ہار کا غم نہیں

نئی دہلی کے نیشنل دھیان چند اسٹیڈیم میں کھیلا گیا عالمی کپ ہاکی ٹورنمنٹ کا پہلا دن۔ عظیم بر آعظم  ایشیا کے دو مشہور حریف ،ہندوستان پاکستان کی ٹیمیں آمنے سامنے تھیں۔ دونوں ہی ٹیموں کے لئے یہ پہلا میچ تھا۔ جب مقابلہ ہندوستان پاکستان کے درمیان ہوتا ہے تو وہ صرف ایک مقابلہ نہیں ہوتا، اس میں جذبات کا ایسا سیلاب ہوتا ہے دونوں ٹیموں کے حامیوں کے تالیوں کی وہ گڑگڑاہٹ جس کی گونج میدان سے باہر بھی دور تک سنائی دیتی ہے۔ لوگ بے صبری سے اس کے شروع ہونے کے منتظر تھے۔ ایک بار جب مقابلہ شروع ہواتو میدان پر جو دیکھنے کو ملا وہ کسی خواب سے کم نہیں تھا۔ شیوندر سنگھ،،پربھجوت سنگھ، وکرم پلئی اور سندیپ سنگھ کے بہترین کھیل کے مظاہرہ سے ہندوستان پاکستان کو 4-1کی کراری شکست دینے میں کامیاب رہا۔فتح و شکست کے فاصلہ سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ ہندوستانی ٹیم نے پورے مقابلہ میں اپنا دبدبہ بنائے رکھا اور پاکستانی ٹیم کبھی بھی حملہ کرنے کی حالت میں نہیں آپائی۔یہ جیت ہندوستان ہاکی کے پرانے دنوں کی یاد تازہ کرانے والی تھی لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تو کسی بھی حالت میں ایک برے خواب سے کم نہیں تھا۔میچ کے اگلے بین الاقوامی ہاکی فیڈریشن نے شیوندر کو تین میچوں کے لئے باہر کردیا اور کھیلنے پر پابندی لگادی۔ ان پر جان بوجھ کر مخالف ٹیم کے کھلاڑی فرید احمد کو چوٹ پہنچانے اور زخمی کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔حالانکہ، شیوندر کے خلاف کسی نے کوئی شکایت درج نہیں کرائی تھی، لیکن ایف آئی ایچ نے خود ہی معلومات حاصل کر کے ان پر ممانعت عائد کر دی۔فیصلہ کے خلاف اپیل کے بعد سزا کو کم کرکے اسے دو میچوں تک محدود کر دیا گیا لیکن اس سارے معاملہ نے ٹیم کے وقار کو اس طرح سے متاثر کیا کہ آئندہ مقابلوں میں ٹیم ایک عدد جیت کے لئے تر س کر رہ گئی۔
اب ذرا اس معاملے کے دوسرے فریق کو دیکھیں۔ پاکستان کے بعد ہندوستانی ٹیم کو اپنا آئندہ مقابلہ آسٹریلیائی ٹیم کے ساتھ کھیلنا تھا ۔ پہلے مقابلہ میں ہندوستانی ٹیم نے پاکستانی ٹیم کو جو رقص دکھایا تھا اور کھلاڑیوں نے جس طرح حملہ آورانہ رویہ اپنا کر پاکستانی ٹیم کو چاروں خانے چت کیا تھا۔ اسے دیکھ کر ایسا لگا جیسے ٹیم کچھ کر گزرنے کے لئے پر عزم ہے۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ شیوندر کے خلاف فیصلہ لینے والے ٹورنمنٹ ڈائریکٹر کین ریڈ آسٹریلیا کے ہی ہیں۔ خود پاکستانی ٹیم نے مانا کہ شیوندر کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ اتنا ہی نہیں، پاک ٹیم کے ایک کھلاڑی نے تو ایف آئی ایچ پر ایشیائی کھلاڑیوں کے ساتھ سوتیلا رویہ کرنے کا الزام تک لگا دیا۔ ہندوستانی ٹیم کے ساتھ افسران کے اس سوتیلے رویہ کا سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ جنوبی افریقی ٹیم کے خلاف اپنے چوتھے مقابلے میں ریفرل طرز نے ٹیم کو ایک یقینی جیت سے محروم کردیا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ہاف ٹائم تک ہندوستانی ٹیم 2-1سے آگے چل رہی تھی۔ بریک کے بعد میچ کے 46ویںٹورنمنٹ میں سرون جیت سنگھ کے دوسرے گول کی مدد سے ہندوستا ن نے 3-2کی مدد لے لی۔ تبھی مخالف ٹیم نے ریفرل کا مطالبہ کیا۔ ویڈیو ریفرل کے بعد ہندوستان کے گول خارج کر کے جنوبی افریقہ کو پینلٹی کارنر دے دیا گیا جسے گول میں تبدیل کر کے ٹیم نے الٹے ہندوستان پر 3-2کی برتری حاصل کر لی۔ میچ افسران کے من مانے رویہ کا عتاب ٹیم کو پانچ منٹ بعد ایک بار پھر جھیلنا پڑا۔ جب ٹی وی امپائر نے ری پلے دیکھنے کے بعد ایک اور گول کو ماننے سے انکار کر دیا۔چند لمحہ قبل جیت کی راہ پر آگے بڑھتی ہندوستان ٹیم یکبارگی ہی ہار کے دہانے پر کھڑی تھی۔ وہ تو شیوندر سنگھ کا کمال تھا جنھوں نے مقابلہ ختم ہونے کے ٹھیک پہلے گول کر ٹیم کو برتری دلائی اور ہندوستان گروپ بی میں چوتھے مقام پر رہنے میں کامیاب ہوا۔ میچ ختم ہونے کے بعد ٹیم کے کھلاڑیوں اور کوچ کے چہرے پر مایوسی صاف جھلک رہی تھی۔ کوچ ہوزے براسا نے اس پر اعتراض ظاہر کیا، لیکن اس سے زیادہ وہ کچھ کربھی نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ریفرل کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی جا سکتی۔ افسران کے من مانے رویہ نے ٹیم کو پھر سے فتح کی دہلیز سے واپس لوٹا دیا تھا۔ سب سے دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس مقابلہ میں ٹی وی امپائر کے کردار میں انگلینڈ کے اینڈی مائر تھے۔ مقابلہ ختم ہونے کے بعد جنوبی افریقی ٹیم کے کپتان آسٹن اسمیتھ نے خود مانا کہ قسمت نے انہیں شکست سے بچا لیا۔ ایسے میں اگر ایشیائی کھلاڑی بین الاقوامی ہاکی فیڈریشن پر سو تیلے پن کا الزام لگاتے ہیں تو اسے سرے سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔حالانکہ ٹیم کے اس مظاہرہ کے لئے صرف غیر ملکی افسران کو ہی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف مقابلہ کے بعد کوچ براسا نے کہا کہ میدان پر پانی کی کمی کے سبب ان کے کھلاڑیوں کو دشواری ہوئی۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ میچ شروع ہونے سے پہلے انھوں نے اس بابت ٹیکنیکل آفیسر سے شکایت بھی کی تھی،لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اب اگر اپنے گھریلو میدان پر بھی کسی ٹیم کو ایسی دشواریوں سے دو چار ہونا پڑتا ہے تو اس کا حشر غیر ممالک میں کیا ہوتا ہوگا،باآسانی تصور کیا جا سکتا ہے۔ خود انڈین ہاکی فیڈریشن اپنا کردار اداکرنے میں ناکام رہا ہے۔عالمی کپ سے ٹھیک پہلے کھلاڑیوں نے فیڈریشن کے خلاف بقایا ادائیگی کو لے کر مورچہ کھول دیا۔ کھلاڑیوں کا مطالبہ تھا کہ پہلے انہیں ان کی بقایا رقم کی ادائیگی کی جائے تبھی وہ ٹریننگ کیمپ میں حصہ لیں گے۔ جب دونوں فریقین اپنے مطالبہ پر اٹل رہے تو کافی جدوجہد اور کئی ریاستی حکومتوں اور سابقہ کھلاڑیوں نے بیچ بچاﺅ کر کے صلح کرائی تب جا کر ٹریننگ کیمپ شروع ہو پایالیکن اس سے ٹیم کی تیاریوں پر برا اثر پڑا۔ اس سے پہلے بھی ٹیم کے انتخاب میں فیڈریشن پر کئی طرح کے الزام لگتے رہے ہیں۔ عالمی کپ کے لئے منتخب کی گئی ٹیم میں دیپک ٹھاکر کا انتخاب اس کی سب سے تازہ مثال ہے۔دیپک کو پوری طرح فٹ نہیں ہونے کے باوجود بھی ٹیم میں جگہ دی گئی اور کوئی تعجب نہیں کہ ان کے خراب مظاہرہ سے ٹیم کا تحفظ متاثر ہوا ہو۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہندوستانی ٹیم اپنے گھریلو میدان پر بھی عالمی کپ میں سیمی فائنل تک پہنچنے میں ناکام رہی، لیکن صرف کھلاڑیوں کو ہی اس کے لئے قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انھوں نے اپنی جانب سے کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ اب یہ بات اور ہے کہ قسمت اور حالات نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور رہی سہی کثر ٹورنمنٹ افسران نے پور ی کر دی۔پھر بھی پاکستان کے خلاف ملی فتح اور کھلاڑیوں کے مظاہرہ کو دیکھتے ہوئے مستقبل کے خوابوں کو اڑان تو دی جا سکتی ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے جس طرح ہندوستانی ہاکی مسلسل رو بہ زوال ہو رہی تھی، اسے دیکھتے ہوئے یہ جیت اور ٹیم کا عزم بہتر مستقبل کی جانب اشارہ کر رہا ہے ۔اور امید دلا رہا ہے کہ ابھی بھی ہندوستانی ہاکی ٹیم بہتر کار کردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *