اسلام اور خواتین میں دوری پیدا نہ کیجئے

پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں خواتین ریزرویشن بل پاس ہونے کے بعد کچھ عجیب طرح کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ کچھ ایسے عزت دار لوگوں نے بھی اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے، جن سے اس کی امید نہیں کی جا سکتی تھی۔ افسوس صرف اس بات کا ہے کہ انھوں نے اس کے لئے اسلام جیسے حق پسند اور مساوات کے حمایتی مذہب کا نہ صرف سہارا لیا،بلکہ اس کے مخالفین کو، جو پہلے سے ہی اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کرنے میں لگے ہوئے ہیں، اس کے خلاف زہر اگلنے کا ایک اور موقع تھما دیا ہے۔
اسلام عورت اور مرد میں تعصب کا قائل نہیں ہے۔قرآن شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے لئے لباس ٹھہراتا ہے، جو ایک دوسرے کے لئے ڈھال یا پردہ پوشی کا کام کرتے ہیں۔ قرآن میں جو خصوصیات مردوں کی بتائی گئی ہیں، وہی خواتین کی بھی بتائی گئی ہیں۔ اسلام عورت کو محض جسم نہیں مانتا، بلکہ یہ مانتا ہے کہ وہ بھی مردوں جیسی مضبوط ہیں بلکہ وہ نہایت حساس ہیںاور وسعت نظر میں وہ مردوں سے بہتر ہیں۔ ماں کی حیثت سے انسانی نسل کو آگے بڑھانے کا جو کردار عورت کو سونپا گیا ہے،اس سے اس کی عظمت اور اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ عورت کو معاشرتی زندگی میں الگ تھلگ کرنے کے لئے اسلام کی آڑ لینا کسی بھی طرح واجب نہیں ہے۔
حقیقت میں اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور پر نظر ڈالیں تو خو د پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺکے زندگی میں خواتین کو وہ تمام اختیارات اور آزادی حاصل تھی، جن کی مانگ آج بھی خواتین کے لئے کی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر نبیﷺ کے دور میںآزادی اور خود مختاری کی علامت تو حضرت خدیجہ ہیں، جو مکہ میں امپورٹ ایکسپورٹ کے ایک بڑے کاروبار کی مالکن تھیں، حضرت محمدﷺ سے نکاح اور حضرت محمد کی پیغمبری کے بعد بھی ان پر کوئی روک نہیں لگائی گئی۔ اسی طرح تعلیم کے میدان میں حضرت عائشہ،جن کا حضرت خدیجہ کے انتقال کے بعد پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ سے نکاح ہوا، آج بھی ہمارے لئے مثال ہیں۔اسلامی شریعت کا ایک تہائی حصہ انہیں کی بدولت لکھا گیا ہے۔اسی طرح سیاسی سطح پر خود حضرت محمد کی نواسی ، حضرت علیؑ اور فاطمہ کی بیٹی اور امام حسن اور امام حسین کی بہن زینب کا عظیم کردار کسی سے سے پوشیدہ نہیں ہے۔انھوں نے کربلا کے میدان میں لٹے پٹے قافلہ کی نہ صرف قیادت کی، بلکہ سیریا کے شاہی دربار میں سچ اور اسلامی وقار کے لئے ایسی تقریر کی ، جس کے بارے میں کسی شاعر نے کہا ہے:
شام کی تاریکیوں میں نور پھیلا کر رہی
عظمت مظلوم کو ظالم سے منوا کر رہی
اسی طرح ایسی ہی ایک اور مثال ہے حضرت رابعہ بصری کی ،ان کے جدید خیالات اور عظمت کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے۔ یہ تو چند مثالیں ہیں، ورنہ جنگ کے میدان سے لے کر ہدایت، قیادت اور آزمائش کے سخت لمحات تک صحابیوں اور پیغمبران دین کی کی تعلیمات سے کون انکار کر سکتا ہے۔
جدید دور کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہندوستان میں ہی رضیہ سلطان، چاند بی بی، زیب النسا ، جہاں آرا اور ان سے آگے بڑھ کر بھوپال ریاست میں ایک نہیں،کئی خواتین اقتدار میں رہی ہیں۔ انھوں نے نہ صرف اپنے دور میں تعلیم، خاص طور سے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے شاندار ریکارڈ قائم کئے بلکہ اپنے دور اقتدار کو بھی دوسروں کے لئے مثال بنایا ہمارے معزز علما ء،ادباءاور شعرا، جیسے علامہ شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، صدیق حسین خاں، سر راس مسعود اور علامہ اقبال©© ان کے اقتدار کے مداح رہے۔حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی ان کی حکومت کے جواز کے بارے میں فتویٰ دیا۔اسلامی دنیا کے ہر ملک خصوصاً ایران، ملیشیا، انڈو نیشیا اور کویت میں خواتین اپنے اپنے سماج اور دائرہ کار میں نہ صرف اہم کڑی ہیں بلکہ جس طرح مختلف کردار ادا کر رہی ہیں، اسے کون تسلیم نہیں کرتا۔ حد تو یہ ہے کہ ملک عبد اللہ نے بھی سعودی عرب میں ایک خاتون کو وزارت میں شامل کیا ہے۔عالم اسلام میں آج ہی نہیں،گزشتہ صدی میں بھی غیر ملکی قبضوں سے اپنے اپنے ممالک کو آزادی کرانے کے لئے مسلم خواتین نے جس جرا¿ت کا مظاہرہ کیا، وہ ہماری تاریخ کے سنہرے باب ہیں۔ترکی کی خالدہ ادیب خانم،طرابلیس کی فاطمہ،الجزائر کی جمیلہ بو پاشا کو کس طرح بھلایا جا سکتا ہے۔ ہماری جنگ آزادی گواہ ہے کہ جب اودھ کے تاجدار واجد علی شاہ نے انگریزوں کے آگے ہتھیار ڈال دیئے تو وہ بیگم حضرت محل ہی تھیں، جن کی غیرت نے صاحب اقتدار لوگوں سے ہار نہیں مانی۔اس کے علاوہ بیسویں صدی کے شروع میں علی برادران کی ماں بی ا ماں نے جس طرح عوامی بیداری کے لئے جلسوں، جلوسوں میں حصہ لیا، بیگم حسرت موہانی نے جنگ آزادی اور تحریک میں جو قربانیاں دیں، ان پر اس وقت کے کسی عالم دین نے کوئی روک نہیں لگائی۔
آزادی کے بعد بھی جدید ہندوستان میں بہت کم ہی سہی، لیکن اقتدار، انصاف،اور مختلف شعبوں میں جب بھی موقع ملا، خواتین نے اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔ ہندوستان میں سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج ہونے کا شرف ایک مسلم خاتون جج فاطمہ بی بی کے حصہ میں آیا۔ بیگم قدسیہ اعجاز رسول، میمونہ، سلطان، محسنہ قدوائی، انورہ تیمور، بیگم حمیدہ حبیب اللہ،بیگم شیخ محمد عبد اللہ، محبوبہ مفتی، ڈاکٹر نجمہ ہبت ا للہ اور ڈاکٹر سیدہ سیدین حمید ان چند اہم ناموں میں سے ہیں، جن سے آپ ذاتی اور مختلف امور پرتو اختلاف رائے رکھ سکتے ہیں ،لیکن انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے ۔
جہاں تک خواتین کو شریعت کے دائرے میں رہ کر زندگی گزارنے اور کام کرنے کی ہدایت کی بات ہے تو اس سے ہم بھی سو فیصدی متفق ہیں، لیکن یہاں اتنا ضرور کہنا چاہتے ہیںکہ شریعت جتنی خواتین کے لئے ہے، اتنی ہی مردوں کے لئے بھی ہے۔ اس لئے مسلمان مرد ہوں یا خواتین، اگر وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو دونوں کو اس دائرے میں رہنا چاہئے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے اوپر لکھا ہے، اسلامی شریعت مردوں کی طرح خواتین کوبھی شرم و حیاو عزت و وقار کو برقرار رکھتے ہوئے ہر طرح کی جائز آزادی عطا کرتی ہے۔
خواتین کو ان کے اختیارات سے محروم کرنے کا رویہ نہ صرف مسلمانوں کے لئے خطرناک ہے، بلکہ یہ اس جدو جہد کوبھی نقصان پہنچائے گااور اس مقدمہ کو بھی کمزور کرے گا، جس کے تحت خواتین ریزرویشن بل میں مسلم خواتین کے لئے حصہ داری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *