آئی پی ایل: انڈین فکسنگ لیگ سب کچھ فکسڈ ہے

کھیل کی دنیا بھی اب دودھ کی دھلی نہیں ہے اور ہندوستان اس کا اگلا ٹھکانہ ہے ۔ اگر کورو اور پانڈووں کے پاسوں کا کھیل فکس ہو سکتا ہے، تو کرکٹ کیوں نہیں ۔ اور، کرکٹ میں فکسکنگ کا کھیل تو اب وسیع پیمانے پر کھیلا جا رہا ہے۔ پہلے اس کھیل میں انڈر ورلڈ سٹہ باز اور کچھ سابق کھلاڑی شامل ہوتے تھے، لیکن اب تو خود کرکٹ بورڈ ہی اس کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ اس کی مثالیں بھی ہم پیش کر رہے ہیں:
سال 1997،ویسٹ انڈیز اور ہندوستان کے درمیان کریبیائی ملک میں کھیلا گیا ٹسٹ میچ۔ جیت کے لئے ہندوستان کو میچ کی چوتھی باری میں صرف 124رن درکار تھے،لیکن پوری ہندوستانی ٹیم صرف 98رن بنا کر پویلین لوٹ آئی۔ سٹہ بازار میں ہندوستان کی جیت کے لئے ہر ایک روپے پر 40روپے کا داﺅں لگا تھا، پھر بھی ٹیم ہار گئی۔ ٹیم میں شامل 6کھلاڑیوں کو 50-50لاکھ روپے ملے۔ مقابلہ کو فکس کرنے میں احمدآباد اور دبئی میں بیٹھے سٹے بازوں کی بڑی اہمیت رہی تھی۔ ہندوستان میں اس مس¿لہ کو لے کر خوبشور برپا ہوا۔بی سی سی آئی میں سرگرم بورڈ کے ایک سابق صدر اور ان کے حامیوں نے آواز بلند کی، لیکن بورڈ کے اہم عہدوں پر فائز اشخاص خاموش بیٹھے رہے۔ ان کی خاموشی کی وجہ کیا ہو سکتی ہے، اس کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔
شارجا کو میچ فکسنگ کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا، جب ہندوستانی کھلاڑی شارجا جا کر کھیلنے کے لئے ہمیشہ بے تاب رہتے تھے۔ایک سٹہ باز کے مطابق ،فکسنگ کی دنیا میں بی سی آئی کے ایک سابق صدر، ایک اسپورٹ مینجمنٹ کمپنی کے سربراہ اور سری لنکا کرکٹ کے ایک سرفہرست افسر کے اس ٹرائنگل کو لوگ ابھی بھی یاد کرتے ہیں۔ ایک بار ایسا ہوا کہ شار جا میں ہوئے ایک مقابلہ میں ان تینوں کو 2ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔وجہ، ہندوستانی ٹیم مقابلہ جیتنے میں کامیاب رہی تھی اور ٹیم میں نئے شامل ہوئے دو بلے بازوں نے یہ کارنامہ کر دکھایا تھا۔لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ اس سٹہ باز نے یہ بھی بتایا کہ میچ کے بعد کولکاتہ میں ان تینوں نے ایک میٹنگ کی، جس میں سری لنکا ٹیم کے ایک سابق بلے باز بھی شامل تھے۔ اس میٹنگ میں یہ طے کیا گیا کہ نقصان کو پورا کرنے کے لئے ہندوستان اور سری لنکا کی ٹیموں کو بقیہ ایک یا دو میچ ہارنے ہوں گے۔
میچ فکسنگ کا کھیل صرف ہندوستان، پاکستانی اور شارجا تک ہی محدود نہیں ہے۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ جیسے ممالک میں بھی ایسی بے شمار کہانیاں ہیں۔میدان پر آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان کی دشمنی پوری دنیا پر ظاہر ہے،لیکن ان کے درمیان ہونے والے میچوں کا حال بھی ایشیائی بر اعظم کے میچوں جیسا ہی ہے۔ میچ فکسنگ کی کئی مثالیں یہاں ملتی ہیں۔ سال 1998میں ان دونوں ملکوں کے درمیان کھیلا گیا باکسنگ ڈے ٹسٹ میچ فکسنگ کی سب سے بڑی مثال مانا جا سکتا ہے۔ خبروں پر بھروسہ کریں تو اس مقابلہ سے پہلے ایک غیر ملکی صنعت کار ہارس ریسنگ اور جوئے میں15ملین کی رقم ہار چکا تھا۔ اسے اپنے نقصان کی تلافی کرنی تھی اور اس کے لئے اس نے کرکٹ کو منتخب کیا۔ کھلاڑیوں نے وہی کیا جو انہیں اس صنعت کار نے کہا۔ میچ جیتنے کے لئے آسٹریلیا کو صرف 176رن درکار تھے اور ڈیڑھ دن کا کھیل ابھی باقی تھا، لیکن پوری ٹیم صرف 153رنوں پر سمٹ گئی اور آسٹریلیا میچ ہار گیا۔ آسٹریلیا کی جیت کے لئے ایک روپے پر 80روپے کا داﺅں لگا تھا۔میچ ختم ہوا اور مذکورہ صنعت کار کو 25ملین کا منافع ہوا ۔ پھر بھی لوگ یہی کہتے ہیں کہ فکسنگ کا کھیل صرف ہندوستان، پاکستان اور سری لنکا میں ہی کھیلا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ کرکٹ کی تاریخ میں ایسے کئی میچ درج ہیں جو سٹے بازوں کی وجہ سے سرخیوں میں رہے ہیں۔ 1997کے عالمی کپ میںبنگلہ دیش کے ہاتھوں پاکستان کی شکست ہو یا پھر چیمپئن ٹرافی ، 2000میں ہندوستانی ٹیم کا فائنل تک کا سفر ہو یا پھر عالمی کپ 2003میں ٹیم کا فائنل میں جگہ بنانا، کرکٹ کی غیریقینی صورت حال کے درمیان ان تمام مقابلوں پر میچ فکسنگ کا کالا سایہ بھی مسلسل اپنا اثر چھو ڑ تا رہا ہے۔پاکستانی ٹیم کی ہار کے پیچھے کی کہانی تو یہ ہے کہ خود کھلا ڑی ہی اپنی شکست کے لئے داﺅں لگاتے ہیں۔ آپ کپتان کی شکل میں سوربھ گانگولی کی کتنی بھی تعریف کیوں نہ کریں، لیکن اس کے پیچھے بنگال لابی کی پوشیدہ طاقت کا اندازہ شاید ہی آپ کو ہو۔درمیان میں تو حالت ایسی ہو گئی تھی کہ سوربھ گانگولی کو ٹیم سے باہر کرنے پر کولکاتہ کے کرکٹ شائقین مصیبت کھڑی کر دیتے تھے اور منتخب کرنے والوں کو دوبارہ سوچنا پڑتا تھا۔
گزشتہ کچھ سالوں سے ٹی 20کرکٹ کی مقبولیت نے گیند اور بلے کے اس کھیل کو نئی جہت دی ہے، لیکن حیرت کی بات ہے کہ سٹے بازی کے مرض سے یہ بھی نہیں بچا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ ٹی-20کا انداز اور اس کے پیچھے چھپی غیر یقینی صورت حال سٹے بازی کے لئے زیادہ مفید ہے۔ٹی-20کی مقبولیت نے کرکٹ میں لیگ کلچر کو بڑھاوا دیا تو آئی پی ایل بالی ووڈ اور صنعتی دنیا کو کرکٹ کے ساتھ جوڑکر کامیابی کی نئی عبارتیں لکھ رہا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے کھیل میں سٹے بازی کو بھی صنعت کا درجہ دلا دیاہے۔ یہاں قومی پابندیاں نہیں ہوتیں، کھلاڑی ٹیم فرینچائزی کے نوکر ہوتے ہیں اور انہیں وہیں کرنا ہوتا ہے، جو مالک کی خواہش ہوتی ہے۔ آئی پی ایل میں صرف کھلاڑیوں کی ہی خرید فروخت نہیںہوتی،بلکہ یہاںتو مالک سے لے کر پورا کنبہ ہی فروخت ہونے کے لئے تیار ہے۔ ایک سٹے باز کے مطابق، آئی پی ایل سے جڑی بالی ووڈ کی ایک بڑی ہستی اور صنعتی دنیا کی ایک مشہور شخصیت میدان پر تو اپنی ٹیم کی جیت کے لئے کھیلتے ہیں،لیکن میدان کے باہر خود اپنی ٹیم کی ہار کے لئے داﺅں لگانے سے بھی نہیں چوکتے۔اور، ان کا ساتھ دیتے ہیں لیگ کے ہی ایک طاقت ور افسر اور بی سی سی آئی میں ان کے آقا ۔
تین سال قبل جی گروپ نے انڈین کرکٹ لیگ ( آئی سی ایل) کا آغاز کیا ۔ جی گروپ نے اپنی ٹیموں میں کئی ملکوں کے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا تو سابق کھلاڑی کپتان کپل دیو بھی اس کے ساتھ ہو لئے۔ یہی سبب ہے کہ کپل دیو نے بھی خود کو اس سے تقریباً الگ کر لیا۔ یہ تو بھلا ہو ٹی وی نیوز چینلوں کو، جنھوں نے کپل دیو کو اس موضوع پر تنقید کرنے کے لئے بلا کر انہیں تھوڑی بہت عزت سے نوازا۔ اس کے باوجود انڈین کرکٹ لیگ کو نہ تو بی سی سی آئی اور نہ ہی آئی سی سی کی منظوری ملی، کیونکہ بی سی سی آئی، آئی سی ایل کو تباہ کرنے کے لئے انڈین پریمئر لیگ( آئی پی ایل) کی تیاری شروع کر چکا تھا۔
8ٹیمیں، فلم اسٹارس، چیئر گرلس، پر زور مارکیٹنگ،گلیمر اور اتنا پیسہ کہ لوگوں کا سر چکرا جائے۔ بالی ووڈکے ستارے، ماڈل، سیاست کے کھلاڑی اور بڑی بڑی برانڈ کمپنیاں اس بڑے پیمانے کے انعقاد کے لئے ایک ساتھ جمع ہوئے۔ ہر ٹیم نے دس سال کے لئے 400سے 600کروڑ روپے کی رقم ادا کی۔تخمینہ کے مطابق، صرف تین سالوں میں ٹیلی ویژ ن اختیار، اسپانسر شپ اور گیٹ فیس سے وہ اس رقم کی ادائیگی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔کچھ دن قبل آئی پی ایل میں دو ٹیموں کا اضافہ ہوا۔ پونے اور کوچی کی ٹیموں کی قیمت باقی 8ٹیموں کی کل قیمت سے بھی زیادہ ہے۔ اب ان دونوں ٹیموں کو فائدہ کیسے ہوگا، یہ سوال اہم ہے۔ خبریں آ رہی ہیںکہ پونے کی ٹیم کی فرینچائزی لینے کے بعد سہارا گروپ ٹیم انڈیا کی اختیاری اسپانسرشپ سے ہٹنے پر غور کر رہا ہے۔ اگر کرکٹ صرف برانڈ بلڈنگ کی بات ہوتی تو سہارا گروپ ٹیم انڈیا کا اسپانسر بننے کے بجائے پونے کی ٹیم تک سمٹ کر کیوں رہ جانا چاہتا ہے۔ اس کا جواب کوئی مارکیٹنگ ایکسپرٹ یا برانڈ پلان نہیں دے سکتا۔ اس کا جواب ہمیں کچھ سٹے بازوں نے دیا۔ انھوں نے بتایا کہ پیسہ کا اصلی ذریعہ تو فکسنگ ہے۔ برانڈنگ اور ٹی وی پر آنے والی نشریات بس دکھاوے کے لئے ہیں۔

Share Article

One thought on “آئی پی ایل: انڈین فکسنگ لیگ سب کچھ فکسڈ ہے

  • April 9, 2010 at 6:24 pm
    Permalink
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *