پی سی بی کا چھلاوا

پاکستان کرکٹ بورڈ( پی سی بی) آخر ثابت کیا کرنا چاہتا ہے؟۔ ایک چھ رکنی تفتیش کمیٹی کی بے معنیسفارشات کو، ان کے نتائج کے بارے میں سوچے بغیر بے تکے انداز میں نافذ کرنے کے پیچھے پی سی کی آخر منشا کیا تھی؟۔ہو سکتا ہے کہ فرائض کے تئیں وفاداری اور شفاف کرکٹ کی کسوٹی پر پی سی خود کو اس انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہو، جو وہ حقیقت میں ہے نہیں، یا پھر ایسی سوچ کا بہانہ بنا رہا ہو، جو اس کے ذہن میں کبھی آئی ہی نہیں۔ محمد یوسف اوریونس خان پر تاحیات ممانعت، حالانکہ اب پاک حکومت اس سے انکار کر رہی ہے، اس کا فیصلہ ان دونوں کی سینیورٹی کے مطابق جار ی کیا گیا۔ پی سی بی کا یہ بے سر پیر کا انداز لوگوں کے لئے اتنا ہی فضول ہے جتنا کہ خود یہ فیصلہ۔ کیا ٹیم کے خراب مظاہرہ اور ضابطہ شکنی کا تمام گناہ انہیں کھلاڑیوں نے کیا تھا یا پھر ملک کے کھیل سے وابستہ زمہ داران کی بھی اس معاملہ میں کوئی ذمہ داری بنتی ہے۔
یوسف اور یونس کو ٹیم کی ضابطہ شکنی کرنے کا قصوروار پایا گیا ہے،لیکن آئی سی سی چیمپئنس ٹرافی کے دوران منیجر رہے یاور سعید اور کوچ کے عہدہ سے برخاست کئے گئے انتخاب عالم کو اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ پی سی کے دوہرے معیار کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ سعید کو پھر سے اپنے سابقہعہدے پر مقرر کر دیا گیاجبکہ انتخاب عالم نیشنل کرکٹ اکیڈمی اور گیم ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر بنائے گئے ہیں۔
ان تمام فیصلوں سے پی سی کی ایک مضحکہ خیز شبیہ سامنے آ رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کم عقلی کے ایسے فیصلے لینا پی سی بی کی فطرت میں شامل ہے۔ یونس ، یوسف، شعیب ملک رانا نو ید الحسن، شاہد آفریدی،کامران اور عمر اکمل پر ممانعت اور مالی جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ ہی متضاد ہے، کیونکہ اس کے پیچھے کسی اطمینان بخش سوچ و نظریہ کی کمی صاف دکھائی دیتی ہے۔
فیصلہ کے ہونے والے اثر کی پرواہ کئے بنا تحقیق و تفتیش کئے بغیر اسے انصاف کی کسوٹی پر کسنے کی پی سی بی کی کوشش حقیقت میں قابل تعریف ہے۔ یہ ہمیں ہومرسمپسن اور پیٹر گریفیت کے ڈنب اینڈ ڈنبر کی یاد دلاتا ہے لیکن پی سی بی میں ایسے ہی لوگوں کی بھرمار ہے۔کہا جاتا ہے کہ زیادہ قابلیت اکثر پریشان کن شکل اختیار کر لیتی ہے ایسا ہی پی سی بی کے عہدے داران کے ساتھ بھی ہو۔یہ دعوہ کہ پی سی بی مسلسل ایسے نئے اور انوکھے حالات سے دو چار ہو رہا ہے کہ ہر معاملہ کو نہایت سنجیدگی سے حل کرنے کی امید کرنا بے معنی ہے۔سرے سے خارج کیا جا سکتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بورڈ کے اعلیٰ عہدوں پر فائض افسران بار بار انہیں غلطیوں کو دہرا رہے ہیں۔ سچ یہ بھی ہے کہ اگر بورڈ نے ان معاملات میں جلد از جلد اور ایک طرف رہ کر غور کیا ہوتا تو کئی بے معنی فیصلوں سے بچا جا سکتا تھا۔ اگر آسٹریلیا کی کرکٹ انتظامیہ نے ایسا فیصلہ لیا ہوتا تو بات سمجھ میں آ تی ہے۔ کنگارﺅں کے ملک میں کرکٹ کی اپنی روایت ہے اور ان کا گھریلو ڈھانچہ اتنا مضبوط ہے کہ انتخاب کمیٹی کے پاس تمام کھلاڑیوں کے لئے اتنا ہی مضبوط اور قابل اعتماد راستہ ڈھونڈھنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔لیکن پاکستان میں حالات ٹھیک اس کے برعکس ہیں۔ گھریلو کرکٹ مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے اور سطحی کھلاڑیوں کی شناخت کرنا بے حد مشکل ہے۔ پھر پی سی بی کے رویہ کے سبب کھلاڑی گروہ بندی اور بدنظمی کے شکار ہو رہے ہیں۔
پی سی بی نے تفتیش کمیٹی میں جن لوگوں کو شامل کیا ہے ان کے انتخاب کی بنیاد بھی عام لوگوںکی سمجھ سے باہر ہے۔کمیٹی میں شامل یاورسعید خود ہی شک کے گھیرے میں ہیں کیونکہ چیمپئنس ٹرافی کے دوران منیجر رہتے ہوئے کپتان یونس خان کے ساتھ ان کا اختلاف سب پر ظاہر ہے۔پھر ان سے اسی کھلاڑی کے خلاف قابل اعتماد فیصلہ کی امید کیسے کی جا سکتی ہے۔ کمیٹی میں پی سی بی کے اعلیٰ افسر وسیم باری اور ڈائریکٹر، کرکٹ آپریشن ذاکر خان بھی شامل تھے، جو شاید اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ بورڈ پہلے ہی ایسا فیصلہ لینے کی سوچ چکا تھا۔ یہ جانچ کمیٹی تو محض ایک بہانہ ہے۔ غور کرنے والی یہ بھی ہے کہ کمیٹی کی تشکیل پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آسٹریلیا دورہ میں بدتر مظاہرہ کی تفتیش کرنے کے لئے ہواتھا۔ پھر وہ کھلاڑیوں پر ممانعت اور جرمانہ کی سفارشات کیسے کر سکتی ہے۔
کیا تفتیش کمیٹی کے پاس ایسی سفارشات کرنے کا اختیارتھا یا اسے صرف وجہ تلاش کرنے کا ذمہ دیا گیا تھا؟۔فیصلہ کے بعد میڈیا میں اٹھے واویلا کے مدنظر پی سی بی اور اس کی تفتیش کمیٹی کو کیا کہاجائے۔ غیر اخلاقی،سرپھرا فیصلہ ،ہوشمندی کی کمی ، بے وقوفی کی حرکات یا کچھ اور۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ایسی کارروائیوں سے کھلاڑیوں کی قوت یا ان کے رویہ پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔ سچ تو یہ ہے کہ کھلاڑیوں کی قوت تو ایک چھلاوا بھر ہے۔اصل مسئلہ تو پی سی بی کی کمزوری ہے۔ جسمیں نوجوان کھلاڑیوں کے مستقبل کے لئے صحیح راستہ تلاش کرنے میں ناکامی تو ہے ہی، پی سی بی کو پر اعتماد ادارہ کی شکل میں قائم کرنے میں بھی ناکامی ہے ۔یہ کچھ ایسی مثالیں ہیں، جو پی سی بی کا مزاق اڑانے کے لئے کافی ہیں۔پاکستان میں کرکٹ سے وابستہ انتظامیہ کی شبیہ اتنی داغدار ہو چکی ہے کہ اس سے کچھ بھی امید کرنا فضول ہوگا پر اسے دوبارہ زندہ کئے جانے کی ضرورت ہے۔لیکن اس میں دوبارہ جان تک تک نہیں ڈالی جا سکتی ، جب تک اعجاز بٹ اپنے عہدہ پر موجود ہیں۔ کچھ نہیں، تو انہیں کم از کم اپنی بڑھتی عمر کاتو خیال کرنا چاہئے۔ بٹ پا کستان نیوی کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ایڈمرل فلپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جہاز کو بچانے کی کوشش میں وہ خود بھی اس کے ساتھ ڈوب گئے، لیکن یہاں تو اعجاز بٹ خود ڈوب رہے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ پاکستان کرکٹ بھی ڈوبنے کو تیار ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *