دگ وجے بنائیں گے تیسرا محاذ

بہار میں نتیش کمار کے خلاف انتخابی جنگ میں اترنے کے لئے تیسرے محاذ کا خاکہ کھینچنے کا کام تیزی سے شروع ہو گیا ہے۔کانگریس کے اندر پیدا شدید اختلافات نے تیسرے مورچہ کے امکانات کو اچانک بڑھا دیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ نتیش کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے الگ الگ گروہ میں شامل لو گ لیڈران کے ساتھ تیسرے محاذ پر لڑنے کے لئے بانکا کے ممبر پارلیمنٹ دگ وجے سنگھ نے بگل بجا دیاہے۔نتیش سے ناراض اپنے اپنے علاقے کے سورما اس کام میں شانہ بشانہ دگ وجے سنگھ کا ساتھ دیںگے۔پورے بہار میں مذکورہ لیڈران گھو گھوم کر عوام کی حمایت حاصل کریں گے اور دو مئی کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں کسان مہاپنچایت کا انعقاد کر کے نتیش کمار کو اپنی طاقت کا احساس کرائیں گے۔
دراصل انتخابی سال میں نتیش کمار کے خلاف ایک مضبوط محاذ قایم کرنے کی ضرورت تو سبھی ناراض لیڈران محسوس کر رہے تھے، لیکن ایک اسٹیج پر آنے کی پہل ٹھیک سے نہیں ہو پا رہی تھی۔حد بندی کے بعد صوبہ کی جو انتخابی تصویر طبقاتی لحاز سے ابھری ہے ، اسے لے کر بھی کچھ لیڈر ان اپنی موجودہ پارٹی میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ویسے لیڈران بھی چاہتے ہیںکہ نتیش کے خلاف ایک نیا محاذ جلد سے جلد کھلے۔ٹکٹ کٹنے سے خوفزدہ لیڈر بھی ایسی ہی رائے رکھ رہے ہیں،لیکن تیسرے مورچہ کی بنیاد رکھنے میں سب سے اہم کردار بٹائی داری بل نے ادا کیا۔بٹائی داری بل فی الحال ایسا مسئلہ ہے جسے مرکز میں رکھ کر تیسرے مورچہ کا کردار مانا جارہا ہے۔”کسان بچاﺅ سنیکت مورچہ“ کے بینر تلے جب کئی جماعتوں کے لیڈران ایک ساتھ سامنے آئے تو یہ صاف ہو گیا کہ بٹائی داری بل کو اہم ہتھیار بنا کر مذکورہ تمام لیڈران عوام کی نبض ٹٹولنے میں مصروف ہو گئے ہیں۔صوبے کے کئی اضلاع کا دورہ مذکورہ لیڈران کر آئے ہیں اور ان کے جلسوں میں امڈی بھیڑ نے ان کے حوصلے بلند کر دیئے ہیں۔ خاص کر موتیہاری میں دگوجے سنگھ کے جلسے کو اگر پیمانہ مانا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ دو مئی کو کسان مہا پنچایت میں پٹنہ ایک نئے سیاسی تجربہ کا گواہ بن سکتا ہے۔اس سے پہلے دس اپریل کو’ ودھایک کلب‘ میں خاص کارکنان کی ایک میٹنگ منعقد کی جائے گی، جس میں کیا کوشش کرنی ہے اس کا خاکہ تیار ہوگا۔دگ وجے سنگھ اور پربھو ناتھ سنگھ تو پہلے بھی ایک اسٹیج پر آ چکے ہیں،لیکن جب کسان بچاﺅ سنیکت سنگھرش مورچہ کے بینر تلے ان دونوں لیڈران کے ساتھ آر جے ڈی کے اکھلیش سنگھ ، ناگ منی اور ایل جے پی کے سورج بھان سنگھ سامنے آئے تو پٹنہ کا سیاسی پارہ اچانک گرم ہو گیا۔ طرح طرح کی چہ میگوئیوں کے بیچ ان لیڈران نے یہ صاف کیا کہ بٹائی داری بل کسانوں کو تباہ کر دے گا اور سماجی ہم آہنگی کو بھاری نقصان پہنچائے گا۔ اس لئے پارٹی کی حد سے اوپر اٹھ کر اس کی مخالفت ضروری ہے۔ان لیڈران نے پنچ لائن دی کہ وقت بے وقت نتیش حکومت اس بل کو نافذ کرے گی۔دگ وجے سنگھ نے کہا کہ اگر اس بل کو لے کر حکومت کی نیت صاف ہے تو اسے زیر غور کیوں رکھا گیا۔ یہ بات طے ہے کہ اگر بٹائی داری بل انتخاب کا ایشو بنا تو نتیش کو اگڑی زات کے ووٹ کا بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ایسا اس لئے کہ اگر یہ بل پاس ہوا تو سب سے زیادہ نقصان اگڑی زاتوں خاص کر بھومیہار اور راجپوت برادری کا ہوگا۔یہی وہ طبقہ تھا، جس نے نتیش کمار کو اقتدار تک پہنچانے کے لئے کھل کر ساتھ دیا۔یہی وجہ تھی کہ اگلے ہی دن سشیل کمار مودی نے ایک بار پھر صاف کیا کہ حکومت کے سامنے بٹائی داری بل کی کوئی تجویز نہیں ہے۔نتیش کمار بھی اس معاملہ میں پہلے کئی بارصفائی دے چکے ہیں لیکن دگ وجے سنگھ نے جب بٹائی داری بل کا تیر چلایا تو ایک بار پھر یہ مس¿لہ شدت اختیار کرگیا۔بتایا جارہا ہے کہ للن سنگھ، جگدیش شرما اور پورن ماسی رام سمیت کئی ممبران پارلیمنٹ اور درجنوں ناراض ممبران اسمبلی جلد ہی کھل کر تیسرے مورچے کا جھنڈا بلند کریں گے۔ ان لیڈران کی پوری کوشش ہوگی کہ دو مئی کو نتیش کو اپنی طاقت کا احساس کرا دیا جائے، تاکہ پوری ریاست میں یہ سیاسی پیغام چلا جائے کہ نتیش کمار کی مخالفت کا ایجنڈا بن کر تیار ہو چکا ہے۔دگ وجے سنگھ کی بے داغ شبیہ اور ان کی ماہرتنظیمی اور انتظامیہ اہلیت کا بھی فائدہ اٹھانے کی تیاری چل رہی ہے، تاکہ عوام کے دل میں کوئی شک و شبہ نہ رہ پائے۔ دگ وجے سنگھ کہتے ہیں کہ کسان اور بہار کے مفاد میں ہم نے سفر شروع کیا ہے اور جنہیں بھی کسان اور بہار کی فکر ہے، وہ ہمارے ہمسفر ہیں۔وہ کہتے ہیں ”کہ بہار کی مٹی میں پیدا ہوا ہوں، اس لئے اپنی مٹی کا قرض اتارنے کے لئے ہرطرح کی قربانی دینے کو تیار ہوں۔بہار کے لوگوں کے حق کی لڑائی لڑتا رہا ہوں اور آگے بھی یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ پارٹی حد سے باہر آ کر بھی ایسے لوگ ہمارے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں،جنہیں بہار اور کسانوں کی فکر ہے“۔ایسا مانا جارہا ہے کہ مذکورہ لیڈران پوری کوشش کریں گے کہ دو مئی کا تجربہ کامیاب رہے،تاکہ تیسرا مورچہ عام طور سے زمین پر اتر جائے۔ اس دوران وہ عوام کا رحجان بھی سمجھ پائیں گے اور سیاسی طاقت کا بھی جائزہ لیں گے۔
غور طلب ہے کہ ریاست کے جو تازہ سیاسی حالات ہیں، اس میں یہ مانا جا رہا ہے کہ اگڑی زات کے ووٹروں کے سامنے متبادل کافی کم ہیں۔خاص کر نتیش کمار سے ناراض بھومیہار اور راجپوت ووٹران کے لئے آگے کنواں اور پیچھے کھائی والی حالت بن گئی ہے۔ للن معاملہ کے بعد بھومیہاروں کا ایک بڑا طبقہ نتیش کمار سے خفا ہے۔لالو پرساد سے ان کی ناراضگی برقرار ہے۔بی جے پی پھر ایل جے پی کے دروازے خود بخود بند ہو جاتے ہیں،کیونکہ بی جے پی نتیش کمار کے ساتھ ہے تو ایل جے پی لالو پرساد کے ساتھ۔ کانگریس نے جو امید جگائی ہے، اسے پارٹی کے مقامی لیڈر خاک میں ملا رہے ہیں۔ایسے میں تیسرے مورچہ کو زمین پر اتارنے کے لئے للن سنگھ، جگدیش شرما،سورج بھان سنگھ اور اجیت کمار جیسے بھومیہار سماج کے کئی لیڈران تیاری میں دن رات لگے ہوئے ہیں۔غور طلب ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں ایل جے پی کے کئی اگڑی زات کے امیدواروں کو اس لئے ہار کا منھ دیکھا پڑا، کیونکہ لالو پرساد کی پارٹی آر جے ڈی کے ساتھ ان کی ساز باز تھی۔ لالو-رابڑی کے اقتدار کے خلاف بھومیہاروں نے متحد ہو کر این ڈی اے کا ساتھ دیا تھا، لیکن للن سنگھ کے ساتھ جو ہوا، اس سے ان کے لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔کل ملا کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بھومیہار اور راجپوت ووٹران کی ناراضگی کا احساس تیسرا محاذ قائم کر رہےلیڈران کو ہے اور ان کی پوری کوشش ہے کہ ان دونوں برادری کے زخموں پر مرہم لگایاجائے۔ اس تیسرے محاذ کو قائم کرنے والے لیڈران کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ تمام مسائل کے باوجود بہار میں برادری کی بنیاد پر ہی انتخابی جنگ لڑی ا ور فتح کی جاسکتی ہے۔ اس لئے دوسری برادریوں اور جماعتوں کے درمیان بھی اعتماد بنانے کے لئے ان سے جڑے لیڈران اور کارکنان کو لگایا جا رہا ہے تاکہ جیتنے والی لڑائی لڑی جا سکے۔ اگرکوشش کامیاب رہی اور تیسرا مورچہ زمین پر اتر آتاہے تو یقینی طور پر بہار میں تمام جماعتوں کی انتخابی پیش گوئیاں بساط الٹ سکتی ہیں۔

Share Article

One thought on “دگ وجے بنائیں گے تیسرا محاذ

  • April 18, 2011 at 8:35 am
    Permalink

    ZElCyB Very true! Makes a cgahne to see someone spell it out like that. 🙂

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *