سے تبادلہ کر کے جھارکھنڈ کے جنگلوں میں نکسلیوں کی خبر لینے بھیج دیا گیا۔فی الحال اس درمیان مالکان میں سے ایک نے نتیش کمار کے مخالفین سے ہاتھ ملا لیا۔ انھوں نے نتیش کے مخالفین کو بتایا کہ حکومت زیادتی کر رہی ہے۔ بہار میں حکومت کے خلاف اور حزب اختلاف کی خبروں کو اہمیت دینے کا انجام کیا ہوتا ہے ، وغیرہ باتیں عام ہیں۔
یہی وجہ ہے، بہار کے اخبارات اور نیوز چینلوں کی رپورٹوں سے بس یہی معلوم ہوتا ہے کہ بہار میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ بیشتر اخبار اور نیوزچینل نتیش کمار کی شان میں قصیدے ایسے پڑھتے اور لکھتے ہیں کہ جیسے آپ بہار حکومت کا چینل دیکھ رہے ہوں یا پھر بہار حکومت کے پبلک رلیشن ڈپارٹمنٹ کا کوئی پرچہ پڑھ رہے ہوں۔
اس سال الیکشن ہونے والے ہیں۔ نتیش حکومت اپنے اقتدار کے پانچ سال پورے کرنے جا رہی ہے، مگر اس دور اقتدار کے دوران کیا کیا خامیاں رہیں، یہ شائع کرنے یا دکھانے کی ہمت کوئی بھی اخبار یا نیوز چینل نہیں کر سکا۔ کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بہار حکومت میڈیا کو مینج کرنے کی ضرورت نہیں ہے،کیونکہ وہ خود مینج ہونے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ اب جب میڈیا ہی حکومت کے پبلک رلیشن ڈپارلیمنٹ کا کام کرنے لگ جائے تو ایسے میں اخباروں اور نیوز چینلوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔
نتیش کمار کی حکومت پہلے سے بہتر طریقہ سے بہار میں کام کر رہی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ترقی کے کام ہو رہے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سال ہونے والے الیکشن کی نظر سے دیکھا جائے تو فی الحال نتیش برتری کی حالت میں ہے۔ وہ اپنے مخالفین سے آگے چل رہے ہیں، مگر یہ واک اوور والا معاملہ نہیں ہے۔ ذرا سے حالات تبدیل ہونے سے نتیش کمار کے لئے انتخاب میں جیت مشکل ہو سکتی ہے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ بہار کے اخبار جس طرح سے سیاسی رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔ اس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ میڈیا نتیش کمار کو انتخابات سے قبل فتحی بنانے میں لگی ہیں۔ایسا ہگتا ہے کہ بہار کے اخبار نتیش حکومت کے پبلک رلیشن ڈپارٹمنٹ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
بہار میں کیا زمین کی تقسیم کی حالت مستحکم ہو گئی ہے، کیا ہر شہر اور دیہی علاقاوں میں پینے کا صاف شفاف پانی میسر ہونے لگا ہے، کیا بہار میں بے روزگاری پر قابو پا لیا گیا ہے، کیا بہار کا طبی نظام ٹھیک ہو گیا ہے، کیا مہا دلتوں کے مسائل کا حل ہو چکا ہے، کیا سیلاب متاثرہ علاقوں میں راحت کا کام صحیح طریقہ سے ہو چکا ہے، کیا بہار میں نریگا جیسی اسکیمات میں میں کوئی بدعنوانی نہیں ہے، کیا بہار میں سرکاری دفاتر میں رشوت خوری ختم ہو گئی ہے، کیا بہار میں تعلیمی نظام بہتر ہوا ہے اور کیا بہار میں نظام قانون کی حالت بہتر ہو گئی ہے؟ کسی صحافی نے یہ ہمت نہیں کی کہ کوسی کی حقیقت کو سامنے لایا جائے۔ بہار کے کئی صحافی کہتے ہیں کہ حکومت کے خلاف لکھنے کا مطلب نوکری سے ہاتھ دھونا ہے۔مگر، اشتہارات کا لڈو دکھاکر بہار حکومت جو کھیل کر رہی ہے، وہ نیا نہیں ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ 2004کے انتخابات میں این ڈی اے کی حکومت نے بھی شائننگ انڈیا کے اشتہار کے نام پر میڈیا کو کروڑوں روپے دیئے تھے۔ اس وقت بھی اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے انتخابات سے قبل این ڈی اے کی حکومت کو فتحی قرار دے دیا تھا۔ اس الیکشن کا نتیجہ کیا نکلا، یہ بھی ہمارے سامنے ہے۔
حکومت کے محکمہ رابطہ عامہ کی طرح کام کرنا بہار میں صحافت کا نیا چہرا ہے۔ کیا سبب ہے کہ ہڑتال سے بہار میں پورا ورک کلچر متاثر ہو جاتا ہے اور اخبارات میں اس خبر کو اندر کے صفحات میں معمولی سی جگہ مل پاتی ہے۔ کیوں حکومت کے مخالفین کو ولین کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ نتیش حکومت نے سرکاری اشتہارات کا استعمال کر کے اخبار مالکان کو لالچ دیا اور اخباروں کو پالتو بنانے میں کثر نہیں چھوڑی۔ بہار کے کچھ سینئر صحافی بتاتے ہیں کہ اخباروں کو بھیجے گئے اپوزیشن جماعتوں کے بیان شائع ہونے سے قبل وزیر اعلیٰ کی میز پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ دہلی سے چلائی گئی خبروں کو لے وزیر اعلیٰ کے دفتر سے ہدایات آتی ہیں کہ حکومت کی منفی شبیہ والی خبریں نہ شائع کی جائے۔ بہار میں یہ غیر اعلانیہ سینسر شپ بہت ہی متعین طریقہ سے نافذ کی گئی ہے اور اخباروں کو اپنے مفاد میں استعمال کر کے انہیں ریاستی حکومت کا ایجنٹ بنا ڈالا گیا ہے۔ مندی کے دور میں نتیش حکومت نے میڈیا کی کمزوری کو بخوبی سمجھا اور سرکاری اشتہارات کو ایک ہتھیار کی طرح استعمال کیا۔ ایسے ایسے ہتھکنڈے اپنائے گئے، جنہیں ہم تانا شاہی سے جوڑ کر دیکھ سکتے ہیں۔ لالو رابڑی کی حکومت کے دوران بہار میں جنگل راج پر ہمیشہ کچھ کچھ خبریں شائع کرتی تھیں، لیکن موجود دور میں خبر شائع ہونے سے پہلے اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ حکومت کے مکھیا کا سیاسی قد کم نہ ہو جائے۔
دراصل، نتیش حکومت نے میڈیا کی کمزوری کو پہچان لیا ہے اور ، یہ کمزوری ہے اشتہارات کی۔ نتیش حکومت نے اشتہارات کے سہارے میڈیا کو قابو میں رکھنے کا کام بخوبی کیا ہے۔ محکمہ اطلاعات رابطہ عام  کی جانب سے سال 2005سے 2010کے درمیان( نتیش کمار کے دور اقتدار کے سالوں میں) تقریباً 64.48کروڑ روپے خرچ کر دیئے گئے۔ جبکہ لالو رابڑی حکومت کے دور اقتدار آخری6سالوں میں محض23.90کروڑ روپے ہی خرچ ہوئے تھے۔ ملی اطلاعات کے مطابق، محکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ نے سال 2009-10میں(28فروری2010تک)19,66,11,694( تقریباً20کروڑ)روپے کے اشتہارات جاری کئے۔ جن میں سے 18,28,22,183(تقریباً18کروڑ سے زیادہ)روپے کے اشتہارات پرنٹ میڈیا اور 1,37,89,511(تقریباًڈیڑھ کروڑ) روپے کے اشتہارات الیکٹرانک میڈیا کو دیئے گئے۔ اتنا ہی نہیں، نتیش حکومت کے چار سال پورے ہونے پر ایک ہی دن میں1,15,44,045(تقریباً 1کروڑ سے زیادہ) روپے کے اشتہارات ایک ساتھ 24اخباروں کو جاری کئے گئے۔ اس میں بھی سب سے زیادہ اشتہار ایک خاص گروپ کے اخبار کو دیا گیا۔ کچھ خاص اخباروں کو تو اکیلے 50لاکھ روپے سے زیادہ کے اشتہارات دیئے گئے ہیں۔
صحافیوں کا یہ کام ہے کہ کسی ڈاکٹر کی طرح جسم کی خوبصورتی کے اندر سے بیماری کو نکال کر باہر کرنا ۔ اگر اخبار حمایتی کا کام کرنے لگیں تو عوام کے سوالوں کو حکومت تک کون پہنچائے گا۔ اگر بہار کے صحافی یہ کہیں کہ خلاف خبر لکھنے پر انہیں نوکری سے نکال دیا جائے گا تو ایسی حالت کو کیاکہیں گے؟ کیا یہ نہیں مان لیا جانا چاہئے کہ بہار میں غیر اعلانکہ سینسر شپ نافذ ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *