اسلام انصاف اور مساوات کے خلاف نہیں: پروین عابدی

آ ل انڈیا مسلم ویمنس پرنسل لاءبورڈ ( اے آئی ایم ڈبلو پی ایل بی) کا قیام2005میں کیا گیا تھا۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ اس ادارہ کی تشکیل کا مقصد مسلم پرسنل لاءبورڈ کا خواتین مخالف رویہ اور اسلام میں عورتوں کے کردار کی غلط تشریح کی نفی ہے۔ لکھنو¿ کی ساکن پروین عابدی اس بورڈ کی صدر ہیں۔ اے ای ایم ڈبلو پی ایل بی بھلے ہی بہت زیادہ سرخیوں میں نہ آیا ہو یا اس کی اہمیت کم ہو، لیکن اس کے قیام سے ہی ہندوستان میں مسلم خواتین کی خود مختار تحریک کا آغاز ہو گیا ہے۔ جس میں اسلامی دلائل کا ہی سہارا لے کر عورتوں کے حقوق کی بات کی جا رہی ہے۔ بظاہر تو اے آئی ایم ڈبلو پی ایل بی کی دلیلیں مولویوں کے بے بنیاد دعوو¿ں کی مخالفت کرتی نظر آتی ہیں۔ چوتھی دنیا کے لئے یوگندر سکند نے پروین عابدی سے بات چیت کی ۔ پیش ہیں ان سے گفتگو کے اہم اقتباسات :-
آخر ایسی کیا وجہ تھی، جس نے آپ کو اے آئی ایم ڈبلو پی ایل بی کے قیام کے لئے آمادہ کیا۔ یقینی طور پر یہ ایک ایسا فیصلہ تھا، جس کا بہت سے مولویوں اور دیگر مسلم اشخاص نے مذاق اڑایا تھا؟
جن خواتین نے اے آئی ایم ڈبلو پی ایل بی کا قیام کیا،وہ سبھی مسلم پرسنل لاءبورڈ کے رویہ سے پریشان تھیں۔ وہ اس بات سے حیران تھیں کہ مسلم پرسنل لاءبورڈ میں جتنے بھی مولوی تھے، ان میں سے بیشتر نے جنس کی بنیاد پر انصاف کی سخت مخالفت کی اور یہاں تک کہ اسلام میں جو اختیارات خواتین کو ملے ہیں، ان کی بھی مخالفت کی۔ ہم نے محسوس کیا کہ مسلم خواتین سے وابستہ سبھی مسائل پر مسلم پرسنل لاءبورڈ کا موقف نقصان پہنچانے والا ہی رہا ہے اور ہم سبھی خواتین براہ راست اس نا انصافی کے خلاف آواز اٹھانا چاہتی تھیںمگرایساکوئی اسٹیج یا فورم نہیں تھی جہاں ہم اپنی بات رکھ سکیں۔مسلم پرسنل لاءبورڈ ابھی بھی پسماندہ دبی کچلی مسلم خواتین کے مسائل پر آنکھ بند کئے ہوئے ہے۔ بورڈ نے شریعہ کی تشریح غلط طریقہ سے کی ہے۔ اس میں مردوں کو خاص اختیار ات اور خواتین کو بہت ہی کم اختیارات کا متمحل سمجھا گیا ہے ۔ بورڈ میں کچھ خواتین ہیںمگر نام کی حد تک۔ ان کی آواز کو کوئی اہمیت نہیں ہے۔یہ خواتین مولویوں کی رائے کے خلاف تک نہیں بول سکتیں۔ یہی تمام وجوہات تھیں جس کے سبب ہم نے ایک الگ بورڈ یعنی اے آئی ایم ڈبلو پی ایل بی کے بارے میں غورو خوض کیا، جہاں ہم مسلم خواتین اپنی بات رکھ سکیں، اپنی نمائندگی کر سکیں۔ جنوری 2005میں لکھنو¿ میں ہمارے گھر میں شادی تھی، جہاں ہندوستان کے دیگر حصوں سے خواتین کا ایک اجتماع وہا ں پہنچا تھا۔ انہیں خواتین کو لے کر ہم لوگوں نے اے آئی ایم ڈبلو پی ایل بی کا قیام کیا ہم میں سے کچھ خواتین کے شوہر اور کچھ دیگر لوگ اس نام سے خوش نہیں تھے، جو نام ہم نے اپنے ادارہ کو دیا تھا، وہ سوچ رہے تھے کہ ہم لوگ ان لوگوں کو جان بوجھ کر بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے مولویوں کے اقتدار کو چیلنج دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پھر بھی ہم نے اسی نام کو رکھنے کا فیصلہ کیا۔
لیکن مولویوں کے بارے میں اس طرح کا عام عقیدہ بنایا جائے ، اسے آپ ٹھیک سمجھتی ہیں؟یقینی طور پر ان میں سے کچھ ایسے بھی ہو سکتے ہیں، جو حقیقت میں خواتین کے مسائل کے تئیں حساس ہوں۔
صحیح کہا آپ نے کوئی کسی شخص کے بارے میں عام عقیدہ یا رائے نہیں بنا سکتا۔ ہمارے ادار ے میںکئی عالم خواتین ہیں، جنھوں نے روایتی اسلامی تعلیم حاصل کی ہے۔ان میں سے ایک لکھنو¿ کی ندوة العلماء(بالیکا شاکھا)سے گریجویٹ ہیں۔ ایک اور شیعہ خاتون ہیں جو عالم ہیں۔ہمارے ادارہ کا دروازہ سب کے لئے کھلا ہے۔ اس میں شیعہ اور سنی ممبران بھی ہیں۔ شیعہ فرقہ میں امامی، بوہرا بھی ہیں۔ سنی ممبران میں سے کچھ بریلوی خاندان سے ہیں۔ کچھ دیوبندی بھی ہیں ۔ہم ہندو یا دیگر پس منظر سے آنے والی خواتین کارکنان کے ساتھ بھی کام کرتے ہیں۔
اے آئی ایم ڈبلو پی ایل بی کس طرح کے کاموں سے وابستہ ہے؟
عموماً ہمارا کام عملی ہے ۔ حقیقت میں یہ ہندوستان کے مختلف حصوں کی مسلم خواتین کارکنان کا ایک کھلا ہوا نیٹ ورک ہے۔نکاح نامہ، اب تک کی ہماری سب سے بڑی افادیت رہی ہے۔اسے ہم نے تیار کیا تھا۔ نکاح نامہ میں مسلم خواتین کو تحفظ دینے کی بات ہے۔ خاص کر، طلاق اور نکاح کے ضمن میں۔ہمارے ادارہ کی ممبر خواتین مسلم علاقوں میں غریب مسلم خواتین کو قانونی نکات کو سمجھنے اور دیگر امور کے بارے میں بیدار کرنے کے لئے بیداری مہم بھی چلاتی ہیں۔ ہم انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر آپ کے شوہر آپ کو مارتے ہیں تو اسے برداشت نہ کرو۔ یہ سوچنا کہ شوہر کچھ بھی کر سکتا ہے اور یہ اللہ کی مرضی ہے، غلط ہے۔ ہم ان سے کہتے ہیں کہ اگر آپ کے شوہر اپنی مرضی سے طلاق دیتے ہیں تو یہ اسلام میں قابل قبول نہیں ہے۔ چاہے علماءکتنا بھی شور شرابہ کیوں نہ کریں۔ہم انہیں بتاتے ہیں کہ کوئی آدمی اگر اپنے بچوں یا بیوی کی دیکھ بھال نہیں کرتا ہے تو یہ غیر اسلامی ہے۔ اور، اس طرح سے بنیادی مسائل کو لیکر یعنی ان کی جڑ میں جاکر خواتین کے درمیان بیداری پھیلانے کا کام کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ابھی بھی اس سمت میں بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ہم مسلم خواتین کی آواز اور مسائل، متنازعہ فتوعے اور مسلم پرسنل لاءبورڈ سے ہوئے بڑے مدعوں پر فیصلے، جو براہ راست مسلم خواتین کو متاثر کرتے ہیں، پر بھی اپنی بات رکھتے ہیں۔ یہ بہت اہم ہے کہ اگر ہم آواز نہیں اٹھائیں گے تو قدامت پسند اورروایت پرست مولوی اسی طرح اسلام کی غلط تشریح کرتے رہیں گے، تاکہ مسلم خواتین کو دبا کر رکھا جا سکے۔ ان کا زیادہ تر دکھاوا ڈھونگ ہے اور خود کے مفاد کے لئے ہے۔ مثال کے طور پر، محمد علی جناح کی زوجہ فاطمہ جناح نے جب پاکستان میں الیکشن لڑا تو جماعت اسلامی نے ان کی حمایت کی، لیکن اب ہندوستان میں علماءنے فتویٰ جاری کیا کہ مسلم خواتین انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتیں یعنی الیکشن نہیں لڑ سکتیں۔ کوئی بھی آدمی اس طرح کے متضاد فتووں کے بارے میں کیا ایمانداری سے بتا سکتا ہے کہ یہ قول و فعل میں تضاد کیوں ہے؟۔دراصل اہم بات یہ ہے کہ یہ ہے کہ مولوی عام طور پر خواتین کو اپنے ماتحت بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ اور اب جبکہ جب یہی خواتین بیدار ہو رہی ہیں تو مولویوں کو یہ ڈر ستا رہا ہے کہ اب وہ کس پر اپنا حکم چلائیں گے۔
اگر آپ ہی کی بات دہراو¿ں توکیا سبھی مولوی اس معاملہ میں برابر ہےں؟
نہیں ایسا بھی نہیں ہے۔لیکن میرا ماننا ہے کہ بیشتر لوگ اس بات سے زیادہ خوش نہیں ہیں کہ خواتین اپنے اختیارات کے تئیں بیدار ہو رہی ہیں۔ میں اس معاملہ میں ایک شکایت بتا سکتی ہوں۔ مولانا کلب صادق لکھنو¿ کے مشہور شیعہ عالم ہیں۔ انھوں نے ہمارے کام کو تہہ دل سے تسلیم کیا اور بدستور تعاون دیا ہے۔لیکن، ساتھ ہی میں ان علماءکو بھی جانتی ہوں، جنھوں نے ہماری سخت تنقید کی۔ انھوں نے ہم پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ ہم بھولی بھٹکی خواتین کی قیادت کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے کارکنان جھگی جھوپڑیوں میں مسلم خواتین سے ملتے ہیں۔ ان خواتین سے، جن کی زندگی بس بچے پیدا کرنے اور ان کی پرورش میں گزرتی ہے۔ دراصل، ہم انہیں یہ بتاتے ہیں کہ اسلام ایک خاص طرح کے خاندان کی تشکیل کی اجازت دیتا ہے، لیکن علماءاکرام فوراً ہمارا موقف غلط ثابت کر ہماری تشہیر اسلام کے دشمن کے ایجنٹ کے طور پرکرنے لگتے ہیں۔ ہمارے خیالات کو وہ حکومت یا راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے خیالات بتانے لگتے ہیں۔ہمارے کچھ مخالفین تو ہمارا موازنہ بنگلہ دیش کی جلا وطن مصنفہ تسلیمہ نسرین سے کرنے لگتے ہیں۔وہ ہمیں ڈرانے لگتے ہیں کہ ہمارا بھی وہی حال ہوگا جو انکا ہوا۔
اے آئی ایم پی ایل بی نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرسنل لاءسے متعلق تمام تنازعات شریعہ کورٹ میں نمٹائیں۔ اوران کا دعویٰ ہے کہ اس بورڈ کی تشکیل پورے ملک میں کی گئی ہے، اس صلاح پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمیں ایسا کیوں کرنا چاہئے۔ ہمیں صوبائی عدلیہ کا استعمال کرنا چاہئے، کیونکہ دارا لقضا میں خواتین انہیں فیصلوں کو ماننے کے لئے مجبور ہوتی ہیں، جو ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ یا ان میں سے مدرسوں کے مولوی وغیرہ جو ان خواتین کی مدد کرتے ہیں، وہ خود مردانہ سماج اور ان کی برتری کے کٹر حمایتی ہیں۔
لیکن مولویوں کو اسلام کا مشیر مانا جاتا ہے یا وہ ایسا دعویٰ کرتے ہیں، کیا ایسا نہیں ہے؟
ایک مسلم خاتون ہونے کے ناطے، میں ان کے دعوو¿ں کو ماننے سے انکار کرتی ہوں۔ فتوو¿ں یا چند مضامین سے کوئی بھی اپنا اثر دکھاسکتا ہے یہ کہکرکہ اسلام خواتین کو خاموش رہنے یا یا مردوںکا حکم ماننے کامشورہ دیتا ہے لیکن میں نہیں مانتی کہ یہ مردانہ سماج اسلام، انصاف، اور خواتین کی برابری کے راستہ میں روڑا نہیں اٹکاتا ہے۔ اسلام نفرت اور دشمنی کا پیغام نہیں دیتا ہے، جبکہ انتہا پسند، طالبان اور اسامہ بن لادن جیسے لوگ ٹھیک اس کے برخلاف سوچتے ہیں۔جہاں تک میرا سوال ہے، اگر کچھ ملا اسلام کی تشریح اس طرح سے کریں، جس سے حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہوتی ہو تو میں ان کی اسلام کی اس تشریح کو قطعی ماننے کو راضی نہیں ہوں۔ خواتین سے نفرت کرنے والی اسلام کی اس تشریح کو چیلنج کرنے اور اس کی مخالفت کرنے کے لئے یہ بے حد ضروری ہے کہ مسلم خواتین کو اسلام کا صحیح علم ہو تو وہ خود اسلام کی تشریح کریں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خود اپنے لئے آواز بلند کریں۔ مولویوں کے ذریعہ اب تک کی گئی اسلام کی تشریح قطعی اسلامی نہیں ہے۔
(یوگندر سکند نیشنل لاءاسکول بنگلو رسے تعلق رکھتے ہیں )

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *