خواتین کے اختیارات کے لئے آواز اٹھانے کا مطلب ہے مصیبت کو ہوا دینا

خواتین کے فرائض کی جب بات آتی ہے تو مکمل اسٹیج ایک جانب دکھائی دیتا ہے، چاہے وہ سیاست ہو، مذہب ہو یا پھراسکالر ہوں یا مذہبی رہنما۔لیکن جب عورت کے حق کی بات آتی ہے،چاہے اس حق کی آوازکو دوسرے ہی کیوں نہ اٹھائیں یا وہ خود مانگے تو سارا سماج اچانک تقسیم ہو جاتا ہے۔
سب کا الگ الگ خیال رکھنا، الگ الگ دلیل دینا دیگر بات ہے، مگر کسی کی بھی اپنی رائے ہنگامہ تب کھڑا کر دیتی ہے، جب اپنی بات کو تسلیم کرانے کے لئے سماج کے ٹھیکیدار اسے مذہبی چولے میں لپیٹ کر پیش کرتے ہیں ۔ خواتین کو کانگریس پارٹی کا ریزرویشن دینے کا فیصلہ چاہے اس پارٹی کے لئے سیاسی کھیل ہو، عورتوں کو آگے بڑھنے کے لئے مددگار ضرور ثابت ہو سکتا ہے۔اس کا فائدہ مسلم عورتوں کو کس طرح ملتا ہے یاخواتین اپنی حصہ دار کا فائدہ کیسے اٹھاتی ہیں یا پھر فائدہ ملتا بھی ہے یا نہیں، یہ تمام بعد کی باتیں ہیں۔مسلم مذہبی رہنماﺅں کی جانب سے کچھ بیانات آئے۔ کیا وہ بیان اسلام نقطہ نظر سے صحیح ہیں؟کیا اسلام یا قرآن میں ان دیئے گئے بیانات کی وہی جگہ ہے، جس طرح وہ قرآن میں پیش کئے گئے ہیں۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے، جس نے پہلی بار نہ صرف عورتوں کو عزت دی، بلکہ وہ تمام اختیارات دیئے، جو انسان کو عزت سے سر اٹھاکر جینے کے لئے چاہئے۔ قرآن کی سورة النسا ءمیں پوری صورت خواتین کے اختیارات پر ہے۔ رائٹ آف ایجوکیشن پر قرآن کہتا ہے، علم حاصل کرنا مرد اور عورت دونوں کے لئے ضروری ہے۔
اسلام میں عورتوں کا جائداد میں حصہ بھی قرآن نے مقرر کیا۔پہلی بیوہ خواتین شادی نہیں کر سکتی تھیں، مگر بیوہ کو شادی کا اختیار اسلام نے دیا۔ اگر وہ اپنے شوہر کے ساتھ اچھی طرح سے نہیں رہ پا رہی ہے تو اسے الگ ہونے کا پورا اختیار ہے۔ کمانے کا اختیار دے کر اسے معاشی آزادی دی گئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ عور اگر تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو اس سے کئی نسلیں سنور جاتی ہیں۔بچوں کی پرورش کر کے وہ انہیں ڈاکٹر، سیاستداں،پائلٹ، مفتی اور لیڈر سب بنا سکتی ہے۔عورت ایک اچھی ماں، بیٹی ، بیوی سب کچھ ہوتی ہے۔ وہ اپنے تمام اختیارات ذمہ داریوںکو بخوبی ادا کرتی ہے۔قرآن میں کوئی ایک ایسی آیت یا حضور کا کوئی ایسا بیان، جس نے عورت کی عزت کو کم کیا ہو یا پھر اس کی ترقی میں رکاوٹ ڈالی ہو، کہیں نظر نہیں آتا۔
مسلمان کے پاس حدیثوں کا جو ایک بڑا خزانہ ہے، اس میں حضرت عائشہ حضور کی بیوی کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ میدان جنگ میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ رہیں۔ جنگ جمل اس وقت کی وہ جنگ ہے، جو حضرت عائشہ ؓ کی قیادت میں لڑی گئی۔ یہ تو ایک مثال تھی۔ اور بھی ایسی کئی مثالیں ہیں۔ یہ صحیح نہیں ہے کہ مذہب نے عورتوں کو کمزور بنایا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ مذہب کے جاننے والے بھی ائر نہ جاننے والے بھی اپنی سہولت کے حساب سے آدھی حقیقت بتاتے اور دکھاتے آئے ہیں۔اور ادھوری حقیقت مذہب کو بدنام کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔کیونکہ ہم اپنے مذہب کی حقیقت کو جانتے نہیں ہیں۔
کچھ حدیں ہر مذہب نے بنائی ہیں، کچھ حدیں ہر مذب نے صرف عورتوں کے لئے ہی نہیں، دونوں کے لئے ہی بنائی ہیں۔کیونکہ حدیں ضروری ہیں، طوفانوں کو روکنے کے لئے۔ مسلم عورتوں کی پسماندگی کی بات آتی ہے تو پردے کو مثال بنا کر مذہب کو بدنام کیا جاتاہے۔مذہب آپ کو عزت ، آزاد، تمام اختیارات دیتا ہے تو آپ کے فرائض بھی ہیں، جن سے آنکھیں پھیری نہیں جا سکتیں۔مذہب کی حد میں عورت ہو یا مرد ، ایک پلڑا فرض کا ہے تو دوسرا اختیارات کا ۔دونوں کو برابر کر کے چلنا ضروری ہے اور جب ہم دنیاوی اور مذہبی دونوں اصولوں کو ، دونوں کے فرائض اور اختیارات کو، ایک ساتھ لے کر چلتے ہیں ، تبھی ہم کھرے اترتے ہیں۔اگرریزرویشن کی امید ہے، جو عورتوں کو آگے آنے اور انہیں سماج میں اعلیٰ مقام دلانے میں مدد کرتی ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ اگر عورت اپنی تمام ذمہ داریوں کے ساتھ جس میں بچوں کی پرورش،سماجی ذمہ داریوں اور گھر کے تمام کام یعنی ہر ذمہ داری کو اتنی ہی اچھی طرح سے کر سکتی ہے جتنا کے مرد ، تو پھر اسے بھی سیاست میں آگے آنے کا پورا حق ہے۔
(مصنفہ مشہور معلمہ ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *