خواتین بل اور نتیش

خواتین ریزرویشن بل نے ہندوستانی سیاست میں کچھ صفائی تو کی ہے، اس میں پہلی یہ کہ بل بنانے والا شخص سب سے اہم ہوتا ہے، اسے پڑھنے والا نہیں، کیونکہ کوئی اسے پڑھتا ہی نہیں ہے۔ مسلم نشستیں ریزرو ہوں گی، لیکن ’فلوٹنگ‘ہوں گی۔ اس کا مطلب کسی بھی انتخاب میں کامیاب خاتون ممبر پارلیمنٹ اپنے عوام کے تئیں جواب دہ ہوگی یا نہیں، کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اسے وہاں سے دوبارہ لڑنا ہی نہیں ہے۔کابینہ نے اسے پڑھایا نہیں اور اگر پڑھا تو اسے کابینہ کی سمجھ کی داد دینی چاہئے۔
اس بل نے پارٹیوں کی تانا شاہی بھی جگ ظاہر کر دی۔ کم از کم بی جے پی اور کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ کی دو تہائی سے زائد تعداد اس بل کے خلاف ہے،لیکن دونوں پارٹیوں کی قیادت ان کی بات ہی نہیں سن رہی ہے۔ممبران پارلیمنٹ کی مخالفت خواتین کی حصہ داری کو لے کر نہیں ہے،بلکہ ان کا کہنا ہے کہ گنیش کی مورتی بناتے بناتے وہ بندر کی مورتی بنا رہے ہیں۔ ایمپاورمنٹ یا تقویض اختیار کے لئے پارلیمنٹ میں بھیجنا دانشمندی نہیں ہے۔پہلے انہیں روزگار سمیت ہر سطح پر 33فیصدی کی حصہ داری دینے کا قانون بنایا چاہئے۔ کسی اورپارٹی میں پھوٹ اتنی زیادہ سطح پر نہیں آئی جتنی جنتا دل( یو)میں آ گئی ہے۔ نتیش کمار بل کی حمایت کر رہے ہیں،جبکہ شردیادو جی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ن تیش کے سامنے بہار کے انتخابات ہیں اور بہار میں انھوں نے یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ وہ اعلیٰ ذات کے مفاد کا خیال بھی رکھ سکتے ہیں۔ ابھی تک نتیش کے خلاف اعلیٰ ذات کی مخالفت ہی سامنے آئی ہے۔ بھومیہار اور راجپوتوں کے لیڈر نتیش کمار سے علیحدہ ہونے کے راستے تلاش کرتے نظر آ رہے ہیں۔
لالو یادو کے خلاف لڑائی پی کے شاہی نے لڑی اور نام انھوں نے راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ کا رکھا۔ دونوں ہی بھومیہار ہیں اور پی کے شاہی ابھی ایڈوکیٹ جنرل ہیں۔ شروعات میں نتیش کمار نے بھومیہاروں کو بہت بڑھاوا دیا۔ ابھیانند اے ڈی جی ایڈمنسٹریشن تھے۔ انھوں نے کچھ مجرموں کو پکڑا، اس پر ابھیانند کو اے ڈی جی بہار ملٹری پولس بنا دیا۔بہار میں اس عہدے کو ’شٹنگ‘عہدہ کہتے ہیں۔ ابھیا نند کو بہار میں صاف شفاف انتخاب کرانے کا کریڈٹ جاتا ہے اور لوگ چاہتے تھے کہ انہیں ڈی جی بنایا جائے۔ ابھیا نند کی تصویر صاف ستھری تو ہے ہی ، ان کا نام سپر 30چلانے والی تنظیم کے بانی کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، جس کا آئی آئی ٹی میں نتیجہ سو فیصد رہا ہے۔
سپریم کورٹ میں بہار کے اسٹینڈنگ کونسل گوپال سنگھ ہیں۔ان کے والد کا نگریس میں ممبر پارلیمنٹ تھے۔ یہ بھی بومیہار ہیں۔ بومیہاروں کو ترجیح دینے سے نتیش کمار سے کرمی ذات ناراض ہونے لگی۔ کچھ حالات نتیش کمار کے کام کرنے کا طریقہ،للن سنگھ اور ان میں دوریاں بڑھیں۔ بھومی ہاروں کو لگا کہ پہلی مہم میں للن سنگھ کو نتیش کمار نے ایک کنارے کر دیا، جبکہ اس وقت للن سنگھ بہار جے ڈی یو کے صدر تھے۔ بومیہار لیڈروں کا کہنا ہے کہ للن سنگھ بہار میں اعلیٰ ذات کے لیڈر کی شکل میں ابھر رہے تھے اور مونگیر میں انہیں زبردست کامیابی اسی وجہ سے ملی۔ پر بھوناتھ سنگھ راجپوت ہیں اور ان کی بھی دوری نتیش کمار سے بڑھ گئی ہے۔ بومیہار لیڈروں کا کہنا ہے کہ للن سنگھ کا اعلیٰ ذات کے لیڈر کی شکل میں ابھرنا نتیش کمار کو خطرناک لگا، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی اور بھی دکھائی دینے لگے۔ یہ الگ باتہے کہ بہار میں ڈی جی پی بومیہار ہیں اور ان کی اہمیت نہیں ہے۔ اکیلیتری پراری شرن ہیں، جو پرنسپل سکریٹری فوڈ ہیں اور نتیش کمار کے کافی نزدیک ہیں۔ تری پراری شرن طاقتور افسر مانے جاتے ہیں۔ ایک جانب بومیہار ہیں راجیش رنجن، جو آئی جی ہیڈ کوارٹر ہیں، انھوں نے ہی ہریانہ کے آئی پی ایس راٹور کو سی بی آئی کی مدد دلوائی تھی۔
بہار میں کانگریس بھومیہاروں کو اپنی ڈرائیونگ فورس کی شکل میں دیکھ رہی ہے۔ انل شرما بہار میں کانگریس کے صدر ہیں اور بھومیہار سماج سے ان کا تعلق ہے۔کانگریس بھومیہاروں کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہے۔ دوسری جانب للن سنگھ دس ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ ہیں۔ ان کے دوستوںکا کہنا ہے کہ اگر ممتا سے کانگریس کا ناطہ ٹوٹتا ہے تو وہ 14ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ کانگریس کی حمایت کریں گے۔ بشرطیکہ انہیں ریل وزارتملے ۔ للن سنگھ پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں کھلے عام کانگریس کے جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ سے ملتے ہیں اور بہار میں کیا کرنا ہے اس پر گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کانگریس کی بہار میں پریشانی یہ ہے کہ اس کے پاس کوئی قدآور لیڈر نہیں ہے۔ک انگریس کو حاصل ہونے والی محدود حمایت یہیں رک جاتی ہے۔ جگدیش ٹائٹلر کانگریس کو کوئی شکل دینے میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔ یہیں اس خواتین ریزرویشن بل نے نتیش کمار کے سامنے امکانات کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ لوگ مانتے ہیں کہ بہار میں بی جے پی کی نہیں نتیش کمار کی حکومت ہے۔ اگر شرد یادو للن سنگھ کے ساتھ رہنے سے ان کی پارٹی ٹوٹ جاتی ہے تو نتیش کو کوئی خسارہ نہیں ہونے والا ہے۔ نتیش کمار کے ساتھیوں کا ماننا ہے کہ اگر لالو یادو و رام ولاس پاسوان مل کر انتخابات لڑتے ہیں اور کہیں ان کا کانگریس سے سمجھوتہ ہو جاتا ہے تو نتیش کمار اپنے اکیلے دم پر حکومت بنا لیں گے۔ ایک بڑی وجہ وہ بتاتے ہیں کہ لالو یادو کے اقتدار میں آنے کے امکانات بہار کے اعلیٰ ذات طبقہ کو ڈرادیتے ہیں، اس لئے وہ چاہیں یا نہ چاہیں ، ان کا ووٹ نتیش کمار کی حمایت میں ہی جائے گا۔ نتیش کمار نے بہار میں خواتین کے لئے 50فیصد ریزرویشن پنچایتوں میں کیا ہے اور ایسی تصویر بنائی ہے کہ وہ بھی ترقی کی رفتار بنائے رکھ سکتے ہیں۔ اگر ان سے کچھ ممبران پارلیمنٹ علیحدہ بھی ہوتے ہیں تو نتیش کو اس کا فائدہ ایک بڑے ووٹ بینک کی شکل میں ملے گا۔ اگر یہ امکانات بڑھ جاتے ہیں کہ بہار میں کچھ ماہ بعد انتخابات ہو سکتے ہیں تو فی الحال لڑائی مسلم ووٹوں کو لے کر ہوگی۔ لالو پرساد یادو وہی پرانا مسلم -یادو اتحاد کھڑا کرنا چاہیں گے، جس میں پاسوان دلتوں کو جڑیں گے اور نتیش کمار مسلمان ووٹوں میں نقب لگانا چاہیں گے۔
خواتین ریزرویشن بل تمام پارٹیوں میں ممبران پارلیمنٹ کے اختلافات کو تو ظاہر کر ہی گیا ہے،لیکن جے ڈی یو کے مستقبل کا صاف صاف نظارہ بھی دیکھا گیا ہے،لیکن یہ اختلافات نتیش کے لئے امکانات کے کتنے دروازے کھولتے ہیں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *