بہار میں مسلمان

انتخابی سال میں بہار کے قدآور لیڈران کو ایک بار پھر صوبے کے ڈیڑھ کروڑ مسلمانوں کا درد ستانے لگاہے۔ مسلمانوں کی غریبی، ان کی پسماندگی ،ان کے بچوںکی ناخواندگی کا درد اور اقتدار میں ان کی کم حصہ داری،یہ تمام مدعے اچانک لیڈران کے ایجنڈے میں سرفہرست ہو گئے ہیں۔ جگہ جگہ ریلیوں اور جلسوںمیں مسلمانوں کے اعزازات اور فلاح و بہبود کے لئے وعدوں کی برسات شروع ہو گئی ہے۔ ان لیڈروں کی آنکھوں میں مسلمانوں کے لئے کتنا درد ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر ووٹ کی سیاست کرنے والے لیڈران یہ حساب کتاب کرنے میں مصروف ہیں کہ ان کی پارٹی کے حصہ میں مسلمانوں کا زیادہ سے زیادہ ووٹ کیسے آسکتا ہے۔ اندازے کے مطابق نئی حد بندی کے بعد صوبہ کی تین درجن سیٹوں پر انتخاب لڑنے والے امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ مسلم ووٹروںکو ہی کرناہے۔ سیمانچل کے چار اضلاع کشن گنج، پورنیا، ارریا اور کٹیہار کے علاوہ سہرسہ، سوپول ، دربھنگہ ، سیتا مڑھی،بھاگلپور سمیت کئی اور اضلاع میں کچھ اسمبلی حلقے ایسے ہیں، جہاں مسلم ووٹروں کو الگ کرکے کوئی بھی امیدوار اسمبلی تک پہنچنے کی سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نتیش کمار ، رام ولاس پاسوان اور لالو پرساد نے ابھی سے ہی مسلمانوںکو رجھا نے کے لئے جوڑ توڑ کی سیاست شروع کر دی ہے۔ مسلم ووٹوں پر جہاں لالو پرساد اپنا فطری حق جتاتے ہیں، وہیں نتیش کمار کا کہنا ہے کہ میری حکومت نے اقلیتوں کی فلاح کے لئے بہت سارے کام کئے ہیں۔رام و لاس پاسوان کاکہنا ہے کہ باتیں توبہت ہو ئیں، لیکن مسلمانوں کو ان کا واجب حق نہیں مل سکاہے۔ لوک جن شکتی پارٹی کی مسلم ریلی میں پاسوان نے کہا کہ آزادی کے 63سال بعد بھی ملک کا مسلمان سہما ہوا ہے۔ وہ اپنے آپ کو دوئم درجہ کا شہری سمجھتا ہے۔مسلمانوں کی فکر جلد ختم کرنے کی یقین دہانی دیتے ہوئے پاسوان نے ریلی میں انتخابی تڑکا لگانا شروع کر دیاہے۔ مشہور چابی والے اپنے بیان سے کچھ الگ ہٹتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بہار میں نئی حکومت کی چابی اقلیتوں کے ہاتھ میں ہوگی اور جس دن اقلیتوں نے ہمارے آپسی گٹھ جوڑ کے لیے خود کو تیار کرلیا ہمیں اقتدار میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ریلی میں نتیش پر حملہ کرنے سے بھی پاسوان نہیں چوکے۔انھوں نے کہا کہ اس حکومت میں اسی گاندھی میدان میں تین دنوںتک آر ایس ایس کا اجلاس ہوا۔انھوں نے کہا کہ جب مغربی بنگال حکومت نے رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشوں کی بنیاد پر سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کےلئے دس فیصدی ریزرویشن کا بندوبست کر دیا، تو پھر مرکز اور بہار حکومت کو ایسا کرنے میں کیا اعتراض ہے۔ریلی میں مولانا کلب رشید رضوی نے مسلمانوں کا درد بیان کر کے محفل لوٹ لی۔ انھوں نے کہا کہ مسلم ریلی کے بعد پاسوان کی اقلیتوں کے تئیں ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔چلچلاتی دھوپ میں بیٹھے مسلمانوں کو ہندوستان کا سپاہی بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پوری دنیا یہ سمجھ لے کہ اس ملک پر بری نظررکھنے والوں کی آنکھیں نکالنے میں یہاں کا مسلمان سب سے آگے رہے گا۔ممبر پارلیمنٹ صابر علی نے بھی مسلمانوں کے ساتھ مسلسل ہو رہی ناانصافی کا مس¿لہ اٹھایا۔کل ملا کر ریلی کے ذریعہ رام ولاس پاسوان نے مسلمانوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ انہیں ٹھگنے والوں کو لوک جن شکتی پارٹی سبق سکھائے گی۔اگر اقلیتوں کا ووٹ لوک جن شکتی پارٹی کے حصے میں آجائے تو ان کے آنسو پوچھنے کے لئے پارٹی کوئی کثر نہیں چھوڑے گی۔ دراصل دلت ووٹوں میں نتیش کمار نے نقب زنی کر پاسوان کے ہوش اڑا دیئے ہیں۔ دلت سیاست کرنے کا دم بھرنے والے پاسوان کو لگتا ہے کہ نتیش کا مہا دلت کارڈ لوک جن شکتی پارٹی کے تمام آعداد شمار کو فیل کر سکتا ہے۔ ان ووٹوں کی کمی مسلم ووٹوں سے کرنے کی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے تمام لیڈران کے ذریعہ مسلمانوں سے ڈھیر سارے وعدے کئے جا رہے ہیں۔
اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی نتیش کمار نے کوشش شروع کر دی تھی کہ بھلے ہی بی جے پی کے ساتھ ان کی گٹھ جوڑ کی حکومت ہے مگر ان کی شبیہ سیکولر بنی رہے۔ مسلم اکثریتی علاقوںمیں جب بھی وہ گئے اس بات کو دہرانا نہ بھولے کہ ان کے دوراقتدار میں ایک بھی فساد نہیں ہوا اقلیتوں کی تعلیم اور روزگار کے علاوہ دیگر شروع کی گئی فلاحی اسکیموں کے بارے میں بھی نتیش کمار کبھی بتانا نہیں بھولتے ۔مسلم ریلی کے ذریعہ جب پاسوان اقلیتوں کے نزدیک آنے لگے تو نتیش کمار نے فوراًپسماندہ مسلمانوںکو ریزرویشن دینے کا تیر چلا دیا۔ جہان آباد میں مسلم فلاحی بیداری کانفرنس میںنتیش کمار نے بڑے ہی درد مندانہ انداز میں کہا کہ مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی غریبی سے نبرد آزما ہے۔اس لئے ترقی میں انکا خصوصی حق ہونا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ میں پوری ایمانداری سے چاہتا ہوںکہ سماج کاہر طبقہ ترقی کاذائقہ چکھے۔نتیش کمار نے کہا کہ ان کی حکومت نے مسلمانوں کی بہتری کے لئے 19پروگرام چلا رکھے ہیں۔ دراصل جن پسماندہ برادریوں نے نتیش کو اقتدار کی کرسی تک پہنچایا تھا، انکا کتنا ساتھ اس الیکشن میں انہیں ملے گا یہ بھی جنتا دل یونائٹڈ کے لئے باعث فکر ہے۔خاص کر للن سانحہ کے بعد یہ فکر کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی ہے۔ا س لئے پارٹی کے حکمت عملی بنانے والے چاہتے ہیں کہ جتنا زیادہ سے ہوسکے مسلم ووٹوںمیں نقب زنی کی مہم تیز کر دی جائے۔ پسماندہ مسلمانوںکو ریزرویشن کی بات کہہ کر نتیش نے بڑا داﺅں کھیلا ہے۔ ذرائع پر بھروسہ کریں تو اپنی سیکولر شبیہ کو اور نکھارنے کے لئے نتیش آنے والے دنوں میں کوئی بڑا سیاسی خطرہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔
مسلم ووٹوں کے لئے پاسوان اور نتیش کی تیزی کو دیکھتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل خیمہ بھی فعال ہو گیا ہے۔مسلمان یادوبرابری کے سہارے 15سالوں تک اقتدار میں رہے راشٹریہ جنتا دل نے مسلمانوںکو رجھا نے کے لئے ایک اور محاذ کھول دیاہے۔ پارٹی کی طرف سے مائنارٹی ویلفیئر فرنٹ اب مسلمانوں کے درمیان بیداری مہم چلائے گی۔لالو کے قریبی انور احمد اس کے اہم رکن ہیں۔انور راجدھانی دہلی سے لیکر ریاستوں میں پنچایتی سطح تک پروگرام چلا کر مسلمانوںکو ان کے حقوق کے بارے میں بتائیں گے۔ راشٹریہ جنتا دل کا صاف کہنا ہے کہ نتیش نے مسلمانوں کے لئے جو اسکیمیں چلائی ہیں۔ وہ بس کاغذوںپر ہیں۔ بجٹ میں کروڑوں روپے کی تجویز ہے مگر اقلیتوں کے مفاد میں اسے خرچ نہیں کیا جا رہا ہے۔خطرہ کانگریس کی طرف سے بھی لگ رہا ہے۔ اس لئے راشٹریہ جنتا دل نے پہلے سے ہی فرقہ وارایت کے مدعے پر کانگریس کو بے نقاب کرنے کی مہم چلا رکھی ہے۔ پارلیمنٹ الیکشن میں لگے جھٹکے سے لالو ہوشیار ہو گئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسمبلی انتخابات میں ان کی برابری میں کوئی نقب زنی نہ کرسکے۔ بہر حال مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کی اس دوڑ میں کون آگے نکلے گا۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا مگر اتنا تو صاف ہے کہ اس دوڑ میں جو آگے نکلے گا، اقتدار اسی کے زیادہ قریب ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *