فٹنس کا نیاراز

کی منیشا لامبا نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ وہ فلموں میں آئیں، مگر محترمہ فلموں میں آئیں بھی اور چھا بھی گئیں ۔ان کا جادو ایسا چلا کہ شیام بینیگل جیسے ہدایت کاروں نے انہیں کام دیا ۔ دہلی یونیورسٹی کے مرانڈا ہاﺅس کالج میں انگریزی میں گریجویشن کرنے کے بعد ان کا رجحان ماڈلنگ کی جانب ہو گیا۔ وہ ہمیشہ سے پڑھائی لکھائی میں اول رہنے کی وجہ سے اپنا کیرئر تعلیمی میدان میں بنانا چاہتی تھیں اور ساتھ ہی تفنن طبع کے طور پر ماڈلنگ بھی کرنا چاہتی تھیں۔ ایک آڈیشن کے ذریعہ انہیں کیڈبری کے اشتہار میں سلیکٹ بھی کر لیا گیا۔ اس کے بعد انہیں ایل جی،سونیا، ہاضمولہ،ایئرٹیل اور سن سلک جیسی بہترین کمپنیوں کے اشتہارات ملنے لگے۔ یہیں کسی فلم ڈائریکٹر کی نظر منیشا لامبا پر پڑی اور انہیں فلم کا آفر بھی مل گیا۔ ایسی فیری یٹیل جیسی کہانی ہے منیشا کی۔ اس کے بعد ان کے ستارے چمکتے ہی گئے۔بہترین فلم فلمسازوں، ہدایت کاروں اور فنکاروں کے ساتھ کام کر کے منیشا نے اپنے قدم بالی ووڈ میں جما دیئے۔تقریباً گیارہ فلمیں کرنے کے بعد منیشا لامبا شیام بینیگل کی اگلی فلم ”ویل ڈن ابا “میں نظر آئیں گی۔اس فلم میں ان کے کردار کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ایک دیہاتی نان گلیمرس لڑکی کا کردار اداکر رہی ہیں۔’کڈنیپ ‘کی بکنی گرل کو ہی گلیمرس رول میں دیکھنا واقعی اچھا احساس ہوگا۔مگر ایسا نہیں ہے کہ انھوں نے اپنے جسم کا خیال رکھنا بند کر دیا ہے۔ دیہاتی لڑکی کا کردار ادا کرنے کے لئے انہیں دبلی پتلی متناسب اور جم جیسی نظر آنے کی ضرورت نہیں ہے، مگر خود کو متناسب رکھنے کے لئے انھوں نے نیا طریقہ آزمایا ہے۔ وہ شوٹنگ کے دوران روز دو گھنٹے اسکویش کھیلتی ہیں اور فٹ رہتی ہیں۔واہ، کیا طریقہ آزمایا ہے منیشا نے فٹ رہنے کا ۔ اسے کہتے ہیں کام کے تئیں سنجیدہ ہونا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ منیشا اتنے کم وقت میں اتنے اعلیٰمقام پر پہنچ گئی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *