حکومت پھر عوام کے خلاف

بجٹ سیشن کے شروع میں لوک سبھا میں ایٹمی حادثات کی جواب دہی کا بل پیش ہونا تھا، لیکن حزب اختلاف کے دباﺅ کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو پایا۔ اخبارات میں یہ خبر پہلے شائع ہو گئی، جس کی وجہ سے ممبران پارلیمنٹ نے محسوس کیا کہ انہیں اس کی مخالفت کرنی چاہئے، اس بل کو دیکھ کر ڈر لگتا ہے کہ مرکزی حکومت کن کے مفاد کے لئے کام کر رہی ہے۔اس بل کے پیچھے کی کہانی ہمیں ایک بار دوبارہ کرنی چاہئے۔
بش کے دور اقتدار کے آخری دنوں میں امریکہ اور ہندوستان کے درمیان ایٹمی ڈیل ہوئی تھی۔ ہندوستان میں اس پر بہت سوالات اٹھائے گئے تھے۔ پہلا سوال تھا کہ ہندوستان کی ضرورت کے اعتبار سے ہمیں تین سے چار فیصد بجلی کی سپلائی ہی ایٹمی بجلی گھروں سے ہو پائے گی، پھر اس کے لئے اتنا خرچ کیوں کیا جا رہا ہے، جبکہ پورے خرچ کے ایک تہائی حصے میں ہمارے موجودہ بجلی گھروں کی گنجائش میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور ان کی جدید کاری بھی ہو سکتی ہے۔ اس سے پندرہ فیصد کی پیداوار بڑھ سکتی ہے۔
دوسرا سوال تھا کہ امریکہ میں1967کے بعد ایٹمی بجلی پر کوئی ریسرچ نہیں ہوئ،کیونکہ صدر کارٹن نے ایک حادثے کے بعد اس کی پیداوار پر روک لگا دی تھی۔ وہاں کی ایٹمی انڈسٹری بند پڑی ہوئی تھی۔ وہی سارا سامان ہندوستان آنا ہے۔ کیا ہم امریکہ کی بند پڑی ایٹمی انڈسٹری کو دوبارہ چلانا چاہتے ہیں یا ان کا زنگ لگا ہوا بجلی گھر ہندوستان میں لانا چاہتے ہیں۔اس کی جلد بازی کی وجہ تھی کہ بش نے اپنے یہاں نیو کلیئر انڈسٹری سے بڑا چندہ اس وعدے کے ساتھ لیا تھا کہ وہ ہندوستان میں سارا سامان بجوا دیں گے اور انہیں اچھی خاصی رقم مل جائے گی۔
تیسرا سوال تھا کہ اس سے پیدا شدہ بجلی کی قیمت کتنے روپے یونٹ ہوگی، یہ ایٹمی بجلی گھر 10برس کے بعد لگیں گے اور تب تک ہماری بجلی کی ضرورت میں کتنا اضافہ ہو جائے گا۔ ایک اندازہ کے مطابق اس وقت ہمیں بجلی 25سے 30روپے فی یونٹ کے حساب سے ملا کر ے گی۔ اتنی مہنگی بجلی کیا ہندوستان کے کسانوں اور صنعت کاروں کے مفاد میں ہوگی؟چوتھا سوال تھا کہ ہمارے رشتے کسی پڑوسی سے ٹھیک نہیں ہیں۔ ہم انہیں بیٹھے بٹھائے 45سے 55ٹارگیٹ دے رہے ہیں، جنہیں وہ جنگ کے حالات میں آسانی سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے تھے کہ ہماری کتنی آبادی ختم ہو جائے گی۔ ان کی حفاظت کے لئے ہمیں میزائل سسٹم لگانا پڑے گا۔ اس کے اخراجات کا ابھی تک کوئی اندازہ نہیں لگایا جا رہا ہے۔
پانچواں سوال تھا کہ ہمارے یہاں انسانی بھول سے بھی حادثات ہوتے ہیں۔ ہم ذات، مذہب، فرقہ پرست جیسے مسائل سے گھرے ہوئے ہیں۔ ملک میں ایسی طاقتیں بہت ہیں، جوان میں اضافہ کرنا چاہتی ہیں۔ ایک چرنوبل نے پورے روس کو ہلا کر رکھ دیا تھا، وہ سائبریا میں تھا، اس کے باوجود تین کلو میٹر کے دائرے میں تباہی مچی تھی، اور آج بھی اس کا اثر ہے۔ ریڈیائی لہروں کا اثر نسلوں تک رہتا ہے۔ ہمارے یہاں زلزلے بھی آتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی وجہ سے حادثہ ہو گیا تو کیا ہوگا؟جموں سے کنیا کماری تک 45سے55کی تعداد میں نیو کلیئر بجلی گھر بننے والے ہیں۔ ہمارے یہاں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے، جہاں آبادی نہ ہو۔ اگر کوئی حادثہ ہو گیا تو اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے کہ کتنی اموات ہوں گی۔
ان سارے سوالات کو درکنار کر کے پارلیمنٹ نے ایٹمی ڈیل بل پاس کر دیا۔بل کیسے پاس ہوا اور پاس کرنے میں مدد کرنے والے ممبران پارلیمنٹ آج کیا کر رہے ہیں، سننا چاہئے۔ یہیں ایٹمی حادثات کی جواب دہی کے بل پر بھی سوالیہ نشان لگا ہے۔ اگر کوئی حادثہ ہو تو اس کی ذمہ دار امریکی کمپنی نہیں ہوگی، حالانکہ سامان بھی وہی سپلائیکرے گی، سامان بنائے گی بھی اور ہندوستان میں اسے جوڑ کر بجلی گھر بنائے گی بھی۔ذمہ دار ہوں گے ہم، جو انہیں پیشہ بھی دیں گے ، خراب آلات بھی خریدیں گے اور مہنگی بجلی بھی خریدیں گے ۔ناگہانی حادثہ ہونے کی صورت میں ہمارے یہاں چاہے پانچ سو اموات ہوں، پانچ لاکھ ہوں، پانچ کروڑ۔ امریکی کمپنی کی ذمہ داری ہماری حکومت نے طے کر دی ہے۔ وہ صرف پانچ سو کروڑ کا جرمانہ ادا کریں گی اور اس کے آگے اگر کچھ ہونا ہے تو یہاں کے عوام جانیں، کیونکہ حکومت کہہ سکتی ہے کہ جو بانناہے ، علاج کرانا ہے، جلانا-پھونکنا ہے، یا پھر آگے کی زندگی میں کچھ کرناہے، سب پانچ سو کروڑ روپے میں کرو۔ پانچ سو کروڑ کو 46سے تقسیم کر دیجئے،جو رقم آئے گی وہی امریکی کمپنی کی ذمہ داری بنے گی۔
ہم ہندوستان کے غریب، جی حضوری کرنے والے لوگ کیا ہندوستانی حکومت سے پوچھ سکتے ہیں آپ کیوں ہندوستان کے عوام کی قسمت کا سودا کر رہے ہیں؟آپ کی کون سے کمزوری ایسی ہے کہ آپ کو امریکی شرائط کو ماننے کے لئے مجبور کر رہی ہے۔ڈیل ہونے تک ہمیںلگا تھا کہ شاید اچھی امید میںیہ ڈیل کی گئی ہے،لیکن یہ بل دیکھنے کے بعد لگ رہا ہے کہ ہم صحیح معنوں میں فروخت کئے جا رہے ہیں۔ کیا اس حکومت میں تمام لوگ ایسے ہیں جنہیں ملککے مفاد کا کچھ بھی خیال نہییں اور کیا ہو گیا ہے حزب اختلاف کو، پہلے تو نام کے لئے ہی سہی مظاہرہ وغیرہ کر لیتے تھے،لیکن اب لگتا ہے انہیں بھی کچھ حصہ داری مل گئی ہے۔
اور انھوں نے بھی ایٹمی ڈیل پوری کرنے والی کمپنیوں سے کچھ حصہ لے لیا ہے۔اخبارات اور ٹی وی سے امید ہی کیاکریں،جنہیں آج بھی نہ مہنگائی نظر آتی ہے اور نہ بے روزگاری۔ انہیں ایٹمی حادثات کے بعد ہونے والی اموات تو بالکل ہی نظر نہیں آتیں۔یہ بل ہندوستان کے عام آدمی،ہندوستان کی عزت اور ہندوستانی مفاد کے خلاف ہے۔ اس کے بعد بھی ہمیں امید ہے کہ یہ بل بجٹ سیشن کے آخر میں آئے گا اور پاس بھی ہو جائے گا۔ اس بل کے پاس ہوتے ہی ممکنہ اجتماعی اموات قہقہہ لگا کر ہنسیں گی اور ہندوستانی کی قسمت روئے گی۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *